نوجوانوں کی جنسی الجھنیں
نوجوانی
کاعہد (Adolescence) انسان کی زندگی میں جوش بھری امنگوں اور
مستقبل کے سہانے خواب دیکھنے کادور ہوتاہے۔اس زمانے میں اگر ایک نوجوان سے ایک طرف
اس کے والدین اور خاندان کے بزرگ فلک بوس توقعات باندھے ہوتےہیں، تو دوسری طرف وہ
نوجوان خود اپنے خوابوں کی تعبیر اور دوسروں کی نظروں میں اپنےلیے دادوتحسین کے
رنگ دیکھنے کیلئے بے قرار ہوتاہے۔یہی دور ہوتاہے جب زندگی بچپن کا شفقت بھرا لبادہ
اتارکر ایک چیلنج کے روپ میں سامنے آتی ہے۔نوجوانوں میں جب پوشیدہ تخلیقی تصورات
خارجی دنیا میں اپنی صورت گری کیلئے انگڑائیاں لیناشروع کردیتی ہیں اورکچھ کر
دکھانے کی آرزو ان کے دلوں کو گھیرے رہتی ہےتو ساتھ ہی باہر کی دنیا بھی رکاوٹوں
،مشکلات اور آزمائشوں کی ایک فہرست سامنے رکھ دیتی ہے۔اب نوجوانوں کو اپنے خوابوں
میں حقیقت کارنگ بھرنے اور اپنے بزرگوں کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے بیرونی دنیا
میں اپنے لیے راستہ بناناہوتاہے۔
جنسی شعورکی
بیداری
لیکن عین اس وقت جب ایک نوجوان اپنی زندگی کے اس اہم ترین
معرکے کیلئے میدانِ سعی میں اتر رہا ہوتاہے،اس کے اندر جنسی جبلت ایک دھماکے سے
بیدارہوجاتی ہے۔جسم میں رونماہونے والی بعض تبدیلیاں نوجوانوں کو انوکھے احساسات
سے آشنا کرنے لگتی ہیں۔انھیں اپنے اندر ایک نئی دنیا کاتجربہ ہوتاہے۔جنسی احساسات
کی بیداری سے کبھی تو نوجوان خوشگوار حیرتوں میں ڈوب جاتےہیں اورکبھی بوکھلاکر خود
کو یوں ٹٹولنے لگتے ہیں جیسے کوئی بدروح ان میں حلول کرگئی ہو۔انجانی کیفیات کا
احساس نوجوانوں کے دلوں میں مسرت بھری دھڑکنیں بھی پیداکرتاہے لیکن ان کیفیات کا
سمجھ میں نہ آنا پریشان بھی کرتاہے۔
اس وقت نوجوانوں کو رہنمائی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔انھیں
بتانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ جنسی داعیہ((Sexual drive بھی دوسرے داعیوں کی طرح بالکل ایک فطری
جذبہ ہے۔ یہ بھی دوسری تخلیقی استعدادوں کی طرح ایک ہتھیار ہے جو قدرت نوجوانوں کو
اپنی من پسند دنیا کی تعمیر کیلئے تحفے کے طورپر دے رہی ہے۔جنسی جبلت دراصل زندگی
کی جدوجہد میں ایک ساتھی میسر آنے کی بشارت ہے۔یہ ایک پھول کیلئے چمن بن جانے کی
نوعید ہے۔
مگر نوجوانوں کو ایسے دورمیں کوئی رہنمائی نہیں ملتی ۔ہماری
روایتی بزرگ نسل جنسی تعلیم کا خیال بھی ذہنوں میں لانا اپنے مرتبے و وقار کے خلاف
سمجھتی ہے اور چونکہ جنسی داعیے کااظہار ایسے اعضاء کے ذریعے ہوتاہے جن کےساتھ شرم
کاتصوروابستہ ہے، اس لیے نوجوان خود بھی اپنی الجھن کاذکر کسی سے نہیں کرپاتے۔مثبت
رہنمائی کی عدم دستیابی کے بعد نوجوانوں کے پاس معلومات کا واحد ذریعہ گلی محلے کے
