خوشی کا حصول کیسے؟
رائے عامہ کا خوف
برٹرینڈ رسل
اکثر انسان اس وقت تک خوش نہیں رہ سکتے ہیں، جب تک کہ ان کا طرزِ زندگی اور طرزِ فکر ان افراد کےہاں پسندیدگی اور قبولیت کا درجہ حاصل نہ کر لے جن کے درمیان وہ رہ رہے ہوتے ہیں یا جن کے ساتھ ان کے کسی بھی طرح کے سماجی روابط ہوتے ہیں۔ یہ جدید معاشرت کا ایک پہلو ہے کہ انسانی سماج ایسے طبقات میں منقسم ہے جو اپنے افکار و اخلاقیات میں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ انگریزی بولنے والے ممالک میں یہ اختلافات بہت زیادہ ہیں۔ ایک طبقہ آرٹ کی تحسین کرتا ہے تو دوسرا اسے شیطانیت سمجھتا ہے، خاص طور پر اس کی جدت پسندانہ صورت کو۔ کچھ طبقوں میں ریاست کیلئے پرستشانہ جذبات ایک نیکی تصور کیے جاتے ہیں، بعض میں ایک برائی اور چند دوسرے حلقوں میں ایک حماقت گردانے جاتے ہیں۔ روایت پسند لوگ بدکاری کو ایک جرم سمجھتے ہیں، جبکہ آبادی کا ایک بڑا حصہ اسے مستحسن نہیں تو قابلِ معافی ضرور خیال کرتا ہے۔
ان سب اختلافات کی وجہ سے ایک خاص ذوق اور خیالات کا آدمی ایک طبقے میں رہتے ہوئے خود کو نکما اور ناکارہ خیا ل کرتا ہے، جبکہ یہی شخص کسی دوسرے طبقے میں بالکل ایک عام انسان کے طور پر قبول کر لیا جائے گا۔ اس طرح خاص طور پر نوجوانوں میں ناخوشی کے شدید جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ نوجوان افراد کسی طرح ہوا کی لہروں پہ تیرتے ہوئے نئے خیالات اور تصورات پکڑ لیتے ہیں، لیکن پھر انھیں پتا چلتا ہے کہ یہ اس معاشرے کیلئے ناپسندیدہ اور بُرے ہیں جس میں وہ رہ رہے ہیں۔ وہ یہ مشکل سے ہی سوچ سکتے ہیں کہ جن باتوں کو ان کے معاشرے میں برائی اور انحراف سمجھا جاتا ہے، دنیا کے کسی دوسرے حصے میں وہی باتیں عام اطوار تصور ہوتی ہیں۔اس طرح دنیا کی جہالت کی وجہ سے غیر ضروری طور پر لوگ نوجوانی میں ، اور بعض اوقات عمر بھر ایک اذیت سے گزرتے ہیں۔ایسی صورت نہ صرف کربناک ہوتی ہے، بلکہ اس میں ذہنی آزادی کے تحفظ کیلئے مخالف ماحول سے کشمکش میں کافی توانائی بھی صرف ہو جاتی ہے۔ شاعر ولیم بلیک کو بھی زندگی میں ذہنی تنہائی سے گزرنا پڑا، مگر وہ اپنے اندر اتنا مضبوط تھا کہ اس کے برے اثرات پر غالب آجائے، کیونکہ اس نے اس بات پر کبھی شک نہیں کیا کہ وہ صحیح ہے اور اس کے ناقد غلط۔ تاہم سب لوگ ایسے فولادی اعصاب کے مالک نہیں ہوتے۔ زیادہ تر افراد کو خوش رہنے کیلئے موافق اور ہمدرد ماحول کی ضرورت ہوتی ہے اور زیادہ تر کو ایسا مل بھی جاتا ہے۔ وہ نوجوانی میں اپنے ماحول کے تعصبات سیکھ لیتے ہیں اور اپنی زندگی کو سماجی اقدار اور رسوم سے ہم آہنگ کر لیتے ہیں۔ تاہم انسانوں کی ایک بڑی اقلیت کیلئے یہ طرزِ عمل اختیار کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس اقلیت میں عملاً وہ تمام لوگ شامل ہوتے ہیں جو کوئی ذہنی یا جمالیاتی خوبی یا انفرادیت رکھتےہیں۔ فرض کیجیے کہ ایک شخص ایک چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوتا ہے۔ ابتدائی لڑکپن ہی میں وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو ہر اس چیز کے خلاف پاتا ہے جو ذہنی امتیاز اور غیر معمولی قابلیت کیلئے ضروری ہوتی ہے۔ اگر وہ سنجیدہ قسم کی کتابیں پڑھنے میں دلچسپی لیتا ہے تو دوسرے لڑکے اس مذاق اڑاتےہیں، اور اس کے اساتذہ کا کہنا ہوتا ہے کہ ایسی کتابیں دماغی فتور پیدا کرتی ہیں۔ اگر وہ آرٹ کا شوق ظاہر کرتا ہے، تو لوگ اسے عجوبہ سمجھنے لگتے ہیں، جبکہ اس کے بزرگ اس شغل کو واہیات خیال کرتے ہیں۔ اگر وہ کوئی ایسا پیشہ اختیار کرنا چاہتا ہے جو اپنی جگہ تو باعزت ہے، لیکن اس کے چھوٹے سے سماج کیلئے غیر مانوس ہے، تو اسے بتایا جاتا ہے کہ اس کیلئے وہی کام اچھا ہے جو اس کے آباؤ اجداد کیلئے اچھا تھا۔ اگر وہ اپنے والدین کے مذہبی یا سیاسی نظریات پر تنقید کرنے کا ذرا سا بھی رجحان ظاہر کرتا ہے، تو خود کو ایک سنگین مصیبت میں گھِرا ہو اپاتا ہے۔اس سب وجوہات کی بنا پر غیر معمولی صلاحیت کے نوجوانوں کیلئے بلوغت کا دور بہت کڑا ہوتا ہے۔ ان کے عام ہم جولیوں کیلئے یہ دور بہت کیف و مستی اور ہلے گُلے کا ہوتا ہے، لیکن وہ زندگی میں کوئی مثبت اور سنجیدہ کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس کیلئے انھیں اپنے بزرگوں سے کوئی رہنمائی ملتی ہے اور نہ ہم جولیوں سے کوئی تعاون۔
جب ایسے نوجوان یونیورسٹیوں میں جاتے ہیں، اکثر انھیں ہم مزاج افراد مل جاتے ہیں، جن کے ساتھ وہ چند سال خوشی کے لمحات پا لیتے ہیں۔ اگر وہ خوش قسمت ہیں تو یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد انھیں کوئی ایسا کام مل سکتا ہے جس میں ہم طبع لوگوں کا ساتھ میسر آنے کا امکان ہو۔ اگر ایک تعلیم یافتہ انسان جو لندن یا نیویارک جیسے بڑے شہروں میں رہتا ہو، کو عموماً ایسا ہم خیال حلقہ مل جاتا ہے جہاں اسے اپنے خیالات پر پردہ ڈالنے یا حیلہ سازی کی ضرورت نہ پڑے۔ تاہم اگر اس کا کام چھوٹی جگہوں پر رہنے کا تقاضا کرتا ہے یا خاص طور پر جس کام میں عام افراد کے جذبات کا احترام کرنا ناگزیر ہو، مثلاً ڈاکٹر یا وکیل کا کام، تو ایسی صورت میں عمر بھر اسے اپنے اصل خیالات اور ذوق کو اپنے ملنے جلنے والوں سے چھپا کر رکھنا پڑتا ہے۔ یہ خاص طور پر ان وسیع و عریض جغرافیے والے ممالک میں ہوتا ہے جہاں دور دراز کے حصوں میں ایسے تنہا افراد ہو سکتے ہیں جو کتابوں کے ذریعے ایسے مقامات سے آشنا ہوں جہاں انھیں ہم مزاج صحبت میسر آسکتی ہے، لیکن جن کے پاس ان مقامات پرجاکر رہنے کا کوئی امکان نہ ہو۔ ایسے حالات میں سچی مسرت کا حصول ان افراد کیلئے دشوار ہوتا ہے جو ولیم بلیک جیسی مضبوطی نہیں رکھتے۔ ان حالات میں خوشی کا حصول اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے، جب لوگوں کی رائے کے خوف کو کم کرنے یا اس سے بچنے کی کوئی تدبیر کی جائے جس کے ذریعے ذہین اور صاحبِ ذوق افراد ایک دوسرے تک رسائی حاصل کر سکیں اور باہمی صحبت سے لطف اندوز ہو سکیں۔ درحقیقت ایسی بہت سی صورتوں میں غیر ضروری بزدلی مسئلے کو زیادہ سنگین بنا دیتی ہے۔ رائے عامہ ہمیشہ ان افراد کیلئے زیادہ سخت ہوتی ہے جو اس سے ڈرتے ہیں، بہ نسبت ان افراد کے جو اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ ایک کتا اس وقت زیادہ بھونکے گا اور کاٹنے کیلئے جھپٹے گا، جب لوگ اس سے خوف ظاہر کریں گے۔ جو لوگ ڈرنے کے بجائے کتے کو زور سے جھڑک دیتے ہیں، انھیں وہ گھورنے کے سوا کچھ نہیں کہتا۔ انسانی سماج میں بھی بڑی حد تک یہی خصلت موجود ہے۔ اگر آپ ظاہر کریں گے کہ آپ لوگوں کی باتوں سے خائف ہیں، تو رائے عامہ آپ کو اور زیادہ ڈرائے گی، اس کے برعکس اگر آپ بے نیازی اور بے خوفی کا مظاہرہ کریں گے، تو رائے عامہ پریشان ہو کر اپنی طاقت پر شک کرنا شروع کر دے گی اور آپ کو آپ کے حال پر چھوڑ دے گی۔ یقیناً میں یہاں رائے عامہ کی انتہائی قسم کی بات نہیں کر رہا۔ اگر آپ اپنےمعاشرے کی بنیادی مذہبی، سیاسی یا نظریاتی اقدار کی مخالفت کرتے ہیں، تو آپ کو نتائج بھگتنے کیلئے تیار رہنا چاہیئے۔ میں عام قسم کی سماجی سماجی روایات اور آداب سے روگردانی کا ذکر کر رہا ہوں، جیسے لباس و اطوار کے رائج فیشن کی پیروی نہ کرنا، کسی دوسرے مذہبی مسلک سے متعلق ہونا، سنجیدہ اور فلسفیانہ کتابوں کا ذوق اختیار کرنا ، وغیرہ۔ ایسی معمولی روگردانی اگر مخالفانہ نہیں ،بلکہ بے ساختہ انداز میں دل لگی کے طور پر کی جائے، تو انتہائی روایت پسند سماج میں بھی برداشت کر لی جاتی ہے۔ اس طرح رفتہ رفتہ معاشرےمیں ایسے ”سند یافتہ دیوانے“ کی حیثیت حاصل کی جا سکتی ہے جسے وہ سب کچھ کرنے کی اجازت مل جاتی ہے جو کسی اور کیلئے ممنوع ہوتا ہے۔ یہ بڑی حد تک ایک خاص قسم کے اچھے مزاج اور دوستانہ پن کا معاملہ ہے۔ روایت پسند افراد رسم و رواج کے مخالف چلنے والوں پر اس لیے غضبناک ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ اس مخالفت کو اپنے اوپر تنقید کے طور پر لیتے ہیں۔ وہ ایسے انسان کے غیر روایتی پن اور تفرد کو معاف کر دیں گے جو اپنی زندہ دلی اور دوستانہ انداز کے ذریعے یہ واضح کر دے گا کہ اس کا مقصد ان پرتنقید نہیں ہے۔
تاہم رائے عامہ کی سختی سے بچنے کا یہ طریقہ ان افراد کیلئے اختیار کرنا ممکن نہیں ہوتا جو اپنے مخصوص ذوق اور خیالات کی وجہ سے اپنے گروہ کی ہمدردیاں کھُو بیٹھتے ہیں۔ ہمدردانہ جذبات سے محرومی انھیں مضطرب بنا دیتی ہے اور وہ تُرش رُو اور چڑچڑے بن جاتے ہیں۔ اگر انہی افراد کو ان کے ماحول سے نکال کر کسی دوسرے ایسے ماحول میں لے آیا جائے جہاں ان کے افکار کوئی برائی نہ ہوں، تو ان کا مزاج بالکل تبدیل ہو جائے گا۔ اگر وہ پہلے سنجیدہ طبع، شرمیلے اور تنہائی پسند تھے، تو اب خوش مزاج اور پُراعتماد ہو جائیں گے۔ اگر ان کی طبیعت میں کوئی ناہمواری تھی، تو اب وہ دوسروں کیلئے آسان اور نرم ہو جائیں گے۔ اس سے قبل اگر وہ درون بین تھے، تو اب اس کی جگہ سماج پسندی اور بیرون بینی لے لے گی۔ اس لیے ایسے نوجوان افراد جو اپنے ماحول سے موافقت اختیار نہ کر سکتے ہوں، انھیں چاہیئے کہ اگر ممکن ہو تو ایسا کام یا پیشے کا انتخاب کریں جس کے ذریعے وہ اپنے ہم خیال افراد تک رسائی حاصل کر سکیں، خواہ اس کیلئے انھیں کم آمدنی کا نقصان برداشت کرنا پڑے۔ اکثر وہ نہیں سمجھ پاتے کہ ایسا کرنا ممکن ہے، کیونکہ دنیا کےبارے میں ان کاعلم محدود ہوتا ہے، اور وہ خیال کر لیتے ہیں کہ جیسے تعصبات ان کے اپنے سماجی ماحول میں ہیں، ویسے ہی دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں۔ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں عمررسیدہ افراد کو نوجوانوں کی معاونت کرنی چاہیئے، کیونکہ ان کے پاس دنیا کا معتدبہ اور اہم تجربہ ہوتا ہے۔
علمِ نفسیات کے فروغ کے اس دور میں یہ تاثر عام ہے کہ اگر کوئی نوجوان اپنے ماحول سے سمجھوتہ نہ کر پائے تو اس کا سبب ضرور کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک غلط فہمی ہے۔ مثال کے طور پر فرض کریں کہ ایک نوجوان کے والدین سمجھتے ہیں کہ ڈارون کا نظریۂ ارتقاء ایک فتنہ ہے، تو اس صورت میں اس نوجوان کو اپنے والدین کی ہمدردی سے محروم کرنے والی چیز دراصل علمی ذہانت کے سوا کچھ اور نہیں۔ اپنے ماحول سے ناموافقت، بلاشبہ بدقسمتی کی بات ہے، لیکن یہ کوئی ایسی بدقسمتی نہیں جس سے ہر صورت میں اور ہر قیمت پر بچا جائے۔ جہاں روایتی ماحول جاہلانہ، متعصب اور ظالمانہ ہو، وہاں عدم موافقت خوبی کی بات ہے اور کسی نہ کسی حد تک یہ بُری خصلتیں تقریباً ہر ہی ماحول میں ہوتی ہیں۔ گیلالیو اور کیپلر کے خیالات ان کے ماحول کیلئے ’خطرناک‘ تھے، اسی لیے آج وہ اپنے عہد کے ذہین ترین افراد شمار ہوتے ہیں۔ ایسی سماج پسندی کی حوصلہ افزائی درست نہیں جو افراد کو اپنے خیالات کی وجہ سے پیش آنے والی سماجی مخالفت سے خوفزدہ کر دے۔درست یہ ہے کہ اس مخالفت کو ممکن حد تک کم اور بےضرر بنانے کی صورتیں تلاش کی جائیں۔
جدید دنیا میں اس مسئلے کا سب سے اہم پہلو نوجوانی کی عمر میں سامنے آتا ہے۔ کوئی انسان اگر ایک بار صحیح پیشے اور صحیح ماحول میں پہنچ جائے تو اکثر صورتوں میں وہ سماجی ایذا رسانی سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر وہ ابھی نوجوان ہے اور اس کی صلاحیتیں ابھی ناآزمودہ ہیں، تو وہ ایسے جاہل افراد کے رحم و کرم پر ہوتا ہے جو ایسے معاملات میں بھی رائے زنی کرتے ہیں جن کے بارے میں حقیقتاً انھیں کچھ علم نہیں ہوتا اور جو اپنے تجربے کے سامنے نوجوانوں کی تعلیم کو حقارت سے دیکھتے ہیں۔ بہت سے افراد کو جو بالآخر ایسی جہالت کی گرفت سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، ایسی سخت کشمکش اور طویل مزاحمت سے گزرنا پڑا کہ آخر میں وہ بالکل نڈھال ہوگئے۔ ایک آرام دہ نظریہ یہ بھی پایا جاتا ہے کہ عبقری انسان (جینئس) ہمیشہ اپنا راستہ بنا لیتا ہے، اور اس نظریے کی بنا پر بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک نوخیز صلاحیت کو ایذارسانی سے کوئی ضرر نہیں پہنچتا۔ تاہم اس نظریے کو صحیح سمجھنے کی کوئی دلیل موجود نہیں۔ یہ ایسا ہی نظریہ ہے کہ قتل ہمیشہ ظاہر ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہمیں معلوم قتل وہی ہیں جو دریافت ہوگئے، لیکن کون جانتا ہے کہ کتنے قتل ایسے ہوئے جن کا راز کبھی نہ کھل سکا؟ اسی طرح ہمیں معلوم تمام جینئس افراد وہ ہیں جو حالات کا مقابلہ کر کے سامنے آگئے۔ لیکن یہ فرض کرنے کا کوئی جواز نہیں کہ بےشمار جینئس افراد نوجوانی ہی میں دب کر رہ گئے۔ مزید برآں، یہ مسئلہ صرف تخلیقی ذہانت کا نہیں، بلکہ عام ہنرمندی کا بھی ہے جو معاشرے کیلئے اتنی ہی اہم ہے اوریہ محض کسی نہ کسی طرح مشہور ہو جانے کا سوال بھی نہیں، بلکہ ذہنی اور جذباتی سلامتی کے ساتھ شہرت پانے کا سوال ہے۔ اس وجہ سے نوجوانی کی راہ اتنی دشوار نہیں کی جانی چاہیئے۔
اب یہ تو پسندیدہ بات ہے کہ بوڑھے افراد نوجوانوں کی خواہشات کا احترام کریں، لیکن یہ مطلوب نہیں کہ نوجوانوں کو معمر لوگوں کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیئے۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے کہ ہر صورت میں یہ نوجوانوں کی زندگیوں کامعاملہ ہے، نہ کہ ان بوڑھوں کی زندگیوں کا جواپنی باری لے چکے ہیں۔جب نوجوان افراد بوڑھوں پر کوئی روک لگاتے ہیں، مثلاً اولاد کا بیوہ ماں یا رنڈوے باپ کو دوسری شادی سے منع کرنا، تو یہ اتنا ہی غلط ہے جتنا کہ بوڑھوں کا نوجوانوں کیلئے کوئی رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ بوڑھوں (جب تک ان میں سمجھ باقی ہے) اور نوجوانوں (جب سے ان میں سمجھ پید اہو جائے) دونوں کو اپنی زندگیوں اپنی مرضی سے گزارنے کا حق ہونا چاہیئے۔
میرے خیال میں ماہرانہ رائے (جس کو ہمیشہ وزن دیا جانا چاہیئے) کو چھوڑ کر، ہمارے ہاں دوسرے کی رائے کو ہر چھوٹے بڑے معاملے میں ضرورت سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر خرچ کا معاملہ لیجیے۔ اکثر لوگ اپنی آمدنی کو اس طرح خرچ نہیں کرتے جس طرح ان کا جی چاہتا ہے، صرف اس وجہ سے کہ ان کے خیال میں اپنے پڑوسیوں کی نظر میں وقعت حاصل کرنے کیلئے عمدہ قسم کی گاڑی اور پُرتکلف دعوتیں دینے کی گنجائش رکھنا ضروری ہے۔ حقیقت میں ایک شخص جو قیمتی کار خریدنے کی سکت رکھتا ہو، لیکن اس کی بجائے وہ اپنی دولت اپنی ذوقی تسکین کیلئے سیر و سیاحت یا ذاتی لائبریری بنانے میں صرف کر دے، تو آخر میں لوگوں کی نظروں میں زیادہ عزت حاصل کر لے گا، بہ نسبت اس کے کہ وہ بھی وہی کرے جو دوسرے کر رہے ہوں۔ تاہم اس سے مراد رائے عامہ کا کھُلے عام تمسخر اڑانا نہیں ہے، یہ سب کچھ ابھی بھی اس کے دائرے میں رہ کر ہی ہوگا، مگر ذرا اُلٹ پلٹ انداز میں ہوگا۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ لوگوں کی باتوں سے بالکل بے پرواہ اور بےنیاز ہوجانے سے شخصی مضبوطی بھی حاصل ہوتی ہے اور ذاتی خوشی بھی۔ اور ایک معاشرہ جس میں مرد و زن روایات کے بہت زیادہ پابندی کے بغیر رہتے ہوں، اس معاشرے سے زیادہ دلچسپ ہوگا جس میں لوگ ایک جیسے ہی کام کرتے ہوں۔ ایسے معاشرے میں ہر انسان کا کردار انفرادی طور پر نشوونما پاتا ہے، مزاجوں کا تنوع محفوظ رہتاہے، اور نئے افراد سے ملنا اچھا لگتا ہے، کیونکہ ہر نیا شخص واقعی میں نیا ہوتا ہے نہ کہ سابقہ ملنے والوں کی ایک انسانی نقل۔ موجودہ دور میں ہم اس طرح کی سماجی آزادی کھو رہے ہیں اور اس لیے ضرورت ہے کہ یکسانیت کےنقصانات کا ادراک کیا جائے۔ میری مراد یہ نہیں کہ ایک انسان جان بوجھ کر معاشرے سے انحراف کی کوشش کرے، کیونکہ یہ بھی ایسا ہی غیر دلچسپ ہوتا ہے جیسا کہ روایت پسند ہونا۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اپنے فطری ذوق کی بےساختہ طور پر پیروی کریں جب تک کہ یہ بالکل سماج مخالف نہ ہو۔
جدید دنیا میں تیزی ذرائع آمدورفت کی وجہ سے لوگوں کی یہ مجبوری باقی نہیں رہی کہ اپنے جغرافیائی پڑوسیوں کی صحبت پر ہی گزارا کریں۔ جن کے پاس کاریں ہیں، وہ بیس میل تک رہنے والوں کو اپنا پڑوسی سمجھ سکتے ہیں۔ اس طرح ان کے پاس ماضی کےمقابلے میں دوستوں کا انتخاب کرنے کی زیادہ بڑی سہولت موجود ہے۔ ایک گنجان آبادی میں وہ شخص بہت بدنصیب ہوگا جو بیس میل تک بھی کوئی ہم مزاج دوست نہ تلاش کر سکے۔ یہ خیال کہ ایک انسان کو صرف اپنے قریبی ہمسائیوں کو جاننا چاہیئے، اب بڑی حد تک ختم چکا ہے۔ اب یہ ایک احمقانہ خیال ہے کہ کوئی صرف اپنے نزدیک رہنے والوں تک ہی محدود رہے۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ انسان اپنے دوستوں کا انتخاب ہم مزاجی اور ہم خیالی کی بنیاد پرکرے، نہ کہ رشتے داری یا ہمسائیگی کی بنا پر۔ ایک جیسے ذوق اور ایک جیسے خیالات رکھنے والے افراد کے باہمی رابطے سے خوشی کے عنصر میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر سماجی تعلقات کو انہی خطوط پر استوار کر لیا جائے تو تنہائی کے شاکی بہت سے افراد کی پریشانی دور ہو سکتی ہے۔
رائے عامہ کا خوف، دوسرے خوفوں کی طرح اعصاب اور صلاحیتوں کو مفلوج کر دینے والا ہوتا ہے۔ ایسے شدید خوف کی موجودگی میں کوئی بڑا کام کرنا دشوار ہوتا ہے اور ایسی کیفیت میں سچی مسرت بھی حاصل نہیں ہوپاتی، کیونکہ خوشی کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنی بےساختہ فطرت کے مطابق زندگی گزاریں، نہ کہ خود کو دوسروں کی پسند و ناپسند کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