زندگی ایک آرٹ ہے
دیکھا جائے تو زندگی میں ایسی باتیں بہت ہی کم ہیں جن پر
انسان کو براہ راست اختیار ہو ۔ نسل وخاندان ، رشتے ناطے، شکل وصورت، سماجی ماحول
وغیرہ، ان میں سے کوئی ایک چیز بھی ایسی نیں جس پر کسی ایک بھی فرد اختیار چلتاہو،
جبکہ یہی وہ عوامل ہیں جو انسانی زندگی کو اچھی یا بری ، تلخ یا خوشگوار بنانے میں
بہت زیادہ حصے دار ہوتے ہیں ۔شعور کی منزل کو پہنچنے سے بہت پہلے انسان کو دی گئی
تربیت اور بچپن کاماحول اس کے ذاتی کردار کو ایک خاص صورت دے چکے ہوتے ہیں۔مزید
برآں زندگی میں رونما ہونے والے تقدیر کے نشیب وفراز اور ناگہانی تغیرات کسی بھی
لمحے زندگی کو کو کچھ کاکچھ بنا دیتے ہیں اور اکثر صورتوں میں انسان ان طوفانوں کے
مقابلے میں بالکل حقیر تنکا ثابت ہوتاہے۔ یوں انسانی زندگی کا ایک بڑ حصہ جبر پر
مبنی دکھائی دیتاہے۔
تاہم ایک محدود دائرے میں اندرانسان کو زندگی پر کچھ اختیار
بھی حاصل ہے ۔ ہر انسان کو کسی نہ کسی درجے میں یہ صلاحیت
حا صل ہے کہ وہ اپنی زندگی میں جاری بعض عوامل کو روک دے ، بعض کی رفتار
تیز کردے اور کچھ عوامل کی اصلاح کردے ۔ ایسی حکمت عملی ممکن ہے ، جس سے زندگی کی
تلخیوں کی شدت کم سے کم ہوجائے اورمسرتوں کارنگ زیادہ سے زیادہ نمایا ں ہوجائے ۔
اس پہلو سے زندگی ایک فن(آرٹ) ہے۔
زندگی کا آرٹ سیکھنا پڑتاہے
آرٹ کی تعریف یہ ہے کہ ایک فطری عمل یا تقاضے کو اس طرح
تراشا و نکھاراجائے اورا یسے اسلوب اختیار
کیے جائیں جن سے اس عمل یا تقاضے کی تاثیر اور افادیت معمول سے بڑھ جائے۔ مثال کے
طور پر زندہ رہنے کیلئے سانس سب ہی انسان لیتے ہیں اس لیے کہ سانس لینا جبلت ہے۔
لیکن اگر یہی عمل ایک خاص اسلوب اور قاعدے سے انجام دیا جائے تو آرٹ بن جاتاہے جسے
یوگا کہتے ہیں۔اسی طرح گفتگو سب ہی لوگ کرتے ہیں ، لیکن یہی کام اگر دل نشین الفاظ
کے انتخاب اور مناسب لب و لہجے کے ساتھ کیا جائے تو خطابت کاآرٹ بن جاتا ہے۔بالکل
اسی طرح ہر انسان زندگی گزارتاہے ۔ لیکن زندگی گزارنے کے اس جبلی عمل کو اگر ایک
خاص ڈھنگ اور سلیقے سے انجام دیا جائے تو زندگی گزارنا بھی ایک آرٹ بن جاتاہے۔
تاہم جس طرح یوگا اور تقریر کا فن کسی کو خودبخود نہیں آجاتا، اسی طرح زندگی کاآرٹ
بھی سیکھنا پڑتاہے۔
موزوں طرزِ فکر
ایک شخص کی زندگی اچھی گزر رہی ہے یا بری ، اس کا انحصار
دراصل اس کی اندرونی ذہنی یا جذباتی کیفیت پر ہے۔ اگر آپ اندر سے خوش اور مطمئن
ہیں تو آپ کی زندگی بھی اس اعتبار سے خوش گوار کہی جائے گی۔ اگر ایک شخص اندر سے
پریشان اور افسردہ ہے تو دولت، عزت، عالیشان رہائش ، خوبصورت جیون ساتھی اور دوسری
مادی آسائشیں رکھنے کے باوجود اس شخص کی زندگی ناخوشگوار اور تلخ سمجھی جائے گی۔
داخلی کیفیت کو خوشگوار یا تلخ بنانے میں خارجی عوامل کابھی کردار ہوتاہے اور
انسان کے خود اپنے سوچنے کے انداز کابھی۔اگر آپ کے اندر اشتعال، خوف ، حسد یا
پریشانی کی کیفیت پائی جاتی ہے تو غالباً اس کا سبب آپ کی ذات سے باہر دوسرے افراد
کاطرزعمل اور حالات کااتار چڑھاؤ ہوگا اور اگرآپ کے اندرونی احساسات پر بے چینی ،