آوارہ لڑکوں کی بیہودہ خیال آرائیاں،عریاں ناول اور انٹرنیٹ پر ہیجان خیز کلپس ہی
رہ جاتے ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ چیزیں جنس کو محض لذت پرستی اورعیاشی کا عنوان بنادیتی
ہیں۔
خودلذتی کی آغاز
جسم میں اٹھنے والی جنسی طغیانیاں اور باہر کی دنیا میں
فحاشی وعریانی کا طوفان ،دونوں مل کر نوجوانوں کو غیر معمولی ہیجان میں مبتلا
کردیتے ہیں جسے فرو کرنے کیلئے وہ خودلذتی کا طریقہ اختیارکرتے ہیں۔یہ شغل کچھ
عرصہ تو نوجوانوں کو ایسا سرورفراہم کرتاہے جیسے کہ جوانی کا کھلونا مل گیا
ہو۔لیکن پھر ان تک کچھ ایسی باتیں پہنچتی ہیں جن میں خودلذتی کے ہیبت ناک نتائج کا
تذکرہ ہوتاہے۔ایسی باتیں سننے کوبعد نوجوان خوفزدہ ہوکر اس وہم میں مبتلا ہوجاتے ہیں
کہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنی قوتوں کو ضائع
کرنےکے نتیجے میں اب وہ ازواجی زندگی کے قابل نہیں رہے ہیں اور محض نام کے مرد بن گئے ہیں۔نوجوانوں میں اس وہم کو مزید
پختہ کرنے کی ذمہ داری سڑک چھاپ معالجوں اوراشتہاری حکیموں نے لے رکھی ہے جو
"ماہرینِ جنسیات" کاجعلی روپ دھارکر اپنی من گھڑت اوربے سروپا باتوں سے
نوجوانوں کو خوف وتشویش کی تاریکیوں میں
دھکیل دیتے ہیں۔یہ نام نہاد جنسی معالج خود کو ایسے مسیحاؤں کے طورپرپیش کرتے ہیں
جو نوجوانوں کو ان کی کھوئی ہوئی مردانگی واپس دلواسکتے ہیں۔
نفسیاتی روگ
ایسے سماج دشمن لوگوں کے ہاتھوں خوب لٹنے اوران کی ناقص
دوائیں کھاکر اپنی صحت کو واقعی خراب کر لینے کے بعد بھی نوجوانوں کی پریشانی
دورنہیں ہوتی۔اپنی "لاعلاج" نامردی کاواہمہ ان کاسکون چھین لیتاہے۔خوداعتمادی
سے محروم ہوجانے کے بعد وہ اپنی ذات سے شرمندہ رہنے لگتے ہیں۔کبھی محفلوں میں چہکنے
والے نوجوان اچانک تنہائیوں میں سمٹتے دکھائی دیتے ہیں۔روزمرہ کے معمولات میں
تشویشناک تبدیلیاں آجاتی ہیں۔تعلیم کی طرف سے دل اچاٹ ہوجاتاہےاورسکول کالج سے غیر
حاضریوں کی تعدادبڑھنے لگتی ہے۔گھروالے ان کی حالت دکیھ کر پریشان ہوجاتے ہیں
،مگرکوشش کے باوجود وہ یہ کھوج لگانے میں ناکام رہتے ہیں کہ کونسا روگ ان کی اولاد
کو اندر سے کھائے چلاجارہاہے۔
جنسی الجھنوں
میں مبتلا ہوجانے کے بعد نوجوان محسوس کرتے ہیں کہ ان کے مستقبل کے سارے خواب چکنا چور ہوگئے ہیں اوروہ اب ایسے
سپاہی ہیں جو زندگی کی جنگ لڑے بغیر ہی ہار چکے ہیں۔
ذہنی انتشارکاسبب
نوجوانوں کی ان الجھنوں اورپریشانیوں کاسبب دراصل ہمارے وہ
معیار ہیں جو ہم نے شادی سے پہلے کی جنسی زندگی کے حوالے سے قائم کررکھے ہیں۔بزرگ
نسل بڑے اصرار کے ساتھ نوجوانوں سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ پوری توجہ اپنی تعلیم
پرمرکوز رکھتے ہوئے کامل یکسوئی کے ساتھ اپنا مستقبل بنانے میں لگے رہیں گے
