مذہب اورانسانی
زندگی
انسانی تاریخ میں مذہب کاکردار بے مثال ہے۔کسی اورچیز نے
انسان کی جذباتی اورسماجی زندگی کااس طرح احاطہ نہیں کیا جس طرح مذہب نے اپنا اثر
ڈالا ہے۔آج کے دور میں صنعتی معاشرے کے ظہور ، ٹیکنالوجی کی ترقی اور سائنسی
یافتوں کے زیراثر بعض ایسی اقدار وجود میں آگئی ہیں جن کی وجہ سے مذہب
کاانسانوں کی اجتماعی زندگی میں وہ کردار
باقی نہیں رہا جیسا قدیم سماجوں میں ہواکرتا تھا،تاہم انفرادی سطح پر مذہب کی
اہمیت اورافادیت آج بھی مسلم ہے۔
مذہب ، فرد کا
جذباتی سہارا
فرد کی زندگی میں ایسے نشیب وفراز آتے ہیں کہ وہ جذباتی
طورپر خود کو غیرمحفوظ اورکمزور محسوس کرنے لگتاہے اوربعض اوقات توحادثات کی
لہریں ان تمام انسانی اورمادی سہاروں کو
بہا لے جاتی ہیں جو انسان نے مشکل وقت کیلئے بنا رکھے ہوتے ہیں۔ایسے میں انسان کو
کسی غیرمادی، ماورائے انسانی اور لازوال سہارے کی ضرورت پڑتی ہے جو صرف مذہب
ہی فراہم کرسکتا ہے۔زندگی کے بحرانی دور اوراضطراری لمحات میں مذہب انسان کیلئے محافظِ حیات دوا(Life Saving Drug) کی طرح ثابت ہوتاہے۔
تاہم مذہب صرف پریشانیوں اورمصائب کاساتھی نہیں، بلکہ یہ
انسان کی معمول کی زندگی میں بھی کیف
اورلطافت پیداکرتاہے۔مذہب انسان کے خام جذبات کو تراش کر اعلیٰ انسانی رویوں کو
جنم دیتاہے، حیوانی لذتوں کو پاکیزگی کا رنگ دیتاہے اورذاتی اغراض کو ایثار واخوت
سے روشناس کراتاہے۔مذہب انسان کی خوشیوں اورپُرمسرت جذبات کو نہ صرف استحکام
دیتاہے ، بلکہ زندگی کے ختم ہوجانے پر بھی ان کے تسلسل کی امید دلاتاہے۔ یہ فرد کی
امیدوں اور حوصلوں کوتقویت دیتاہے اورمایوسیوں
اوراندیشوں کے خلاف ڈھال بن جاتاہے۔
ٖفرد کے دن بھر کے معمولات
مذہب کو اگر درست طورپر سمجھ کر زندگی میں شامل کیا جائے تو
یہ انسانی حیات کے ایک ایک لمحے کو بامعنی
اورکیف انگیز بنا سکتاہے۔
٭صبح کے اوقات
ہر رات جب انسان
نیند لے کر بیدار ہوتاہے تو کتابِ زندگی
اس کیلئے ایک نیا ورق الٹتی ہے۔صبح کاوقت بہت ہی سہانا اور امنگوں
اورولولوں سے بھرپور ہوتاہے۔فضا کی تازگی،
چڑیوں کی چہچہاہٹ اورپھولوں کی بھینی بھینی خوشبو طبیعت میں خالقِ کائنات کی
حمدوثنا کی رغبت پیداکرتی ہے۔ مذہب اس طبعی رغبت کو مراسمِ عبادت کی صورت دے
دیتاہے۔صبح کی عبادت میں انسان خدا سے کامران و شادماں دن کی دعامانگے، پھر قدرت
کی عطاکردہ غذاؤں سے لذت اورقوت کاسامان کرکے اکتسابِ علم یا کسبِ معاش کیلئے گھر
سے نکل لیاجائے۔
٭دن کے کام
مذہب کی تعلیم کے مطابق اس کائنات کی تمام اشیا ء کاخالق و
مالک خداہے اور انسان اس کرۂ ارض پر خداکا نائب ہے۔نائب ہونے کی حثیت سے خدانے
انسان کو محدود پیمانے پر اختیارات دے
کر اس دنیا کو خوبصورت اورترقی یافتہ
