Wednesday, February 16, 2022

کیا خوش رہنا ممکن ہے؟

 

خوشی کا حصول کیسے؟

 

کیا خوش رہنا ممکن ہے؟

برٹرینڈ رسل

                            ابھی تک ہم ناخوش انسان کی بات کر رہے تھے، اب ہمیں مسرور انسان کے بارے میں کچھ کہنے کا لطف لینا ہے۔ اپنے بعض دوستوں کی گفتگو سننے اور ان کی لکھی کتابیں پڑھنے کے بعد مجھے یہ تاثر ملا ہے کہ اس جدید دور میں خوشی کا حصول ناممکن ہو گیا ہے۔ تاہم اپنی ذات کے اندر جھانکنے، غیر ملکی سفر کرنے اور اپنے باغبان کی باتیں سننے کے بعد میرے لیے اس تاثر کو قبول کرنا ممکن نہیں۔ علمی حلقے سے تعلق رکھنے والے احباب کی ناخوشی پر میں نے آغاز کے باب میں بات کی تھی، اب اس باب میں میرا ارادہ ہے کہ ان مسرور انسانوں کا جائزہ پیش کروں جن سے زندگی میں میری ملاقات رہی ہے۔

                                                خوشی دو طرح کی ہوتی ہے، اگرچہ اس کے کچھ درمیانی درجے بھی ہیں۔ خوشی کی دو اقسام یوں سمجھ لیں کہ ایک سادہ اور دوسری بناوٹی یا ایک حیوانی اور دوسری روحانی یا ایک دل کی اور دوسری دماغ کی۔ ان دو اقسام کو بہتر طریقے سے یوں واضح کیا جا سکتا ہے کہ خوشی کی ایک قسم تو سب کی پہنچ میں ہے، جبکہ دوسری تک صرف وہ رسائی حاصل کر سکتے ہیں جو لکھنا اور پڑھنا جانتے ہیں۔ جب میں لڑکا تھا تو میں ایک ایسے خوش باش انسان کو جانتا تھا جس کا کام کنوئیں کھودنا تھا۔ وہ لمبی قامت اور مضبوط عضلات والا انسان تھا، لیکن لکھنا پڑھنا نہیں جانتا تھا۔ جب 1885ء میں اسے پارلیمنٹ کے ووٹ کا حق ملا تو پہلی بار اسے پتا چلا کہ کوئی ایسا ادارہ بھی موجود ہے۔ اس کی خوشی کا انحصار ذہنی ذرائع پر نہ تھا۔ اسے قانونِ فطرت کا پتا تھا، نہ انسانی حقوق کا، اور نہ ایسے کسی علمی نظریے کاجسے دانشور افراد زندگی کی خوشی کیلئے ضروری سمجھتے ہیں۔ اس کی خوشی دراصل جسمانی طاقت، پُرمشقت کام اور سخت ترین چٹانیں توڑنے میں تھی۔ میرے باغبان کی خوشی بھی کچھ اسی قسم کی ہے۔ اس کی ان خرگوشوں سے دائمی جنگ رہتی ہے جوہر وقت  اس کے پودے کھانے کی تاک میں رہتے ہیں۔ وہ انھیں ایک انتہائی چالاک بدمعاش قرار دیتا ہے جن کا مقابلہ صرف ویسی ہی عیاری کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ وہ روزانہ کچھ وقت جنگلی سؤر کے شکار میں صرف کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی عمر ستر سے اوپر ہے، پھر بھی وہ سارا دن کام کرتا ہے اور روزانہ سولہ پہاڑی میل سائیکل چلاتا ہے۔ اس کی خوشی پائیدار ہے، کیونکہ خرگوش اسے مسلسل  اس کی رسد فراہم کرتے رہتے ہیں۔