اورشادی سے پہلے جنس سے متعلق کسی خیال کو بھی اپنے ذہنوں میں نہ آنے دیں گے۔مگر
بزرگوں کیلئے یہ توقع باندھ لینا جتناآسان ہے،نوجوان نسل کیلئے اس پر پورااترنا
اتنا ہی دشوارہوتاہے۔بلوغت کے زمانے میں جنسی جبلت اتنی قوت اورشدت سے اپنی بیداری
کااعلان کرتی ہے کہ نوجوانوں کیلئے اس سے دھیان ہٹالیناممکن نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ
موجودہ دورمیں الیکٹرانک میڈیااور انٹرنیٹ نے جنسی عریانیت کووہ عروج دیا ہے جس کی
کوئی مثال آج سے پہلے کی انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔صورتحال کو مزیدگھمبیر بے
روزگاری کے مسئلے نے بنایا ہے۔نوجوانوں کو بروقت ملازمت نہیں ملتی اوروہ اٹھائیس
یاتیس سال کی عمر سے پہلے شادی شدہ زندگی کی ذمہ داریاں اٹھانے کےقابل نہیں
ہوپاتے۔یہ ساری باتیں اس بات کاتقاضاکرتی ہیں ہم اپنے اخلاقی معیارات اورروایتی جنسی
آداب پر نظر ثانی کرتےہوئےنوجوانوں کو اس بوجھ سے آزاد کریں جسے اٹھانے سے وہ
بہرحال قاصر ہیں۔
الجھنوں کاحل
ذیل میں ہم نوجوانوں کی ان الجھنوں کو سلجھانے کی کوشش کریں
گے جو ان میں تشویش اورذہنی انتشار کاباعث بنتی ہیں:
٭ کیا خودلذتی بے
راہ روی (Perversion) ہے؟
دنیا بھر کے طبی معالج اور ماہرینِ نفسیات اب خودلذتی کو
فرد کی نفسی جنسی نشوونما (Psycho-sexual Development) کا ایک فطری مرحلہ تسلیم کرچکے ہیں۔
آکسفورڈ ٹیکسٹ بک آف میڈیسن کے مطابق: "خودلذتی تمام
اقوا م میں پایا جانے والا ایک عام اوربے ضرر فعل ہے۔اس کے عادی افراد میں قابلِ
علاج امر یہ فعل نہیں بلکہ وہ احساسِ غلطی اورندامت ہے جس میں عام طورپر وہ مبتلا
ہوجاتےہیں۔"
ایک اندازے کے مطابق تقریباً 95فیصد نوجوان شادی سے پہلے
جنسی تناؤ کودورکرنےکیلئے خودلذتی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔لہٰذا خودلذتی کو بے
راہ روی یا انحراف((Perversion قراردینے کامطلب یہ ہوگاکہ انسانی آبادی کا
ایک بڑاحصہ ذہنی یااخلاقی طورپر ابنارمل ہے۔ حقیقت یہ ہےکہ خودلذتی کی فعل عقلی یا نفسیاتی لحاظ سے بالکل نارمل افراد
اخیتارکرتےہیں بغیر اس کے کہ وہ عام سماجی تعلقات میں کسی قسم کے مجرمانہ یاغیر
اخلاقی کردار کا مظاہرہ کرتے ہوں۔
٭کیا خودلذتی کی
عادت جنسی صحت کیلئے مضر ہوتی ہے؟
ہمارے ملک میں جنس کے موضوع پر لکھے گئے تیسرے درجے کے طبی لٹریچر نے جنسی صحت اور امراض کے بارے میں
اتنی زیادہ غلط فہمیاں پھیلارکھی ہیں کہ عام ذہنوں کو اس حوالے سے صاف کرنا
خاصادشوار کام ہے۔ایسے لٹریچر میں خودلذتی کے "عبرتناک نتائج" کچھ یوں
بیان کیے جاتے ہیں کہ اس فعل سے عضو تناسل کے رگ وپٹھے کمزور ہوجاتے ہیں،تولیدی
مادہ (منی) رقیق ہوجاتاہے،قلب میں دھڑکن کی شکایت ہوجاتی ہے،جسم سے حرارتِ غریزی
