Sunday, November 21, 2021

جھلار: ایک قدیم اور پُراسرار ریلوے اسٹیشن

جھلار: ایک قدیم اور پُراسرار ریلوے اسٹیشن

جھلار شمالی پنجاب (پاکستان) میں واقع ایک پہاڑی ریلوے اسٹیشن ہے۔ یہ ریلوے ٹریک 97-1895 میں انگریزوں کے دور میں بچھایا گیا تھا۔ کراچی سے،براستہ  اٹک ،پشاور جاتے ہوئےآپ اس خوبصورت ریلوے اسٹیشن پر پہنچتے ہیں جو اٹک سے چند ہی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

 This image has an empty alt attribute; its file name is 11053337_807803945942130_8993905762919072588_n-1.jpg


جھلار اسٹیشن تک رسائی سے پہلے ٹرین سات طویل اور تاریک میں چھپی سرنگوں سے گزرتی ہے۔ یہ سرنگیں برطانوی ریلوے انجنیئرز  کی مہارت اور مقامی مزدوروں انتھک محنت کا انوکھا شاہکار ہیں۔

سرنگوں کی آنکھ مچولی سےلطف اندوز ہونے کے بعد آپ کو جھلار ریلوے اسٹیشن کی قدیم پتھروں سے بنی عمارت دکھائی دیتی ہے جس کے اردگرد دو شکستہ بنگلے بھی موجود ہیں جو کبھی ریلوے افسروں کے کنبوں کی رہائش گاہیں ہوا کرتے تھے، مگر اب یہ بھوت بنگلے بن چکے ہیں۔ ریلوے پاکستان کامحکمہ اس وقت اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے!

 This image has an empty alt attribute; its file name is vlcsnap-2019-11-07-18h27m36s389.png


جھلار ریلوے اسٹیشن کے اردگرد کی زمین سبز کیکروں اور پھلاہیوں سے اس طرح ڈھکی ہوئی ہے کہ وہاں چہل قدمی محال ہے۔ سرنگوں اور ریلوے اسٹیشن کی عمارت کے درمیان ایک پُل ہے جوایک چھوٹے سے دریا کے اوپر قائم ہے۔ یہ دریا مون سون کے موسم خوب رواں ہوتا ہے مگر باقی دنوں میں کسی خاموش مسافر کی طرح چلتا ہے۔

بلند و بالا پہاڑ، گھنے درخت اور قدرتی دریا ۔۔۔ یہ سب جھلار کے منظر نامے کو آخری حد تک حسین اور دلکش بنا دیتے ہیں۔یہاں آکر انسان کو  ایک عجیب طرز کا سکون اور نشاط محسوس ہوتا ہے۔ میرے خیال میں تو اگر مہاتما بدھ کو اس جگہ کا علم ہوتا تو وہ ریاست بہارمیں بوڑھ کے درخت کی بجائے اسی جھلار کی کسی پہاڑی چوٹی پر مراقبہ نشین ہونا پسند کرتا!

 This image has an empty alt attribute; its file name is vlcsnap-2019-11-07-19h15m20s545.png


پہاڑی سلسلوں نے سبز پریوں کی طرح جھلار ریلوے اسٹیشن کی عمارت کو  گویا اپنی آغوش میں لے رکھا ہے۔ یہ اسٹیشن ان قدیم جگہوں میں سے ایک ہے جہاں انسانی تاریخ آپ کے کانوں میں سرگوشیاں کرتی ہے اور ان سب لوگوں کی کہانیاں سناتی ہے جو کبھی بھی کسی بھی سبب سے یہاں رہتے رہے ہیں!

 

میں نے اس پہاڑی اسٹیشن کی کئی مرتبہ سیر کی ہے۔ جھلار کی سرنگیں دیکھ کر مجھے ہمیشہ حیرت ہوئی کہ کس طرح انیسویں صدی میں یہ جدید ٹیکنالوجی کے بغیر کس طرح کھودی اور تراشی گئی ہوں گی۔ پاکستان ریلوے کے پاس ان انجنیئرز اور کارکنوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں جو ان لافانی شاہکاروں کی تعمیر میں دن رات کوشاں رہے تھے۔ شاید برطانوی ریلوے کےپاس کچھ ایسی دستاویزات محفوظ ہوں  جن میں ان سرنگوں کی مکمل تاریخ اور ناموں کا ذکر ہو۔ ان سرنگوں کی تعمیر میں کچھ مزدوروں نے شاید اپنی زندگی سے بھی ہاتھ دھوئے ہوں گے، وہ بلاشبہ دنیا بھر کے ان تمام مداحوں کے ہیرو ہیں جو ریلوے سے پیار کرتے ہیں اور ریل گاڑی میں سفر کے شوقین ہیں۔

جھلار اسٹیشن کی قدیم عمارت، اونچے اونچے سرسبز پہاڑوں اور دریا کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کیا کبھی ہالی ووڈ کے فلم سازوں کی نگاہ میں یہ جگہ نہیں آئی، حالانکہ یہ مقام برٹش راج کی تاریخی فلموں  کی شوٹنگ کیلئے بہت آئیڈیل ہے۔بلکہ یہ ہارر فلموں اور گھوسٹ موویز  کیلئے بھی ایک بنا بنایا سیٹ ہے:ذرا تصور کی آنکھ سے دیکھیے کہ ۔۔۔ ایک پرانا ریلوے اسٹیشن، بھوتوں کامسکن، ایک نوجوان اسٹیشن ماسٹر کی یہاں تعیناتی، پھر کسی خوبصورت سیاح لڑکی یہاں آمد اور پھر رومانس ، پراسراریت اور سسپنس سے بھر پور واقعات کا سلسلہ! کتنی شاندار فلم بن سکتی ہے !

This image has an empty alt attribute; its file name is hghghjgjh.jpg


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

 

No comments:

Post a Comment

محبت

  خوشی کا حصول کیسے؟   محبت برٹرینڈ رسل                     زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احسا...