                                     لیکن آپ کہیں گے کہ ایسی سادہ خوشیاں ہم جیسے پڑھے لکھے لوگوں کیلئے بےمعنی ہیں۔ بھلا ہم خرگوشوں جیسی ننھی مخلوق کے ساتھ جنگ کر کے کیا لطف اٹھا سکتے ہیں؟ تاہم میرے خیال میں یہ بات صحیح نہیں۔ زرد بخار کا جرثومہ خرگوشوں سے کہیں زیادہ چھوٹا ہوتا ہے، پھر بھی تعلیم یافتہ افراد ان سے جنگ کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ جیسی مسرت میرے باغبان کو حاصل ہے، ویسے ہی اجزاء پر مشتمل خوشی اعلیٰ ذہن والے لوگوں کو بھی میسر آ سکتی ہے۔ تعلیم کافرق صرف سرگرمیاں جداکرتا ہے۔ کچھ حاصل کر لینے کی خوشی کیلئے مشکلات کا وجود ضروری ہے جن سے ابتدا میں کامیابی کا حصول مشتبہ دکھائی دے، لیکن آخرکار یہ مل جائے۔ اسی لیے خوشی کیلئے ضروری ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو بہت بڑھا کر خیال نہ کرے۔ وہ انسان جو اپنی صلاحیتوں کو ناکافی سمجھتا ہے، ہمیشہ اپنی کامیابیوں پر خوشگوار حیرت سے دوچار ہوتا ہے، جبکہ وہ انسان جو اپنی استعدادوں کو کافی تصور کرتا ہے، اکثر اپنی ناکامیوں پر ناگوار حیرت کا شکار ہوتا ہے۔

                                  معاشرے کے سب سے اعلیٰ علمی طبقے میں آج کے دور میں سب سے مسرور لوگ سائنسدان ہیں۔ بہت سے غیرمعمولی سائنسدان جذباتی اعتبار سے سادہ طبع ہیں اور انھیں اپنے کام سے ایسی تسکین ملتی ہے کہ وہ عام سرگرمیوں مثلاً کھانے پینے، حتیٰ کہ شادی سے بھی مسرت حاصل کر سکتے ہیں۔ آرٹسٹ اور ادیب ناخوشگوار ازدواجی کو اپنا ناز سمجھتے ہیں، تاہم سائنس کے افراد اکثر پرانی طرزِ کی خانگی مسرت سے ہمکنار رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے ذہن کا اعلیٰ حصہ مکمل طور پر تحقیقی کام میں جذب ہو جاتا ہے اور اس کیلئے زندگی کے عام معاملات میں حصہ لینے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ وہ اپنے کام میں خوش رہتے ہیں، کیونکہ جدید دنیا میں سائنس کا بڑا رعب اور دبدبہ ہے اور اس کی افادیت سے عوام و خواص میں سے کسی کو بھی انکار نہیں۔ اس لیے انھیں پیچیدہ جذبات کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ سادہ جذبات کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی۔ جذبات میں پیچیدگی دریا میں جھاگ کی طرح ہوتی ہے جو ایسی رکاوٹ سے پیدا ہوتی ہے جو اس کے بہاؤ کی فطری روانی میں مزاحم ہوتی ہے۔ تاہم جب تک فطری توانائیاں بلاروک رہتی ہیں، سطح پر کوئی ارتعاش پیدا نہیں کرتیں۔ ایک سائنسدان زندگی میں خوشی کی تمام کیفیتوں کا تجربہ کرتا ہے۔ اس کا کام ایسا ہے جس میں اس کی تمام صلاحیتیں کھپ جاتی ہیں اور جس کے نتائج اس کے ساتھ ساتھ عام افراد کیلئے بھی مفید ہوتے ہیں۔اس معاملے میں وہ آرٹسٹ سے زیادہ خوش نصیب ہوتا ہے۔ جب لوگ کسی تصویر یا غزل کو سمجھ نہیں پاتےتو وہ خیال کر لیتے ہیں کہ یہ ایک بُری تصویر یا غزل ہے۔ تاہم جب وہ نظریۂ اضافیت کو ناقابلِ فہم پاتے ہیں تو وہ (بجا طور پر)اس کا ذمے دار  اپنی تعلیم کو ٹھیراتے  ہیں۔ اس کے نتیجے میں آئن سٹائن کو تو عزت و تکریم ملتی ہے، لیکن ایک بہترین آرٹسٹ کو بدحالی کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ سائنسدان  خوش ہیں، لیکن آرٹسٹ ناخوش۔ ایسی زندگی میں خوشی کا امکان بہت کم ہوتا ہے جس میں آپ کی عظمت کو مسلسل شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو، سوائے اس کے آپ خود کو کسی حلقے یا گروپ میں ضم کر کے بےقدر دنیا کو فراموش کر دیں۔ سائنسدان کو ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ، کیونکہ اسے سب تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں (سوائے اس کے رفقاء کار کے)۔ اس کے برعکس، آرٹسٹ کو ایسی ناگوار صورتحال کا سامنا پڑتا ہے، جس میں اسے حقیر سمجھے جانے اور حقیر ہونے میں کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ اگر اس کی صلاحیتیں اوّل درجے کی ہیں تو اسے ان دو ذلتوں میں سے لازماً کسی ایک سے دوچار ہونا ہوگا، اپنی صلاحیتوں استعمال کرنے کی صورت میں اوّل الذکر اور نہ کرنے کی صورت میں ثانی الذکر۔ تاہم ایسا ہمیشہ سے اور ہر کہیں نہیں ہوتا۔ ایک وقت تھا جب آرٹسٹوں کو بھی سراہا جاتا تھا ، حتیٰ کہ ان کے عالمِ شباب میں بھی۔ جولیس دوم اگرچہ مائیکل اینجلو کے ساتھ بُرا برتاؤ کرتا تھا، لیکن اس نے اس کی فنی صلاحیتوں سے کبھی انکار نہیں کیا۔  آج کا کروڑپتی انسان اگرچہ عمررسیدہ آرٹسٹوں کی اس وقت مالی امداد کر سکتا ہے جب ان کی قوتیں مضمحل ہو چکی ہوتی ہیں، تاہم وہ ان کے کام کو اہم خیال نہیں کرتا۔ غالباً اسی لیے اوسطاً  آرٹسٹ ، سائنسدانوں کی نسبت کم خوش ہیں۔

