یادِ ماضی کاعذاب
ذہنی افسردگی یا ڈپریشن آج کے دور کاایک پریشان کن مسئلہ ہے۔ یہ
عارضہ متعدد اسباب کے تحت لاحق ہوتاہے مثلاً مزاجی حساسیت، فرد کاماحول سے موافقت نہ کرسکنا، غیر
معمولی صدمے ، مسلسل ناکامیاں وغیرہ۔ ڈپریشن کا ایک سبب ماضی کی تلخ اور نا
خوشگوار یادیں بھی ہوتی ہیں جو انسان کے دل کانٹے کی طرح چبھتی رہتی ہیں۔ اسی اذیت
سے گھبرا کر شاعر پکار اٹھا:
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
ماضی کا عذاب بہت سے افراد کا مسئلہ ہوتاہے۔
اس میں مبتلا انسان بیتے دنوں کے واقعات ، تجربات اور دوسروں کی باتوں کویاد
کرکےذہن پر ایک ناخوشگوار بوجھ اورتنا ؤ کی کیفیت طاری کیے رکھتاہے۔ بعض اوقات
ماضی کی کڑوی کسیلی یادیں اتنی شدت سے اوررہ رہ کر حملہ کرتی ہیں کہ انسان کاجی
چاہتاہے کہ کسی پتھر یا دیوار سے سر ٹکرادے۔ افسردگی کے مریض میں ماضی کی یادیں
ایک خبط اور آزار بن جاتی ہیں اور متا ثرہ شخص بے اختیار اپنے ماضی کوکریدتا
چلاجاتاہے۔مزاحمت کرنے پر ایسے خیالات میں اورزیادہ تیزی آجاتی ہے۔ آخر کار یہ
کیفیت انسان کو ذہنی طورپر مفلوج کرکے معمو ل کی زندگی کیلئے نا اہل کردیتی ہے۔
ماضی اگرچہ
ایک گزرا ہو وقت ہے لیکن اس میں ایسی
جذباتی طاقت موجود ہوتی ہے جو خوشگوار ہونے کی صورت میں انسان کے جذبات کو غیر
معمولی تقویت دے سکتی ہے اور نا خوشگوار ہونے کی صورت میں انسان کو کم ہمتی اور
پستیوں کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ ایسا ماضی جو انسان کی ذہنی صحت کو متاثر کرتاہے،
درج ذیل صورتوں میں اثر انداز ہوتاہے:
1) جب انسان کی
ناکامیوں اور محرومیوں کا سلسلہ ماضی سے لے کر حال کی زندگی تک ایک ہی انداز میں
چلاآرہا ہو تو ماضی کی ناکامیوں کی تلخی اس مماثلت اور تسلسل کی وجہ سے اتنی ہی
شدت سے برقرار رہتی ہے جتنی کہ حال کی نکامیوں کی ہوا کرتی ہے ۔ اس کے برعکس اگر
حال میں انسان کو کوئی بڑی کامیابی حاصل ہوجائے توماضی کی محرومیوں اور ناکامیو ں
کااثر زائل ہوجاتاہے۔
2) بعض اوقات ماضی میں کیا گیا کوئی فعل یا تجربہ اس وقت
کسی پریشانی یا تاسف کاباعث نہیں بنتا ، لیکن بعد میں کسی اندرونی تغیر کے نتیجے
میں انسان کافکری یا اخلاقی معیار بدل جاتاہے۔ اس نئے معیار کی کسو ٹی پرجب انسان
اپنے ماضی کے افعال اور کردار کو جانچتاہے تو پریشانی اور پشیمانی میں مبتلا
ہوجاتاہے۔
3) بچھڑے ہوئے عزیزوں کی یاد بھی انسان کو رہ رہ کر تڑپاتی
ہے ۔ ایسے جذباتی سہاروں سے محرومی ، حال
کی زندگی کو بے لطف اور بے معنی بنا دیتی ہے۔
4) جس شخص کے شب وروز کسی بامقصد نصب العین کے تحت نہیں ہوتے اور وہ اپنے وقت کی
تنظیم کیلئے کوئی مشغلہ یا سرگرمی اختیار
