طنز و مزاح
انٹرنیٹ سے پیسے کیسے کمائیں؟
نوجوان دوستو! اگر آپ بیروزگاری کی وجہ سے پریشان ہیں، گھر میں سب نکھٹو کہہ کر بلاتے ہیں، گھر سے باہر کسی کوسلام کرتے ہیں تو وہ اپنا جواب mute کرلیتا ہے، بچپن کی منگیتر کی شادی کسی اور دولتمند گھرانے میں ہوچکی ہے جہاں وہ دَھڑادَھڑ بچوں کے ڈائپر بدل رہی ہے، یا شادی شدہ ہیں تو کم آمدنی کی وجہ چہرے پر ایک سدابہار شرمندگی کا ٹیگ لگا رہتا ہے،سب یار دوست کمائیاں کرکے گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں مگر آپ ابھی تک ’بے کار‘ ہیں ، ذہن میں خودکشی کے خیالات آتے ہیں مگر کریڈٹ کارڈ میں آن لائن زہر خریدنے کے پیسے بھی نہیں ، زندگی ایک بوجھ اور اپنا وجود ایک بُوری محسوس ہوتا ہے ۔۔۔۔ تو مایوس نہ ہوں۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ کس طرح آپ گھر بیٹھے انٹر نیٹ سے پیسے کما سکتے ہیں اور امیر بن کر معاشرے میں اپنا مقام بنا سکتے ہیں۔
تو دوستو! انٹرنیٹ سے کمائی کرنے کے کئی طریقے ہیں۔۔ جائز بھی اور ناجائز بھی۔۔ ناجائز طریقوں سے آپ بہت جلد ایک بزنس آئیکون بن سکتے ہیں مگر ہم آپ کو صرف جائز طریقے بتائیں گے جن سےآپ کے پاس بس اتنی دولت آجائے کہ عوام کے سامنے سر اٹھاکر جی سکیں اور خواص کے پاس سے سرجھکا کر گزر سکیں۔ویسے بھی زیادہ دولت اچھی نہیں ہوتی، اس سے انکم ٹیکس والوں کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں اورقیامت کےدن آڈٹ بھی طویل ہوجاتا ہے۔
انٹرنیٹ سے روزگار بنانے کےلیے پہلے توآپ کے پاس انٹر نیٹ کنکشن کا ہونا ضروری ہے جو یقیناً آپ کے پاس موجود ہے کیونکہ آپ کی بیروزگاری کا ایک بڑا سبب فیس بک دوستیاں ہی تو ہیں۔ مگر اب آپ کو چیٹ رومز سے توبہ کرنی ہوگی اور فیس بک کوunfriend کرنا ہوگا۔ اگر آپ کا انٹرنیٹ سُست الوجود اور کاہل قسم کا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے کمپیوٹر پربھی اپنے گناہوں کا بوجھ لاد رکھا ہے، لہٰذا اس کےلیے کمپنیوں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنی ہارڈ ڈسک سے تمام غیر شرعی مواد ڈیلیٹ کردیں۔ اس سے آپ کا کمپیوٹر ایسا پاک صاف ہوجائے گا جیسے کوئی حاجی صاحب واپس ائیرپورٹ پہنچنے پر ہوتے ہیں۔ جب کمپیوٹر ہلکاپھلکا ہوجائے گا تو نیٹ بھی گھوڑے کی طرح دوڑنے لگے گا۔
تو اب ہم آپ کو انٹرنیٹ سے پیسےکمانے کے مختلف ذرائع بتاتے ہیں:
1) آئن لائن مزدوری : آپ نے صبح صبح چوک پر محنت کشوں کی ایک بھیڑ جمع دیکھی ہوگی جوبظاہر تو ایک دوسرے کے اسکینڈلز پر باتیں کررہے ہوتے ہیں مگردراصل چور آنکھوں سے ہر آنے جانے والے صاحب کو امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں کہ آج ان میں سے کس کی بیگم کے ہاتھ کاپکا ہوا کھاناملے گا۔ یہ آف لائن فری لانس مارکیٹ ہوتی ہے۔ ایسی ہی مارکیٹ آپ کو انٹرنیٹ پر بھی ملے گی، جہاں آپ اپنا اکاؤنٹ رجسٹر کراکے اپنی خدمات دوسروں کوپیش کرسکتے ہیں۔
یہاں انسانی ہنر کی باقاعدہ بولی لگتی ہے اور پھر کوئی کلائینٹ مزدوری طے کرکے آپ کو hire کر لیتا ہے۔ مثال کے طور پراگر آپ کوزبان اچھی طرح آتی ہے تو آپ غیرملکیوں کو اپنی زبان سکھا سکتے ہیں اورہم وطنوں کو زبان درازی میں ماہر بنا سکتے ہیں۔اگر آپ ایک کامیاب ساس ہیں تو خواتین کو بہوؤں کودباکر رکھنے کا فن سکھاسکتی ہیں اور اگر ایک مظلوم بہو ہیں تو پھر مرثیہ نگاری میں اپنی خدمات پیش کرسکتی ہیں۔اگرآپ ایک ریٹائرڈ ٹیچر ہیں تو نئے ٹیچرز کو ٹیوشنز حاصل کرنے گُر بتا سکتے ہیں اور اگر وکیل ہیں تو دو پڑوسیوں کو آپس میں لڑوا کر دونوں کے آن لائن قانونی مشیر بن سکتے ہیں۔اسی طرح اگر آپ ڈیٹا انٹری کے ماہر ہیں تو لڑکے والوں کو مطلوبہ جہیز کی لِسٹ ایم ایس ورڈ میں بناکر دے سکتے ہیں اور اگر ریٹائرڈ پولیس آفیسر ہیں تو لڑکی والوں کو لڑکے کی سابقہ دوستیوں اور شادیوں کی انفارمیشن گوگل ڈرائیو سے بھیج سکتے ہیں۔
غرض اِن آن لائن مارکیٹوں پر آپ اپنے ہنر کو کئی طریقوں سے فروخت کرسکتے ہیں۔ یہ فری لانس مارکیٹیں مختلف ناموں سے کام کرتی ہیں، جن میں سے چند مشہور نام یہ ہیں:
1) گُرو گھنٹال
2) گَپ ورک
3) فوارہ چوک ڈاٹ کام
2) بلاگنگ : یہ بھی انٹر نیٹ سے پیسے کمانے کا ایک طریقہ ہے۔ مگر بلاگنگ کےلیے بھی اتنی ہی ہمت درکار ہوتی ہے جتنی صبح سویرے اٹھ کر جاگنگ کرنے کے لیے۔یہ ایک طرح کی ڈائری ہوتی ہے جس میں آپ روزانہ کم از کم پانچ سو الفاظ پر مبنی دلچسپ اور معلوماتی تحریر لکھتے ہیں۔ یہ واقعی مشکل کام ہے، لیکن اگر آپ شادی شدہ ہیں تو پھر یہ کوئی مسئلہ نہیں۔جب آپ روزانہ اپنی شوہربیتی بلاگ پر اپلوڈ کریں گے تو یقین کریں کہ بہت سے ہمدرد اور غم شناس لوگ آپ کے بلاگ پر اُمڈ پڑیں گے اور آپ کے بلاگ پر اتنی ٹریفک آجائے گی کہ ٹریفک پولیس کو اضافی اہلکار تعینات کرنا پڑیں گے۔