                                             تاہم یہ صرف سائنسدان نہیں جو اپنے کام سے مسرت حاصل کر سکتے ہیں۔ نشاطِ کار ہر اس شخص کو حاصل ہو سکتا ہے جو اپنے اندر کسی بھی طرح کی ماہرانہ صلاحیتیں پیدا کر سکتا ہو، بشرطیکہ وہ عالمگیر ستائش کی توقع رکھے بغیر اپنی صلاحیتوں کی مشق سے تسکین حاصل کرے۔ میں ایک شخص کو جانتا تھا جو نوجوانی میں ہی اپنی دونوں ٹانگوں سے معذور ہو گیا تھا، لیکن وہ ایک طویل زندگی کے دوران بڑی متانت سے خوش رہا۔ اس نے یہ مسرت گلاب کے پھول کو کیڑا لگ جانے کی بیماری پر پانچ کتابیں لکھنے کے ذریعے حاصل کی اور اس موضوع پر میں نے ہمیشہ اسے سب سے بڑا ماہر خیال کیا۔ بہت سے ماہرینِ صدفیات (Conchologists) سے میری واقفیت کا سبب وہ خوشی بنی جو یہ لوگ گھونگوں اور سیپوں کے مطالعے سے حاصل کرتے نظر آئے۔ میں ایک بار ایک خطاط سے ملا جو دنیا کا بہترین خطاط تھا اور اس فن میں دلچسپی رکھنے والے افراد اس کے آگے پیچھے دوڑتے تھے، لیکن وہ اتنی خوشی اس ستائش سے حاصل نہیں کرتا تھا جتنی اپنے فن کی مشق سے۔ یہ مسرت کچھ ایسی ہی تھی جیسی ایک رقاص ناچنے سے حاصل کرتا ہے۔ میں ایسے خطاطوں سے بھی ملا ہوں جو ایسے رسم الخط میں ماہر تھے جو انتہائی مشکل اور متروک شدہ تھا۔ میں یہ تو نہیں جانتا کہ وہ اپنی ذاتی زندگیوں میں خوش تھے یا نہیں، البتہ کام کے اوقات میں ان کی تعمیری جبلتیں خوب تسکین پاتی تھیں۔

