Thursday, September 1, 2022

محبت

 

خوشی کا حصول کیسے؟

 

محبت

برٹرینڈ رسل

                    زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احساس ہے کہ کوئی اسے چاہنے والا نہیں۔ اس کے برعکس چاہے جانے کے احساس سے زندگی کے لطف میں جتنا اضافہ ہوتا ہے ، اتنا  کسی اور چیز سے نہیں ہوتا۔ ایک انسان میں محبت کیلئے احساسِ محرومی  کے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ خود کو ایسا خوفناک خیال کرتا ہو جس سے کوئی محبت نہیں کر سکتا۔ ہو سکتا ہے کہ بچپن سے ہی اس نے خود کو ناکافی محبت کا عادی بنا لیا ہو، جب اس کے حصے کا پیار دوسرے بچوں کو مل جاتا تھا۔ یا پھر واقعی وہ ایک ایسا انسان ہے جس سے کوئی پیارنہیں کرتا۔ تاہم اس آخری صورت کا سبب غالباً احساسِ کمتری ہے جو زندگی کی ابتدا ہی میں پیش آنے والی کسی بدقسمتی سے پید اہوتا ہے۔ محبت سے محرومی کے احساس میں مبتلا انسان ردعمل کے طور پر مختلف رویے اختیا رکر سکتا ہے۔ وہ غیر معمولی رحمدلی یا سخاوت کے ذریعے محبت حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، اگرچہ اس طرح اس کی خواہش پوری ہونے کا امکان کم ہے، کیونکہ لوگ باآسانی اس فیاضی کا اصل سبب بھانپ لیتے ہیں۔ انسانی فطرت کچھ ایسی ہے کہ لوگ اسی انسان سے محبت کرتے ہیں جو اس کی طلب ظاہر نہیں کرتا۔ اس لیے جو شخص سخاوت اور خیرخواہی کے ذریعے محبت حاصل کرنے کی سعی کرتا ہے، وہ لوگوں کی احسان فراموشی سے پریشان ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھ نہیں پاتا کہ محبت جسے وہ خریدنا چاہتا ہے، ان مادی فوائد سے کہیں زیادہ اعلیٰ ہے جنھیں وہ اس کی قیمت کے طور پر ادا کرنا چاہ  رہا ہے۔

                          ایک دوسرا انسان جو سمجھتا ہے کہ اسے محبت نہیں مل رہی، دنیا سے اس کا انتقام لینے پر اتر سکتا ہے، چاہے اس کیلئے وہ جنگیں یا انقلابات برپا کرے یا قلم کے ذریعے زہر اگلنا شروع کردے۔ یہ محرومی کے جواب میں ایک دلیرانہ رویہ ہے جس کیلئے باقی ساری دنیا کے مقابل آ جانے کی قوت درکار ہوتی ہے۔ بہت کم لوگ اس بلندی کو پہنچتے ہیں۔ زیادہ تر افراد محبت نہ ملنے پر ایسے کرب میں مبتلا ہو جاتے ہیں جسے کبھی کبھی حسد اور بدخواہی سے کچھ تسکین مل جاتی ہے۔ لازمی طور پر ایسے انسان خودبین بن جاتے ہیں اور محبت سے محرومی ان کے اندر عدم تحفظ کا ایسا احساس پیدا کر دیتی ہے جس سےفرار حاصل کرنے کیلئے وہ خود کو بعض علتوں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ جامد اور ایک جیسے شب و روز گزارنے والے افراد بالعموم باہر کی دنیا سے خوف زدہ ہوتے ہیں۔

