خوشی کا حصول کیسے؟
بُوریت اور جوش
بوریت انسانی کردار کا ایسا تجربہ ہے جس پر میری رائے میں، ماہرین نے قرار واقعی توجہ نہیں دی ہے۔ میرے تاثر کے مطابق اسے انسانی تاریخ میں اہم محرک کی حیثیت حاصل رہی ہے اور موجودہ دور میں یہ پہلے سے بھی زیادہ اہمیت حاصل کرچکا ہے۔ بوریت بظاہر ایک خالصتاًانسانی احساس ہے۔ جانور بھی بعض دفعہ بے چین اور جمائیاں لیتے دکھائی دیتے ہیں، مگر میں نہیں سمجھتا کہ وہ بوریت جیسی کوئی چیز محسوس کرتے ہوں گے۔ زیادہ وقت وہ خوراک یا دشمن ، یا پھر دونوں کی تلاش میں رہتے ہیں، جبکہ کچھ وقت وظیفۂ تولید اور جسم کو گرمانے میں گزارتے ہیں۔حتیٰ کہ جب وہ ناخوش ہوتے ہیں تو بھی میرے خیال میں وہ بور نہیں ہوتے۔شاید اس حوالے سے چمپینزی ہم سے کچھ مشابہت رکھتے ہوں، لیکن ان کی صحبت کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے میں کوئی رائے نہیں دے سکتا۔
بوریت کا ایک اہم لازمہ اپنے موجودہ حال اور کسی دوسرے زیادہ خوشگوار حال میں تقابل کا تصور ہے۔ یہ بھی اس کاایک لازمہ ہے کہ اس کیفیت میں انسان کی صلاحیتیں پوری طرح بروئے کار نہیں آرہی ہوتیں۔ جان کے درپے دشمنوں سے بھاگنے کا عمل اگرچہ ناخوشگوار ہوتا ہے ، لیکن بوریقیناً نہیں ہوتا۔ پھانسی کے تختے پر چڑھتا ہوا انسان کبھی بوریت محسوس نہیں کرے گا، مگر یہ کہ وہ اپنے خوف پر قابو پالینے والی کوئی فوق الاانسانی ہمت رکھتا ہو۔ اسی طرح کوئی سیاستدان اپنی تقریر کے دوران بور نہیں ہوتا۔ بوریت دراصل بعض واقعات کے لیے رُکی ہوئی خواہش ہے جو ضروری نہیں کہ خوشگوار ہوں، مگر وہ بوریت کے شکار انسان کی زندگی میں ایسی تبدیلیاں لاسکتے ہوں جن سے اسے اپنا ایک دن دوسرے سے مختلف لگے۔ بوریت کا متضاد لفظ خوشی نہیں ، بلکہ جوش ہے۔
جوش کی طلب انسانی فطرت میں بہت گہری ہوتی ہے، خاص طور پر مردوں میں۔میرے خیال سے تاریخ کے شکاری دور میں یہ خواہش بعد کے ادوار کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے پوری ہوجایا کرتی تھی۔اس دور میں ایک وحشی انسان اپنے شوہر کے پہلو میں لیٹی عورت کے ساتھ یہ جانتے ہوئے بھی بدکاری کا ارادہ کر لیتا تھا کہ اگر اس کا شوہر جاگ گیا تو پلک جھپکتے میں اسے موت کے گھاٹ اتار دے گا۔ میرے خیال میں یہ صورت بورکُن نہیں ہوتی تھی۔ لیکن پھر زراعت کے آغاز سے لوگوں کی زندگی سست سی ہوگئی، ماسوائے طبقۂ امراء کے جو اُس وقت بھی اور اب بھی شکاری دور ہی میں جی رہے ہیں!آج ہم مشینی زندگی کی مصیبت کے بارے میں بہت تنقید سنتے ہیں، لیکن میرے خیال میں پرانے طریقوں سے کاشتکاری بھی ایسا ہی مسئلہ تھی۔ بعض دانشوروں کی رائے کے برعکس ، میں کہوں گا کہ مشینی دور نے مجموعی طور پر انسانی بوریت میں کمی پید اکی ہے۔ آج کا مزدور اپنا کام جلد ختم کرکے شام کے وقت ایسی تفریحات میں حصہ لے سکتا جن کا تصور بھی پرانی طرز کے قصبوں میں محال تھا۔