                              یہ کہنا عام ہے کہ آج کے مشینی دور میں کاریگروں کیلئے اپنے ماہرانہ فن سے لطف لینے کا زیادہ موقع نہیں رہا۔ میرا نہیں خیال کہ یہ بات درست ہے۔ آج کے زمانے میں کاریگر بلاشبہ پہلےکے مقابلے میں قدرے مختلف کام انجام دے رہا ہے، لیکن اب بھی اس کی اہمیت موجود ہے اور مشینی اقتصادیات میں آج بھی اس کی افادیت ہے۔ آج کے کاریگر سائنسی آلات اور مشینیں تیار کر رہے ہیں۔ ان میں سے بعض ڈیزائنر، ہوئی جہازوں کے مکینک اور موٹر ڈرائیور ہیں۔ کئی کاریگر ایسے شعبوں میں کام کر رہے ہیں جہاں ماہرانہ ہنر مندی کو کس بھی درجے تک پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ جہاں تک میرے مشاہدے کی بات ہے، نسبتاً پسماندہ معاشروں میں زرعی مزدور اور کاشتکار اتنے خوش نہیں ہیں جتنے کہ شوفر یا انجن ڈرائیور۔ یہ درست ہے کہ ایک زمین کاشت کرنے والے کسان کاکام مختلف نوعیت کا ہوتا ہے؛ وہ ہل چلاتا ہے، بیج ڈالتا ہے اور فصل کاٹتا ہے۔ لیکن وہ موسموں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے اور اس وجہ سے محتاجی کے احساس سے لبریز ہوتا ہے۔ جبکہ جدید مشینوں پر کام کرنے والا شخص طاقت اور اختیار کے احساس کا حامل ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ انسان فطرت کا غلام نہیں، بلکہ آقا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مشینوں پر کام کرنے والے بہت سے افراد کا کام دلچسپ نہیں ہوتا، کیونکہ انھیں بار بار ایک ہی طرح کے مشینی عمل دوہرانے ہوتے ہیں۔ تاہم کام جتنا غیر دلچسپ ہو جائے، اتنا ہی امکان پیدا ہو جاتا ہے   کہ اب اس کیلئے کوئی نئی مشین تیار کی جائے۔ مشینی پیداوار کا آخری مقصد (جس سے ابھی ہم دور ہیں) ایسا نظام ہے جس میں تمام غیر دلچسپ کام مشینوں کے سپرد ہوں، جبکہ انسان ایسے کاموں کیلئے فارغ ہوجائیں جن میں تنوع اور توجہ طلبی ہو۔ ایسی دنیا میں کام اس سے کہیں کم بور اور کم پریشان کن ہوں گے جتنے کہ زراعت کے آغاز سے رہے ہیں۔ زراعت کی ابتدا کر کےانسانوں نے دراصل بھوک کے خطرے سے بچنے کی خاطریکسانیت اور ناگواری کو قبول کرنے کا فیصلہ کیاتھا۔ جب انسان اپنی خوراک شکار کے ذریعے حاصل کرتا تھا تو اس وقت کام ایک پُرلطف سرگرمی ہوتی تھی اور اسی لیے خوشحال لوگ ابھی تک شکار کو ایک مشغلے کے طور پر اپنائے ہوئے ہیں۔ تاہم زراعت کے آغاز سے انسانوں پر کم ظرفی، مفلسی اور دیوانگی کا ایک طویل دور گزرا ، جس سے مشینوں کے مفید استعمال کی بدولت انسانوں کو اب جا کر نجات ملی ہے۔جذباتیت پسندوں کیلئے  تو یہ صحیح ہے کہ وہ انسانوں کے مٹی سے رشتے اور دہقانی بصیرت کی خوبیوں پر زور دیں، تاہم اب دیہاتوں میں رہنے والے ہر نوجوان کی تمنا بھی یہی ہوتی  ہے کہ اسے شہر میں روزگار مل جائے اور وہ موسموں کی بےیقینی اور گرمی و سردی سے چھٹکارا پا کر کارخانوں اور سنیماؤں کے قابلِ اعتبار اور تفریح بخش ماحول میں پہنچ جائے۔ عام انسان کی مسرت کیلئے رفاقت اور تعاون لازمی عناصر ہیں اور یہ زرعی معاشرے کے مقابلے میں ایک صنعتی سماج میں زیادہ فراوانی سے میسر آ سکتے ہیں۔

