Sunday, August 15, 2021

تھکن

 

خوشی کا حصول کیسے ؟

 

تھکن

تھکن کی کئی صورتیں ہوتی ہیں جن میں سے بعض زندگی کی مسرتوں کے لیے سدِ راہ ثابت ہوتی ہیں۔ خالص جسمانی تھکن خوشی کا ایک ذریعہ بنتی ہے ، بشرطیکہ یہ بہت زیادہ نہ ہو۔ اس سے  نیند گہری آتی ہے، کُھل کر بھوک لگتی ہے اور چھٹیوں کی راحت بڑھ جاتی ہے۔تاہم جسمانی تھکن اگر غیر معمولی ہو تو ایک آفت بن جاتی ہے۔ دیہاتی عورتیں مسلسل مشقت اور ماندگی کے ہاتھوں تیس کی دہائی ہی میں بوڑھی ہوجاتی ہیں۔ صنعتی دور کے آغاز میں بچے کام کی زیادتی سے بیمار پڑ جاتے تھے اور ان کی نشوونما  کو بہت دھچکا لگتا تھا۔یہ صورتحال ان ممالک میں اب بھی ہے جہاں صنعتی نظام ابھی نیا ہے۔

حد سے زیادہ جسمانی مشقت ایک بدترین قسم کا تشدد ہے اور یہ انسانوں کی زندگیوں کو ناقابل برداشت اذیت بنا دیتی ہے۔تاہم ترقی یافتہ ممالک میں جدید صنعتی ذرائع کی وجہ سے جسمانی تھکن کا عنصر روزمرہ زندگی میں کافی کم ہوگیا ہے۔ مہذب اور جدید طرز کے شہروں میں اب جس تھکن کا مسئلہ درپیش ہے، وہ اعصابی تھکن ہے۔ ایسی تھکن مزدوروں کی نسبت تاجروں اور دانشوروں میں زیادہ دیکھنے میں آتی ہے۔

آج کے جدید طرزِ حیات میں اعصابی تھکن سے بچاؤ بہت مشکل ہوگیا ہے۔ پہلی چیز تو یہ ہے کہ آج کے شہری ملازم کو کام کے اوقات کے دوران اورکام سے گھر جاتے ہوئے ایسے بے ہنگم شور سے واسطہ پڑتا ہے جس کی طرف وہ شعوری طور پر دھیان نہیں دیتا، مگر جو پھر بھی اسے متاثر کرتا ہے، کیونکہ شور کی طرف سے دھیان ہٹانے کی غیر شعوری کوشش میں اس کی اعصابی  توانائی بہرحال خرچ ہوتی رہتی ہے۔ ایسی تھکن کی ایک دوسری وجہ جس سے ہم بے خبر رہتے ہیں، ہمارے آس پاس اجنبی لوگوں کی مسلسل موجودگی ہے۔ دوسرے حیوانوں کی طرح انسان کی فطری جبلت بھی یہ ہےکہ اسے اپنی جنس کے ہر اجنبی فرد کو دیکھ کر اس کے لیے دوستانہ یا مخالفانہ میں سے کسی ایک رویے کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ایک گاڑی کے اندر سفر کرنے والوں کو اجنبی افراد کے ہجوم میں اس جبلت کو دبانا پڑتا ہے جس کے نتیجےمیں وہ اپنے اندران تمام اجنبی لوگوں کے لیے ایک مبہم سا اشتعال محسوس کرتے ہیں جن کے ساتھ وہ غیر ارادی طور پر ہم نشین ہوجاتے ہیں۔

