خوشی کا حصول کیسے؟
محبت
برٹرینڈ رسل
زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احساس ہے کہ کوئی اسے چاہنے والا نہیں۔ اس کے برعکس چاہے جانے کے احساس سے زندگی کے لطف میں جتنا اضافہ ہوتا ہے ، اتنا کسی اور چیز سے نہیں ہوتا۔ ایک انسان میں محبت کیلئے احساسِ محرومی کے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ خود کو ایسا خوفناک خیال کرتا ہو جس سے کوئی محبت نہیں کر سکتا۔ ہو سکتا ہے کہ بچپن سے ہی اس نے خود کو ناکافی محبت کا عادی بنا لیا ہو، جب اس کے حصے کا پیار دوسرے بچوں کو مل جاتا تھا۔ یا پھر واقعی وہ ایک ایسا انسان ہے جس سے کوئی پیارنہیں کرتا۔ تاہم اس آخری صورت کا سبب غالباً احساسِ کمتری ہے جو زندگی کی ابتدا ہی میں پیش آنے والی کسی بدقسمتی سے پید اہوتا ہے۔ محبت سے محرومی کے احساس میں مبتلا انسان ردعمل کے طور پر مختلف رویے اختیا رکر سکتا ہے۔ وہ غیر معمولی رحمدلی یا سخاوت کے ذریعے محبت حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، اگرچہ اس طرح اس کی خواہش پوری ہونے کا امکان کم ہے، کیونکہ لوگ باآسانی اس فیاضی کا اصل سبب بھانپ لیتے ہیں۔ انسانی فطرت کچھ ایسی ہے کہ لوگ اسی انسان سے محبت کرتے ہیں جو اس کی طلب ظاہر نہیں کرتا۔ اس لیے جو شخص سخاوت اور خیرخواہی کے ذریعے محبت حاصل کرنے کی سعی کرتا ہے، وہ لوگوں کی احسان فراموشی سے پریشان ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھ نہیں پاتا کہ محبت جسے وہ خریدنا چاہتا ہے، ان مادی فوائد سے کہیں زیادہ اعلیٰ ہے جنھیں وہ اس کی قیمت کے طور پر ادا کرنا چاہ رہا ہے۔
ایک دوسرا انسان جو سمجھتا ہے کہ اسے محبت نہیں مل رہی، دنیا سے اس کا انتقام لینے پر اتر سکتا ہے، چاہے اس کیلئے وہ جنگیں یا انقلابات برپا کرے یا قلم کے ذریعے زہر اگلنا شروع کردے۔ یہ محرومی کے جواب میں ایک دلیرانہ رویہ ہے جس کیلئے باقی ساری دنیا کے مقابل آ جانے کی قوت درکار ہوتی ہے۔ بہت کم لوگ اس بلندی کو پہنچتے ہیں۔ زیادہ تر افراد محبت نہ ملنے پر ایسے کرب میں مبتلا ہو جاتے ہیں جسے کبھی کبھی حسد اور بدخواہی سے کچھ تسکین مل جاتی ہے۔ لازمی طور پر ایسے انسان خودبین بن جاتے ہیں اور محبت سے محرومی ان کے اندر عدم تحفظ کا ایسا احساس پیدا کر دیتی ہے جس سےفرار حاصل کرنے کیلئے وہ خود کو بعض علتوں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ جامد اور ایک جیسے شب و روز گزارنے والے افراد بالعموم باہر کی دنیا سے خوف زدہ ہوتے ہیں۔
عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا افراد کے مقابلے میں خود کو باسہارا سمجھنے والے زندگی میں زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ تحفظ کا احساس انسان کو اکثر صورتوں میں ان خطرات سے بچا نکالتا ہے جن میں دوسرے مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ بلندی پر واقع کسی تنگ پل پر سے گزر رہے ہوں، تو خوفزدہ ہونے کی صورت میں آپ کے گر جانے کا امکان نسبتاً زیادہ ہوگا، یہی معاملہ عملی زندگی میں بھی پیش آتا ہے۔ بےخوف انسان بھی زندگی میں پرخطر حالات سے دوچار ہوتا ہے، تاہم وہ اکثر باحفاظت نکل آتا ہے، جبکہ پہلے سے سہما ہوا انسان ایسے حالات میں نشانہ بن سکتا ہے۔ اس سود مند خوداعتمادی کی بہت سی صورتیں ہوتی ہیں۔ بعض کوہ پیمائی میں پراعتماد ہوتے ہیں، دوسرے سمندری مہمات میں اور بعض فضائی مشقوں میں۔ تاہم عملی زندگی میں پایا جانے والا اعتماد ملنے والی اس محبت اور اپنائیت سے حاصل ہوتا ہے جس کی انسانی نفسیات کو ضرورت ہوتی ہے اور یہ محبت زندگی کے لطف کا ایک بہت بڑا منبع ہے۔
یہ انسان کو ملنے والی محبت ہی جو تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہے۔ تاہم یہ اثر محض محبت کا نہیں، بلکہ اس کے ساتھ شامل تحسین کا بھی ہوتا ہے۔ وہ افراد جو زندگی میں عوامی ستائش حاصل کرتے ہیں، جیسے اداکار، مقرر، سیاست دان، وہ داد و تحسین کے بہت محتاج بن جاتے ہیں۔ جب انھیں عوامی قبولیت ملتی ہے، تو انکی زندگی میں بہت مزا ہوتا ہے اور جب نہیں ملتی تو وہ رنجیدہ ہو کر اپنی ذات میں سمٹ جاتے ہیں۔ ایک لاڈلا بچہ اپنے والدین کی شفقت کو فطرت کا قانون سمجھ کر قبول کرتاہے۔ وہ باہر کی دنیا میں دلچسپیاں اختیار کرتا ہے، مہم جوئی سے لطف اندوز ہوتا ہے، لیکن اس کے دل میں ہمیشہ یہ اطمینان موجود رہتا ہے کہ کسی خطرے کی صورت میں اسے والدین کے سایۂ شفقت میں پناہ مل جائےگی۔ جو بچہ کسی وجہ سے والدین کی شفقت سے محروم رہ جائے، امکانی طور پر ڈرپوک اور خانہ نشین ہو جاتا ہے۔ خوف اور خود ترسی کی وجہ سے وہ باہر کی دنیا سے زندہ دلی کے ساتھ معاملہ نہیں کر پاتا۔ ایسا بچہ حیرت انگیز طور پر بہت کم عمری میں ہی زندگی، موت اور انسانی تقدیر کے بارے میں خیال آرائیاں کرنا شروع کر دیتا ہے۔ خود بینی اور ذہنی افسردگی کا شکار ہو کر وہ بالآخر کسی قیاسی فلسفے میں پناہ تلاش کرتا ہے۔ دنیا میں اچھی اور بری دونوں چیزیں گڈمڈ انداز میں پائی جاتی ہیں اور اس انتشار میں کوئی حکیمانہ تنظیم ڈھونڈنے کی خواہش دراصل تہہ میں چھپے خوف کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایک سہما ہوا انسان اپنے ذہن کی چار دیواریوں کے اندر خود کو محفوظ خیال کرتا ہے۔ اگر وہ خود کو قائل کر سکے کہ یہ دنیا رہنے کیلئے بس ایک حد تک ہی معقول جگہ ہے تو وہ گلیوں بازاروں میں بھی ایسا ہی تحفظ محسوس کر سکتا ہے۔ ایسے انسان کو اگر زندگی میں محبت میسر آ جاتی تو حقیقی دنیا کا خوف اس کے اندر کم ہوتا اور اسے اپنے خیالوں میں کوئی مثالی دنیا نہ تراشنی پڑتی۔