شادی شدہ ہونے کی وجہ سے موضوعات کی آپ کے پاس کمی نہ ہوگی کیونکہ ان کی فراہمی تو بیگم کے ذمے ہوگی۔ مثال کے طورپر اگر گرمیوں میں آپ نے فریج سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکالی مگر پھر اسے دوبارہ بھر کر رکھنا بھول گئے ۔۔۔ تو بیگم کی بلاگ کے لیے فیڈبیک کچھ یوں ہوگی :
” حد ہوتی ہے لاپرواہی کی ۔ جو کروں بس میں کروں۔آپ نے تو مجال ہے جو کوئی کام کرنا ہو۔ فلاں کا شوہر گھر کے کاموں میں اس کا کتنا ہاتھ بٹاتا ہے۔ وہ کپڑے دھوپ میں ڈالتی ہے تو وہ امداد کے طور پر پہلے انھیں دھو دیتا ہے، اس نےکھانا ڈائننگ ٹیبل پر لگانا ہوتا ہے تو وہ پہلے کچن میں اسے پکادیتا ہے، وہ برتنوں کو شیلف میں سجانے لگتی ہے تو وہ پہلے انھیں اچھی طرح مانجھ دیتا ہے ۔۔۔ مگر آپ تو گھر کے کام کرنا اپنی مردانگی کی توہین سمجھتے ہیں۔ میری تو قسمت پھوٹ گئی جو آپ سے شادی ہوئی۔حالانکہ میرے کتنے اچھے اچھے رشتے آئے تھے۔ ایک تو سی ایس پی افسر تھا، بنگلہ، گاڑی، نوکرچاکر، سب کچھ ہوتا۔۔۔ مگر نہ جانے اباجان کو آپ میں کیا نظرآیا جو مجھے اس جہنم میں جھونک دیا۔ سارا دن کولہو کے بیل، میرا مطلب ہے کہ گائے کی طرح کام میں جُتی رہتی ہوں اور صلہ کیا ملتا ہے؟ خاک بھی نہیں۔ مجال ہے جو تعریف کے دو بول کبھی زبان سے نکل جائیں۔ غیر عورتوں سےبات کرتے ہوئے تو زبان ایسی میٹھی ہوجاتی ہے جیسے باپ دادا مٹھائیوں کا ہی کاروبار کرتے تھے، مگر اپنی بیوی سے بات کرتے ہوئے زمانے بھر کی بیزاری گلے میں اُتر آتی ہے ۔۔۔۔“
یہ رُوداد جب آپ اپنے بلاگ میں لکھ دیں گے تو پڑھ کر کتنی ہی آنکھیں اشکبار ہوجائیں گی اور کتنے ہی ستم رسیدہ شوہر اسے جگ بیتی قرار دے کر آپ کے بلاگ کو فالو کرنے لگیں گے۔ یوں جب آپ کے فالوورز کی تعداد زیادہ ہوجائے گی تواتنے ہی اشتہارات آپ کے بلاگ پر لگنا شروع ہوجائیں گے۔ یہ اشتہارات ان کمپنیوں کی طرف سے ہوں گے جو شوہروں کے لیے حفاظتی سامان مثلاً ہیلمٹ، گلووز، جیکٹس اور آہنی شوز وغیرہ ، تیا ر کرتی ہیں۔پھر جتنے ضرورت مند ان اشتہارات پرکلک کریں گے ، اتنے ہی پیسے آپ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوجایا کریں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ رقم بھی بالآخر نیل پالش، لپ اسٹک، زنانہ کپڑوں اور جوتوں پر ہی خرچ ہوگی !
