گرتے بالوں کامسئلہ
بال مرد کے ہوں یا عورت کے، باوقار اور دیدہ زیب شخصیت کی
بناوٹ میں ان کا بہت ہی اہم کردار ہوتاہے۔اکثر آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض لوگوں کے
نقوش یا رنگت میں کوئی خاص جازبیت نہیں ہوتی مگر ان کے گھنے ، سیا ہ اور چمکدار
بال ان کے شخصیت کو پرکشش بنا دیتے ہیں۔بلاشبہ بال قدرت کا ایک بیش بہا تحفہ ہوتے
ہیں۔ تاہم آ ج کل بالوں کے گرنے کامرض ایسا ہے جس کے ہاتھوں لوگ عین جوانی کے دنوں
میں سر کایہ تاج کھو بیٹھتے ہیں۔بالوں کاگرنا یعنی گنجا پن یوں تو ایک طبعی عمل ہے
کیونکہ وقت کے ساتھ کمزوربال جھڑ جاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے بال آتے رہتے ہیں،
مگر قبل ازوقت جب بال مستقل طور پر جھڑنے لگ جائیں تو یہ ایک پریشان کن مسئلہ ہے۔
گنجے پن کے اسباب
1) ہارمونی عدم توازن:- یہ عام طورپر مردوں
میں دیکھنے میں آتاہے۔مردانہ ہارمون اینڈروجن کی مقدار میں عدم توازن سے بال گرنے
لگتےہیں۔ اسے مردانہ گنجاپن (Male
Pattern Baldness) کہتے ہیں۔ اس
میں سر کے درمیانی حصہ سے با ل جھڑ جاتےہیں لیکن پیچھے اور اطراف کے بال قائم رہتے
ہیں۔
2) ناقص غذا:- جب بالوں کو روزمرہ کی خوراک سے ضروری حیاتین (وٹامنز) اور
معدنیات(منرلز) نہیں ملتے تو وہ کمزور ہوکرگرنا شروع ہوجاتے ہیں۔حیاتین میں خاص
طورپر حیاتین الف(وٹامن اے)،حیاتین ب(وٹامن بی)، حیاتین ج(وٹامن سی)، حیاتین
د(وٹامن ڈی) اورحیاتین ھ(وٹامن ای) بالوں کی صحت اور افزائش کیلئے ضروری ہوتے
ہیں۔یہ حیاتین زیادہ تر تازہ سبزیوں ، پھلوں، دودھ، انڈے،مغزیات اورگوشت میں پائے
جاتے ہیں۔کمی کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے انھیں گولیوں کی شکل میں لیا
جاسکتاہے۔
معدنیات میں بالوں کیلئے سب سے اہم فولاد(آئرن) ہے۔ یہ خاص
طورپر خواتین کیلئے ضروری ہے۔ اس کی کمی سے جسم میں خون کی کمی واقع ہوجاتی ہے جس
سے بال گرنا شروع ہوجاتے ہیں۔فولاد کے حصول کیلئے سرخ گوشت بالخصوص کلیجی کا
استعمال مفید ہوتاہے۔ تاہم یہ گولیوں اور شربت کی صورت میں بھی لیا جاسکتاہے۔
3) خشکی یا بفا:- سر کی جلد سے ایک چکنی رطوبت بہتی ہے جو جلد کی سطح پر جمع
ہوکر جسم کی حرارت سے خشک ہوکر بھوسی کی مانند جھڑتی ہے ، اسے عام زبان میں خشکی
(ڈینڈرف) کہتے ہیں۔یہ خشکی سر کی جلد کے مسامات کو بند کردیتی ہے جس سے سر کی جلد کو دھوپ اورہوا نہیں لگتی اور
میل کچیل بھی خارج نہیں ہوپاتا۔اس سے بالوں کی جڑیں کمزور ہوجاتی ہیں اور سر بالوں
سے محروم ہونے لگتاہے۔اس کی ایک وجہ خون کی کمی اور ناقص بازاری غذاؤں کااستعمال
بھی ہوتاہے۔
4) جسمانی امراض:- دماغی و اعصابی
کمزوری، نزلہ زکام ،فسادِ خون اورجلدی
بیماریاں بھی گنجے پن کے اسباب میں شامل ہیں۔اگر عمومی صحت درست نہ ہو تو بال بھی اس سے متاثر ہوتے
ہیں۔طویل رہنے والی بیماریاں بھی بالوں کو
کمزور کردیتی ہیں۔
علاج
ذیل میں بالوں کو گرنے سے روکنے اور گنجے پن کے تدارک کیلئے
مؤثر اورآزمودہ دوائیں دی جارہی ہیں۔ان کادواؤں کا چھ ماہ تک مسلسل اورباقاعدہ
استعمال تسلی بخش نتائج دیتاہے۔
1) آر-89(Dr. Reckeweg R-89): یہ جرمنی کی بنی ہوئی ہومیو پیتھک دوا ہے۔ اس دوا
کے دس دس قطرے صبح ، دوپہر اوررات کھانے سے پہلے آدھے کپ پانی میں ملاکر پیئں۔یہ
دوا ہارمونی غدودوں کے افعال کو اعتدال میں لاکر اور بالوں کو ضروری غذائی اجزاء
فراہم کرکے گنجے پن کوروکتی ہے۔
2) منوکسن پلس سلوشن (Minoxin Plus solution): یہ بروکس فارما
کا تیارکردہ محلول ہے جو ایک ملی لیٹر کی مقدار میں روزانہ صبح اور رات بالوں میں
لگایا جاتاہے۔ اس دوا کو امریکہ کے طبی ادارے فوڈاینڈ ڈرگ اتھارٹی (FDA) نے مردانہ گنج
پن کیلئے منظور کیا ہے۔اس کے استعما ل سے بال گرنا رک جاتےہیں اور نئے بال اگنا بھی شروع ہوجاتے ہیں۔خواتین میں یہ دوا بالوں کے پتلاہونےکوروکتی ہے۔تاہم یہ محلول استعمال کرنے سے قبل اپنے ڈاکٹر سے مشورہ لے لینا چاہیئے۔
3) ایپی وائیٹ گولیاں (Epivite Tablets): یہ فوڈ سپلیمنٹ
ہے جو سر کی جلد اور بالوں کی افزائش
کیلئے درکار ضروری وٹامنز اورمنرلز پر مشتمل ہوتاہے۔یہ ایک گولی روزانہ لی جاتی
ہے۔ان گولیوں کو معروف دواساز کمپنی گلیکسو
سمتھ کلائن (GSK) تیار کرتی ہے۔
4) خمیرۂ بادام (ہمدرد دواخانہ): یہ خمیرہ دماغ کی کمزور ی کے سبب بالوں کے گرنے اور قبل از
وقت سفید ہونے کی صورت مفید ہوتا ہے۔ایک
چائے کاچمچہ صبح نہارمنہ دودھ کے ساتھ کھانا
چاہیئے۔ پرانے نزلہ زکام کی صورت میں
خمیرہ گاؤزبان عنبری کا استعمال فائدہ
دیتاہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