                                            عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا افراد کے مقابلے میں خود کو باسہارا سمجھنے والے زندگی میں زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ تحفظ کا احساس انسان کو اکثر صورتوں میں ان خطرات سے بچا نکالتا ہے جن میں دوسرے مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ بلندی پر واقع کسی تنگ پل پر سے گزر رہے ہوں، تو خوفزدہ ہونے کی صورت میں آپ کے گر جانے کا امکان نسبتاً زیادہ ہوگا، یہی معاملہ عملی زندگی میں بھی پیش آتا ہے۔ بےخوف انسان بھی زندگی میں پرخطر حالات سے دوچار ہوتا ہے، تاہم وہ اکثر باحفاظت نکل آتا ہے، جبکہ پہلے سے سہما ہوا انسان ایسے حالات میں نشانہ بن سکتا ہے۔ اس سود مند خوداعتمادی کی بہت سی صورتیں ہوتی ہیں۔ بعض کوہ پیمائی میں پراعتماد ہوتے ہیں، دوسرے سمندری مہمات میں اور بعض فضائی مشقوں میں۔ تاہم عملی زندگی میں پایا جانے والا اعتماد ملنے والی اس محبت اور اپنائیت سے حاصل ہوتا ہے جس کی انسانی نفسیات کو ضرورت ہوتی ہے اور یہ محبت زندگی کے لطف کا ایک بہت بڑا منبع ہے۔

                       یہ انسان کو ملنے والی محبت ہی جو تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہے۔ تاہم یہ اثر محض محبت کا نہیں، بلکہ اس کے ساتھ شامل تحسین کا بھی ہوتا ہے۔ وہ افراد جو زندگی میں عوامی ستائش حاصل کرتے ہیں، جیسے اداکار، مقرر، سیاست دان، وہ داد و تحسین کے بہت محتاج بن جاتے ہیں۔ جب انھیں عوامی قبولیت ملتی ہے، تو انکی زندگی میں بہت  مزا ہوتا ہے اور جب نہیں ملتی تو وہ رنجیدہ ہو کر اپنی ذات میں سمٹ جاتے ہیں۔ ایک لاڈلا بچہ اپنے والدین کی شفقت کو فطرت کا قانون سمجھ کر قبول کرتاہے۔ وہ باہر کی دنیا میں دلچسپیاں اختیار کرتا ہے، مہم جوئی سے لطف اندوز ہوتا ہے، لیکن اس کے دل میں ہمیشہ یہ اطمینان موجود رہتا ہے کہ کسی خطرے کی صورت میں اسے والدین کے سایۂ شفقت میں پناہ مل جائےگی۔ جو بچہ کسی وجہ سے والدین کی شفقت سے محروم رہ جائے، امکانی طور پر ڈرپوک اور خانہ نشین ہو جاتا ہے۔ خوف اور خود ترسی کی وجہ سے وہ باہر کی دنیا سے زندہ دلی کے ساتھ معاملہ نہیں کر پاتا۔ ایسا بچہ حیرت انگیز طور پر بہت کم عمری میں ہی زندگی، موت اور انسانی تقدیر کے بارے میں خیال آرائیاں کرنا شروع کر دیتا ہے۔ خود بینی اور ذہنی افسردگی کا شکار ہو کر وہ بالآخر کسی قیاسی فلسفے میں پناہ تلاش کرتا ہے۔ دنیا میں اچھی اور بری دونوں چیزیں گڈمڈ انداز میں پائی جاتی ہیں اور اس انتشار میں کوئی حکیمانہ تنظیم ڈھونڈنے کی خواہش دراصل تہہ میں چھپے خوف کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایک سہما ہوا انسان اپنے ذہن کی چار دیواریوں کے اندر خود کو محفوظ خیال کرتا ہے۔ اگر وہ خود کو  قائل کر سکے کہ یہ دنیا  رہنے کیلئے بس ایک حد تک ہی معقول جگہ ہے تو وہ گلیوں بازاروں میں بھی ایسا ہی تحفظ محسوس کر سکتا ہے۔ ایسے انسان کو اگر زندگی میں محبت میسر آ جاتی تو حقیقی دنیا کا خوف اس کے اندر کم ہوتا اور اسے اپنے خیالوں میں کوئی مثالی دنیا نہ تراشنی پڑتی۔