                               کسی مقصد پر یقین بہت سے انسانوں کی زندگی میں خوشی کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ میں صرف آمرانہ ممالک کے انقلاب پسندوں، سوشلسٹوں اور قوم پرستوں کی بات نہیں کر رہا، بلکہ میرا اشارہ زیادہ متحمل قسم کے نظریات کی طرف بھی ہے۔ میں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جن کے خیال میں انگریز تاریخ کے دس گمشدہ قبائل ہیں او ر اس بنا پر ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔ میں قاری کیلئے اس قسم نظریات تجویز نہیں کر رہا، کیونکہ میں کسی ایسی خوشی کی وکالت نہیں کر سکتا جس کی بنیاد غلط عقائد پر ہو، حالانکہ میرے مشاہدے کےمطابق ایسے غلط عقائد بھرپور مسرت کو یقینی بناتے ہیں۔ تاہم ایسے نظریات اختیا رکیے جا سکتے ہیں جو خیالی نہ ہوں اور جو انسان کے فارغ اوقات کیلئے ایسی سرگرمی فراہم کر دیں جو زندگی سے بیزاری کا تریاق ثابت ہو۔

                         کسی مقصد پر یقین سے قریب تر ایک اور شے، کسی دلچسپ مشغلے میں محویت ہے۔ ایک نامور ریاضی دان اپنے اوقات کو ریاضی اور ٹکٹ جمع کرنے کے مشغلے میں برابر تقسیم کیا کرتاہے۔ میرے خیال سے یہ مشغلہ اسے ان لمحات میں تسلی فراہم کرتا ہوگا جب وہ ریاضی کے مسائل میں پیش رفت نہیں کر پاتا۔ تاہم کسی ہندسی مسئلے کی شکل ہی وہ واحد پریشانی نہیں جسے ٹکٹوں کےمشغلے سے دور کیا جا سکتاہے اور نہ ٹکٹ ہی وہ اکلوتی چیزیں ہیں جو جمع کی جا سکتی ہیں۔ ذرا تصور کیجیے کہ وجدانی مسرت کا کتنا وسیع افق ظاہر ہو سکتاہے جب انسان قدیم چین، گُل تراش خانوں (Snuff-boxes)، رومی سِکوں، تیروں، اور چمقاق کے سامان کے بارے میں سوچے۔ یہ درست ہے کہ ہم میں سے بہت افراد ان سیدھی سادی مسرتوں سے ’اونچے‘ ہیں۔ ہم سب نے ان کا لڑکپن میں تجربہ کیا ہے، تاہم کسی وجہ سے ہم انھیں بڑے آدمی کیلئے مناسب نہیں سمجھتے۔ یہ بالکل غلط سوچ ہے۔ میری اس مسرت، جس سے کسی دوسرے کو ضرر نہیں پہنچتا، کو احترام دیا جانا چاہیئے۔ جہاں تک میری بات ہے، میں دریاؤں کے نظارے جمع کیا کرتا ہوں اور مجھے اس کا بہت افسوس ہے کہ میں کبھی آمیزون دریا نہیں دیکھا۔ دریاؤں کا منظر مجھے مسرت بخشتا ہے۔ یہ بہت سادہ ذوق ہے، لیکن مجھے اس پر کوئی شرمندگی نہیں۔ یا پھر بیس بال کے مداح کو لیجیے، جو بڑے اشتیاق سے بیس بال کی خبریں پڑھنے کیلئے اخبار خریدتا ہے اور ریڈیو پر کھیل کی روداد اس کے بدن میں پُرجوش تھرتھراہٹ پیدا کرتی ہے۔ مجھے امریکا کے ایک نمایاں ادیب سے ملاقات یاد ہے۔ اس ادیب کتابیں دیکھنے کے بعد میں نے اسے کوئی قنوطی قسم کا انسان خیال کرتا تھا۔ لیکن ہوا یوں کہ جب ریڈیو پر بیس بال میچ کے فیصلہ کن نتائج آنے لگے، تو وہ مجھے، ادب اور آسمان تلے موجود ہر شے کو بھول کر ریڈیو کی طرف متوجہ ہو گیا اور اس وقت خوشی سے چلا اٹھا جب اس کی پسندیدہ ٹیم کی جیت کا اعلان نشر ہوا۔ اس واقعے کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ میں اس کی کتابیں، اس کے المیہ کرداروں  سے افسردہ ہوئے بغیر پڑھ سکوں۔

                                 تاہم دل پسند کھیل اور مشاغل شاید کسی گہری خوشی کا باعث نہیں بنتے۔ یہ صرف کسی مشکل یا تلخ حقیقت سے چند لمحوں کی نجات کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ گہری مسرت کیلئے انسان اور اشیاء میں ایک دوستانہ قسم کی دلچسپی لینا ضروری ہوتا ہے۔

                  افراد میں دوستانہ دلچسپی سے مراد پُرشفقت رویہ ہے، برعکس اس کے کہ دوسرے انسانوں کو ہمیشہ مغلوب کرنے یا انھیں مٹھی میں کرنے کا رویہ ہو۔ آخری الذکر رویہ ہمیشہ ناخوشی کا موجب بنتا ہے۔ خوشی کا موجب رویہ وہ ہے جو دوسرے انسانوں کے مشاہدے اور ان کے انفرادی محاسن سے لطف حاصل کرتا ہے اور ان کی دلچسپیوں کی تکمیل اور مسرتوں کی تسکین میں معاونت کرتا ہے، بغیر یہ چاہے کہ دوسرے اس کے محکوم بن جائیں یا پرجوش ستائش کریں۔ ایسے رویے کا حامل شخص خوشی کا ایک منبع ہوگا اور دوسرے کی طرف سے اسے جوابی اپنائیت ملے گی۔ دوسروں کے ساتھ اس کے عام یا خاص تعلقات، اس کی دلچسپیوں اور جذبات دونوں کی تسکین کا باعث ہوں گے۔ اسے شاذ ہی کبھی ہتک یا بدسلوکی کا تجربہ ہوگا، اور اگر ہوا تو وہ اس کی پرواہ نہیں کرے گا۔ وہی باتیں جو دوسرے کو برہم کر دیتی ہیں، اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دیں گی۔ وہ کوشش کے بغیر ایسے نتائج حاصل کرے گا جو دوسرے کوشش کے باوجود نہیں پاسکتے۔ اپنی ذات میں مسرور ہونے  کی وجہ سے وہ ایک خوش کن رفیق ہوگا اور یہ چیز اس کی مسرت میں اور زیادہ اضافہ کر دے گی۔ تاہم یہ سب سچی نیت سے ہونا چاہیئے، کسی فرض کے تحت اپنی ذات کی قربانی دینے کی نیت سے نہیں۔ فرض کا جذبہ کام یا نوکری میں تو مفید ہوتا ہے، لیکن ذاتی تعلقات میں دل شکنی اور توہین کا باعث بنتا ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ان سے محبت فرض سمجھ کر نہ کی جائے، بلکہ انھیں اچھا جان کر کی جائے۔بہت سے لوگوں کیلئے کسی تکلف کے بغیر بے ساختہ طور پر پسند کیا جانا، ذاتی مسرت کا شاید سب سے بڑا ذریعہ ہوتا ہے۔

