Monday, December 30, 2019

اپنی تخلیقی صلاحیت کوبیدار کیجیے


اپنی تخلیقی صلاحیت کوبیدار کیجیے

       ناول نگار کیتھی ہولوبٹسکی(Kathy Holubitsky) جب پہلی بار لکھنے بیٹھی تو اس کے پاس کون سی تربیت اورتجربہ تھا؟ فنی نقطۂ نظر سے کچھ بھی نہیں۔ہاں مگر32سالہ کیتھی کو، جوایک سیکنڈری سکول میں لائبریری اسسٹنٹ تھی، مطالعۂ کتب بہت محبوب تھا اوروہ ہروقت کتابوں میں گھری رہتی تھی، لیکن اس نے فنِ تحریر کی کوئی باقاعدہ تربیت حاصل نہیں کی تھی اورنہ اس نے کبھی تخلیقی تحریر نگاری (Creative Writing) کیلئے کسی شبینہ جماعت میں داخلہ لیا تھا۔ کیتھی  اوراس کاخاوند جیف دوبچوں کی پرورش کررہے تھے کہ کتھی نے روزمرہ معمولات میں سے کچھ وقت لکھنے کیلئے نکالنا شروع کیا۔ جلد ہی اس کاقلم صفحات پر اپنی جولانیاں دکھانے لگا۔ اس نے ایک کے بعد دوسرا ناول مکمل کیا۔ کیتھی کے بقول  ”میں نے تحریر کامشغلہ اپنی ذات کیلئے چیلنج کے طورپر شروع کیا، مگر اپنی تحریروں کوشائع کرانے کاکوئی ارادہ نہ تھا۔“ پھر بھی جب اس کاپہلا ناول ”نوے فیٹ کی بلندی پر،تنہا“(Alone At Ninety Feet) چھپا تویہ ایک نومشق ناول نگار کیلئے کوئی براآغاز نہ تھا۔ کیتھی کہتی ہے :”میں ابھی تک اپنے لیے ہی لکھتی ہوں ، لیکن اب میں ان بچوں کی بھی ذمہ داری محسوس کرتی ہوں جو میری کتابیں پڑھتے ہیں۔“

          تخلیقی ہونا محض ایک فطری امر نہیں بلکہ یہ آپ کیلئے مفید بھی ہے۔تخلیقی خیالات فارغ لمحات کوزرخیز بناتےہیں اورذہنی تناؤ کوکم کرکے بہتر ذہنی صحت کیلئے معاون ثابت ہوتےہیں۔تخلیق(Creativity) آپ کی شخصیت میں زیادہ وقار اوروزن پیداکرسکتی ہے۔ عصبی حیاتیات کےپروفیسر لارنس کٹز اپنی کتاب ”اپنے دماغ کوزندہ رکھیے“(Keep Your Brain Alive) میں لکھتے ہیں کہ روزمرہ کے میکانکی معمولات ہمارے ذہن کوکند کردیتے ہیں ، جبکہ تخلیقی سرگرمیاں ہمارے ذہن کومتحرک بناکر اس کے نئے اورپوشیدہ راستوں کوکھولتی ہیں۔

       تخلیق کی منزل تک پہنچنے کیلئے صرف ایک چیز درکار ہے، وہ ہے جرات ۔نت نئی چیزیں بنانےکیلئے اورڈھونڈنے کی بچکانہ جستجو کوبحال کرنے کی جرات، زندگی کے معمول کےبہاؤ سے باہر نکلنے کی جرات، اپنی کمزور اورڈھکی چھپی صلاحیتوں کاآزمانے کی جرات۔

                                                                                         ”تخلیق نگاری یقین واعتماد کاعمل ہے۔ ایک سادہ صفحے پرالفاظ کاایک پیراگراف انڈیلنا ، کسی بھی طرح کوہ پیمائی سے کم نہیں۔“ یہ بات کثیرالفروخت کتاب The Artist’s Way کی منصف جولیاکیمرون نےکہی ہے۔
     ہوسکتاہے کہ آپ  ایک ناول تحریر کرسکتے ہوں، کوئی تصویر بناسکتےہوں یا کوئی دھن مرتب کرسکتے ہوں۔ یہاں کچھ ایسے رویے اورانداز تجویز کیے جارہے ہیں جوآپ کے اندر پوشیدہ تخلیقی صلاحیت کوواقعہ بناسکتے ہیں:

1) اپنے اندر کے رجحانات کوباہر آنے دیجیے

                                                                                   بالکل بے ساختہ(Spontaneous) بن جائیے۔تخلیقی کاموں کیلئے کسی شعوری ارادے یا تکلف کی ضرورت نہیں ہواکرتی۔ البرٹا یونیورسٹی کی پروفیسر جولیا ایلس کہتی ہیں:” یہ منطق واستدلال سے اوپر اٹھ جانے کاعمل ہے۔ ایک موزوں لفظ یا مناسب خیال آپ کووجدانی سطح پر دستیاب ہوتاہے۔“

     بہت سے لوگوں کوتخلیقی نکتے ڈرائیونگ ، غسل یا گھر کی صفائی کے دوران سجھائی دیتے ہیں۔ گلوکارہ سارہ کوجس نغمے پر ایوارڈ ملا، وہ اس کے ذہن میں باورچی خانے میں ایک پکوان تیار کرتے ہوئے وارد ہوا۔ لہٰذا تخلیقی خیالات کیلئے ہمہ وقت تیار رہیے۔

2) کچھ بھی کرنا شروع کردیجیے

      یہاں سوال پیداہوتاہے کہ وہ شخص کیا کرے کس نے خودکوکبھی تخلیقی نہ سمجھا ہو؟ اس سلسلے میں ایک مکتبۂ فکر کاکہناہےکہ ”آپ اپنے وجدان کی گہرائیوں میں پہلے سے جانتے ہیں کہ آپ کیا کرسکتےہیں ۔۔مصوری، شاعری، گلوکاری یاشاید افسانہ نگاری۔ پس آپ کے اندر جو بھی داعیہ ہو فوری طورپر اور بلاتکلف سراٹھارہاہے، اس کی پیروی شروع کردیجیے۔

       ایک دوسری حکمتِ عملی یہ ہےکہ ایک ایک کرکے سب کاموں کوآزمائیں ۔ شاعری کی کوئی کتاب اٹھاکر پڑھیں اوراندازہ کریں کہ کیا آپ اپنے اندر اس کاکوئی ذوق پاتےہیں؟ اگر نہیں تو کسی اور مشغلے کی طرف توجہ کریں۔ اپنے تخلیقی ذوق کو تلاش اوردریافت کرنا بذاتِ خود ایک تخلیقی سرگرمی ہے۔ جولیا کیمرون اس کیلئے اپنے خوابوں اورخواہشات کی ایک فہرست بنانےکامشورہ دیتی ہے، مگر اتنی سرعت سے کہ آپ کے اندر کے نقاد کو اس پر"اگرمگر" کرنے کا موقع نہ مل سکے۔ جب بھی آپ  کوئی نیا اورتخلیقی کام کرنے کی ٹھانیں گے ، یہ اندرونی نقاد بے شمار دلائل اس بات کےدینےلگے لگا کہ آپ کےاندر کوئی غیرمعمولی صلاحیت نہیں ہے۔

      اسٹین یونیورسٹی کے پروفیسر جم ایڈم کہتےہیں:”اگر آپ زیادہ تخلیقی بننا چاہیں تواس کیلئے آپ کوزیادہ خطرات مول لینا ہوں گے اورخطرات مول نہ لیناہی وہ چیز ہے جولوگوں کیلئے اس راہ میں مانع ہوتی ہے۔“

3) روزمرہ کے ڈھلے ڈھلائے سانچے سے باہر نکلیے

     اپنے کاموں کویوں انجام دیجیے گویا آپ انھیں پہلی مرتبہ کررہے ہوں۔متبادل معمولات پر غور کیجیے ۔ اپنے اندر تجسس کامادہ پیدا کیجیے اور اپنے معمول کے کاموں کو انجام دیتے ہوئے خود سے سوال کیجئے کہ ”میں یہ کام کیوں کررہا ہوں؟“ گھر کی آرائش وزیبائش کے نئے نئے انداز سوچیے، معمولی کاموں کو غیرمعمولی طریقے سے انجام دینے کی کوشش کیجئے اورنئے تجربات سے نہ گھبرائیے۔
       ان رویوں کو اپنانے کے علاوہ آپ اپنے فن میں تخلیقی خیالات کے حصول کیلئے درج ذیل طریقے بھی استعمال کرسکتےہیں:

1) خوابیدہ تیاری کاطریقہ(Incubator Method):
       اپنے ذہن کوکسی مسئلے یا معاملے پر مرکوز کیجیے اور رات سونے سے پہلے اسے ایک کاغذ پر تحریر کر دیجیے۔ اس کے بعد بے فکری سے سو جائیے۔ آپ کاشعوری ذہن سوجائے گا مگر لاشعوری ذہن ساری رات اس مسئلے پر غور کرتارہے گا۔ آپ کالاشعوری ذہن دراصل ایک بہت وسیع گودام کی مانند ہے جس میں ماضی کے تجربات ، حال کے احساسات اورمستقبل کی بصیرت سب جمع ہیں۔ لہٰذا نیند کے دوران یا صبح بیدار ہوتے ہی سب سے پہلے وارد ہونے والا خیال آپ کے مطلب کی شے ہوسکتاہے۔رات کو اپنے سرہانے ایک نوٹ بک ضرور رکھیے اور تخلیقی خیال کے ذہن میں آتے ہی اسے فوراً لکھ لیجیے۔ یہ طریقہ کئی معروف مصنفین اورتخلیق نگاروں کا آزمودہ ہے۔
2) طوفانِ ذہنی کاطریقہ (Brain Storming Method):
       یہ ایک گروہی تکنیک ہے جس میں چار سے سات افراد حصہ لے سکتے ہیں۔ اس کاطریقہ یہ ہے کہ افراد کے مابین ایک مباحثہ منعقد کیا جائے جس میں سب سے پہلے حل طلب مسئلے کی اصل نوعیت متعین کی جائے۔ پھر سب افراد باری باری اپنی تجاویز پیش کریں۔ اس مجلس کے منتظم کو کسی بھی فرد کی تجویز کی طرف جانبدارانہ رویہ نہیں اختیار کرنا چاہیے بلکہ  سب کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ اپنے اپنے ذہن استعمال کریں۔اس کے بعد ان سب تجاویز کی ایک فہرست تیار کی جائے ۔ اس فہرست کی کوئی ایک تجویز یا ایک سے زیادہ تجاویز کا اشتراک، زیرِ بحث مسئلے کاایک تخلیقی حل ہوسکتاہے۔
3) کُل ذہن کاطریقہ (Whole Brain Method):
      یہ تکنیک دراصل اس خیال پر مبنی ہے کہ ایک فرد کی تمام ذہنی صلاحیتیں روبہ عمل آئیں۔ انسانی ذہن تخیل ووجدان اور منطق و استدلال جیسی متنوع صلاحیتیں رکھتاہے، مگر اکثر افراد ان میں سے کسی ایک ہی پر قانع ہوجاتےہیں اور اپنے ذہن کاپورا استعمال نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام لوگ ایک خاص اسلوبِ فکر کے عادی ہوجاتےہیں اور پھر انھیں اپنے معاملات کے وہ پہلو دکھائی نہیں دیتے جو اس خاص اسلوبِ فکر کے احاطے میں نہیں آتے۔ اس جمود کوتوڑنے کا طریقہ یہ ہے کہ خود کونئے نئے حالات کے سامنے پیش کیجیے۔ ایک مسئلے پر مختلف سوچ رکھنے والے لوگوں کی رائے حاصل کیجئے۔ نت نئے خیالات ابھارنے والی کتابوں کامطالعہ کیجئے۔ مختلف تقاریر اورسیمیناروں میں حصہ لیجیے۔ اپنے موجودہ خیالات اورحکمتِ عملی پر بار بار نظرِ ثانی کیجیے۔ صاحبِ علم لوگوں سے رابطہ رکھیے۔ ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہیے۔ یہ سب اہلِ تخلیق کے شعائر ہیں۔

     زیادہ امکان اس بات کاہے کہ آپ کے تخلیقی اوصاف آپ کو کوئی بین الاقوامی شہرت یافتہ شخصیت نہ بنا سکیں، تاہم یہ آپ کی شخصیت کو تبدیل ضرور کرسکتے ہیں۔ اس طرح آپ کے پیشے اورسماجی تعلقات میں بہتری آسکتی ہے۔تخلیقی مشاغل آپ کی خوداعتمادی میں اضافہ کرسکتےہیں اور اس دنیا میں کامیابی کیلئے خود اعتمادی سے بڑی دولت اورکوئی نہیں ہے۔