                     تاہم محبت ہر حال میں انسان کے اندر یہ جرات اور زندہ دلی پیدا نہیں کرتی۔ کسی انسان کو دی جانے والی محبت محض دلاسے کے لیے نہیں، بلکہ حوصلہ بڑھانے کیلئے ہونی چاہیئے۔ اس کا مقصد فرد میں امتیازی صلاحیتیں بیدار کرنا ہونا چاہیئے۔ تھڑدل مائیں یا آیائیں جو ہر وقت بچوں کو خطرات سے ڈراتی رہتی ہیں، جن کیلئے ہر کتا کاٹنے والا اور ہر راہگیر بردہ فروش ہوتا ہے، بالآخر بچوں میں بھی اپنے جیسی بزدلی پیدا کر دیتی ہیں۔ ایسی پرورش پانے والے بچے سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ صرف اپنی ماؤں کی آغوش ہی میں محفوظ ہو سکتے ہیں۔ کمزور دل والی اور بچوں کو اپنی ذات تک محدود رکھنے کی خواہشمند ماؤں کیلئے بچوں میں یہ احساس پیدا ہو جانا پسندیدہ ہوتا ہے۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ بچوں میں باہر کی دنیا سے پنجہ آزمائی کرنے کی صلاحیت پروان چڑھنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ ان کی محتاجی پیدا ہو۔ ایسی محبت بچے کیلئے اس سے بھی زیادہ مضر ہوتی ہے کہ جب اسے  کوئی محبت سرے سے ملی ہی نہ ہو۔ شروع کے سالوں کی ذہنی عادتیں ساری زندگی برقرار رہتی ہیں۔ بہت سے افراد جب محبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو دراصل دنیا سے فرار کیلئے ایک جائے پناہ کی تلاش کرتے ہیں جہاں ان کی تحسین ہو سکے، جبکہ وہ حقیقتاً تعریف کے لائق نہیں ہوتے۔ بہت سے افراد کیلئے ان کا گھرحقیقت سے فرار کیلئے جائے پناہ ہوتا ہےاور وہ اپنی بیویوں سے بھی وہی طرزِ عمل چاہتے ہیں جو ماضی میں اپنی ناسمجھ ماؤں سے حاصل کرتے رہے تھے اور انھیں یہ دیکھ کر بڑا دھچکا لگتا ہے جب ان کی بیویاں ان کے ساتھ ایک بالغ انسان کے طور پر سلوک کرتی ہیں۔

                  ایک صحیح قسم کی محبت کی تعریف کرنا مشکل ہے، کیونکہ اس میں واضح طور پر کچھ نہ کچھ تحفظ اور تسلی کا عنصر موجود ہوگا۔ ہم اپنے پیاروں کے دُکھ درد سے لاتعلق نہیں رہ سکتے، تاہم میرے خیال میں اگرچہ مصیبت کے وقت عزیزوں کے ساتھ ہمدردی  کرنا  فطری عمل ہے، لیکن اپنے عزیزوں کے کسی مصیبت میں مبتلا ہو جانے کا پیشگی خدشہ پالے رکھنا کوئی مستحسن بات نہیں۔ دوسروں کیلئے فکرمندی، خود اپنے لیے فکر مندی سے کچھ زیادہ بہتر نہیں ہوتی۔ مزید برآں اکثر صورتوں میں یہ دوسروں کی شخصیت پر جذباتی قبضہ جمائے رکھنے کی خواہش کا نتیجہ ہوتی ہے۔ دوسروں میں تحفظ کا خوف پیدا کر کے امید کی جاتی ہے کہ وہ مکمل طور پر زیرِاثر آ جائیں گے۔ مرد جو عورتوں کو بزدل دیکھنا پسند کرتے ہیں، تو بلاشبہ اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ اس صورت میں وہ عورت کو تحفظ دے کر اس پر ملکیت کا حق جتاسکیں گے۔ ایک فرد میں اس کی ذات کے حوالے سے کتنا فکر و اندیشہ پیدا کرنا چاہیئے، اس کا انحصار فرد کے کردار پر ہے۔ ایک سخت جان اور خطر پسند انسان تو بےدھڑک  بڑے سے بڑے چیلنج  کوبھی برداشت کر لیتا ہے، تاہم ایک ڈرپوک انسان کو یہی باور کرایا جانا چاہیئے کہ اس کیلئے کسی بڑے خطرے یا نقصان  کا امکان نہیں۔