ذرا قرونِ وسطیٰ کے ایک گاؤں کے موسمِ سرما کا تصور کیجیے۔ وہاں لوگ شام یا رات کے اوقات میں پڑھ لکھ نہیں سکتے تھے، کیونکہ ان کے پاس روشنی کے لیے صرف موم بتیاں ہوتی تھیں جن کے جلنے سے سردی سے محفوظ واحد کمرہ بھی دھوئیں سے بھر جاتا تھا۔سڑکیں انتہائی دشوار گزار ہوتی تھیں، اس لیے ایک سے دوسرے گاؤں میں جانے والا کوئی نہ ہوتا تھا۔دوسرے اسباب کے ساتھ یہ بوریت بھی تھی جس کی وجہ سے لوگ اس دور میں جادوگرنیوں کے شکار کی طرف مائل ہوئے کیونکہ سردیوں کی شامیں گزارنے کا اس کے علاوہ کوئی اور دلچسپ مشغلہ میسر نہ تھا۔
ہم اپنے پُرکھوں کے مقابلے میں کم بوریت کے شکار ہیں، لیکن ہم بوریت کے خوف میں زیادہ مبتلا ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بوریت انسان کا مقدر نہیں، بلکہ جوش و ہیجان پیدا کرکے اس سے بچا سکتا ہے۔ امریکہ میں ہر ایک کے پاس گاڑی ہے جس کے ذریعے وہ منٹوں میں کسی سینما گھر کے پاس جا کھڑا ہوتا ہے۔ گھریلو خواتین کو بھی اپنی نانیوں دادیوں کےمقابلے میں تفریح کے زیادہ ذرائع میسر ہیں۔جوں جوں ہم سماجی طبقات میں اوپر کی طرف جاتے ہیں، جوش و ترنگ کی جستجو شدید سے شدید تر ہوتی نظر آتی ہے۔جن کے پاس وسائل ہیں ، وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے ہیں اور نت نئی جگہوں پر کیف و مستی تلاش کرتے ہیں۔ جو لوگ معاشی طور پر تنگ دستی کا شکار ہیں ، وہ بوریت سے بھی اپنا حصہ پاتے ہیں۔ لیکن جن کےپاس اتنی دولت ہے جو انھیں کام سے بے نیاز کردے، وہ بوریت سے پاک ایک مثالی زندگی گزارتے ہیں۔ میں ایسی زندگی کی خواہش کو غلط نہیں کہہ سکتا، لیکن دوسری مثالی چیزوں کی طرح ایسی زندگی کا حصول بھی آسان نہیں۔ ہر صبح گزشتہ شام کی طرح کیف آور نہیں ہوسکتی۔ نوجوانی کےبعد عمر رسیدگی اور ممکنہ طور پر بڑھاپا ہوگا۔ بیس سال کی عمر میں انسان خیال کرتا ہے کہ زندگی تیس پر ختم ہوجائے گی۔ لیکن میں اٹھاون برس کی عمر میں ایسا نہیں سمجھتا۔ غالباً دولت کی طرح جسمانی طاقت کی فضول خرچی بھی درست نہیں۔ شاید زندگی میں کچھ نہ کچھ بوریت ناگزیر ہے۔ تاہم بوریت سے بچنے کی خواہش فطری ہے اور انسان کی سب ہی نسلوں یہ خواہش ظاہر کرتی آرہی ہیں۔جنگیں، مخالفین کی نسل کشی، تعذیب، یہ سب بوریت سے فرار ہی کی ترکیبیں تھیں، حتیٰ کہ پڑوسیوں سے جھگڑنا بھی کچھ نہ کرنے سے بہتر سمجھا گیا۔ اس لیے بوریت کا مسئلہ معلمینِ اخلاق کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ تاریخ میں آدھے انسانی گناہ اسی سے بچنے کی کوشش میں سرزد ہوئے۔