*******************************

Sunday, December 22, 2019

اپنے اہداف مقرر کیجیے

اپنے اہداف مقرر کیجیے

                                                                                                 انسان ایک ہدف رخی(Goal-oriented)مخلوق ہے اورقدرت نے انسان کوجو عقلی اورنفسیاتی صلاحیتیں  بخشی ہیں ، وہ صرف اسی وقت فعال (Active) ہوتی ہیں جب ان کے سامنے کوئی ہدف یا نشانہ موجود ہو۔ انسان کے سامنے کوئی واضح ہدف یا مقصد ہو تو اس کی صلاحیتیں  اس تک پہنچنے کیلئے تیزی  اورخوبی سے ترقی کرتی ہیں۔ لہٰذا اپنی تمام مخفی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کی واحد صورت یہی ہے کہ انسان اپنے لیے کوئی ہدف مقررکرے خواہ وہ ہدف مادی ہو یا روحانی۔

                                                                                                         مگر اکثر لوگ کسی ہدف کو مقرر کرکے اس تک پہنچنے کاچیلنج قبول کرنے سے کتراتے ہیں۔ اس سلسلے میں جوچیز ان کیلئے رکاوٹ بنتی ہے وہ ناکامی کاخوف ہے۔ وہ محض اسل لیے کوئی عملی جدوجہد شروع نہیں کرتے کہ وہ ناکامی کا صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ان کی نفسیات میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ ناکامیوں کوقبول کرتے ہوئے جدوجہد جاری رکھیں۔اس ضمن میں قابل غور بات یہ ہے کہ ناکامی بھی کامیابی کا ایک پہلو ہے۔ لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ کوئی بھی ٹھوس کامیابی بالکل پہلی بار کی کوشش سے حاصل نہیں ہوا کرتی۔ وقتی اور عارضی ناکامیاں ناگزیر ہیں۔ یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہےکہ آپ اس وقت  ناکام نہیں ہوتے جب تک آپ ناکامی کوایک حقیقت کے طورپر قبول کرکے کوشش ترک نہ کردیں۔

                                                                                              یہاں ہم امریکا کے مشہور صدرابراہم لنکن  کی کی زندگی کا ایک اجمالی خاکہ پیش کرتےہیں جو اس حقیقت کاآئینہ دار ہے کہ حوصلہ ہارنے والے کبھی نہیں جیتتے اورجیتنے والے کبھی حوصلہ نہیں ہارتے۔لنکن نے اپنی جدوجہد کاآغاز 1831ء میں کیا۔ اس سال اس نے اپنا ذاتی کاروبار  شروع کیا اورناکام رہا۔ 1832ء میں اسے قانون ساز ادارے کے انتخابات میں شکست ہوئی۔1834ء میں اس نے دوبارہ کاروبار شروع کیا اور پھرناکام رہا۔1835ء میں اسے اپنی محبوب رفیقۂ حیات کی جدائی کاصدمہ اٹھانا پڑا اوراس سے اگلے سال اسے خود اعصابی خلل(نروس بریک ڈاؤن) سے گزرنا پڑا۔1838ء میں اسے ایوانِ نمائندگان میں اپنی نشست سے محروم ہونا پڑا۔ 1843ء  اور1846ء میں اسے کانگریس کے انتخابات میں شکست ہوئی۔1849ء میں اسے بطور اراضی آفیسر اپنے عہدے ہاتھ دھونا پڑے۔ 1855ء میں ایوانِ بالا (سینٹ) کیلئے انتخابی مہم میں ناکامی ہوئی اور1856ء  میں اسے نائب  صدرکے طورپر اپنی نامزدگی  سے دستبردار ہونا پڑا۔1858ء میں اسے ایک بار پھر ایوانِ بالا کی نشت کیلئے ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا ۔۔۔۔لیکن ان سب کے باوجود 1860ء میں ابراہم لنکن امریکا کاصدر منتخب ہوا اوراسے امریکا کی تاریخ کا سب سے معزز  صدر گردانا جاتاہے! اس کی ذات ناکامیوں کی عین منجدھار میں ایک کامیاب انسان کے طورپر ابھرنے کی علامت بن گئی۔ 