تاہم محبت ہر حال میں انسان کے اندر یہ جرات اور زندہ دلی پیدا نہیں کرتی۔ کسی انسان کو دی جانے والی محبت محض دلاسے کے لیے نہیں، بلکہ حوصلہ بڑھانے کیلئے ہونی چاہیئے۔ اس کا مقصد فرد میں امتیازی صلاحیتیں بیدار کرنا ہونا چاہیئے۔ تھڑدل مائیں یا آیائیں جو ہر وقت بچوں کو خطرات سے ڈراتی رہتی ہیں، جن کیلئے ہر کتا کاٹنے والا اور ہر راہگیر بردہ فروش ہوتا ہے، بالآخر بچوں میں بھی اپنے جیسی بزدلی پیدا کر دیتی ہیں۔ ایسی پرورش پانے والے بچے سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ صرف اپنی ماؤں کی آغوش ہی میں محفوظ ہو سکتے ہیں۔ کمزور دل والی اور بچوں کو اپنی ذات تک محدود رکھنے کی خواہشمند ماؤں کیلئے بچوں میں یہ احساس پیدا ہو جانا پسندیدہ ہوتا ہے۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ بچوں میں باہر کی دنیا سے پنجہ آزمائی کرنے کی صلاحیت پروان چڑھنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ ان کی محتاجی پیدا ہو۔ ایسی محبت بچے کیلئے اس سے بھی زیادہ مضر ہوتی ہے کہ جب اسے کوئی محبت سرے سے ملی ہی نہ ہو۔ شروع کے سالوں کی ذہنی عادتیں ساری زندگی برقرار رہتی ہیں۔ بہت سے افراد جب محبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو دراصل دنیا سے فرار کیلئے ایک جائے پناہ کی تلاش کرتے ہیں جہاں ان کی تحسین ہو سکے، جبکہ وہ حقیقتاً تعریف کے لائق نہیں ہوتے۔ بہت سے افراد کیلئے ان کا گھرحقیقت سے فرار کیلئے جائے پناہ ہوتا ہےاور وہ اپنی بیویوں سے بھی وہی طرزِ عمل چاہتے ہیں جو ماضی میں اپنی ناسمجھ ماؤں سے حاصل کرتے رہے تھے اور انھیں یہ دیکھ کر بڑا دھچکا لگتا ہے جب ان کی بیویاں ان کے ساتھ ایک بالغ انسان کے طور پر سلوک کرتی ہیں۔
ایک صحیح قسم کی محبت کی تعریف کرنا مشکل ہے، کیونکہ اس میں واضح طور پر کچھ نہ کچھ تحفظ اور تسلی کا عنصر موجود ہوگا۔ ہم اپنے پیاروں کے دُکھ درد سے لاتعلق نہیں رہ سکتے، تاہم میرے خیال میں اگرچہ مصیبت کے وقت عزیزوں کے ساتھ ہمدردی کرنا فطری عمل ہے، لیکن اپنے عزیزوں کے کسی مصیبت میں مبتلا ہو جانے کا پیشگی خدشہ پالے رکھنا کوئی مستحسن بات نہیں۔ دوسروں کیلئے فکرمندی، خود اپنے لیے فکر مندی سے کچھ زیادہ بہتر نہیں ہوتی۔ مزید برآں اکثر صورتوں میں یہ دوسروں کی شخصیت پر جذباتی قبضہ جمائے رکھنے کی خواہش کا نتیجہ ہوتی ہے۔ دوسروں میں تحفظ کا خوف پیدا کر کے امید کی جاتی ہے کہ وہ مکمل طور پر زیرِاثر آ جائیں گے۔ مرد جو عورتوں کو بزدل دیکھنا پسند کرتے ہیں، تو بلاشبہ اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ اس صورت میں وہ عورت کو تحفظ دے کر اس پر ملکیت کا حق جتاسکیں گے۔ ایک فرد میں اس کی ذات کے حوالے سے کتنا فکر و اندیشہ پیدا کرنا چاہیئے، اس کا انحصار فرد کے کردار پر ہے۔ ایک سخت جان اور خطر پسند انسان تو بےدھڑک بڑے سے بڑے چیلنج کوبھی برداشت کر لیتا ہے، تاہم ایک ڈرپوک انسان کو یہی باور کرایا جانا چاہیئے کہ اس کیلئے کسی بڑے خطرے یا نقصان کا امکان نہیں۔