                                       میں نے چیزوں میں دوستانہ دلچسپی کی بات بھی کی تھی۔ یہ کچھ غیر فطری دکھائی دے گی۔ کہا جا سکتا ہے کہ مادی اشیاء کو دوستانہ انداز سے محسوس کرنا ممکن نہیں۔ تاہم اس سے مشابہ صورتیں آپ کو ایک ماہرِ ارضیات کی چٹانوں میں یا آثارِ قدیمہ کے ماہر کی کھنڈرات میں دلچسپی میں ملیں گی۔ یہ دلچسپی ہمارے سماجی رویوں کا ایک لازمی عنصر ہے۔ ایسی اشیاء میں دلچسپی لینا ممکن ہے جو انسان کیلئے مفید اور معاون ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ ایک انسان مکڑیوں کی رہائشی جگہوں کے بارے میں اس لیے معلومات اکٹھی کرتا ہوکہ اسے مکڑیوں سے نفرت ہے اور وہ ایسی جگہ مکان بنانا چاہتا ہے جہاں یہ نہ ہوں۔ اس طرح کی دلچسپی میں ویسی تسکین نہیں ہے، جیسی کہ ماہرِ ارضیات چٹانوں کے بارے میں حاصل شدہ معلومات سے لیتا ہے۔ غیرذاتی اشیاء دلچسپی اگرچہ انسانوں میں دلچسپی سے کمتر ہے ، لیکن پھر بھی اہم ہے۔ دنیا بہت وسیع ہے اور ہماری قوتیں محدود ہیں۔ اگر ہماری ساری خوشیاں ذاتی ماحول تک ہی محدود ہو جائیں تو پھر زندگی سے مطالبے بڑھ جاتے ہیں اور زندگی سے بہت زیادہ مانگنے سے اس سے بھی کم ملتا ہے جتنا کہ ممکن ہوتا ہے۔ ایک شخص جو مثلاًستاروں کی تاریخ، میں دلچسپی کے ذریعےاپنی پریشانی بھول سکتا ہے، وہ جب ستاروں کی دنیا سے لوٹے گا تو ایسی طمانیت اور فرحت اس کے ساتھ ہوگی جس کے ذریعے وہ اپنی پریشانیوں سے زیادہ عمدگی سے نمٹ سکے گاا ور اس دوران اسے خالص اور حقیقی مسرت کا تجربہ ہوگا، خواہ یہ مسرت عارضی ہی ہو۔

                     خوشی کا راز یہ ہے: اپنی دلچسپیاں اتنی وسیع کر لیجیے جتنی کہ ممکن ہوں اور افراد اور اشیاء کیلئے اپنا طرزِ عمل اتنا دوستانہ بنا لیجیے جتنا آپ کے امکان میں ہو۔

                                            مسرتوں کے امکان کا یہ ابتدائی جائزہ آئندہ ابواب میں مزید تفصیل سے پیش کیا جائے گا اور ساتھ میں مصائب کے نفسیاتی اسباب سے بچنے کی تجاویز بھی ہوں گی۔

(مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل کی کتاب ”The Conquest of Happiness “سے ترجمہ)

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محبت

  خوشی کا حصول کیسے؟   محبت برٹرینڈ رسل                     زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احسا...