Wednesday, September 11, 2019

گرتے بالوں کامسئلہ


گرتے بالوں کامسئلہ

                                                                                                                                                                        بال مرد کے ہوں یا عورت کے، باوقار اور دیدہ زیب شخصیت کی بناوٹ میں ان کا بہت ہی اہم کردار ہوتاہے۔اکثر آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض لوگوں کے نقوش یا رنگت میں کوئی خاص جازبیت نہیں ہوتی مگر ان کے گھنے ، سیا ہ اور چمکدار بال ان کے شخصیت کو پرکشش بنا دیتے ہیں۔بلاشبہ بال قدرت کا ایک بیش بہا تحفہ ہوتے ہیں۔ تاہم آ ج کل بالوں کے گرنے کامرض ایسا ہے جس کے ہاتھوں لوگ عین جوانی کے دنوں میں سر کایہ تاج کھو بیٹھتے ہیں۔بالوں کاگرنا یعنی گنجا پن یوں تو ایک طبعی عمل ہے کیونکہ وقت کے ساتھ کمزوربال جھڑ جاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے بال آتے رہتے ہیں، مگر قبل ازوقت جب بال مستقل طور پر جھڑنے لگ جائیں تو یہ ایک پریشان کن  مسئلہ ہے۔
گنجے پن کے اسباب
1) ہارمونی عدم توازن:-  یہ عام طورپر مردوں میں دیکھنے میں آتاہے۔مردانہ ہارمون اینڈروجن کی مقدار میں عدم توازن سے بال گرنے لگتےہیں۔ اسے مردانہ گنجاپن (Male Pattern Baldness) کہتے ہیں۔ اس میں سر کے درمیانی حصہ سے با ل جھڑ جاتےہیں لیکن پیچھے اور اطراف کے بال قائم رہتے ہیں۔

2) ناقص غذا:- جب بالوں کو روزمرہ کی خوراک سے ضروری حیاتین (وٹامنز) اور معدنیات(منرلز) نہیں ملتے تو وہ کمزور ہوکرگرنا شروع ہوجاتے ہیں۔حیاتین میں خاص طورپر حیاتین الف(وٹامن اے)،حیاتین ب(وٹامن بی)، حیاتین ج(وٹامن سی)، حیاتین د(وٹامن ڈی) اورحیاتین ھ(وٹامن ای) بالوں کی صحت اور افزائش کیلئے ضروری ہوتے ہیں۔یہ حیاتین زیادہ تر تازہ سبزیوں ، پھلوں، دودھ، انڈے،مغزیات اورگوشت میں پائے جاتے ہیں۔کمی کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے انھیں گولیوں کی شکل میں لیا جاسکتاہے۔
معدنیات میں بالوں کیلئے سب سے اہم فولاد(آئرن) ہے۔ یہ خاص طورپر خواتین کیلئے ضروری ہے۔ اس کی کمی سے جسم میں خون کی کمی واقع ہوجاتی ہے جس سے بال گرنا شروع ہوجاتے ہیں۔فولاد کے حصول کیلئے سرخ گوشت بالخصوص کلیجی کا استعمال مفید ہوتاہے۔ تاہم یہ گولیوں اور شربت کی صورت میں بھی لیا جاسکتاہے۔

3) خشکی یا بفا:- سر کی جلد سے ایک چکنی رطوبت بہتی ہے جو جلد کی سطح پر جمع ہوکر جسم کی حرارت سے خشک ہوکر بھوسی کی مانند جھڑتی ہے ، اسے عام زبان میں خشکی (ڈینڈرف) کہتے ہیں۔یہ خشکی سر کی جلد کے مسامات کو بند کردیتی ہے  جس سے سر کی جلد کو دھوپ اورہوا نہیں لگتی اور میل کچیل بھی خارج نہیں ہوپاتا۔اس سے بالوں کی جڑیں کمزور ہوجاتی ہیں اور سر بالوں سے محروم ہونے لگتاہے۔اس کی ایک وجہ خون کی کمی اور ناقص بازاری غذاؤں کااستعمال بھی ہوتاہے۔

4) جسمانی امراض:-   دماغی و اعصابی کمزوری، نزلہ زکام  ،فسادِ خون اورجلدی بیماریاں بھی گنجے پن کے اسباب میں شامل ہیں۔اگر عمومی صحت  درست نہ ہو تو بال بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔طویل  رہنے والی بیماریاں بھی بالوں کو کمزور کردیتی ہیں۔
علاج