خارج ہوجاتی ہے، اعصاب اوردماغ انحطاط پذیر ہوجاتے ہیں،جگر تھک جاتاہے اورخصیے ضعف
کاشکار ہوکر ڈھیلے پڑ جاتےہیں ۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔مگر مستند طبی حقائق کی روشنی میں یہ
ساری باتیں لغو اورمحض بے بنیاد ہیں۔
جدید علمِ جنس ((Sexologyکے نزدیک خودلذتی دراصل جماع (Coitus )
ہی کی ایک ادھوری صورت ہے۔خودلذتی ہو یا جماع، آپ کے جسم کے داخلی اعضاء ایک ہی
طرز پر فعال ہوتے ہیں۔آپ کے قلب،اعصاب اور جنسی غدودوں کو اس بات سے کوئی فرق نہیں
پڑتاکہ تحریک ((Stimulation سے لے کر انزال (Ejaculation) تک کے مراحل
خودلذتی کے ذریعے طے ہوئے ہیں یا جماع کے ذریعے۔اس طرح خودلذتی اورجماع کے جنسی
صحت پر مفید یا مضر اثرات بھی یکساں اورمشابہ ہوتے ہیں۔جس طرح میاں بیوی کے مابین
جماع کا عمل نقصان دہ نہیں ہوتا،اسی طرح خودلذتی بھی جسمانی یاجنسی صحت کیلئےکوئی
خطرہ پیدانہیں کرتی اورجس طرح جماع کی کثرت سے شادی شدہ افراد کیلئے بعض مسائل
پیداہوسکتے ہیں،اسی طرح خودلذتی کے فعل کو بھی کثرت اور غیر معتدل حد تک کرنے سے
جنسی صحت کو کچھ ضرر پہنچ سکتاہے۔
یہ بات بہت سے لوگوں کیلئے بڑے اچنبھے کی ہوگی کہ مشرقی معالجوں کی رائے برعکس، جدید طبی
تحقیق خودلذتی کو جنسی صحت کیلئے ایک مفید سرگرمی ثابت کررہی ہے۔مردوں میں جنسی
صلاحیت کی درستی کا تمام تر انحصار عضوِتناسل(Penis) کی شریانوں
میں خون کی فراہمی پر ہوتاہے۔خون کی فراہمی نہ صرف اِستادگی(Erection )کے
عمل کیلئے ضروری ہے،بلکہ عضو تناسل کو نشوونما کیلئے درکار غذائی اجزاء بھی خون ہی
کے ذریعے میسر آتے ہیں۔اِستادگی کے دوران چونکہ خون عضوتناسل کے تمام حصوں اورگہری
رگوں میں دورہ کرجاتاہے،اس لیے استادگی
کاعمل عضوتناسل کے تغذیے اورنشوونما میں بڑی اہمیت کا حامل ہوتاہے۔ایک خاص وقفے کے
بعد استادگی کا عمل ضروری ہوتاہے،اسی لیے قدرت نے نیند کے سریع حرکاتِ چشم ((Rapid Eye Movement والے حصے میں غیرشعوری استادگیوں کاانتظام کیاہے جنھیں طبی اصطلاح
میں Nocturnal Penile Tumescence یا عام زبان میں صباحی استادگیاں(Morning Erections) سے موسوم کیاجاتاہے۔یہ استادگیاں بہت چھوٹی عمر سے شروع ہوتی ہیں
اور عام طور پر بڑھاپے تک جاری رہتی ہیں۔استادگی کے عمل کی اس اہمیت کے پیش نظر ماہرین رائے دیتے ہیں کہ ہفتے
میں دوتین بار بیداری کی حالت میں شعوری استادگی کی مشق کرناجنسی صلاحیت پر
خوشگواراثرات ڈالتاہے۔اعتدال کے ساتھ خودلذتی کاعمل دراصل ایک طرح کی جنسی ورزش ہے
جو جنسی اعضاء کیلئے پیشگی تیاری (ریہرسل) کاکام انجام دیتی ہے۔تاہم جس طرح کوئی
بھی ورزش اعتدال کے ساتھ فائدہ دیتی ہے،اسی طرح اس جنسی ورزش کی کثرت کی صورت میں
فائدے کی جگہ نقصان ہوسکتاہے۔
٭کیا خود لذتی