                           ابھی تک ہم نے محبت کے بارے میں تحفظ کے تعلق سے ہی بات کی ہے، تاہم بڑے افراد کی زندگی میں اس کا ایک بہت ہی اہم حیاتیاتی مقصد بھی ہے، یعنی ماں یا باپ بننا۔

                  زندگی میں کسی مرد یا عورت کا جنسی محبت نہ حاصل کر پانا بہت بڑی بدنصیبی کی بات ہوتی ہے، کیونکہ یہ اسے زندگی کی سب سے بڑی مسرت سے محروم رکھتی ہے۔ یقینی طور پر یہ محرومی جلد بدیر زندگی کے مزے کو خراب کر دیتی ہے اور انسان کو خودبین بنا دیتی ہے۔ اکثر بچپن میں پیش آنے ولای تلخیاں اور محرومیاں کردار میں ایسے نقائص پیدا ک دیتی ہیں جن کی وجہ سے بعد کی  زندگی میں محبت اور توجہ حاصل کرنے میں ناکامی ہوتی ہے۔ یہ بات عورتوں کی نسبت مردوں کیلئے زیادہ درست ثابت ہوتی ہے، کیونکہ عموماً عورتیں مردوں سے ان کے کردار کی وجہ سے محبت کرتی ہیں، جبکہ مرد عورتوں کو ان کی خوبصورتی کی وجہ سے چاہتے ہیں۔ اس انتخاب کے معاملے میں مرد خود کو عورتوں سے فروتر ثابت کرتے ہیں، کیونکہ کردار کو صورت پر فوقیت حاصل ہے۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اچھی صورت کے مقابلے میں اچھا کردار حاصل کرنا آسان ہے۔ مرد کردار بہتر بنانے کی تدبیروں کے بارے میں اتنا نہیں جانتے، جتنا کہ عورتیں خوبصورتی بڑھانے کی تدبیروں سے واقف ہوتی ہیں۔

                         اب تک ہم اس محبت کے بارے میں بات کرتے رہے ہیں جو ایک فرد حاصل کرتا ہے۔ اب میں اس محبت پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں جو ایک فرد کسی کو دیتا ہے۔ یہ بھی دو طرح کی ہوتی ہے، ایک جو غالباً زندگی کے مزے کا سب سے اہم اظہار ہے اور دوسری جو خوف کا اظہار ہوتی ہے۔ پہلی صورت پر میرے خیال میں پسندیدہ ہے، جبکہ دوسری محض تسلی کا درجہ رکھتی ہے۔ اگر آپ کسی خوشگوار دن کشتی پر کسی خوبصورت ساحل کی سیر کر رہے ہوں، تو آپ کو ساحل اچھا دکھائی دیتا ہے اور آپ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ یہ خوشی ایسی ہے جو مکمل طور پر باہر کی طرف دیکھنے سے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ کسی اندرونی ضرورت کے تحت۔ اس کے برعکس اگر آپ کی کشتی ڈوب جائے اور آپ تیر کر ساحل کی طرف آ رہے ہوں، تو اب آپ کو ساحل میں ایک اور طرح کی اچھائی دکھائی دے گی۔ یہ اب آپ کیلئے پناہ گاہ ہے جس کی خوبصورتی یا بدصورتی کوئی اہم نہیں۔ محبت کی اعلیٰ صورت وہ ہے جس کا مظاہرہ محفوظ کشتی والا انسان کرتا ہے۔ جبکہ اس سے کمتر صورت وہ ہے جس کا اظہار ڈوبنے والی کشتی کا سوار کرتا ہے۔ پہلی صورت تبھی ممکن ہوتی ہے جب انسان محفوظ ہو، اس کے برعکس دوسری صورت عدم تحفظ کے احساس سے پیدا ہوتی ہے۔ عدم تحفظ سے جنم لینے والی چاہت زیادہ ذاتی اور خود غرضانہ ہوتی ہے، کیونکہ اس میں محبوب کے شخصی اوصاف کی بجائے اس کے سہارے اور خدمات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ تاہم میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ اس طرح کی محبت زندگی میں کوئی جائز مقام نہیں رکھتی۔ درحقیقت ہر محبت میں یہ دونوں صورتیں کسی نہ کسی حد تک موجود ہوتی ہیں۔ محبت بہرحال انسان کے عدم تحفظ کے احساس کو کم کرتی ہے اور اسے باہر کی دنیا میں مثبت دلچسپی لینے کی ترغیب دیتی ہے۔ تاہم جس محبت کی بنیاد خوف پر ہو، وہ زیادہ پسندیدہ نہیں، کیونکہ خوف ایک برائی ہے اور اس لیے بھی کہ ایسی محبت میں ذاتی اغراض کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔ اچھی قسم کی محبت میں انسان کسی نئی مسرت کی جستجو کرتا ہے، جبکہ دوسری قسم میں اپنے کسی پرانے غم سے پیچھا چھڑانا چاہتا ہے۔