تاہم بوریت کوئی برائی نہیں۔ اس کی دو اقسام ہیں: ایک جو منشیات کے نہ ملنے سے پیدا ہوتی ہے اور دوسری جو جسمانی سرگرمیاں نہ ہونے سے جنم لیتی ہے۔ میں سکون آور دواؤں کے استعمال کی پوری مخالفت نہیں کرسکتا۔ ایسی صورتیں ہوتی ہیں جب ایک ماہر معالج خود مریض کے لیے افیون تجویز کرتا ہے اور میرے خیال میں ایسی صورتیں اتنی نادر بھی نہیں ہوتیں جتنا کہ ایسی دواؤں کے مخالفین سمجھتے ہیں۔ تاہم نشے کی لت کو محض انسانی طلب پر بھی نہیں چھوڑا جاسکتا۔ نشہ آور دوا کی عدم دستیابی سے عادی فرد جو بوریت محسوس کرتا ہے، اس کے لیے میں وقت کے سوا کوئی علاج تجویز نہیں کرسکتا۔ جو کچھ نشہ آور دواؤں کے بارے میں درست ہے، وہی ہر قسم کے جوش و ہیجان کے بارے میں بھی کہا جاسکتاہے۔ جوش اور انگیخت سے بھر پور زندگی تھکادینے والی ہوتی ہے جس میں ہیجان کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل تحریک کی ضرورت رہتی ہے۔بہت زیادہ جوشیلی زندگی کا عادی فرد اس شخص کی طرح ہوتا ہےجسے مرچوں کی غیر فطری طلب ہوتی ہے اور وہ ایسی بڑی مقدار منہ میں ڈال لینے کے بعد بھی ان کا ذائقہ محسوس نہیں کر پاتا جس سے کسی دوسرے انسان کی گلابند ہوسکتا ہے۔زندگی میں بہت زیادہ جوش نہ صرف صحت کے لیے مضر ہوسکتا ہے، بلکہ خوشی کی ہر فطری کیفیت کو یوں مسخ کر دیتا ہے کہ انسان کو جسمانی راحت کی بجائےہر وقت ایک گُدگُدی کی طلب رہتی ہے، ذہانت کی جگہ عیاری لے لیتی ہے اور حُسن کو دیکھنے سے جمالیاتی تسکین کی بجائے بے قراری سی محسوس ہوتی ہے۔میں جوش پر حد سے زیادہ اعتراض نہیں کرنا چاہتا، بلاشبہ زندگی میں ایک حد تک جوش اچھی بات ہے، لیکن کسی بھی دوسری چیز کی طرح اس کی زیادتی بھی مسئلہ بنتی ہے۔ زندگی میں جوش کی بہت زیادہ کمی غیرفطری اُکتاہٹ اور بہت زیادہ موجودگی مُردنی پیداکرتی ہے۔ چنانچہ بوریت کو ایک حد تک برداشت کرنے کی صلاحیت ایک پُرمسرت زندگی کے لیے ضروری ہے اور یہ فن ہر نوجوان کو سکھایا جانا چاہیئے۔
ہر عظیم کتاب میں بعض حصے بور ہوتے ہیں اور ہر بڑے آدمی کی سوانح میں غیر دلچسپ واقعات کا سلسلہ بھی ہوتا ہے،حتیٰ کہ کثیر الفروخت (بیسٹ سیلنگ) ناولوں میں بھی بور کردینے والے اقتباسات ہوتے ہیں۔یہ سمجھا جا سکتا ہےکہ سکون اور جمود عظیم انسانوں کی زندگیوں کا ایک خاصہ رہا ہے۔ سقراط کی زندگی کا ایک بڑا حصہ خاموشی پر مبنی تھا۔ فلسفی کانٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زندگی بھر اپنے شہر سے دس میل سے زیادہ دور نہیں گیا۔ دنیا کا سفر کرلینے کے بعد ڈارون نے بقیہ زندگی گھر پر ہی گزاری۔ کارل مارکس نے چند انقلابات برپا کرنے کے بعد زندگی کے باقی ایام برٹش میوزیم میں گزارنے کا فیصلہ کیا تھا۔ دنیا میں کوئی بڑاکام مسلسل سعی کے بغیر انجام نہیں دیا جاسکتا، جس میں اتنی توانائی صرف ہوجاتی ہے کہ پُرجوش دلچسپیوں کے لیے بہت کم بچتی ہے اور پھر انسان قوتِ کار کی بحالی کے لیے صرف تعطیلات ہی منا سکتا ہے۔