                                                                                                   لہٰذا ناکامی کےخوف کوایک طرف رکھ کر اپنے اہداف کاتعین کریں۔ اس سلسلے میں ہم چند رہنما اصول درج کرتے ہیں جن سے آپ کواپنے اہداف مقرر کرنے میں مدد ملے گی:

1) سب سے پہلے کوئی بڑاہدف ذہن میں لائیں جو آپ کی ذات کیلئے اہم ہو۔ ہدف ایسا ہونا چاہیئے جس کی کسی  بھی طرح  سے پیمائش  کی جاسکتی ہو مثلاً وزن کم کرنا، نوکری کا حصول، کسی خاص مقدار رقم کاحصول وغیرہ۔
2) اپنے ہدف کی تکمیل کیلئے ایک مخصوص تاریخ کاتعین کریں جس تک آپ کو ہر حال میں اپنے ہدف کو حاصل کرناہے۔
3) ان مختلف طریقوں اورذرائع کوزیرِ غور لائیں جن میں سے کوئی ایک یا سب لم کرآپ کوآپ کے مطلوبہ ہدف  تک پہنچاسکتےہوں۔
4) ہدف کے حصول کیلئے ایک مفصل لائحہ عمل تیار کریں کہی آپ کیا کریں کہ
ا) آپ کووہ معلومات حاصل ہوجائیں جن کی ہدف کے حصول کیلئے آپ کوضرورت ہے
ب) آپ کو وہ عملی مہارتیں اوروسائل حاصل ہوجائیں جو ناگزیر ہیں
ج) اوران افراد تک آپ کی رسائی ہوجائے جوآپ کیلئے معاون ثابت ہوسکتےہیں۔
5) ان رکاوٹوں اورمشکلات کی ایک فہرست تیار کریں جو آپ کے خیال میں آپ کی ذات اورآپ کے ہدف کے درمیان حائل ہوسکتی ہیں۔
6) ان فوائد اورثمرات کی ایک فہرست تیار کریں جوہدف کی تکمیل کی صورت میں آپ کوملنے والے ہیں مثلاً وزن کم ہونے کی صورت میں پرکشش جسمانی ہیت، خوداعتمادی میں اضافہ، چستی اورقوتِ کار میں اضافہ، سماجی قبولیت میں اضافہ وغیرہ۔
7) جب آپ یہاں کے تمام اقدامات کرچکیں توان کو ایک کاغذ پرلکھ دیں۔ یہ آپ کی شاہ تدبیر (ماسٹرپلان) ہوگی۔
8) اپنے اس ماسٹرپلان کودن میں دوبار ،رات سونے سےپہلے اورصبح بیدار ہونے کےبعد، بلند آواز سے پڑھیں۔ بہتر ہوگا کہ آپ اسے اپنی آواز میں  ریکارڈ کرکے ٹیپ ریکارڈر کے ذریعے سے سنیں۔
9) تصورات میں خود کوایسی حالت میں دیکھیں جیسے آپ پہلے ہی اپنا ہدف حاصل کرچکے ہیں۔
10) اپنے ماسٹرپلان پر فوراً پہلے عمل شروع کردیں۔

                                                                                                                       روزانہ اورہرہفتے اپنی پیش رفت کاجائزہ لیں اوراس کے  مطابق  اپنے ماسٹر پلان میں ضروری مگر تبدیلیاں کرتےرہیں۔ ہدف مقرر کرنا(Goal-setting) کوئی آسان مشق نہیں ہے۔ یہ آپ سے گہری خواہش اورمصمم ارادے کاتقاضا کرتی ہے کہ آپ ایک طویل نشست میں اپنے ماسٹر پلان کے ہر پہلو یکسوئی کے ساتھ سوچ بچار کریں۔ یہ ایک فکری مراقبہ ہے جو آپ کی پوشیدہ قوتوں کو بیدار کرتاہے۔