تھکن کے سلسلے میں ایک اور چیز صبح اٹھنے اور کام پر جانے کی جلدی ہے جس کا نتیجہ بدہضمی  کی صورت میں نکلتا ہے۔ دفتر پہنچنے اور کام شروع ہونے سے پہلے ہی آج کے دور کا منتظم  اضمحلال اور چڑچڑنے پن کا شکار ہو چکا ہوتا ہے۔ اس کے ملازمین بھی دفتر میں اس موڈ کے ساتھ پہنچے ہوتے ہیں۔ پھر صاحب اور ماتحتوں میں کسی خوشگوار مکالمے کی بجائے  محض عزت و تکریم کے رسمی جملوں کا تبادلہ ہوتا ہے جس سے مسئلہ کم ہونے کی بجائے بڑھ جاتا ہے۔اگر ملازموں کو ہفتے میں ایک دن صاحب کے بارےمیں اپنے دلی جذبات کا کھل کر اظہار کرنے دیا جائے تو ان کے اعصاب سے بوجھ اتر جائے۔ لیکن اس تدبیر سے صاحب کو کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں جو اپنی ہی مشکلات میں گھِرا ہوتا ہے۔ جس طرح ملازمین میں برخاست کر دیے جانے کا خوف ہوتا ہے، اسی طرح صاحب میں دیوالیہ ہوجانے کا خوف ہوتا ہے۔یہ درست ہے کہ بعض افراد اس خوف سے زیادہ مضبوط ہوجاتے ہیں، لیکن یہ مقام حاصل کرنے کے لیے انھیں برسوں سخت محنت کرنی پڑتی ہے جس کے دوران انھیں دنیا بھر میں ہونے والے واقعات سے باخبر رہنا ہوتا ہے اور اپنے حریفوں کے حربوں کا توڑ کرنے کےلیے مسلسل تدبیریں کرنی پڑتی ہیں۔ ان سب کےنتیجے میں  انسان نفسیاتی طور پر اتنا شکستہ  اور ذہنی  دباؤ کا اتنا خوگر  ہوجاتا ہے کہ کامیابی حاصل ہوجانے  کے بعد بھی ان سے آزاد نہیں ہو پاتا۔

کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو منہ میں سونے کا چمچہ لےکر پیدا ہوتے ہیں، لیکن رفتہ رفتہ یہ بھی ویسی ہی پریشانیاں پال لیتے ہیں جیسی پیدائشی تنگدستوں کو لاحق ہوتی ہیں۔جوئے بازی کے ذریعے وہ اپنے آباؤ اجداد کے روگ میں سے اپنا حصہ پاتے ہیں اور عیاشی کی خاطر نیند کم کرکے وہ اپنی صحت بھی خراب کر لیتے ہیں۔وقت کے ساتھ جب ان کے پاؤں کہیں جمتے ہیں تو بھی  وہ بالکل اپنے بڑوں کی طرح  خوش رہنے سے قاصر رہتے ہیں۔  ارادی یا غیر ارادی طور پر، شوق سے یا ضرورت سے، بہت سے جدید دور کےافراد ایک اعصاب شکن زندگی گزارتے ہیں اور اتنے تھکے ہوتے ہیں کہ شراب کے بغیر کسی تفریح کا لطف نہیں اٹھا سکتے۔

ناعاقبت اندیش قسم کے امیروں کا ذکر ایک طرف رکھ کر اب ہم ان عام افراد کی بات کرتے ہیں جنھیں تھکن کا مسئلہ اس لیے درپیش ہے کہ انھیں اپنی ضروریات کے لیے ایک پُرمشقت اور سخت زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ایسی صورت میں تھکن بڑی حد تک فکرمندی اور غم کا نتیجہ ہوتی ہے۔ایک بامعانی فلسفۂ حیات او رموزوں طرزِ فکر کے ذریعے غم سے بچاجاسکتا ہے۔ بہت سے مرد و زن اپنے خیالات پر قابو پانے میں کمزور ہوتے ہیں۔ میری مراد ہے کہ وہ ایسی باتوں پر خود کو رنجیدہ ہونے سے نہیں روک پاتے جن پر ان کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ لوگ اپنی کاروباری پریشانیوں کو اپنے ساتھ خوابگاہ میں لے آتے ہیں اور ایسے وقت متفکر ہوتے ہیں جب انھیں اگلے دن تازہ و چُست بیدار ی کےلیے اچھی پرسکون نیند چاہیے ہوتی ہے۔ رات گئے تک وہ ایسے خیالات میں الجھے رہتے ہیں جن کے بارے میں وہ اس وقت کچھ نہیں کرسکتے۔بستر میں لیٹ کر ان کا سوچنا ایسا نہیں ہوتا کہ وہ مسائل کے تدارک کے لیے اگلے دن کا کوئی مثبت لائحہ عمل تیار کر رہے ہوں، بلکہ وہ ایسے نیم شعوری اور منتشر انداز سے سوچتے ہیں جس کا بے خوابی کے علاوہ کوئی اور مفید نتیجہ نہیں نکلتا۔صبح بیدار ہونے پر بھی گزشتہ شب کا ذہنی انتشار ان کے ذہن پر سایہ کیے رہتا ہے اور ان کی قوتِ فیصلہ، ادراک اور مزاج کو متاثر کرکے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔

عقلمند انسان اپنے مسائل کے بارے میں اسی وقت سوچتا ہے جب اس کاکوئی مقصد بنتا ہو۔ دوسرے اوقات میں وہ دوسری باتیں سوچتا ہے یا اگر رات کا وقت ہے تو پھر وہ کچھ بھی نہیں سوچتا۔ میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ جب ایک انسان کیلئے دیوالیہ ہوجانے کا حقیقی خطرہ سر پر موجود ہویا اس کے پاس اس بات کے معقول شواہد ہوں کہ اس کی بیوی اسے دھوکہ دے رہی ہے تو ایسے میں بھی کوئی پریشانی کو ذہن سے نکال کر بے فکر سو سکتا ہے۔ ایسے میں تو شاید بہت دل گردے والے افراد ہی متحمل رہ سکتے ہیں۔ تاہم عام زندگی کے عام مسائل کے لیے ایسا ذہنی رویہ اختیار کرنا ممکن ہے۔ یہ بات بڑی اہم ہے کہ ذہن کی تربیت و تنظیم کے ذریعے خوشی اور کارکردگی، دونوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے یعنی ایسا تربیت یافتہ ذہن جو ایک مسئلے کے بارے میں صحیح وقت پر صحیح طرح سے سوچے، نہ کہ وقت بے وقت پریشان ہوتا رہے۔  جب کوئی ایسی الجھن پیش آجائے جس کے بارے میں کوئی فوری قدم لینا ضروری ہو تو تمام لازمی معلومات حاصل ہوتے ہی اپنے ذہن کا بہترین استعمال کرکے فیصلہ کر لیجیے۔ پھر فیصلہ کر لینے کے بعد اس حوالے سے اپنے ذہن میں اس وقت تک کوئی دوسرا خیال نہ آنے دیجیے جب تک کوئی نئی حقیقت سامنے نہ آجائے۔یاد رکھیے کہ تذبذب سے زیادہ تھکا دینے والی شے کوئی نہیں ہوتی۔

بہت سے تفکرات سے نجات مل سکتی ہے اگر کسی درپیش مسئلے کے معمولی اور غیر اہم ہونے کو سمجھ لیا جائے۔اپنے وقت میں میں نے عوام کے سامنے بہت سی تقریریں کیں۔ شروع میں مجھے ہر سامع سے خوف آتا تھا،گھبراہٹ کی وجہ سے میں اچھی طرح بول نہیں پاتا تھا۔ تقریر کے دوران میں اتنا تناؤ زدہ ہوتا تھا کہ تقریر ختم کرنے پر بالکل نڈھال ہوچکا ہوتا تھا۔رفتہ رفتہ میں نے خود کو سمجھایا کہ میرا اچھا یا برا بولنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ میں اچھی تقریر کروں یا بری، دونوں صورتوں میں کائنات کا نظام ویسا ہی  رہے گا۔ میں نے دیکھا کہ میں اپنی تقریر کے اچھی یا بری ہونے کی جتنی کم فکرکرتا ہوں، اتنی ہی میری تقریر بہتر ہوتی ہے۔اس کے بعد آہستہ آہستہ میر اخوف بالکل ختم ہوگیا۔ اعصابی تھکن کی بہت سی صورتوں سے اس طرح نمٹا جاسکتا ہے۔ ہمارے کام اتنے اہم نہیں ہوتے جتنا کہ ہم خیال کر لیتے ہیں او رنہ ہماری کامیابی یا ناکامی ہی کوئی بڑا معاملہ ہوتی ہے۔ انسان کی زندگی میں بڑے بڑے المیے بھی آکر گزر جاتے ہیں، وہ مصائب جو آغاز میں زندگی کی ہر خوشی کا خاتمہ کر دینے والے نظر آتے ہیں، وقت کے ساتھ یوں تحلیل ہوجاتے ہیں کہ پھر انھیں حافظے میں لانا بھی مشکل ہوجا تا ہے۔ ان سب انفرادی پہلوؤں سے بھی زیادہ بڑی حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی فرد کی انا اس دنیا کی کوئی بڑی چیز نہیں ہے۔ جو شخص اپنے خیالات کو اپنی ذات سے اوپر اٹھاکر کسی دوسری اعلیٰ شے پر مرکوز کردیتا ہے، وہ زندگی کی عام مشکلات میں بھی ایک سکون محسوس کرتا ہے اور یہ چیز ایک خود پسند انسان کو کبھی حاصل نہیں ہوسکتی۔