یکسانیت والی زندگی کو برداشت کرنے کی صلاحیت بچپن ہی سے حاصل ہونی چاہیئے۔ جدید دور کے والدین پر میرا ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ان کی من پسند چیزیں متواتر دے کر انھیں ہر وقت خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ بچے کی زندگی میں جمود اور یکسانیت کی گنجائش نہیں چھوڑتے۔ بچوں کو تفریح خاص خاص موقعوں پر ہی دی جانی چاہیئے۔ بچپن کی اصل خوشی یہ ہونی چاہیئے کہ وہ اپنے ماحول سے کاوش و ایجاد کے ذریعے اپنے لیے خود دلچسپیاں کشید کرے۔ایسی تفریحات کبھی کبھار ہی ہونی چاہیئں جو بہت پُرجوش مگر کسی جسمانی سرگرمی کے بغیر ہوں۔بچہ اسی وقت اچھی طرح سے نشوونما پاتا ہے جب اسے ایک نوخیز پودے کی طرح اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے۔نونہالوں کے لیے بہت زیادہ سفری مہمات اور متنوع رنگینیاں مفید نہیں ہوتیں، کیونکہ ان کی وجہ سے بڑے ہوکر وہ زندگی میں سود مند یکسانیت کو برداشت نہیں کرپاتے۔میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ یکسانیت کوئی ہر حال میں مفید شے ہے، میری مراد یہ ہے کہ زندگی میں بعض اچھی باتیں صرف اسی وقت پیش آتی ہیں جب پہلے سے کسی حد تک یکسانیت موجود ہو۔ جو انسان زندگی میں کوئی سنجیدہ تعمیری مقصد رکھتا ہو، وہ رضاکارانہ طور پر بوریت کو ایک ناگزیر برائی جان کر برداشت کرے گا۔ لیکن کوئی تعمیری مقصد ایسے ذہن میں پیدا نہیں ہوتا جو ہمہ وقت رنگارنگ مشاغل کی طرف متوجہ رہتا ہو، کیونکہ ایسا ذہن مستقبل بعید کے کسی حاصل پر مرکوز نہیں ہوسکتا۔ان سب باتوں کی وجہ سے جو نسل بوریت برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، وہ چھوٹے انسانوں پر مشتمل ایسی نسل ہوگی جس کو فطرت اس کی تیز رفتاری کی وجہ سے طلاق دے چکی ہو اور جس کی جسمانی قوتیں گملے کے پھولوں کی طرح رفتہ رفتہ مُرجھا گئی ہوں۔
میں صوفیانہ طرز کی زبان استعمال کرنا پسند نہیں کرتا جو سائنسی سے زیادہ شاعرانہ ہوتی ہے، لیکن پھر بھی نہیں جانتا کہ ایسی زبان کے بغیر اپنا مدعا کیسے بیان کروں۔اپنے بارے میں ہمارا جو بھی خیال ہو، دراصل ہم اس زمین کی مخلوق ہیں اور ہماری زندگی زمین کی زندگی کا ایک حصہ ہے۔پودوں اور جانوروں کی طرح ہم بھی اپنی غذا زمین سے ہی حاصل کرتے ہیں۔ زمین کے تمام عوامل میں ایک ٹھہراؤ اور دھیما پن ہے۔ خزاں اور سردی کا موسم بھی اس کے لیے اتنا ہی اہم جتنا کہ بہار اور گرمی کا موسم۔زمین کے لیے سکون بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنی کہ گردش ۔ بڑے آدمی کے مقابلے میں بچے کے لیے یہ زیادہ ضروری ہے کہ وہ ارضی زندگی کے تغیر و ٹھیراؤ سے وابستہ رہے۔ انسانی جسم صدیوں سے اس زمینی ماحول سے مانوس چلا آرہا ہے۔ میں نے دو سال کے ایک بچے کو دیکھا جو لندن میں پرورش پاتا رہا تھا اور پھر اسے پہلی بار ایک سرسبز گاؤں میں لایا گیا۔ وہ سردیوں کا موسم تھا اور ہر چیز بھیگی ہوئی تھی۔ بڑوں کے لیے ایسے ماحول میں دلچسپی کی کوئی بات نہ تھی، لیکن وہاں آکر اس بچے میں ایک عجیب سی سرشاری پیدا ہوئی، وہ گیلی زمین پر گھٹنوں کے بل چلنے لگااور اپنا چہرہ گھاس پر رکھ دیا۔ پھر اس کے منہ سے ایک مسرت بھری کلکاری نکلی۔ وہ بچہ اس وقت ایک ایسی سادہ اور فطری سی فرحت محسوس کر رہا تھا جس کا انسان ابتدا سے تجربہ کرتا آیا ہے۔فطرت کے ساتھ ہم آہنگی سے انسان کی جو حیاتیاتی ضرورت تسکین پاتی ہے، وہ اتنی اہم ہے کہ اس سے محروم افراد شاذ ہی مکمل طور پر عاقل ہوپاتے ہیں۔بہت سی تفریحات جن میں ہم پتے بازی(تاش) کی مثال لے سکتے ہیں،میں زمین سے وابستگی کا عنصر مفقود ہوتا ہے۔ایسی تفریحات اپنے اختتام پر انسان کو ایک انجانی سی بے کیفی میں مبتلا کرجاتی ہیں۔ایسی دلچسپیاں ہرگز وہ کیفیت پیدانہیں کرتیں جسے خوشی کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس وہ تفریحی مشاغل جوہمیں زمین کے ساتھ جوڑتے ہیں، اپنے اندر تسکین بخشی کا زبردست عنصر رکھتے ہیں اور ان کے اختتام پر بھی فرحت و انبساط کے احساسات تادیر باقی رہتے ہیں۔ میں جس فرق پر زور دے رہا ہوں، وہ سادہ مشاغل سے لے کر اعلیٰ تہذیبی سرگرمیوں تک کے لیے درست ہے۔دو سال کےبچے نے جس مسرت کا تجربہ کیا، وہ زمینی حیات سے رابطے کی ایک ادنیٰ صورت ہے۔ ایسے رابطے کی ایک اعلیٰ صورت شاعری ہے۔ شکسپیئر کی شاعری کو جس چیز نے عظیم بنایا، وہ اس کے اندر موجود خوشی کا وہ تاثر ہے جس کے تحت اس بچے نےبے اختیار گھاس کا لمس لیا تھا۔ اس کے اشعار میں آپ کو ایسی مسرت کا ایک مہذب اظہار ملے گا جسے دو سال کے بچے کے ہاں صرف بے ساختہ کِلکاری کی ہی صورت مل سکی تھی۔ یا پھر محبت اور محض جنسیت کے درمیان فرق کو لیجیے۔ محبت کے عمل میں انسان کی ذات اسی طرح ایک تازگی حاصل کرتی ہے جس طرح خشک سالی کے بعد کی بارش سے پودے کِھل اٹھتے ہیں۔ محبت کے جذبات سے عاری جنسیت میں اس طرح کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ لمحاتی لذت جب ختم ہوتی ہےتوصرف تھکن، کراہت اور خالی پن کے احساسات باقی رہ جاتے ہیں۔محبت حیاتِ ارض کا ایک حصہ ہے، جبکہ حیوانی جنسیت کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔
بوریت کی ایک مخصوص صورت جسے جدید دور کے شہری افراد محسوس کرتے ہیں، زمین کی زندگی سے دُوری کی وجہ سے ہے۔یہ دُوری زندگی میں تشنگی سی پیدا کرتی ہے۔ ایسے خوش نصیب افراد جن کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ اپنی زندگی کا انداز خود منتخب کرسکتے ہیں، جس قسم کی بوریت کا شکار ہوتے ہیں، وہ دراصل بوریت کے خوف کے سبب ہوتی ہے۔ وہ ایک قسم کی بوریت سے بھاگ کردوسری زیادہ بری قسم کی بوریت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ آخری بات یہ ہے کہ ایک پُرمسرت زندگی بڑی حد تک ایک پُرسکون زندگی ہوتی ہے، کیونکہ حقیقی خوشی صرف ایک ٹھہرے ہوئے ماحول ہی میں جنم لے سکتی ہے۔
(مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل کی کتاب ”The Conquest of Happiness “سے ترجمہ)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
No comments:
Post a Comment