***************************



Thursday, November 28, 2019

چہرے کاحسن وجمال اوراس کے مسائل


چہرے کاحسن وجمال اوراس کے مسائل

                                                                                                                                                                            انسانی جسم میں چہرے کو وہی حثیت حاصل ہے جو ایک پودے میں پھول کی ہوتی ہے۔چہرہ انسان کی شناخت ہی نہیں ، اس کی دلکشی اورجازبیت کامرکز بھی ہوتاہے۔تاہم بعض مسائل ایسے ہیں جو انسان کے چہرے کی رعنائی کو متاثر کرتے ہیں ۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں بالخصوص ان مسائل کے ہاتھوں پریشان ہوتے ہیں۔اس عمر میں نوجوانوں کیلئے چہرہ ایسی دولت کی طرح ہوتاہے جسے وہ کسی بخل کے بغیر دوسروں میں بانٹنا چاہتے ہیں  مگر جب  چہرہ دانوں اور غیرضروری بالوں سے بھر جائے یا چہرے کی رنگت خراب ہو جائے، تو انھیں یہی اثاثہ  لوگوں سے چھپانے کی فکر لگ جاتی ہے۔یہ چیزحساس نوجوانوں میں شرم، جھجک اوراحساسِ کمتری پیدا کرتی ہے۔اور انھیں آئینہ اپنا دشمن لگنے لگتاہے۔پھر یہ نوجوان بدحواس ہو کرانواع واقسام کی کریمیں،لوشنز اورپاؤڈر آزماتےہیں جواکثر صورتوں میں ناقص  اورغیرمستند ہونے کے سبب چہرے کی نازک جلد کو الٹا نقصان پہنچاتے ہیں۔
                                                                                                          ذیل میں ہم چہرے کے حوالے سے چند مسائل اور ان کے حل پر بات کریں گے:

کیل اورمہاسے

                                                                                                                                                         چہرے پر دانوں، کیل اورمہاسے اس وقت نمودار ہوتے ہیں جب جلد میں روغنی اجزا ء بڑھ کر بالوں کی  جڑوں میں پائی جانے والی تھیلیوں(Follicles) کو ڈھانپ لیتے ہیں  اور اس رکاوٹ کے پیش آجانے کی وجہ سے جلد پر سفید،سیاہ یاسرخ رنگ کے دانے ابھرآتےہیں۔یہ دانے پیپ سے بھرے ہوئے اورتکلیف کا باعث ہوتے ہیں۔یہ پیشانی اوررخساروں کے علاوہ سینے،کندھوں اوربالائی کمر پر بھی ہوسکتے ہیں۔
                                                                                                 کیل مہاسوں کے اسباب میں جسم میں روغنی مادوں کی کثرت، بالوں کی مردہ جڑیں، جراثیمی انفیکشنز اورمردانہ  ہارمون اینڈروجن کی زیادتی شامل ہیں۔یہ مسئلہ زیادہ تر نوجوانوں(ٹین ایجرز) کوپیش آتاہے ۔
زخم ،خارش اورانفیکشنز کی شدید صورتوں میں کسی ماہر امراضِ جلد (ڈرماٹولوجسٹ) سے رجوع کرنا چاہیئے جو اینٹی بایوٹکس اور اینٹی اینڈروجن دوائیں کھانے کیلئے تجویز کرے گا۔اس کے علاوہ بیرونی استعمال کیلئے جیل اورلوشنز بھی دیے جاتےہیں۔تاہم ان دواؤں کے سائیڈ ایفیکٹس بھی ہوتےہیں ، لہٰذا یہ علاج ہمیشہ کسی ماہر اورمستند معالج کی زیرِ نگرانی ہی کرنا چاہیئے۔ یہاں ہم آپ کو چند متبادل دوائیں (Alternative Medicines) بتارہے ہیں جو قدرتی نباتاتی اجزاء سے تیارشدہ ہونے کی وجہ سے بے ضرر اورمحفوظ ہیں اورجلد ی امراض کیلئے انتہائی مؤثر بھی ہیں:
1) صافی(ہمدرددواخانہ ،کراچی): یہ خون صاف کرنے والی قدرتی جڑی بوٹیوں سے تیارشدہ شربت ہے جوخون سے خراب مادوں کو خارج کرکے دانوں، کیلوں اورمہاسوں سے نجات دلاتاہے۔ اس کے علاوہ یہ اپنی سرد تاثیر کے باعث مردانہ ہارمون پیداکرنے والے غدودوں کے فعل کوبھی اعتدال پر لاتاہے جس سے جوانی کے دانوں اورپھنسیوں کی روک تھام ہوجاتی ہے۔اس کے استعمال کے دوران گرم،تیزمسالے دار اورچکنائی والی غذاؤں سے پرہیز ضروری ہے۔صافی کےدوچمچے ایک کپ پانی میں ملاکر صرف ایک بار رات سوتے وقت  پیئں۔
2) بیریسال شربت(ہمدرد دواخانہ، کراچی): یہ گھیگوار(ایلوویرا) کے گودے سے تیارکیا گیا شربت ہے۔ گھیکوار کاگودا جلد کیلئے بے شمار فوائد رکھتاہے۔یہ جسم سے غیرضروری اورمضرمادوں کو خارج کرکے جسم کی صفائی کرتاہے۔اینٹی بایوٹک اثرات کی وجہ سے جلدی انفیکشنز کے علاج میں معاون ہے اورمانع تکسید (اینٹی آکسیڈینٹ) خوبیوں کی وجہ سے چہرے کی جلد کی خرابی اورقبل ازوقت جھریاں پڑنے سے روکتاہے۔ اسی لیے ایلوویرا جیل بھی چہرے پر لگانے کیلئے تجویز کی جاتی ہے۔چہرے کی جلد کی تازگی اورخوبصورتی کیلئے بیریسال شربت کااستعمال بہت مفید ہوتاہے۔اس شربت کے چائے کے دوچمچے دن میں دوبار کھانے کے بعد استعمال کریں۔
3) ہیپارسلفورس پنٹارکن(Hepar Sulphuris Pentarkan No.53): یہ شوابے جرمنی کی ہومیوپیتھک دواہے۔ یہ ہر طرح کے کیل، مہاسوں اورپھنسیوں کیلئے انتہائی مفید گولیاں ہیں۔یہ جلد کے نیچے چکنائی اورچربی کی مقدارکو کم کرتی ہیں۔ دانوں میں پیپ کو چشک کرکے انفیکشن کاخاتمہ کرتی ہیں۔اس کے علاوہ جلد کی صحت میں اضافہ کرکے چہرے پرچمک اورنکھار پیداکرتی ہیں۔دو گولیا ں دن میں تین مرتبہ زبان پر رکھ کر چوسیں۔
4) بروکس سلفر کریم (Brooks Sulfur Cream): یہ بروکس ہومیو لیب کی تیارکردہ ہومیوپیتھک کریم ہے۔یہ چہرے پر نمودار ہونے والےکیل مہاسوں، پھوڑے پھنسیوں  ،پیپ دار دانوں  اورجلد کی سوزش اورخارش کیلئے مفید ہوتی ہے۔یہ کریم متاثرہ جگہ پر دن میں تین مرتبہ لگائیں۔
5) تھوجا کریم(Thuja Occ Cream):  یہ بھی  بروکس  ہومیو لیب کراچی کی تیارکردہ ہومیوپیتھک کریم ہے جو چہرے پر مسّوں اورگومڑوں کیلئے بہت مفید ہوتی ہے۔ اس کے استعمال سے مسّے اورگومڑ چہرے پر داغ چھوڑے بغیر نکل جاتےہیں اوردوبارہ نمودار نہیں ہوتے۔یہ کریم متاثرہ مقامات پر دن میں کئی مرتبہ لگائیں۔