                       محبت کی اعلیٰ صورت فریقین کیلئے حیات آفرین ہوتی ہے۔ ہر فریق اس سے مسرت حاصل کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں زندگی کو دلچسپ اور کیف آور پانے لگتا ہے۔ تاہم محبت کی ایک صورت اوربھی ہے جس میں ایک فریق دوسرے کی توانائی اور رعنائی نچوڑ کر اس سے محبت حاصل کرتا ہے، لیکن بدلے میں اسے کچھ نہیں دیتا۔ بعض قوی افراد ایسی خون آشام محبت کے ہی شائق ہوتے ہیں۔ وہ ایک کے بعد دوسرے شکار کے وجود سے زندگی کشید کر کے خود تو خوب پھلتے پھولتے ہیں، لیکن دوسرے فریق مُرجھاتے چلے جاتے ہیں۔ ایسے افراد دوسروں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں اور کبھی خود ان کی ذات میں دلچسپی نہیں لیتے۔ درحقیقت انھیں انسانوں میں نہیں بلکہ اپنے ذاتی مقاصد میں دلچسپی ہوتی ہے۔ ایسا رجحان ان کی شخصیت میں کسی کجی سے جنم لیتا ہے، تاہم اس کی تشخیص یا علاج کچھ آسان نہیں۔ یہ صاحبِ عزم اور عالی ہمت افراد کا عمومی خاصہ ہے اور اس کی جڑ انسانی مسرت کے یک رخے نقطۂ نظر میں ہوتی ہے۔ ایسی محبت جس میں فریقین کی کوئی مشترکہ دلچسپی تسکین پائے، حقیقی مسرت کا ایک بڑا اہم جزو ہے اور جو انسان اپنی انا کے خول میں ہی مقید رہے، وہ زندگی کی اس بڑی مسرت سے محروم رہتا ہے، خواہ وہ اپنے معاشی مستقبل کو کتنا ہی کامیاب کیوں نہ بنا لے۔ ایسی بلند فکری اور اولوالعزمی جس میں محبت کی لطافتوں کیلئے کوئی جگہ نہ چھوڑی گئی ہو، دراصل نسلِ انسانی کے خلاف پائی جانے والی کسی نفرت یا اشتعال کا نتیجہ ہوتی ہے جس کا سبب نوجوانی کے دور کی کوئی محرومی یا ناانصافی ہوتی ہے۔