3) وڈیو چینل : موروثی جینز کی مہربانی سے اگر شکل وصورت اور آواز اچھی ہے تو آپ اپنا وڈیو چینل بنا کر بھی دولت کماسکتے ہیں۔لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی صورت اور آواز اچھی نہیں تودل چھوٹا نہ کریں۔ اگر خوبصورت ہونا ایسا ہی ضروری ہوتا تو بھلا پڑوسی ملک کا اداکار اجے دیوگن فلموں میں ہیرو آسکتا تھا؟۔۔۔ اوررہی آواز۔۔۔ تو اس سلسلے میں ملک کےایک مشہور لوک گلوکار کی زندگی آپ کے لیے بہترین مثال ہے۔ اس بندۂ خدا نے گانے کے لیے پہلے ریڈیو پاکستان پر آڈیشن دیا تو انھوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ بھائی جاؤ، تمھاری آواز نے تو ہماری مشینری کا ہی ستیاناس کردیا ہے۔ پھر وہ ٹیلی ویژن پر گیا تو وہاں بھی اس کی آواز نے ایسے پتھریلے راگ چھیڑے کہ ٹی وی کیمروں کے شیشے تڑاک تڑاک کرکے ٹوٹنے لگے، مگر پھر بھی اس نے ہمت نہ ہاری اور گاتا ہی رہا ۔۔۔اور دن رات اتنا گایا کہ بالآخر لوگ اسے سننا شروع ہوگئے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اصل چیز اچھی آواز نہیں بلکہ ضد ہے۔ آپ بھی بس ضد میں آجائیے کہ ہر صورت میں وڈیوز بنانی ہیں خواہ آپ کی آواز کوؤں جیسی ہی کیوں نہ ہو اور خواہ آپ کے چینل کے کمنٹ سیکشن میں اُلّو ہی کیوں نہ بولتے رہیں۔
اب آپ پوچھیں گے کہ وڈیو کس موضوع پر بنائیں اور اس کےلیے مواد کہاں سے لائیں؟ ۔۔۔ تو اچھی طرح ذہن نشین کرلیجیے کہ وڈیوز کے لیے اصل اہمیت thumbnail کی ہوتی ہے۔ بس ایسا thumbnail لگائیے کہ لوگ ایک مرتبہ آپ کی وڈیو کو کلک کرنے پرمجبور ہوجائیں۔ مثال کے طور پریہ thumbnail لگائیےکہ:
”عوام تیاری کرلیں۔ محکمۂ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں میں طوفانی برفباری کی پیش گوئی کردی!!“
پھر وڈیو کے اندر بتائیے کہ براعظم انٹارکٹیکا میں سارا سال برف پڑتی ہے اور ماہرین نے کہا ہے کہ کوئی وجہ نہیں کہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں بھی یہ سلسلہ جاری نہ رہے۔
اسی طر ح یہ thumbnail لگائیے:
”استغفراللہ! قیامت کی نشانی!۔۔۔ شوہر نے بیوی سے ایسا مطالبہ کردیا کہ خدا کی پناہ!!“
اس کے بعد وڈیو کے اندر بیان کریں کہ ہمارے پڑوس میں ایک بزرگ شوہر نے اپنی بیوی سے کہا کہ بیگم! اب میرے سارے دانت مصنوعی لگ چکے ہیں، اس لیے جب گوشت پکاؤ تو اسے اچھی طرح گَلا لیا کرو۔
یہthumbnail بھی کارآمد ہوسکتا ہے:
”افسوسناک خبر! مشہور ایکٹریس نے خودکشی کرلی!!۔۔۔“
اور وڈیو میں اس ایکٹریس کے اس ٹویٹ کا حوالہ دیجیے جس میں اس نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اس کی خودکشی کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ ہاں ، البتہ اگر اس کی کوئی ایسی ویسی وڈیو لِیک ہوگئی تو وہ ضرور خودکشی کے بارے میں سوچے گی۔
جب اس طرح آپ لوگوں کو بیوقوف بناکر کافی سبسکرائبر اکٹھے کرلیں تو پھرجلدی سے اپنے چینل کو منیٹائز کر لیجیے ۔ جب تک لوگوں کو آپ کے چینل کی اصل حقیقت معلوم ہوگی، اس وقت تک آپ اچھی خاصی رقم کما چکے ہوں گے۔
تو دوستو! آپ کواندازہ ہوگیا ہوگا کہ انٹرنیٹ سے پیسے کمانا کتنا آسان ہے۔ بس ہماری اتنی نصیحت ذہن میں رکھ لیجیے کہ جب آپ بہت امیر ہوجائیں تو اپنے ان بھائیوں کی مدد کرنا نہ بھولیں جو بے چارے بڑی محنت سے نیٹ پر معلوماتی وڈیوز لگاتے اور تعمیرِ اخلاق پر مبنی بلاگز چلاتے رہتے ہیں۔
(کتاب "مزید احمق پارے" کا ایک مضمون)
منگوانےکا پتا:
https://www.meraqissa.com/book/1777
**********************