Sunday, December 22, 2019

اپنے اہداف مقرر کیجیے

اپنے اہداف مقرر کیجیے

                                                                                                 انسان ایک ہدف رخی(Goal-oriented)مخلوق ہے اورقدرت نے انسان کوجو عقلی اورنفسیاتی صلاحیتیں  بخشی ہیں ، وہ صرف اسی وقت فعال (Active) ہوتی ہیں جب ان کے سامنے کوئی ہدف یا نشانہ موجود ہو۔ انسان کے سامنے کوئی واضح ہدف یا مقصد ہو تو اس کی صلاحیتیں  اس تک پہنچنے کیلئے تیزی  اورخوبی سے ترقی کرتی ہیں۔ لہٰذا اپنی تمام مخفی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کی واحد صورت یہی ہے کہ انسان اپنے لیے کوئی ہدف مقررکرے خواہ وہ ہدف مادی ہو یا روحانی۔

                                                                                                         مگر اکثر لوگ کسی ہدف کو مقرر کرکے اس تک پہنچنے کاچیلنج قبول کرنے سے کتراتے ہیں۔ اس سلسلے میں جوچیز ان کیلئے رکاوٹ بنتی ہے وہ ناکامی کاخوف ہے۔ وہ محض اسل لیے کوئی عملی جدوجہد شروع نہیں کرتے کہ وہ ناکامی کا صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ان کی نفسیات میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ ناکامیوں کوقبول کرتے ہوئے جدوجہد جاری رکھیں۔اس ضمن میں قابل غور بات یہ ہے کہ ناکامی بھی کامیابی کا ایک پہلو ہے۔ لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ کوئی بھی ٹھوس کامیابی بالکل پہلی بار کی کوشش سے حاصل نہیں ہوا کرتی۔ وقتی اور عارضی ناکامیاں ناگزیر ہیں۔ یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہےکہ آپ اس وقت  ناکام نہیں ہوتے جب تک آپ ناکامی کوایک حقیقت کے طورپر قبول کرکے کوشش ترک نہ کردیں۔

                                                                                              یہاں ہم امریکا کے مشہور صدرابراہم لنکن  کی کی زندگی کا ایک اجمالی خاکہ پیش کرتےہیں جو اس حقیقت کاآئینہ دار ہے کہ حوصلہ ہارنے والے کبھی نہیں جیتتے اورجیتنے والے کبھی حوصلہ نہیں ہارتے۔لنکن نے اپنی جدوجہد کاآغاز 1831ء میں کیا۔ اس سال اس نے اپنا ذاتی کاروبار  شروع کیا اورناکام رہا۔ 1832ء میں اسے قانون ساز ادارے کے انتخابات میں شکست ہوئی۔1834ء میں اس نے دوبارہ کاروبار شروع کیا اور پھرناکام رہا۔1835ء میں اسے اپنی محبوب رفیقۂ حیات کی جدائی کاصدمہ اٹھانا پڑا اوراس سے اگلے سال اسے خود اعصابی خلل(نروس بریک ڈاؤن) سے گزرنا پڑا۔1838ء میں اسے ایوانِ نمائندگان میں اپنی نشست سے محروم ہونا پڑا۔ 1843ء  اور1846ء میں اسے کانگریس کے انتخابات میں شکست ہوئی۔1849ء میں اسے بطور اراضی آفیسر اپنے عہدے ہاتھ دھونا پڑے۔ 1855ء میں ایوانِ بالا (سینٹ) کیلئے انتخابی مہم میں ناکامی ہوئی اور1856ء  میں اسے نائب  صدرکے طورپر اپنی نامزدگی  سے دستبردار ہونا پڑا۔1858ء میں اسے ایک بار پھر ایوانِ بالا کی نشت کیلئے ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا ۔۔۔۔لیکن ان سب کے باوجود 1860ء میں ابراہم لنکن امریکا کاصدر منتخب ہوا اوراسے امریکا کی تاریخ کا سب سے معزز  صدر گردانا جاتاہے! اس کی ذات ناکامیوں کی عین منجدھار میں ایک کامیاب انسان کے طورپر ابھرنے کی علامت بن گئی۔ 