چہرے کے غیرضروری بال

                                                                                                                                           چہرے پر اگنے والے غیرضروری بال خاص طورپر خواتین کیلئے پریشان کن ہوتے  ہیں۔ان کاسبب جسم میں مردانہ ہارمون اینڈروجن کی زیادتی ہوتی ہے۔ طبی زبان میں اس مسئلے کو Hirsutism کہا جاتاہے۔اس میں چہرے کے ان حصوں میں بال اگنے لگتےہیں جو عام طورپر مردوں کے ساتھ خاص ہوتے ہیں۔ایسے بال اگرچہ صحت کیلئے کوئی خطرہ نہیں ہوتے لیکن نوجوان لڑکیوں کیلئے احساسِ کمتری کاباعث بن جاتے ہیں۔
                                                                                                                                                 اس مسئلے کے تدارک کیلئے عام طورپر معالج اینٹی اینڈروجن اور مانع حمل  (Contraceptives)دوائیں دیتے  ہیں۔تاہم ان دواؤں کے سائیڈ ایفیکٹس بہت پریشان کن ہوتےہیں۔ یہاں متبادل ادویہ کے طور پر  ایک دوا کاذکر کیا جاتاہے جو غیرضروری بالوں سے نجات کیلئے مؤثر اورمحفوظ ثابت ہوئی ہے۔
اورنیٹک ٹیبلیٹس (Ornatic Tablets ): یہ شوابے جرمنی کی تیارکردہ ہومیوپیتھک گولیاں ہیں ۔ ان کاجزو الیم جیکورس(Oleum Jecoris) ہے جو مچھلی کے جگر  کے تیل سے حاصل کیا جاتاہے۔ یہ دوا چہرے اور جسم کے کسی بھی حصے میں پیداہونے والے غیرضروری  بالوں کیلئے بہت مفید ہوتی ہے۔ یہ گولیاں خواتین کے ہارمونی نظام کو اعتدال پر لاتی ہیں  اورغیرضروری بالوں کے تدارک کے علاوہ ماہانہ تکلیف اورحیض کے مسائل بھی دور کرتی ہیں۔ دو دو گولیاں دن میں دو مرتبہ کھانے سے پہلے چوسیں۔


