Wednesday, February 3, 2021

کووڈ-19 کا گہرا گھاؤ

 

کووڈ-19 کا گہرا گھاؤ

روزگار کا چلا جانا کبھی بھی کوئی خوشگوار  واقعہ نہیں ہوتا، اور اس وبا نے  پوری معیشیت میں 22لاکھ آسامیاں ختم کرکےاسے اور زیادہ بھاری مصیبت بنا دیا ہے۔ روزگار کا ہونا محض ایک معاشی ضرورت کو ہی پورا نہیں کرتا، بلکہ یہ  انسان کی ذہنی صحت  کو استحکام دیتے ہوئے زندگی  میں مقصدیت اور ایک خاص  صورت گری کا باعث ہوتا ہے۔ اس وجہ سے سائیکولوجی ٹوڈے نے مختلف  ماہرین سے روزگار کے خاتمے سے پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے لیےایک تعمیری نصاب تشکیل دینے کی درخواست کی۔

 

برطرف، بے روزگاراور دل شکستہ!

کرسٹین فلر، ایم ڈی

 

                          آپ کیا کرتے ہیں؟ یہ سوالوں میں سے ایک ہے جوامریکی کسی اجنبی سے متعارف ہونے پرسب سے زیادہ پوچھتے ہیں۔

 

            ہماری نوکریوں کاتعلق محض ہمارے معاشی اور تعلیمی مرتبے سے ہی نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہماری سماجی حثیت کا تعین بھی کرتی ہیں، یاکم از کم  یہی وہ اندازِ نظر ہے جس میں ہمارا معاشرہ ایک فرد کے عہدے اور اس کی شخصیت کے باہمی تعلق کو دیکھتا ہے۔ بلاشبہ بحثیت انسان ہمارا عہدہ ہماری شخصیت کا مکمل تعارف نہیں ہوتا؛ ہم  اپنے پیشہ ورانہ کام سے ہٹ کر حقیقی  احساسات اور جذبات رکھنے والی صاحبِ کردار و ادراک ہستیاں  ہوتی ہیں۔ہم اپنی زندگیوں میں دوست، والدین، بیٹے بیٹیاں، محبوب، تحقیق کار، نگران اور رہنما ہوتے ہیں۔ تاہم اگر ہم اپنی نوکری کو اپنا پورا تعارف نہ سمجھیں، تو بھی بہت سے لوگوں کے لیے ان کی  نوکری محض ایک نوکری نہیں ہوتی۔

 

                                  بلوں کی ادائیگی ، پیاروں کی ضروریات کی تکمیل اور تفریحی مشاغل کی تسکین کرنے کے علاوہ روزگار ہمیں زندگی ایک مقصدیت، دوسروں سے جڑے ہونے، سماج میں ایک کردار ہونے اور زندگی میں ایک  ڈھنگ ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ ہمارےکام  کا گہر ارشتہ ہمارے احساسِ تفاخر اور سماجی تعلق سے  ہوتاہے۔بے روزگار ہونے کا مطلب صرف یہی نہیں کہ اب آپ کو تنخواہ کا چیک نہیں ملے گا، بلکہ یہ دراصل ایک منظم زندگی کے معمولات، ایک  بامعنی  اسلوبِ حیات، ذاتی اہمیت کے احساس، ذات کے تحفظ ، سماجی روابط اور، بہت سے لوگوں کےلیے،صحت کی سہولیات سے محروم ہونا ہے۔

 

              گزشتہ کئی ماہ سے کووڈ -19 نے اقتصادی زبوں حالی پیداکرکے لاکھوں افراد کو ان کی نوکریوں سے باہر کردیا ہے۔چونکہ اس کے نتیجے میں اتنے زیادہ لوگ اپنی شناخت سے محروم کردیے گئے، لہٰذا اب وہ بےروزگاری  کے تباہ کن ذہنی اورجذباتی اثرات سے دوچار ہیں مثلاً افسردگی،مستقبل سے ناامیدی، تنہائی اور معاشی دباؤ وغیرہ۔

 

           اس عظیم پستی (ڈپریشن) کے آغاز سےاب تک ،  ماہرین ان طریقوں کا شمارکررہے ہیں جن کے ذریعے بےروزگاری ذہنی صحت کو برباد کرتی ہے اور معاشرے کے  سماجی تانے بانے ادھیڑکر رکھ دیتی ہے۔جبری بے روزگاری افراد میں بے بسی، بے اعتمادی، تشویش، افسردگی اور ذاتی جوش وخروش میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ایک فرد سوچتا ہے کہ اگر میں اپنی  اوراپنے کنبے کی دیکھ بھال نہیں کرسکتا تو پھر میری وقعت ہی کیا ہے؟ اگر ہم کھانے کی میز کو غذا سے بھر نہیں سکتے تو پھر آخر ہم ہیں کس مرض کی دوا؟