               بہت زیادہ قوی انا دراصل ایک قید خانہ ہوتی ہے جس سے ایک فرد کو لازمی فرار پکڑنا چاہیئے، اگر اسے واقعی  زندگی کی مسرتوں سے لطف اندوز ہونا ہے۔ محض محبت وصول کر لینا کافی نہیں، محبت ملنے پر محبت دینی بھی چاہیئے۔ دوطرفہ محبت ہی وہ محبت ہے جو اپنے ثمرات پوری طرح ظاہر کرتی ہے۔ ایسی محبت کی راہ میں حائل نفسیاتی اور سماجی رکاوٹیں بہت بڑی برائیاں ہیں جنھوں نے ہمیشہ سے دنیا کو ابتلاؤں سے دوچار کیا ہے اور ابھی تک کر رہی ہیں۔

(مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل کی کتاب ”The Conquest of Happiness “سے ترجمہ)

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Tuesday, May 24, 2022

انٹرنیٹ سے پیسے کیسے کمائیں؟

 

طنز و مزاح

انٹرنیٹ سے پیسے کیسے کمائیں؟

                                              نوجوان دوستو! اگر آپ بیروزگاری کی وجہ سے پریشان ہیں، گھر میں سب نکھٹو کہہ کر بلاتے ہیں، گھر سے باہر کسی کوسلام کرتے ہیں تو وہ اپنا جواب mute  کرلیتا ہے، بچپن کی منگیتر کی شادی کسی اور دولتمند گھرانے میں ہوچکی ہے جہاں وہ دَھڑادَھڑ  بچوں کے ڈائپر بدل رہی ہے، یا شادی شدہ ہیں تو کم آمدنی کی وجہ چہرے پر ایک سدابہار شرمندگی کا ٹیگ لگا رہتا ہے،سب یار دوست کمائیاں کرکے گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں مگر آپ ابھی تک ’بے کار‘  ہیں ، ذہن میں خودکشی کے خیالات آتے ہیں مگر کریڈٹ کارڈ میں آن لائن زہر خریدنے کے پیسے بھی نہیں ، زندگی ایک بوجھ اور اپنا وجود ایک بُوری محسوس ہوتا ہے ۔۔۔۔ تو مایوس نہ ہوں۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ کس طرح آپ گھر بیٹھے انٹر نیٹ سے پیسے کما سکتے ہیں اور امیر بن کر معاشرے میں اپنا مقام بنا سکتے ہیں۔

                          تو دوستو! انٹرنیٹ سے کمائی کرنے کے کئی طریقے ہیں۔۔ جائز بھی اور ناجائز بھی۔۔ ناجائز طریقوں سے آپ بہت جلد ایک بزنس آئیکون بن سکتے ہیں مگر ہم آپ کو صرف جائز طریقے بتائیں گے جن سےآپ کے پاس  بس اتنی دولت آجائے کہ عوام کے سامنے سر اٹھاکر جی سکیں اور خواص کے پاس سے سرجھکا کر گزر سکیں۔ویسے بھی زیادہ دولت اچھی نہیں ہوتی، اس سے انکم ٹیکس والوں کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں اورقیامت کےدن آڈٹ بھی طویل ہوجاتا ہے۔

                                       انٹرنیٹ سے روزگار بنانے کےلیے پہلے توآپ کے پاس انٹر نیٹ کنکشن  کا ہونا ضروری ہے جو یقیناً آپ کے پاس موجود ہے کیونکہ آپ کی بیروزگاری کا ایک بڑا سبب فیس بک دوستیاں ہی تو ہیں۔ مگر اب آپ کو چیٹ رومز سے توبہ  کرنی ہوگی اور فیس بک کوunfriend  کرنا ہوگا۔ اگر آپ کا انٹرنیٹ سُست الوجود اور کاہل قسم کا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے کمپیوٹر پربھی  اپنے گناہوں کا بوجھ لاد رکھا ہے، لہٰذا اس کےلیے کمپنیوں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنی ہارڈ ڈسک سے تمام غیر شرعی مواد ڈیلیٹ کردیں۔ اس سے آپ کا کمپیوٹر ایسا پاک صاف ہوجائے گا جیسے کوئی حاجی صاحب واپس ائیرپورٹ پہنچنے پر ہوتے ہیں۔ جب کمپیوٹر ہلکاپھلکا ہوجائے گا تو نیٹ بھی گھوڑے کی طرح دوڑنے لگے گا۔