کالی یا گہری سانولی رنگت کامسئلہ


                                                                                                                                           ہمارے ہاں گورے رنگ کو خوبصورتی کامعیار مانا جاتاہے ۔ بلکہ ایک قول کے مطابق، ”گورا رنگ آدھا حسن  ہوتاہے“۔ یہ بات کئی حوالوں سے درست نہیں ، مگر پھر بھی اس عمومی رجحان کے زیرِ اثر بہت سے مردوزن اپنی سیاہ یا سانولی رنگت پر شرمسار رہتے ہیں۔ اس معاملے میں قدرت کی کچھ حدود بھی ہیں مگر بعض تدابیر سے چہرے کی رنگت کو قدرے نکھارا جاسکتا ہے۔ ذیل میں ایسی قدرتی دواؤں کے نام دیے جارہے ہیں جو رنگ گورا کرنے کیلئے استعما ل کی جاسکتی ہیں:
1) بربیرس ایکوفولیم (Berberis Aquifolium Q): یہ ایک ہومیو پیتھک مدر ٹنکچر ہے جو رنگ گورا کرنے کیلئے بہت مفید پایا گیا ہے۔یہ مدرٹنکچر ان تمام صورتوں میں استعمال کیا جاسکتاہے جہاں چہرے کارنگ سیا ہ ہو یا داغ دھبوں اور مہا سوں کے نشانات کی وجہ سے رنگت خراب ہوچکی ہو۔یہ دوا چھ ماہ پابندی سے لینے سے چہرے کی رنگت گوری اوراجلی ہوجاتی ہے۔ سیاہی دور ہوکر چہرے کی جلد میں چمک  پیدا ہوجاتی ہے۔یہ دوا مصفئ خون بھی ہے ، اس لیے خون کوصاف کرکے کیل ، مہاسوں اوردانوں کاخاتمہ کرتی ہے۔
                                                                                                    اس کا ترکیب استعمال یوں ہےکہ اس مدرٹنکچر کے بیس قطرے آدھے کپ تازہ پانی میں ملاکر دن میں تین بار کھانوں سے آدھا گھنٹہ قبل پیئں۔ اس کے ساتھ ہی اس  مدر ٹنکچرکے بیس قطرے ، عرقِ گلاب کے بیس قطروں کے ساتھ ملا کر دن میں تین بار چہرے پر لگائیں۔بہتر ہوگا کہ یہ مدرٹنکچر شوابے جرمنی کا تیا رشدہ ہی استعما ل کیا جائے۔
2) عروسہ: یہ  اجمل دواخانہ لاہور کے قدیم  اورمجرب نسخے کے مطابق تیار کیا گیا ابٹن ہے جوخواتین سنگھار کیلئے استعما ل کرتی ہیں۔عروسہ جلد  کو ملائم رکھنے اور رنگت نکھارنے  والی جڑی بوٹیوں کا مرکب ہے۔جھائیوں ، مہاسوں اورداغ دھبوں کودور کرتی ہے۔ عروسہ کے استعمال سے چہرے کاحسن دوبالا ہوجاتاہے اورجلد میں بھینی بھینی اورسرورانگیز خوشبو بس جاتی ہے۔
                                                                                                                    بقدر ضرورت پانی میں ملاکر چہرے پر ملیں۔دس پندرہ منٹ بعد چہر ہ دھو لیں۔

****************************
 
                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                             

محبت

  خوشی کا حصول کیسے؟   محبت برٹرینڈ رسل                     زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احسا...