 

                    مزید برآں، یہ وبا روزگار سے محرومی اور معاشی بدحالی  کے زخموں پر خود اپنی طرف سے نفسیاتی تضحیک کا نمک چھڑکتی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کووڈ-19 کے بعد کی زندگی کیسی ہوگی، اور یوں غیریقینی صورتحال بے چینی کوجنم دیتی ہے۔بے چینی کی اذیت  دراصل عمل  کی تحریک دینے کے لیے ہوتی ہے، مگر یہاں بھی بہت سے افراد کے لیے ہدایت ہےکہ وہ کچھ نہ کریں۔۔۔ بس گھروں میں ہی بیٹھے رہیں۔ وائرس کا خوف، متعدد جانوں کے ضیاع کا اجتماعی دکھ اور سماجی فاصلوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی طویل تنہائی انفرادی اور اجتماعی  نفسیات پر یوں اثرانداز ہوئی ہےگویا جیسے روزگار سے محرومی  کے نقصانات کافی نہ تھے۔

 

            ہر کوئی خطرے کی زد میں ہے۔اقتصادی بحران  ،بلالحاظِ عہدہ و تنخواہ، سب کو ہی  متاثر کرتا ہے۔ روزگار سے برطرفی کا عمل مزدوروں اور صحی کارکنان سے لے کر اعلیٰ انتظامی عہدے داروں کے تمام ہی طبقات میں واقع ہوا ہے۔معاشی دھچکے کی وجہ سے تقریباً سب ہی صنعتوں میں بجٹ کٹوتی کی گئی ہے۔بہت سے چھوٹے کاروبار یوں بند ہونے پر مجبور ہوئے ہیں کہ اب ان کے مالکان اور کارکنوں کو اپنےروزمرہ بلوں کی ادائیگی کا چیلنج درپیش ہے۔

 

              اقتصادی بندش کی وجہ سے کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور انتہائی ہنرمند افراد کو ملازمتیں نہیں مل رہیں۔ بہت ہی کم شعبوں میں بھرتیاں ہورہی ہیں۔اب صرف یہی چارہ رہ گیا ہے کہ کوشش جاری رکھی جائے اور انتظار کیا جائے ۔۔۔ مگر کب تک؟

 

                                          وہ افراد  جواپنے کام میں ایک طرح کا  تفاخر، مقصدیت اور معنویت پاتےہیں، برطرفی کی صورت میں زیادہ اذیت محسوس کرتے ہیں ، کیونکہ ان کاکام انھیں،  تنخواہ کے علاوہ،  ذاتی کامیابی ، قابلیت اور رجائیت کا احساس  دینے کا باعث  بھی ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے خود کو کسی نئے کام کے لیے آمادہ اور متحرک کرنا ایک چیلنج ہوتا ہے۔بالخصوص ان افراد کے لیے اپنا پیشہ ورانہ  کام  ذاتی پہچان اور بامقصد زندگی کے ہم معنی ہوتا ہے جنھوں نے کئی سال ایک ہی شعبے میں کام کیا ہوتا ہے یا اپنی موجودہ ملازمت کی اہلیت حاصل کرنے کے لیے برسوں کی تعلیم محنت کی ہوتی ہے۔چونکہ ملازمت سے برطرفی انسان کی ذات کو اندر سے ہلاکر رکھ دیتی ہے، اس لیے اس کے اثرات خارجی کردار میں بھی ظاہر ہوتے ہیں۔

 

                             میرے اہلِ خانہ اور میرے دوست احباب میرے بارے کیا سوچیں گے؟کیا وہ مجھے ایک ناکام شخص کے طور پر دیکھتے ہوں گے؟

 

                            جبری طور پر ملازمت سے برطرف کیے گئے افراد شرمساری اور ندامت کے باعث دوستوں اور اہلِ خانہ سے کم ہی میل جول رکھتے ہیں۔اس کے نتیجے کے پیدا ہونے والی تنہائی افسردگی (ڈپریشن) کو جنم دیتی ہے، جو مزید تنہائی  اور پھر مزید شدید ڈپریشن کی طرف لے جاتی ہے۔روزگار کی تلاش میں کوشاں افراد کےلیے ایسے دوستوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا دشوار ہوتا ہے جواچھی آمدنی کے ساتھ برسرِروزگار ہوتےہیں۔

 

         جائزے بتاتے ہیں کہ بے روزگاری کابہت گہرا تعلق خودکشی کے واقعات سے ہے۔2008ء کی’عظیم کسادبازاری‘ کے نتیجے میں پیداہونے والی بے روزگاری  نے خودکشی کی شرح میں 13 فیصد اضافہ کرکے  ایک ہی سال میں 46 ہزار جانیں لے لیں۔ بدقسمتی سے بے روزگاری کا مطلب  ہیلتھ انشورنس سے محرومی ہوتا ہے یعنی خودکشی کے خطرے سے دوچار افراد ذہنی معالجے کی سہولیات سے بھی فائدہ نہیں اٹھاسکتے۔