بنانے کی ذمے داری سونپی ہے۔ نائب کا اصلی کمال یہ ہے کہ وہ اپنے حاکم کی دنیا میں
اس کی جانشینی کاحق ادا کرنے کی کوشش کرے
اور جہاں تک ممکن ہو دنیا کے کاموں کو اسی دانائی، مہارت اور نفاست سے انجام دے جس
طرح کہ بڑے پیمانے پر خدا اس کائنات کے امور انجام دے رہاہے۔ انسان عملی زندگی میں
خواہ طالب علم ،ڈاکٹر،وکیل ،انجینئر،بزنس مین یا کوئی سرکاری ملازم ہو، اسے اپنے
فرائض یکسوئی ،لگن، منصوبہ بندی اورمحنت
سے نمٹائے چا ہیئں تاکہ وہ خدا کی طرف سے عائد کردہ ذمے داری کو احسن انداز میں
پوراکرسکے۔
٭دوپہر کاوقت
دن میں جب تھکن اوربھوک کے احساسات انسان پر غالب آجائیں تو
دل پسند کھانوں سے بھوک مٹا نے اورکچھ دیر آرام کرلینے کے بعد انسان ایک بار پھر
احساسِ تشکر سے اس خداکے آگے جھک جائے جس
نے انسانی زندگی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے انواع واقسام کی غذائیں پیدا کیں
اور انسانی جسم میں یہ خاصیت رکھی کہ وہ ایک بار نڈھال ہوجانے کے بعد اپنی توانائیاں
پھر سے بحال کرسکے۔
٭شام کے لمحات
پیشہ ورانہ فرائض نمٹالینے کے بعد سماجی میل جول اورتعلقات
انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ انسان سے انسان کا تعلق مزاجوں کی ہم آہنگی کے
باعث بھی بن سکتاہے اور رہائش کی قربت یا کام کے اشتراک کی وجہ سے بھی۔تاہم مذہب
نے سب سے زیادہ اہمیت ان تعلقات کو دی ہے جو خون اور نسب کے سبب وجود میں آتے
ہیں۔مذہب کا اصرار ہے کہ انسان ہر تعلق کو مثالی انداز میں نبھانے
کی کوشش یوں کرے کہ والدین کے ساتھ سعادت مندی،اولاد کے ساتھ شفقت، جیون
ساتھی کے ساتھ وفاشعاری ،بہن بھائیوں کے ساتھ اپنائیت،رشتے داروں کے ساتھ
تعاون،دوستوں کےساتھ خلوص،پڑوسیوں کے ساتھ
صلح جوئی اور ضرورت مند کے ساتھ ہمدردی کا اسلوب اختیارکرے۔
٭غروبِ آفتاب
شام کے اوقات میں اہل خانہ اور دوستوں کے ہنست کھیلتا اور
خوش فعلیاں کرتا انسان جب غروبِ آفتاب کا منظر
دیکھتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اس دنیا میں صحت،طاقت ، جوانی ، دولت
اورعمر سمیت ہر شے ڈھل جانے والی ہے۔اس وقت انسان کمزوری اوربے بسی کے اس تاثر کے
ساتھ خداکے آگے سر جھکادے کہ اس نے اس عالمِ رنگ وبو میں ہمیشہ سانس نہیں لیتے
رہنا، بلکہ ایک دن موت کی وادیوں سے گزر کر اپنے خالق کے روبرو پیش ہونا ہے۔
٭رات کا سکوت
رات کو جب تمام افرد خانہ کھانے کی میز پر مل بیٹھتے ہیں تو
یہ لمحہ خانگی یگانگت اور باہمی محبتوں کو بڑھانے والا اورکھانوں کی لذت کو دوبالا
کردینے والاہوتا ہے۔کھانے کے دوران ایک دوسرے سے دن بھر کا احوال پوچھنے کے بعد
آخر میں سب اہل خانہ مل کر خداکاشکر ادا کریں
اورخانگی مسرتوں کے بقا کی دعا
مانگیں۔
دن بھر کے ہنگاموں کے بعد رات کاسنا ٹا انسان کو خلوت نشینی
کی طرف مائل کرتاہے۔رات کی تاریکیاں