ذیل میں بالوں کو گرنے سے روکنے اور گنجے پن کے تدارک کیلئے مؤثر اورآزمودہ دوائیں دی جارہی ہیں۔ان کادواؤں کا چھ ماہ تک مسلسل اورباقاعدہ استعمال تسلی بخش نتائج دیتاہے۔
1) آر-89(Dr. Reckeweg R-89): یہ  جرمنی کی بنی ہوئی ہومیو پیتھک دوا ہے۔ اس دوا کے دس دس قطرے صبح ، دوپہر اوررات کھانے سے پہلے آدھے کپ پانی میں ملاکر پیئں۔یہ دوا ہارمونی غدودوں کے افعال کو اعتدال میں لاکر اور بالوں کو ضروری غذائی اجزاء فراہم کرکے گنجے پن کوروکتی ہے۔
2) منوکسن پلس سلوشن (Minoxin Plus solution): یہ بروکس فارما کا تیارکردہ محلول ہے جو ایک ملی لیٹر کی مقدار میں روزانہ صبح اور رات بالوں میں لگایا جاتاہے۔ اس دوا کو امریکہ کے طبی ادارے فوڈاینڈ ڈرگ اتھارٹی (FDA) نے مردانہ گنج پن کیلئے منظور کیا ہے۔اس کے استعما ل سے بال گرنا رک جاتےہیں اور نئے بال اگنا  بھی شروع ہوجاتے ہیں۔خواتین میں یہ دوا بالوں کے پتلاہونےکوروکتی ہے۔تاہم یہ محلول استعمال کرنے سے قبل اپنے ڈاکٹر سے مشورہ لے لینا چاہیئے۔
3) ایپی وائیٹ گولیاں (Epivite Tablets): یہ فوڈ سپلیمنٹ ہے جو سر کی جلد اور بالوں  کی افزائش کیلئے درکار ضروری وٹامنز اورمنرلز پر مشتمل ہوتاہے۔یہ ایک گولی روزانہ لی جاتی ہے۔ان گولیوں کو  معروف دواساز کمپنی گلیکسو سمتھ کلائن (GSK) تیار کرتی ہے۔
4) خمیرۂ بادام (ہمدرد دواخانہ):  یہ خمیرہ دماغ کی کمزور ی کے سبب بالوں کے گرنے اور قبل از وقت سفید ہونے  کی صورت مفید ہوتا ہے۔ایک چائے کاچمچہ صبح نہارمنہ  دودھ کے ساتھ کھانا چاہیئے۔  پرانے نزلہ زکام کی صورت میں خمیرہ گاؤزبان عنبری کا استعمال  فائدہ دیتاہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Sunday, September 8, 2019