ماہرینِ نفسیات نے اب تک تھکن کی بہت سی صورتوں اور پہلوؤں پر تحقیق کی ہے، لیکن سب سے اہم بات پر توجہ نہیں کی ہے۔ تھکن کی سب سے اہم قسم ہمیشہ جذباتی ہوتی ہے۔ جسمانی یا عضلاتی تھکن کی طرح، ذہنی تھکن بھی اپنا علاج نیند میں تلاش کرتی ہے۔ دن بھر کی ذہنی تھکن رات کی اچھی نیند سے زائل ہوسکتی ہے، مگر یہ روزمرہ کے  کاموں کے ساتھ موجود تشویش اور دباؤ ہیں  جو مسئلے کو سنگین بناتے ہیں۔ اعصاب شکنی (نروس بریک ڈاؤن) کا ایک سبب  یہ خیال ہے کہ کسی کا کام اس کیلئے انتہائی اہم ہے اور یہ کہ ایک دن چھٹی کر لینے سے کوئی بڑا طوفان آجائے گا۔اگر میں طبی مشیر ہوتا تو ایسے ہر شخص کے لیے ایک دن کی تعطیل تجویز کرتا جو اپنے کام کو بہت اہمیت دیتا ہو۔ اعصاب شکنی کا ہر کیس جو بظاہر کام کی زیادتی کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے، میرے مشاہدے کے مطابق، دراصل کسی ایسے جذباتی دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہےجس سے دور بھاگنے کےلیے خود کو کام میں مشغول کیا گیا تھا۔ایسا شخص کا م ترک کرنے سے ڈرتا ہے، کیونکہ پھر اسے اپنے تکلیف دہ خیالات   سے پنا ہ دینے والی کوئی چیز  نہیں رہتی۔یہ تکلیف دہ خیالات دیوالیہ ہوجانے کے خوف کے بھی ہوسکتے ہیں، ایسی صورت میں اس شخص کاکام اس کی پریشانی سے براہ راست جڑا ہواہے، تاہم اس صورت میں بھی اس کی پریشانی اسے زیادہ کام کی طرف مائل کرکے آخرکار اسے جذباتی طور پر اتنا تھکا دے گی کہ وقت سے پہلے ہی اس کا دیوالیہ نکل جائے گا۔بہرحال ہر کیس میں کام کی زیادتی نہیں ، بلکہ کوئی جذباتی الجھن یا اندیشہ ہی اعصاب شکنی کا باعث بنتا ہے۔

پریشانی کی نفسیات سادہ نہیں ہوتی۔ میں پہلے بھی ذہنی تنظیم(ڈسپلن) کا ذکر کر چکا ہوں جس سے مراد صحیح وقت پر صحیح سوچنے کی عادت ہے۔ یہ عادت بہت اہم ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ایک تو کوئی فرد اپنے دن بھر کا کام کم ذہنی مشقت کےساتھ انجام دے سکتا ہے، دوسرا اس کے ذریعے بے خوابی کا مسئلہ حل ہو سکتاہے اور اس ذہنی طرزِ عمل کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے انسان کے فیصلوں میں مستعدی اور دانائی کا اضافہ ہوسکتا ہے۔لیکن اس طرح کی تدبیر انسان کے لاشعور پر اثرانداز نہیں ہوتی اور جب کوئی شدید پریشانی حملہ آور ہوجائے تو پھر وہی تدبیر کارگر ہوسکتی ہے جو لاشعور کی گہرائیوں تک رسائی حاصل کرتی ہو۔ماہرینِ نفسیات نے لاشعور کے شعور پر اثرات کا کافی مطالعہ کیا ہے، لیکن شعور کے لاشعور پر اثرات کی طرف کم توجہ کی ہے۔ شعور کا لاشعور کے ساتھ تعامل ذہنی تزکیے(کیتھارسس)  کے حوالے سے بہت اہم ہے اور اگر عقلی آراء کو لاشعوری احساسات میں ڈھالنا مقصود ہو تو پھر اس تعامل کو سمجھنا ہوگا۔یہ خاص طور پر جذباتی نوعیت کی پریشانیوں سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔

شعوری طور پر یہ سوچ لینا آسان ہے کہ فلاں مسئلے کے پیش آجانے سے کوئی قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی، مگر جب تک یہ سوچ محض شعوری سطح تک رہے گی، پریشان خیالی یا  پر یشان خوابوں کو نہیں روک پائے گی۔میرا اپنا یقین ہے کہ ایک شعوری خیال کو لاشعور میں بٹھایا جاسکتا ہے، بشرطیکہ اس میں قوت اور شدت موجود ہو۔ لاشعور زیادہ تر ایسے ہی مواد پر مشتمل ہوتا ہے جو کبھی بہت ہی جذباتی قسم کے شعوری خیالات تھےاور اب لاشعور کی گہرائیوں میں دفن ہوچکے ہیں۔ اس عمل کو ارادے کے ساتھ بھی انجام دیا جاسکتا ہے اور اس طرح لاشعور کو بھی کارآمد بنایا جاسکتا ہے۔ میرے تجربے کے مطابق جب مجھے کسی پیچیدہ موضوع پر کچھ لکھنا ہوتا ہے تو میں کچھ گھنٹوں یا دنوں کےلیے ممکنہ حد تک پوری شدت اور یکسوئی سے اس پر سوچتا ہوں۔ اس کے بعد یوں کہہ لیجیے کہ میں گویااپنے ذہن کو حکم دیتا ہوں کہ یہ عمل غیرشعوری طور پر اندر ہی اندر جاری رہے۔ کچھ ماہ بعد جب میں دوبارہ اس موضوع کی طرف آتا ہوں تو وہ عمل مکمل ہوچکا ہوتا ہے، یعنی خیالات ایک ترتیب میں آچکے ہوتے ہیں۔یہ تکنیک دریافت کرنے سے پہلے میں ان درمیانی مہینوں میں بھی خاصا فکرمند رہتا تھا کہ میں متعلقہ موضوع کوئی پیش رفت نہیں کر پا رہا۔یوں یہ سارا عرصہ خوامخواہ کی پریشانی میں ضائع ہوتا رہتا تھا۔جبکہ اب میں اس عرصے میں کوئی اورکام انجام دے لیتا ہوں۔یہی عمل بڑی حد تک جذباتی الجھنوں کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جب کوئی پریشان کن مسئلہ پیش آ جائے تو پوری سنجیدگی  اور توجہ سے غور کیجیے کہ اس کے نتیجے میں بدترین صورتحال کیا پیش آ سکتی ہے۔ اس ممکنہ انجام کو اچھی طرح تصور کر لینے کے بعد مؤثر دلائل کے ذریعے خود کو قائل کیجیے کہ یہ کوئی بہت سنگین بات نہیں ہوگی۔ ایسے دلائل ہمیشہ دستیاب رہتے ہیں ، اس لیے کہ ایک فرد کا سنگین ترین مسئلہ بھی کوئی کائناتی اہمیت نہیں رکھتا۔ جب آپ نے بدترین انجام  کو کئی مرتبہ سوچ لیا ہو اور پورے یقین کے ساتھ اپنے آپ سے کہہ دیا ہو کہ ”کچھ بھی ہوجائے،اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا“ ، توآپ محسوس کریں گے کہ آپ کی تشویش میں نمایاں کمی آگئی ہے۔ شاید آپ کو یہ عمل چند بار دوہرانا پڑے، پھر آخرکار آپ کی پریشانی بالکل غائب ہوجائے گی اور اس کی جگہ ایک طرح کا سکون لے لے گا، بشرطیکہ آپ نے اس ممکنہ بدترین انجام  کے کسی پہلو سے چشم پوشی نہ کی ہو۔