ابھی تک ہم نے محبت کے بارے میں تحفظ کے تعلق سے ہی بات کی ہے، تاہم بڑے افراد کی زندگی میں اس کا ایک بہت ہی اہم حیاتیاتی مقصد بھی ہے، یعنی ماں یا باپ بننا۔
زندگی میں کسی مرد یا عورت کا جنسی محبت نہ حاصل کر پانا بہت بڑی بدنصیبی کی بات ہوتی ہے، کیونکہ یہ اسے زندگی کی سب سے بڑی مسرت سے محروم رکھتی ہے۔ یقینی طور پر یہ محرومی جلد بدیر زندگی کے مزے کو خراب کر دیتی ہے اور انسان کو خودبین بنا دیتی ہے۔ اکثر بچپن میں پیش آنے ولای تلخیاں اور محرومیاں کردار میں ایسے نقائص پیدا ک دیتی ہیں جن کی وجہ سے بعد کی زندگی میں محبت اور توجہ حاصل کرنے میں ناکامی ہوتی ہے۔ یہ بات عورتوں کی نسبت مردوں کیلئے زیادہ درست ثابت ہوتی ہے، کیونکہ عموماً عورتیں مردوں سے ان کے کردار کی وجہ سے محبت کرتی ہیں، جبکہ مرد عورتوں کو ان کی خوبصورتی کی وجہ سے چاہتے ہیں۔ اس انتخاب کے معاملے میں مرد خود کو عورتوں سے فروتر ثابت کرتے ہیں، کیونکہ کردار کو صورت پر فوقیت حاصل ہے۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اچھی صورت کے مقابلے میں اچھا کردار حاصل کرنا آسان ہے۔ مرد کردار بہتر بنانے کی تدبیروں کے بارے میں اتنا نہیں جانتے، جتنا کہ عورتیں خوبصورتی بڑھانے کی تدبیروں سے واقف ہوتی ہیں۔
اب تک ہم اس محبت کے بارے میں بات کرتے رہے ہیں جو ایک فرد حاصل کرتا ہے۔ اب میں اس محبت پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں جو ایک فرد کسی کو دیتا ہے۔ یہ بھی دو طرح کی ہوتی ہے، ایک جو غالباً زندگی کے مزے کا سب سے اہم اظہار ہے اور دوسری جو خوف کا اظہار ہوتی ہے۔ پہلی صورت پر میرے خیال میں پسندیدہ ہے، جبکہ دوسری محض تسلی کا درجہ رکھتی ہے۔ اگر آپ کسی خوشگوار دن کشتی پر کسی خوبصورت ساحل کی سیر کر رہے ہوں، تو آپ کو ساحل اچھا دکھائی دیتا ہے اور آپ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ یہ خوشی ایسی ہے جو مکمل طور پر باہر کی طرف دیکھنے سے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ کسی اندرونی ضرورت کے تحت۔ اس کے برعکس اگر آپ کی کشتی ڈوب جائے اور آپ تیر کر ساحل کی طرف آ رہے ہوں، تو اب آپ کو ساحل میں ایک اور طرح کی اچھائی دکھائی دے گی۔ یہ اب آپ کیلئے پناہ گاہ ہے جس کی خوبصورتی یا بدصورتی کوئی اہم نہیں۔ محبت کی اعلیٰ صورت وہ ہے جس کا مظاہرہ محفوظ کشتی والا انسان کرتا ہے۔ جبکہ اس سے کمتر صورت وہ ہے جس کا اظہار ڈوبنے والی کشتی کا سوار کرتا ہے۔ پہلی صورت تبھی ممکن ہوتی ہے جب انسان محفوظ ہو، اس کے برعکس دوسری صورت عدم تحفظ کے احساس سے پیدا ہوتی ہے۔ عدم تحفظ سے جنم لینے والی چاہت زیادہ ذاتی اور خود غرضانہ ہوتی ہے، کیونکہ اس میں محبوب کے شخصی اوصاف کی بجائے اس کے سہارے اور خدمات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ تاہم میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ اس طرح کی محبت زندگی میں کوئی جائز مقام نہیں رکھتی۔ درحقیقت ہر محبت میں یہ دونوں صورتیں کسی نہ کسی حد تک موجود ہوتی ہیں۔ محبت بہرحال انسان کے عدم تحفظ کے احساس کو کم کرتی ہے اور اسے باہر کی دنیا میں مثبت دلچسپی لینے کی ترغیب دیتی ہے۔ تاہم جس محبت کی بنیاد خوف پر ہو، وہ زیادہ پسندیدہ نہیں، کیونکہ خوف ایک برائی ہے اور اس لیے بھی کہ ایسی محبت میں ذاتی اغراض کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔ اچھی قسم کی محبت میں انسان کسی نئی مسرت کی جستجو کرتا ہے، جبکہ دوسری قسم میں اپنے کسی پرانے غم سے پیچھا چھڑانا چاہتا ہے۔
محبت کی اعلیٰ صورت فریقین کیلئے حیات آفرین ہوتی ہے۔ ہر فریق اس سے مسرت حاصل کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں زندگی کو دلچسپ اور کیف آور پانے لگتا ہے۔ تاہم محبت کی ایک صورت اوربھی ہے جس میں ایک فریق دوسرے کی توانائی اور رعنائی نچوڑ کر اس سے محبت حاصل کرتا ہے، لیکن بدلے میں اسے کچھ نہیں دیتا۔ بعض قوی افراد ایسی خون آشام محبت کے ہی شائق ہوتے ہیں۔ وہ ایک کے بعد دوسرے شکار کے وجود سے زندگی کشید کر کے خود تو خوب پھلتے پھولتے ہیں، لیکن دوسرے فریق مُرجھاتے چلے جاتے ہیں۔ ایسے افراد دوسروں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں اور کبھی خود ان کی ذات میں دلچسپی نہیں لیتے۔ درحقیقت انھیں انسانوں میں نہیں بلکہ اپنے ذاتی مقاصد میں دلچسپی ہوتی ہے۔ ایسا رجحان ان کی شخصیت میں کسی کجی سے جنم لیتا ہے، تاہم اس کی تشخیص یا علاج کچھ آسان نہیں۔ یہ صاحبِ عزم اور عالی ہمت افراد کا عمومی خاصہ ہے اور اس کی جڑ انسانی مسرت کے یک رخے نقطۂ نظر میں ہوتی ہے۔ ایسی محبت جس میں فریقین کی کوئی مشترکہ دلچسپی تسکین پائے، حقیقی مسرت کا ایک بڑا اہم جزو ہے اور جو انسان اپنی انا کے خول میں ہی مقید رہے، وہ زندگی کی اس بڑی مسرت سے محروم رہتا ہے، خواہ وہ اپنے معاشی مستقبل کو کتنا ہی کامیاب کیوں نہ بنا لے۔ ایسی بلند فکری اور اولوالعزمی جس میں محبت کی لطافتوں کیلئے کوئی جگہ نہ چھوڑی گئی ہو، دراصل نسلِ انسانی کے خلاف پائی جانے والی کسی نفرت یا اشتعال کا نتیجہ ہوتی ہے جس کا سبب نوجوانی کے دور کی کوئی محرومی یا ناانصافی ہوتی ہے۔
بہت زیادہ قوی انا دراصل ایک قید خانہ ہوتی ہے جس سے ایک فرد کو لازمی فرار پکڑنا چاہیئے، اگر اسے واقعی زندگی کی مسرتوں سے لطف اندوز ہونا ہے۔ محض محبت وصول کر لینا کافی نہیں، محبت ملنے پر محبت دینی بھی چاہیئے۔ دوطرفہ محبت ہی وہ محبت ہے جو اپنے ثمرات پوری طرح ظاہر کرتی ہے۔ ایسی محبت کی راہ میں حائل نفسیاتی اور سماجی رکاوٹیں بہت بڑی برائیاں ہیں جنھوں نے ہمیشہ سے دنیا کو ابتلاؤں سے دوچار کیا ہے اور ابھی تک کر رہی ہیں۔
(مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل کی کتاب ”The Conquest of Happiness “سے ترجمہ)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