ماضی کاعذاب


یادِ ماضی کاعذاب

                                                                                                                                   ذہنی افسردگی یا  ڈپریشن آج کے دور کاایک پریشان کن مسئلہ ہے۔ یہ عارضہ متعدد اسباب کے تحت لاحق ہوتاہے مثلاً مزاجی  حساسیت، فرد کاماحول سے موافقت نہ کرسکنا، غیر معمولی صدمے ، مسلسل ناکامیاں وغیرہ۔ ڈپریشن کا ایک سبب ماضی کی تلخ اور نا خوشگوار یادیں بھی ہوتی ہیں جو انسان کے دل کانٹے کی طرح چبھتی رہتی ہیں۔ اسی اذیت سے گھبرا کر شاعر پکار اٹھا:
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
                                                                                                                       ماضی کا عذاب بہت سے افراد کا مسئلہ ہوتاہے۔ اس میں مبتلا انسان بیتے دنوں کے واقعات ، تجربات اور دوسروں کی باتوں کویاد کرکےذہن پر ایک ناخوشگوار بوجھ اورتنا ؤ کی کیفیت طاری کیے رکھتاہے۔ بعض اوقات ماضی کی کڑوی کسیلی یادیں اتنی شدت سے اوررہ رہ کر حملہ کرتی ہیں کہ انسان کاجی چاہتاہے کہ کسی پتھر یا دیوار سے سر ٹکرادے۔ افسردگی کے مریض میں ماضی کی یادیں ایک خبط اور آزار بن جاتی ہیں اور متا ثرہ شخص بے اختیار اپنے ماضی کوکریدتا چلاجاتاہے۔مزاحمت کرنے پر ایسے خیالات میں اورزیادہ تیزی آجاتی ہے۔ آخر کار یہ کیفیت انسان کو ذہنی طورپر مفلوج کرکے معمو ل کی زندگی کیلئے نا اہل کردیتی ہے۔
                                                                                                                       ماضی اگرچہ ایک گزرا ہو وقت ہے  لیکن اس میں ایسی جذباتی طاقت موجود ہوتی ہے جو خوشگوار ہونے کی صورت میں انسان کے جذبات کو غیر معمولی تقویت دے سکتی ہے اور نا خوشگوار ہونے کی صورت میں انسان کو کم ہمتی اور پستیوں کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ ایسا ماضی جو انسان کی ذہنی صحت کو متاثر کرتاہے، درج  ذیل صورتوں میں اثر انداز ہوتاہے:
1)  جب انسان کی ناکامیوں اور محرومیوں کا سلسلہ ماضی سے لے کر حال کی زندگی تک ایک ہی انداز میں چلاآرہا ہو تو ماضی کی ناکامیوں کی تلخی اس مماثلت اور تسلسل کی وجہ سے اتنی ہی شدت سے برقرار رہتی ہے جتنی کہ حال کی نکامیوں کی ہوا کرتی ہے ۔ اس کے برعکس اگر حال میں انسان کو کوئی بڑی کامیابی حاصل ہوجائے توماضی کی محرومیوں اور ناکامیو ں کااثر زائل ہوجاتاہے۔
2) بعض اوقات ماضی میں کیا گیا کوئی فعل یا تجربہ اس وقت کسی پریشانی یا تاسف کاباعث نہیں بنتا ، لیکن بعد میں کسی اندرونی تغیر کے نتیجے میں انسان کافکری یا اخلاقی معیار بدل جاتاہے۔ اس نئے معیار کی کسو ٹی پرجب انسان اپنے ماضی کے افعال اور کردار کو جانچتاہے تو پریشانی اور پشیمانی میں مبتلا ہوجاتاہے۔
3) بچھڑے ہوئے عزیزوں کی یاد بھی انسان کو رہ رہ کر تڑپاتی ہے ۔ ایسے جذباتی سہاروں سے محرومی ، حال  کی زندگی کو بے لطف اور بے معنی بنا دیتی ہے۔
4) جس شخص کے شب وروز کسی بامقصد  نصب العین کے تحت نہیں ہوتے اور وہ اپنے وقت کی تنظیم کیلئے کوئی مشغلہ یا سرگرمی  اختیار نہیں کرتا تو ایسا انسان بھی اکثر ماضی  کی بے کار اور لاحاصل یادوں کا نشانہ بن جاتاہے۔فارغ اور منتشر ذہن میں ماضی کودراندازی کاراستہ بڑی آسانی سے مل جایا کرتاہے۔
5) بہت زیادہ دروں بینی (Introversion ) اور ہر وقت اپنی ہی ذات کے بارے میں سوچتے رہنے کی عادت بھی یہ مسئلہ پیدا کرتی ہے۔
عذابِ ماضی کی ان مختلف صورتوں کااسی ترتیب سے یوں تدارک کیا جاسکتاہے:
1) ماضی کی ناکامیوں کاتسلسل توڑنے کیلئے ضروری ہے کہ آپ حال کی زندگی میں کسی ٹھوس کامیابی اور بڑی تبدیلی کیلئے منصوبہ بندی کے ساتھ بھرپور کوشش کریں۔ آپ اگر اپنے حال کو اپنے ماضی سے مختلف بنالیں گے تو گویا ماضی اورحال کے درمیان بند باندھنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔اس کے بعد ماضی کو حال پر اثرانداز ہونے  کاکوئی راستہ نہ ملے گا۔ اس کیلئے اپنے خیالات اورطرزِ زندگی  میں ضروری تبدیلیاں لانا بہت ضروری ہے۔
2) اگر آپ سے ماضی میں کچھ غلطیاں ہوچکی ہیں تو کھلے دل سے ان کااعتراف کریں۔ آپ نے لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہے تو بلاجھجک ان سے معذرت کرلیں  اوراگر ان غلطیوں کاتعلق خدا کے احکامات سے ہے تو خلوصِ دل سے اللہ کے حضور توبہ  کریں اور آئندہ ایسی بے راہروی سے بچنے کاعزم کرلیں۔
3) عزیزو اقارب کی دائمی جدائی یقیناً  ایک بڑاصدمہ ہے ، لیکن ان کی یاد کو ایک مستقل روگ بناکر آپ خود ان کے بچھڑے ہوؤں سے بھی کوئی انصاف نہیں کریں گے۔آپ اگر فعال اور بامقصد زندگی گزارنا شروع کردیں گے تو یہ بات  رفتگان کی روحوں کیلئے بھی باعثِ اطمینان و تسکین ہوگی ۔ اس کے علاوہ دوست بنانے کی کوشش کیجیئے، کیونکہ پرانے ہمراہیوں کے بچھڑ جانے کے باوجود آپ کونئے رفیقوں کے ساتھ زندگی کاسفر جاری رکھنا ہے۔
4) ماضی سےآزادی کیلئے حال میں دلچسپی لینابہت ضروری ہے۔ اپنے لیے زندگی میں کوئی بڑا ہدف مقرر کریں اور پھر پوری یکسوئی  اورلگن کے ساتھ اس کے حصول میں مصرف ہوجائیں ۔ فارغ اوقات میں بھی کوئی دلچسپ مشغلہ اختیار کریں تاکہ آپ کاذہن ماضی کی طرف نہ بھٹک سکے۔
5) اپنی ذات سے توجہ ہٹاکر دوسرے لوگوں میں بھی دلچسپی لیجیے۔ آپ دیکھیں گے کہ آپ ہی جیسے انسان آپ کی طرح ہی کے مسائل اوردشواریوں  کاشکار ہیں۔ ایسا مشاہدہ ذہن سے اس بوجھ کواتاردے گا جو آپ نے محض اپنے ہی حوالے سےسوچتے رہنے کی وجہ سے اٹھارکھا ہے۔
                                                                                                                                         یوگا اورمراقبہ کے ذریعے سے بھی اپنے بےقابوخیالات پر غلبہ پایاجاسکتاہے۔ ان مشقوں سے آپ اپنے ذہن کو اس بات کاخوگر بنا سکتے ہیں کہ وہ بے کار اور لاحاصل تفکرات کو خودبخود مستردکردیاکرے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



                                                                             

محبت

  خوشی کا حصول کیسے؟   محبت برٹرینڈ رسل                     زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احسا...