یہ سب خوف سے بچنے کی عمومی تدبیر کا حصہ ہے۔ غم خوف کی ایک شکل ہے اور خوف کی تمام صورتیں تھکن پیدا کرتی ہیں۔ ایک شخص جس نے خوف سے آزاد رہنا سیکھ لیا ہو، وہ روزمرہ زندگی کی تھکن سے نجات حاصل کرلے گا۔ خوف کی سب سے خطرناک صورت اس خطرے سے جنم لیتی ہے جس کا سامنا کرنے سے ہم کتراتے ہوں۔ بعض کمزور لمحات میں ہمارے ذہنوں پر خوفناک قسم کے خیالات کی یلغار ہوتی ہے۔ان خیالات کی نوعیت مختلف افراد کیلئے مختلف ہوسکتی ہے، لیکن تقریباً سب ہی افراد کے لیے کسی نہ کسی طرح کا خوف گھات لگائے ہوتا ہے۔ ایک کے لیے یہ خوف سرطان (کینسر) ہے، دوسرے کے لیے معاشی دیوالہ، تیسرے کے لیے کسی شرمناک راز کا کُھل جانا، چوتھا کوئی حسد آمیز شک پالے ہوئے ہےاور  پانچویں کو بچپن کا کوئی ڈر راتوں کو ہڑبڑا دیتا ہے۔یہ سب افراد غالباً اپنے خدشات سے نمٹنے میں یہ غلطی کرتے ہیں کہ جب کبھی یہ ان کے خیالوں میں آتے ہیں تو وہ اپنا ذہن کسی اور طرف لگانے کوشش کرتے ہیں اور  دھیان بٹانے کےلیے کسی تفریح یا کام کا سہارا لیتے ہیں۔جبکہ خوف پھلتا پھولتا ہی اس وقت ہے جب اس کاسامنا نہ کیا جائے۔خوف سے فرار کی  کوشش دراصل اس کی برتری کا اعتراف ہوتا ہے۔ کسی بھی خوف سے معاملہ کرنے کا بہتر طریقہ اس کے بارے میں تحمل اور یکسوئی کے ساتھ سوچتے رہنا ہے، یہاں تک کہ وہ خوف انسان کے لیے اجنبی نہ رہے۔ خوف سے مانوس ہوجانا اس کی دہشت  کم کر دیتا ہے۔

خوف کے باب میں جدید اخلاقیات ابھی ناقص ہیں۔بلاشبہ جسمانی شجاعت خاص طور پر جنگ کے دوران، مردوں کے لیے باعثِ تحسین خیال کی جاتی ہے، لیکن شجاعت کی دوسری صورتیں ایسی نہیں سمجھی جاتیں۔ خواتین کے حوالے سے تو کسی طرح کی شجاعت کا تصور نہیں کیا جاتا۔ ایک عورت اگر بہادر ہے تو اسے مردوں کے لیے پُرکشش رہنے کے لیے اپنی اس خوبی کو چھپانا پڑے گا۔ کوئی مرد بھی اگر جسمانی خطرے کے علاوہ کسی اور معاملے میں جرات کا مظاہرہ کرتا ہے تو اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ مثال کے طور پر عوامی رائے سے غیر متاثر اور بے پرواہ  رہنا، ایک فرد کی طرف سے معاشرے کے لیے چیلنج سمجھا جاتا ہے اور عوام ایسے فرد کو جو ان کی اجتماعی طاقت کا خاطر میں نہیں لاتا، ہر ممکن سزا دیتے ہیں۔ حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہونا چاہیئے۔ مرد و خواتین کے لیے ہر طرح کی دلیری  کو اسی طرح قابلِ تحسین سمجھا جانا چاہیئے جس طرح ایک فوجی کے لیے جسمانی شجاعت   سمجھی جاتی ہے۔جسمانی شجاعت کا نوجوانوں میں عام طور پر پایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی تحسین کے ذریعے افراد میں کوئی بھی مطلوب شجاعت پیدا کی جاسکتی ہے۔زیادہ شجاعت کی موجودگی سے کم خوف پیدا ہوگا اور نتیجتاً تھکن بھی کم لاحق ہوگی، کیونکہ موجودہ دور میں مرد و زن جس اعصابی تھکن سے دوچار ہیں، اس کا ایک بڑا حصہ شعوری یا لاشعوری خوف کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔

تھکن کا ایک دوسرا عام سبب جوش و ہیجان کی خواہش ہے۔ ایک شخص اگر اپنے وقت میں سو جاتا ہے، تو اگرچہ نیند اسے جسمانی راحت پہنچا دے گی، لیکن کام کے اوقات میں وہ بوریت محسوس کرکے تفریح کی خواہش کرے گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ جن تفریحات کا حصول آسان ہے اور جو زیادہ مزے دار بھی سمجھی جاتی ہیں، وہ زیادہ تر اعصاب کو تھکا دینے والی ہیں۔ جوش و ہیجان کی غیر معمولی طلب دراصل مزاج میں کسی خلل کی علامت ہے یا پھر کسی جبلی محرومی کی۔ایک خوشگوار ازدواجی زندگی کے ابتدائی دنوں میں بہت سے لوگ ہیجان کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، لیکن آج کے زمانے میں شادی کے موقعے کو ایک طویل عرصے تک ملتوی رکھنا پڑتا ہے او رجب معاشی لحاظ سے شادی کرنا ممکن ہوجاتا ہے تو اس وقت تک ہیجان خیزی ایک عادت بن چکی ہوتی ہے۔اگر عوامی رجحان نوجوانوں کو شادی بیاہ کے غیرضروری اخراجات سے مستثنیٰ کرکے انھیں بیس سال کی عمر میں شادی کرنے دے تو افراد کی ایک بڑی تعداد پھر ایسے پُرجوش تفریحات کی جستجو نہ کرے جو اعصابی پژمردگی کا باعث بنتی ہیں۔ تاہم جو افراد عوامی رجحانات اور سماجی قوانین کو بدلنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، ان کیلئے اس صورتحال سے نمٹنا مشکل ہے۔ تاہم یہ سمجھنا بہتر ہے کہ ہیجان خوشی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے اور انسان کو سمجھداری سے کام لیتے ہوئے خود کو ایسے ہیجان میں مبتلا نہیں کرنا چاہیئے جو اس کی صحت اور کام کو متاثر کر دے۔ نوجوانوں میں جوش کی غیر ضروری طلب کا صحیح علاج عوامی رجحانات میں تبدیلی ہے۔اس دوران ایک نوجوان انسان کیلئے یہ سوچنا بہتر ہے کہ ایک دن اسے ازدواجی زندگی شروع کرنی ہے، اس لیے شادی سے قبل سے وہ ایسی غیرفطری زندگی نہ گزارے جو اس کی صحت اور ذوق کو تباہ کرکے اسے ازدواجی مسرتوں کیلئے نااہل بنا دے۔

اعصابی تھکن کے خراب ترین پہلوؤں میں سے ایک یہ ہے کہ یہ انسان اور بیرونی دنیا کے درمیان ایک باریک حجاب بن جاتی ہے۔ بیرونی دنیا سے آنے والےتاثرات اس تک دھندلی اور مسخ شدہ صورت میں پہنچتے ہیں۔وہ لوگوں کے وجود  کا اس وقت تک نوٹس ہی نہیں لے پاتا، جب تک کوئی اسےناگوار انداز میں چھیڑ نہ دے یا رسمی آداب کی مجبوری پیش نہ ہو جائے۔وہ اپنے کھانوں سے لطف اٹھا سکتا ہے اور نہ موسموں کی خوشگواری کا مزہ لے سکتا ہے۔ وہ پریشان کن انداز میں صرف چند معاملوں کی طرف ہی متوجہ رہتا ہے۔ اس صورتحال میں اس کیلئے آرام لینا دو بھر ہوجاتا ہے اور تھکن بڑھتی بڑھتی اس حد تک جا پہنچتی ہے جہاں طبی علاج ناگزیر ہوجاتا ہے۔ اپنی اصل میں یہ سارا مسئلہ زمین سے اس دُوری کی سزا ہے جس کا ہم نے پچھلے باب میں ذکر کیا تھا۔ لیکن زمین سے قربت کا اس جدید دور میں کس حد تک برقرار رکھا جا سکتا ہے، اس بارے میں کچھ کہنا آسان نہیں۔ یہاں ہمیں ایک بار پھر ایسے بڑی سماجی تبدیلیوں  کا سامنا ہے جن کے بارے میں کچھ کہنا  فی الحال میرا موضوع نہیں  ہے۔

(مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل کی کتاب ”The Conquest of Happiness “سے ترجمہ)

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

No comments:

Post a Comment

محبت

  خوشی کا حصول کیسے؟   محبت برٹرینڈ رسل                     زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احسا...