گردوپیش کی دنیا کو چھپاکر انسان کو اپنے اندر جھانکنے کا اشارہ کرتی ہیں۔
یہ وقت خود شناسی اور خود احتسابی کیلئے موزوں ترین ہوتاہے۔ شب کی تنہائیوں میں
انسان اپنی ذات کی خوبیوں اور خامیوں کو تولے اور اپنی شخصیت میں مزید بہتری کی
صورتیں سوچے۔پھر آج کی آخری عبادت میں خدا سے دن بھر کی کوتاہیوں کی معافی مانگنے
اور اچھے کاموں کیلئے قوتِ عمل چاہنے کے بعد خودکو اس نیند کی آغوش میں ڈال دیا
جائے جو خدا نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔
مذہب اورمعاشرہ
خود کو فرقہ ورانہ تنازعوں اورتصادم وٹکراؤکے نظریات سے
بچاکر اگر ہر انسان مذہب کی سیدھی سادی اورانسانی فطرت پر مبنی تعلیمات پر عمل کرے
تونہ صرف اس کی اپنی انفرادی زندگی میں نکھار آجائے بلکہ معاشرہ بھی حرص،بدگمانی
،کام چوری،حق تلفی،چھیناچھپٹی،ترش کلامی،بے حسی اورخودغرضی جیسےکانٹوں سے صاف
ہوکرامن ، انصاف اوراخوت کے پھولوں سے بھرا چمن بن جائے اور چھوٹے کنبوں سے لے کر
بڑے سیاسی ایوانوں تک اصلاح وتعمیر کی ایک لہر چل پڑے۔
انسانی معاشرہ ذہنی اورمعاشی تفاوتوں کی وجہ سے قدرتی طورپر
عوام،حکمران،امیر ،غریب،تعلیم یافتہ، ناخواندہ،مذہبی پیشوا اورفنی ماہرین جیسے
طبقات میں بٹا ہوتاہے۔مذہب ہر طبقے کیلئے ایک کردار (رول) تجویز کرتاہے۔مذہبی
پیشوا سماجی سطح پر ان برائیوں کے خاتمے کا ذمہ لیں جو مذہبی تعلیمات سے غفلت یا
ان کے غلط استعمال سے پیداہوتی ہیں مثلاًجہیز کی لعنت،شادی بیاہ میں فضول
خرچی،تعویذ گنڈوں کی جہالت،عورتوں کو وراثت میں حصہ نہ دینے کی روایت،معاشرتی
تعلقات میں ذات پات کی تفریق، شراب
اوردوسری نشہ آور اشیاء کااستعمال ، جنسی بے راہروی وغیرہ۔
اسی طرح حکمران سیاسی سطح پر ان جرائم اور مسائل کے تدارک
کیلئے کمر بستہ ہوجائیں جو قانون شکنی اور طبقاتی استحصال کی وجہ سے جنم لیتے ہیں
مثلاً غنڈہ گردی، بردہ فروشی، منشیات کی خریدوفروخت ،جسم فروشی کاکاروبار،بے
روزگاری ،طبقاتی استحصال ،ذخیرہ اندوزی،اسمگلنگ وغیرہ۔
سرمایہ دار افراد خداترسی کاثبوت دیتے ہوئے خداکی دی ہوئی
دولت سے نادار لوگوں کیلئے فلاحی ادارے (ہسپتال،سکول،یتیم خانے وغیرہ) اورخیراتی
مراکز قائم کریں۔تعلیم یافتہ اوردانشور
افراد مذہبی تعلیمات کی روشنی میں تحریر اورتقریر کے ذریعے عام لوگوں میں تعلیم کی
اہمیت ،جمہوری حقوق،صحت و صفائی کے اصولوں اور ماحولیاتی آلودگی کے مضرات کا شعور اجاگر کریں۔
اس طرح اگر ہر سماجی طبقہ مذہب کی متنوع تعلیمات سے رہنمائی
حاصل کرتے ہوئےاپنے دائرے میں اپنی ذمہ
داریاں ادا کرتارہے اور دوسرے کے کام میں
مداخلت اوردوسروں کو مطعون نہ کرےتو انتشار سے پاک ایک مثالی معاشرہ وجود
میں آسکتاہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