سے عام جسمانی صحت متاثر ہوتی ہے؟
اشتہاری
معالج ا س بات کا بہت ڈھنڈوراپیٹتے ہیں کہ خود لذتی کافعل جسم کو کھوکھلا بناکر
صحت کو تباہ کردیتاہے۔تاہم حقیقت یہ ہے کہ خود لذتی کاعام صحت (وزن ،
قد،حافظہ،چہرے کی رنگت،عضلات کی طاقت وغیرہ) کی خرابی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔اکثر
نوجوانوں میں کمزور صحت یا دبلے پن کے اسباب کچھ اور ہوتے ہیں۔اس ضمن میں ہمدرد
دواخانہ کے بانی حکیم محمد سعید کی ماہرانہ رائے کاحوالہ دینا مفید ہوگا:
"مشت زنی کاانسان کی عام صحت پر اس وقت تک کوئی مضر
اثر نہیں پڑتا جب تک اس کی کثرت نہ کی جائے یاعادتاً ایک طویل عرصے تک اس کا مرتکب نہ ہواجائے۔(تاہم اکثر نوجوانوں کویہ
وہم لاحق ہوجاتاہے کہ ان کی خراب صحت خودلذتی کی وجہ سے ہے اور)غیر مستند معالجین
کے مفروضہ بیانات سن سن کر انھیں یقین ہوجاتاہے کہ ان کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے
،اندر کو دھنسے ہوئے گال اوران کا بے رونق چہرہ اس حرکت کانتیجہ ہے اورچونکہ ان کو
یقین ہوتاہے کہ یہ مجلوق(یعنی خودلذتی کرنے والے) کی نمایاں علامات ہیں، لہٰذا وہ
سمجھتے ہیں کہ ہر شخص ان کی صورت دیکھ کر ان کو مجلوق سمجھ لے گا۔" (تجرباتِ
طبیب، ص 353)
اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کی عام صحت اچھی نہیں ہے تو کسی مستند ٖڈاکٹر سے اپنا طبی
معائنہ کرائیں۔بعض اوقات قبض،پیچش ،پیٹ کے کیڑےاورمعدہ و جگر کی خرابیوں سے چہرہ
بے رونق ہو جاتاہے اورجسم کی مناسب نشوونمانہیں ہوپاتی۔اصل سبب کو دورکردینےسے صحت
بحال ہوجاتی ہے۔
٭کیا خودلذتی نامردی کا باعث ہوتی ہے؟
جیسا
کہ بیان کیا جاچکا ہے کہ خود لذتی کے فعل سے جنسی صلاحیت پر کوئی مضر اثر رونما
نہیں ہوتا،ہاں البتہ اس کی کثرت سے کچھ مسائل پیداہوسکتے ہیں۔تاہم یہ ذہن نشین
رکھنا ضروری ہےکہ خود لذتی کے ممکنہ مضرات
کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کی عمومی صحت اور نفسیاتی طبع کیسی ہے ۔ بہت سے
نوجوان حدسے زیادہ خودلذتی کرنے کے باوجود متاثر نہیں ہوتے اور اطمینان بخش ازواجی
زندگی گزارتے ہیں۔اگر آپ کی جسمانی صحت پہلے سے کمزور ہے اورآپ کسی بھی وجہ سے
احساسِ کمتری کاشکار ہیں ،تو خود لذتی کے مضر اثرات کا امکان بڑھ جاتاہے۔
خودلذتی کے عادی بعض نوجوانوں میں شادی کے بعد نامردی کی
ایک خاص صورت دیکھنے میں آتی ہے۔یہ نوجوان تنہائی میں توبھرپور اورمکمل استادگی کا
تجربہ کرتے ہیں، مگر ازواجی قربت کے لمحات میں بالکل سرد پڑجاتے ہیں۔ایسے افراد
پردۂ سکرین پر یا آنکھوں کے سامنے ہونے والے ہیجان خیز منظر کیلئے بالکل بے حس
ہوجاتے ہیں ، مگر خلوت میں اسی منظر کاتصور کرنے سے جنسی طورپر بیدار ہوجاتے ہیں۔
