Tuesday, January 4, 2022

 

نازاں سانچی

نازاں سانچی (پیدائش جون 22، 1958) ترکی کی ایک حسین اور مقبول اداکارہ، ناول نگار، اور ماحولیاتی کارکن ہیں۔  وہ ترک فلموں کے علاوہ 80ء کی دہائی میں پاکستانی فلموں میں بھی کام کر چکی ہیں۔ان کی مشہور فلموں میں ہلچل(1985)، تلاش (1986)، بدلہ (1987) اور شہنشاہ (1988) شامل ہیں۔

 

 

ابتدائی زندگی

نازاں   ترکی میں بحیرہ اسود کے قریب ایک تاریخی ساحلی شہر سامسون میں 22 جون 1958 کو پیدا ہوئیں۔ ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، وہ ترک لسانیات اور ادب میں بیچلر کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے استنبول یونیورسٹی گئیں۔


 

 اپنے طویل سنیما کیریئر سے لطف اندوز ہونے کے بعداب  وہ اپنے خاندان کے ساتھ کیلی فورنیا ، امریکہ میں مقیم ہیں۔

فلمی کیریئر

نازاں سانچی نے 1979ء میں ایک ترک فلم فقیرا سے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ ۔ ان کی پہلی اردو فلم ہلچل 5 اپریل 1985 کو پاکستانی سینما گھروں میں نمائش پذیر ہوئی  ۔ پھر 1985 سے 1988 تک وہ زنجیر، منیلا کی بجلیاں، تلاش، اور بدلہ جیسی لالی وڈ فلموں میں نظر آئیں۔

فلم "تلاش" میں اداکار ندیم کے ساتھ

 

 1995 میں انھوں نے ایک ایرانی جاسوس فلم ”پلیئنگ  وِد ڈیتھ“ میں بھی  کام کیا جسے ایران اور ترکی میں فلمایا گیا تھا۔

حُسن کے مقابلے

نازاں سانچی 1978ء میں منعقد ہونے مقابلۂ حسن میں دوسری رنراَپ تھیں۔ یہ مقابلہ اٹلی کے شہر

ریگیو ایمیلیا میں منعقد ہوا تھا۔ وہ  فلپائن میں منعقدہ مِس ایشیا پیسفک( 1983)  میں بھی دوسری رَنر اَپ تھیں۔ وہاں انھوں نے مس ​​ٹیلنٹ کا خصوصی اعزاز بھی حاصل کیا۔

کیریئر بطور مصنفہ

ایک کامیاب فلمی کیرئیر کے بعد، جب نازاں نے ایک میوزک البم پرکام کرتے ہوئے اپنے اندر کے لکھاری کو دریافت کیا۔ اس کے بعد انھوں نے بچوں اور بڑوں کیلئے متعدد کتاہیں لکھیں۔

اشتہارات میں

نازاں سانچی نے 1980 کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن پر لکس کمرشل میں بھی کام کیا۔ ”لوگ ہمارا چہرہ ہی تو دیکھتے ہیں ۔۔۔۔“ یہ جملہ اب بھی پاکستانی ناظرین کے ذہنوں میں محفوظ ہے۔


 

روحانی عقائد

  2008ء کے بعد سے نازاں  کو کچھ ایسے تجربات ہوئے جن سے انھیں یقین ہو گیا کہ ان کا پریوں اور غیبی  دنیا کی روحانی مخلوقات کے ساتھ  رابطہ ہوتا ہے۔ 2011ء میں نازاں نے ایک فیئری وائسز کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ نازاں کا    دعویٰ ہے کہ اس کے پاس پریوں کی کچھ ریکارڈ شدہ آوازیں اور تصویریں موجود  ہیں جو ایک  پریوں کی ایک ان دیکھی دنیا کا  ثبوت  ہیں۔

 

ماخذ: وکی پیڈیا                              https://en.wikipedia.org/wiki/Nazan_Saatci


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

Monday, January 3, 2022

سردیوں کی بارش

شعر و سخن

 

سردیوں کی بارش

آسماں سیاہ زمین بن گیا ہے

بادلوں کا فرش تن گیا ہے

بارش زور سے لگ پڑی ہے

سردیوں کی یہ پہلی جھڑی ہے

موسم کی کروٹ بھانپ رہے ہیں

لوگ سردی سے کانپ رہےہیں

بارش یونہی کچھ روز برسے گی

دھوپ جیسے کبھی نہ نکلے گی

کام پہ جانا ضروری ہے

گھر سے نکلنا مجبوری ہے

چاروں طرف بارش کا زور ہے

چھتری تلےمگر مقام کوئی اور ہے

بھیگتے نظاروں سے محظوظ ہونا

پُرلطف ہے بارش سے محفوظ ہونا

جابجا پانی کھڑا ہے

راہ میں کیچڑ بڑا ہے

توحید ہے  سنبھل کے چلنا

کہ پھسلنے ہوگا غیر کو سجدہ

کاریں چھینٹے اڑا رہی ہیں

طبقاتی فرق جتا رہی ہیں

دفتر میں کیا جی لگے گا

چائے کا ہی دور چلے گا

بھوک سردی میں جان لیوا ہے

مونگ پھلی گویا جنت کا میوہ ہے

جاتی ہے جو کھڑکی سے باہر نگاہ

دِکھتا ہے وہی برسات کا سلسلہ

گھر لوٹتےچہرے بتاتے ہیں صاف میں

کہ ہے آج آدم کی جنت لحاف میں

سنگدل انسان تو اپنے گھر ہوں گے

بےآسرا جانور کہاں مگر ہوں گے

ٹھٹھرتے جانوروں پہ بھی رونا چاہیئے

کہیں کوئی گھر ان کا بھی تو ہونا چاہیئے!

 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محبت

  خوشی کا حصول کیسے؟   محبت برٹرینڈ رسل                     زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احسا...