 

                               جب آپ ایک نوکری کھو دیتے ہیں تو ساتھ ہی آپ ایک حلقۂ احباب بھی کھو بیٹھتے ہیں۔ ہم اپنے کام کی جگہ پر اتنا وقت گزارتے ہیں کہ فطری طور پر ہم وہاں دوستیاں اور تعلقات بنالیتے ہیں۔ نوکری جانے کی صورت میں ہم  اس ’ورک فیمیلی‘ سے بھی محرو م ہوجاتے ہیں جس سے ہمارے اکیلے پن میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور ہم نہ صرف افسردگی اور تشویش میں مبتلا ہوجاتے ہیں بلکہ منشیات کی طرف بھی مائل ہوجاتے ہیں۔

 

                   ملازمت سے محرومی ایک فرد کےازدواجی تعلق میں بھی ایک دراڑ ڈال دیتی ہے۔ میاں بیوی ایک دوسرے کو کوسنے اور ملامت کرنے لگتے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک اس صورتحال میں کفایت شعاری کا مظاہرہ نہیں کررہا یا گھر کے اخراجات پورے کرنے کی تدبیر نہیں کررہا۔ایسی ازدواجی تلخیاں  بحث و تکرار، شراب نوشی،  حتیٰ کہ گھریلو تشدد کی بنیاد بنتی ہیں۔ تنگدستی فریقین کے مابین سردمہری اور دوریوں کو جنم دیتی ہے۔بچے گھرکی منفی فضا کے اثر قبول کرتے ہیں اوربلاواسطہ اور بالواسطہ  اسے اپنے کردار میں ظاہر کرتے ہیں، کبھی جارحانہ رویے سے اور کبھی اپنی ذات میں سمٹ کر۔

 

                             بے روزگاری کی صورت میں جو فارغ وقت میسر آتا ہے، وہ بھی معاشی اور جذباتی دباؤ کی شکل میں بہت مہنگا پڑتا ہے۔ بے کاری اور بوریت سے فرار حاصل کرنے کے لیے بے روزگار لوگ شراب نوشی اور دوسری منشیات کی طرف جانے کا زیادہ رجحان رکھتے ہیں ۔

 

                    روزگار سے قطع نظر، اپنی ذہنی صحت  کی حفاظت بہرحال  ہمارا کام ہے۔ شاید نوکری سے محروم ہوجانے والے افراد کے لیے  جس حقیقت کا سب سے پہلے ادراک کرنا چاہیئے، وہ یہ ہے کہ کووڈ-19 کے نتیجے میں ملازمت کے چلے جانے میں ان کا کوئی قصور نہیں۔ اس حوالے سے کئی اقدامات کیے جاسکتے ہیں:

 

                     دن بھر کے معمولات کی تنظیم بہت ہی دانشمندانہ عمل ہے۔اپنے سونے جاگنے اور روزانہ ورزش  کا معمول طے کرنا، ہر روز کوئی نیا ہنر سیکھنے یا کسی نئے پروجیکٹ پر کام کرنا، اپنے جسم کو صحتمند غذا مہیا کرنا اور روزانہ کم ازکم آدھا گھنٹہ گھر سے باہر گزارنا۔۔۔ یہ سب اقدامات بے روزگاری کی تنہائی، بوریت اور ڈپریشن  کے تدارک میں بہت معاون   ہوسکتے ہیں۔

                                      خود کو کام کی تلاش کے خبط میں نہ ڈالیں۔ نوکری ختم ہوجانے کے بعدقدرتی طورپر لوگ  اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ   اور اپنی توانائی کی ایک ایک  لہر نئے روزگار کی جستجو میں صرف کرنا چاہتے ہیں۔مگر یہ غلط ہے۔ روزگار کی تلاش کے لیے دن کا ایک حصہ متعین کیجیے۔ اس میں نئی آسامیاں کھوجیے، اپنا کوائف نامہ بہتر کیجیے، درخواستیں مرتب کیجیے اور کام کے لیے معاون تعلقات اور پرانے دوست  ڈھونڈیے۔

                    اپنے اخراجات  کو ایک نظم میں لائیے۔بچت کی پالیسی آپ کے ذہن سے بے روزگاری کے تفکرات کو دور کرنے میں اب آپ کی مددگار ہوگی۔غیر ضروری خرچوں کو فوری طورپر ختم کردیں۔دراصل یہی وہ وقت ہے کہ آپ  خود کو ایک سادہ زندگی گزارنے  کا عادی بنائیں۔

 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محبت

  خوشی کا حصول کیسے؟   محبت برٹرینڈ رسل                     زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احسا...