ایسے نوجوانوں پر انواع و اقسام کی معجونوں،کشتوں ،انجکشنوں اورطلاؤں کی آزمائش کی
جاتی ہے،مگر مسئلہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔سبب بالکل واضح ہے کہ ان افراد میں
نامردی کی وجہ کوئی جسمانی یا عضویاتی نقص نہیں ہوتا کہ دواؤں سے کچھ افاقہ ہو۔
یہ دراصل ایک طرح کی کرداری نامردی ((Behavioral Impotence ہوتی ہے۔جنسی تحریک کیلئے عام اورصحتمند افراد میں مخالف جنس کی
صورت،آواز،لمس اور خوشبو وہ عوامل ہوتے ہیں جوانھیں قربت کیلئے مستعد کرتےہیں۔مگر
برس ہا برس سے خودلذتی کے عادی افراد ان عوامل کی جگہ محض تصور(Imagination) سے کام لینے
کے عادی ہوتےہیں،اس لیے جماع کے ماحول سے اجنبیت محسوس ہونے کے سبب برموقع فعال
نہیں ہوپاتے۔خودلذتی کےعادی افراد کے جنسی اعضاء مشاہدے کی بجائے تصور کے ذریعے
بیدار ہونے کے خوگر ہوتےہیں۔
اس بات کو
سمجھنے کیلئے ایک مثال لیجیے۔اگر آپ کسی کرکٹ میچ کی کمینٹری ریڈیوسیٹ سے سن رہے
ہوں تو آپ تک محض آواز پہنچ رہی ہوتی ہے اورواقعات کو سمجھنے کیلئےآپ کو اپنے
تخیل کو بھی زحمت دینا پڑتی ہے۔پھراگراچانک
آپ کے سامنے ریڈیو کی جگہ ٹیلے وژن رکھ دیاجائے تو آپ کاذہن فوراًاس تبدیلی سے
موافقت (ایڈجسٹمنٹ) اختیارکرتےہوئےتصور کاعمل ترک کرکے بصارت سے کام لینا شروع
کردیتاہے۔اگر بالفرض آپ کاذہن اس تبدیلی سے یوں موافقت اختیار نہ کرپائے تو یہ
ہوگاکہ آپ کا تصور اور بصارت دونوں بیک وقت فعال ہوکر آپ کو انتشار(کنفیوژن) میں
مبتلا کردیں گے۔ خودلذتی کے بعد اچانک جماع کا تجربہ کرنےوالے نوجوانوں کے ساتھ
کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آتاہے۔
ایسی نامردی کے علاج کیلئے کسی دوا
کی ضرورت نہیں ہوتی،بلکہ خود کو مایوسی اورپست ہمتی سے بچاتےہوئے ابتدائی ناکامیوں
کے باوجود کوششیں جاری رکھنا ہی اس مسئلے کاحل ہے۔جوں جوں آپ کاذہن اورجسم جماع کے
مراحل اورماحول سے مانوس ہوتے جائیں گے،یہ شکایت خودبخود ختم ہوتی چلی جائےگی۔یہ
محض ایک عادت(خودلذتی) کی جگہ دوسری عادت(جماع) ڈالنے کی مشق ہے۔ ایسے افراد کیلئے
شریکِ حیات کےساتھ ذہنی ہم آہنگی اور بے تکلفی بہت اہم ہوتی ہے۔شریکِ حیات کے
تعاون سے اس مسئلے پر بہت جلد قابو پایا جاسکتاہے۔
٭کیاخودلذتی
گناہ ہے؟
یہ نوجوانوں کی بہت ہی نازک الجھن ہے۔خودلذتی کاعادی نوجوان
اکثر اس احسا س میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ وہ
کسی مذہبی حکم کی خلاف ورزی کامرتکب ہورہا ہے۔نیم خواندہ اورسطحی نظر مولوی بھی
نوجوانوں کویہ باور کرانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے کہ اس فعل کے نتیجے میں
وہ عذابِ الٰہی کے مستحق بن چکےہیں۔یہ ایسی ہی فرسودہ خیالی کا نتیجہ ہے کہ احتلام
کے قدرتی فعل کو 'نیند میں شیطان کے آنے' سے تعبیر کیا جاتاہے!