                                                                                                   لہٰذا ناکامی کےخوف کوایک طرف رکھ کر اپنے اہداف کاتعین کریں۔ اس سلسلے میں ہم چند رہنما اصول درج کرتے ہیں جن سے آپ کواپنے اہداف مقرر کرنے میں مدد ملے گی:

1) سب سے پہلے کوئی بڑاہدف ذہن میں لائیں جو آپ کی ذات کیلئے اہم ہو۔ ہدف ایسا ہونا چاہیئے جس کی کسی  بھی طرح  سے پیمائش  کی جاسکتی ہو مثلاً وزن کم کرنا، نوکری کا حصول، کسی خاص مقدار رقم کاحصول وغیرہ۔
2) اپنے ہدف کی تکمیل کیلئے ایک مخصوص تاریخ کاتعین کریں جس تک آپ کو ہر حال میں اپنے ہدف کو حاصل کرناہے۔
3) ان مختلف طریقوں اورذرائع کوزیرِ غور لائیں جن میں سے کوئی ایک یا سب لم کرآپ کوآپ کے مطلوبہ ہدف  تک پہنچاسکتےہوں۔
4) ہدف کے حصول کیلئے ایک مفصل لائحہ عمل تیار کریں کہی آپ کیا کریں کہ
ا) آپ کووہ معلومات حاصل ہوجائیں جن کی ہدف کے حصول کیلئے آپ کوضرورت ہے
ب) آپ کو وہ عملی مہارتیں اوروسائل حاصل ہوجائیں جو ناگزیر ہیں
ج) اوران افراد تک آپ کی رسائی ہوجائے جوآپ کیلئے معاون ثابت ہوسکتےہیں۔
5) ان رکاوٹوں اورمشکلات کی ایک فہرست تیار کریں جو آپ کے خیال میں آپ کی ذات اورآپ کے ہدف کے درمیان حائل ہوسکتی ہیں۔
6) ان فوائد اورثمرات کی ایک فہرست تیار کریں جوہدف کی تکمیل کی صورت میں آپ کوملنے والے ہیں مثلاً وزن کم ہونے کی صورت میں پرکشش جسمانی ہیت، خوداعتمادی میں اضافہ، چستی اورقوتِ کار میں اضافہ، سماجی قبولیت میں اضافہ وغیرہ۔
7) جب آپ یہاں کے تمام اقدامات کرچکیں توان کو ایک کاغذ پرلکھ دیں۔ یہ آپ کی شاہ تدبیر (ماسٹرپلان) ہوگی۔
8) اپنے اس ماسٹرپلان کودن میں دوبار ،رات سونے سےپہلے اورصبح بیدار ہونے کےبعد، بلند آواز سے پڑھیں۔ بہتر ہوگا کہ آپ اسے اپنی آواز میں  ریکارڈ کرکے ٹیپ ریکارڈر کے ذریعے سے سنیں۔
9) تصورات میں خود کوایسی حالت میں دیکھیں جیسے آپ پہلے ہی اپنا ہدف حاصل کرچکے ہیں۔
10) اپنے ماسٹرپلان پر فوراً پہلے عمل شروع کردیں۔

                                                                                                                       روزانہ اورہرہفتے اپنی پیش رفت کاجائزہ لیں اوراس کے  مطابق  اپنے ماسٹر پلان میں ضروری مگر تبدیلیاں کرتےرہیں۔ ہدف مقرر کرنا(Goal-setting) کوئی آسان مشق نہیں ہے۔ یہ آپ سے گہری خواہش اورمصمم ارادے کاتقاضا کرتی ہے کہ آپ ایک طویل نشست میں اپنے ماسٹر پلان کے ہر پہلو یکسوئی کے ساتھ سوچ بچار کریں۔ یہ ایک فکری مراقبہ ہے جو آپ کی پوشیدہ قوتوں کو بیدار کرتاہے۔

***************************



No comments:

Post a Comment

محبت

  خوشی کا حصول کیسے؟   محبت برٹرینڈ رسل                     زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احسا...