نہیں کرتا تو ایسا انسان بھی اکثر ماضی کی
بے کار اور لاحاصل یادوں کا نشانہ بن جاتاہے۔فارغ اور منتشر ذہن میں ماضی
کودراندازی کاراستہ بڑی آسانی سے مل جایا کرتاہے۔
5) بہت زیادہ دروں بینی (Introversion )
اور ہر وقت اپنی ہی ذات کے بارے میں سوچتے رہنے کی عادت بھی یہ مسئلہ پیدا کرتی
ہے۔
عذابِ ماضی کی ان مختلف صورتوں کااسی ترتیب سے یوں تدارک
کیا جاسکتاہے:
1) ماضی کی ناکامیوں کاتسلسل توڑنے کیلئے ضروری ہے کہ آپ
حال کی زندگی میں کسی ٹھوس کامیابی اور بڑی تبدیلی کیلئے منصوبہ بندی کے ساتھ
بھرپور کوشش کریں۔ آپ اگر اپنے حال کو اپنے ماضی سے مختلف بنالیں گے تو گویا ماضی
اورحال کے درمیان بند باندھنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔اس کے بعد ماضی کو حال پر
اثرانداز ہونے کاکوئی راستہ نہ ملے گا۔ اس
کیلئے اپنے خیالات اورطرزِ زندگی میں
ضروری تبدیلیاں لانا بہت ضروری ہے۔
2) اگر آپ سے ماضی میں کچھ غلطیاں ہوچکی ہیں تو کھلے دل سے
ان کااعتراف کریں۔ آپ نے لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہے تو بلاجھجک ان
سے معذرت کرلیں اوراگر ان غلطیوں کاتعلق
خدا کے احکامات سے ہے تو خلوصِ دل سے اللہ کے حضور توبہ کریں اور آئندہ ایسی بے راہروی سے بچنے کاعزم
کرلیں۔
3) عزیزو اقارب کی دائمی جدائی یقیناً ایک بڑاصدمہ ہے ، لیکن ان کی یاد کو ایک مستقل
روگ بناکر آپ خود ان کے بچھڑے ہوؤں سے بھی کوئی انصاف نہیں کریں گے۔آپ اگر فعال
اور بامقصد زندگی گزارنا شروع کردیں گے تو یہ بات
رفتگان کی روحوں کیلئے بھی باعثِ اطمینان و تسکین ہوگی ۔ اس کے علاوہ دوست
بنانے کی کوشش کیجیئے، کیونکہ پرانے ہمراہیوں کے بچھڑ جانے کے باوجود آپ کونئے
رفیقوں کے ساتھ زندگی کاسفر جاری رکھنا ہے۔
4) ماضی سےآزادی کیلئے حال میں دلچسپی لینابہت ضروری ہے۔
اپنے لیے زندگی میں کوئی بڑا ہدف مقرر کریں اور پھر پوری یکسوئی اورلگن کے ساتھ اس کے حصول میں مصرف ہوجائیں ۔
فارغ اوقات میں بھی کوئی دلچسپ مشغلہ اختیار کریں تاکہ آپ کاذہن ماضی کی طرف نہ
بھٹک سکے۔
5) اپنی ذات سے توجہ ہٹاکر دوسرے لوگوں میں بھی دلچسپی
لیجیے۔ آپ دیکھیں گے کہ آپ ہی جیسے انسان آپ کی طرح ہی کے مسائل اوردشواریوں کاشکار ہیں۔ ایسا مشاہدہ ذہن سے اس بوجھ
کواتاردے گا جو آپ نے محض اپنے ہی حوالے سےسوچتے رہنے کی وجہ سے اٹھارکھا ہے۔
یوگا
اورمراقبہ کے ذریعے سے بھی اپنے بےقابوخیالات پر غلبہ پایاجاسکتاہے۔ ان مشقوں سے
آپ اپنے ذہن کو اس بات کاخوگر بنا سکتے ہیں کہ وہ بے کار اور لاحاصل تفکرات کو
خودبخود مستردکردیاکرے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
No comments:
Post a Comment