حقیقت یہ ہے کہ مذہب نے انسانوں پر کوئی بھی پابندی بلاجواز
عائد نہیں کی بلکہ تمام اخلاقی پابندیوں کے پیشِ نظر سماجی مصالح اور تہذیبی
روایات کاتحفظ ہے۔مثال کے طورپر زنا کو اس لیے تمام مذاہب میں حرام قراردیا گیا ہے کہ اس سے خاندانی نظام
اورمعاشرتی تعلقات میں فساد پیداہوجاتاہے۔ہم جنسیت ((Homo sexualityکو
اس لیے ممنوع کیا گیا ہے کہ اس سے کم سے کم ایک فریق کی فطری شخصیت مسخ ہوجاتی
ہے۔ان دوبڑی جنسی قباحتوں سے تعرض کرنے کے بعدمذہب نےجنسی تسکین کی باقی صورتوں کا
فیصلہ خود انسانوں کے فہم اورتجربے پر چھوڑدیا ہےاور خود لذتی چونکہ سماجی اوراخلاقی نقطۂ نظر سے بالکل بے
ضرر فعل ہے،اس لیے مذہب تعلیمات کے ساتھ ساتھ انسانی نفسیات اور جدید صنعتی معاشرے
کے مسائل پر نظر رکھنے والے علمائے دین اسے گناہ قرارنہیں دیتے۔
٭نوجوان جنسی
امراض کا علاج کہاں سے کرائیں؟
خودلذتی کی کثرت سے بعض نوجوانوں میں ذکاوتِ حس کا مسئلہ
پیداہوسکتاہے یعنی جنسی اعضاء حساس ((sensitive ہوجاتے ہیں۔اس کاسبب عموماً تناسلی اعضاء
میں خون کااجتماع بڑھ جانا ہوتاہےجس سے باربارتحریک ہوتی ہے۔جریانِ منی اور کثرتِ
احتلام بھی دراصل اسی ذکاوتِ حس کانتیجہ ہوتے ہیں۔عام حالات میں ان شکایات کیلئے
کسی باقاعدہ علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔اگر جسم کاکوئی حصہ یا عضو ضرورت سے زیادہ
فعال ہوجائے تو اس کا قدرتی علاج یہی ہے کہ کچھ عرصہ کیلئے اسے آرام کاموقع
دیاجائے تاکہ اس کے افعال اعتدال کی طرف لوٹ سکیں۔لہٰذا خود لذتی کافعل کچھ عرصے
کیلئے ترک یا کم کرکے اورمحرک غذاؤں (انڈہ،گوشت،چائے،کافی وغیرہ) کے استعمال
سےپرہیز کرکے نوجوان اپنی تمام جنسی بے قاعدگیوں کو دورکرسکتے ہیں۔تاہم اگر ان
شکایات میں غیر معمولی شدت پیداہوجائے تو ہمیشہ مستند اورماہر معالجوں سے مشورہ
کرناچاہیئے۔اشتہاری حکیموں اورعطائیوں کے جال میں کبھی نہیں آناچاہیئے اورنہ ان کی
باتوں پر کان دھرنے چاہیئں۔
٭کیا نوجوانوں
کو جنسی تعلیم دی جانی چاہیئے؟
یہ حقیقت ہے کہ جنسی تعلیم کاباضابطہ اہتمام کرکے ہم اپنی
نوجوان نسل پر بہت بڑا احسان کریں گے۔اگر ہم نوجوانوں کو جنس کے حوالے سے
معلومات کے مثبت ذرائع مہیا نہیں کریں گے
تو وہ لاعلم تو بہرحال نہیں رہیں گے،مگر اس صورت میں یہ معلومات ان تک ایسے
غیرشائستہ اورفحش انداز میں پہنچیں گی کہ وہ جنس کے بارے میں منفی طرزِفکر میں
مبتلا ہوجائیں گے۔لہٰذا تمام اطراف سے اربابِ اختیار سے یہ مطالبہ کیاجاناچاہیے کہ
سیکنڈری اورانٹرمیڈیٹ کی تعلیم سطحوں میں جنسی تعلیم کو غیر امتحانی مضمون کے
طورپر نصاب میں شامل کیاجائے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
No comments:
Post a Comment