اضطراب، پشیمانی، دباؤ یا بوریت کاغلبہ ہے تو زیادہ امکان ہے کہ ان کا منبع آپ کی
ذات کے اندر آپ کے طرزِ فکر میں ہو۔
جب آپ اپنے سوچنے کا اسلوب تبدیل کرلیں گے تو بہت جلد احساس ہوگا کہ زندگی کے معیار میں
نمایاں بہتری آگئی ہے۔ اب آپ ان باتوں پر مضطرب نہیں ہوتے جو پہلے آپ کا سکون غارت
کردیتی تھیں۔ اب آپ زندگی کی ہر مسرت سے آگے بڑھ کر ہم آغوش ہوتے ہیں اور اپنے کام
سے لطف اٹھاتے ہیں۔ سوچنے کا انداز بہتر بناناے کیلئے آپ کو دیکھنا ہوگا کہ آپ کے
موجودہ طرزِ فکر میں کیا خامیاں ہیں؟ آپ زندگی کو کس طرح لیتے ہیں؟ کیا آپ اسے ایک
بوجھ، آزمائش، معمہ یا بے مقصد شغل سمجھتے ہیں ، کیا آپ ذہنی سکون کیلئے مادی
آسائشوں کو ضروری خیال کرتے ہیں؟ کیا آپ بڑی خوشی کے انتظار میں زندگی کی چھوٹی
چھوٹی مسرتوں کو ضائع کردیتے ہیں؟ آپ اپنے فیصلے دوررس حقائق کے مطابق کرتے ہیں
یاوقتی جذبات اور فوری خواہشات کے ہاتھوں مغلوب ہوجاتے ہیں؟ کیا آپ کو مذہب سے
دلچسپی ہے؟ زندگی میں پیش آنے والے حادثوں اور آفتوں پر آپ کا ذہنی ردعمل کیا
ہوتاہے؟ کیا آپ قسمت پر یقین رکھتے ہیں؟ان سب باتوں پر غور کرنے کے بعد آپ کو اپنی
ایک ذہنی رسائی(مینٹل اپروچ) تشکیل دینی چاہیئے۔
جوہر شناسی
انسانی زندگی میں بیشتر مسائل اور پریشانیاں دوسرے افراد کے
منفی طرزِ عمل سے جنم لیتی ہیں۔ایک انسان کیلئے سماجی میل جول کے بغیر چارا نہیں ۔
تاہم رشتے ناطے اور سماجی تعلقات دو دھاری تلوار کی طرح ہوتے ہیں، ایک طرف یہ تحفظ
، اپنائیت اورخلوص کے نذرانے دیتے ہیں تو دوسری طرف احسان فراموشی ، منافقت، بے
قدری اور خود غرضی کامظاہرہ کرکے انسان کو صدمے بھی پہنچاتے ہیں۔ اس ضمن میں سمجھنے
والی بات یہ ہے کہ ہمارے اردگرد رہنے والے اکثر لوگ اوسط درجے کی ذہنیت اورواجبی
اخلاقیات کے حامل ہوتے ہیں، مگر ہم غلط طور پر ان سے ایسی توقعات وابستہ کرلیتےہیں
جو صرف اعلیٰ درجے کے افراد ہی پوری فکرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں دوسروں کے
حوالے شکایات رہتی ہیں ۔معاشرت کا دانش مندانہ طریقہ یہ ہےکہ آپ اپنے عزیزواقارب ،
دوست احباب اور عام ملنے جلنے والوں کے ظرف و استعداد کاجائزہ لے کر ان کی درجہ
بندی کریں اور پھر اسی درجہ بندی کے مطابق ان سے معامل کریں ۔ اعلیٰ درجے کے افراد
کیلئے اپنا طرزِ عمل الگ رکھیں اور متوسط یا زیریں متوسط لوگوں کیلئے الگ۔ اگر آپ
کوکسی ایسے شخص کے طرزِ عمل سے مایوسی اور دھچکا لگاہے جسے آپ بہت مقام دیتے تھے تویہ دراصل آپ کی پہچان کی غلطی تھی کہ آپ نے
پتھر کو ہیرا سمجھ لیا ۔ اب مایوسی اورشکایت کا اظہار کرنے کے بجائے صرف اتنا
کیجئے کہ اس شخص کوہیروں کے خانے سے نکال کر پتھروں کے خانے میں رکھ دیجیے اور
آئندہ اس کے ساتھ اسی حثیت سے تعلق رکھیے۔
ذاتی سطح پر موزوں طرزِ فکر اور سماجی زندگی میں جوہر
شناسی، زندگی کے آرٹ کے دواہم گُر ہیں۔ اسی طرح آپ تخلیقی سوچ اورتجربے کے ذریعے
ایسے مزید گُر دریافت کرسکتے ہیں جن سے آپ کی زندگی میں مسرت اورکامیابی کاگراف
بلند ہوتاچلاجائے اور آپ کو پریشانی اورپشیمانی سے کم سے کم سابقہ پیش آئے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