تو اب ہم آپ کو انٹرنیٹ سے پیسےکمانے کے مختلف ذرائع بتاتے ہیں:

1)  آئن لائن مزدوری : آپ نے صبح صبح چوک پر محنت کشوں کی ایک بھیڑ جمع دیکھی ہوگی جوبظاہر تو ایک دوسرے کے اسکینڈلز پر باتیں کررہے ہوتے ہیں مگردراصل چور آنکھوں سے ہر آنے جانے والے صاحب کو امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں کہ آج ان میں سے کس کی بیگم کے ہاتھ کاپکا ہوا کھاناملے گا۔ یہ آف لائن فری لانس مارکیٹ ہوتی ہے۔ ایسی ہی مارکیٹ آپ کو انٹرنیٹ پر بھی ملے گی، جہاں آپ اپنا اکاؤنٹ رجسٹر کراکے اپنی خدمات دوسروں کوپیش کرسکتے ہیں۔

یہاں انسانی ہنر کی باقاعدہ بولی لگتی ہے اور پھر کوئی کلائینٹ مزدوری طے کرکے آپ کو  hire کر لیتا ہے۔  مثال کے طور پراگر آپ کوزبان اچھی طرح آتی ہے تو آپ غیرملکیوں کو اپنی زبان سکھا سکتے ہیں اورہم وطنوں کو زبان درازی میں ماہر بنا سکتے ہیں۔اگر آپ ایک کامیاب ساس ہیں تو خواتین کو بہوؤں کودباکر رکھنے کا فن سکھاسکتی ہیں اور اگر ایک مظلوم بہو ہیں تو پھر مرثیہ نگاری میں اپنی خدمات پیش کرسکتی ہیں۔اگرآپ ایک ریٹائرڈ ٹیچر ہیں تو نئے ٹیچرز کو ٹیوشنز حاصل کرنے گُر بتا سکتے ہیں اور اگر وکیل ہیں تو دو پڑوسیوں کو آپس میں لڑوا کر دونوں کے آن لائن قانونی مشیر بن سکتے ہیں۔اسی طرح اگر آپ ڈیٹا انٹری کے ماہر ہیں تو لڑکے والوں کو مطلوبہ جہیز کی لِسٹ ایم ایس ورڈ میں بناکر دے سکتے ہیں اور اگر ریٹائرڈ پولیس آفیسر ہیں تو لڑکی والوں کو لڑکے کی سابقہ دوستیوں اور شادیوں کی انفارمیشن گوگل ڈرائیو سے بھیج سکتے ہیں۔

غرض اِن آن لائن مارکیٹوں پر آپ اپنے ہنر کو کئی طریقوں سے فروخت کرسکتے ہیں۔ یہ فری لانس مارکیٹیں مختلف ناموں سے کام کرتی ہیں، جن میں سے چند مشہور نام یہ ہیں:

1)     گُرو گھنٹال

2)            گَپ ورک

3)     فوارہ چوک ڈاٹ کام

2) بلاگنگ :  یہ بھی انٹر نیٹ سے پیسے کمانے کا ایک طریقہ ہے۔ مگر بلاگنگ   کےلیے بھی اتنی ہی ہمت درکار ہوتی ہے جتنی صبح سویرے اٹھ کر جاگنگ کرنے کے لیے۔یہ ایک طرح کی ڈائری ہوتی ہے جس میں آپ روزانہ کم از کم پانچ سو الفاظ پر مبنی دلچسپ اور معلوماتی تحریر لکھتے ہیں۔ یہ واقعی مشکل کام ہے، لیکن اگر آپ شادی شدہ ہیں تو پھر یہ کوئی مسئلہ نہیں۔جب آپ روزانہ اپنی شوہربیتی بلاگ پر اپلوڈ کریں گے تو یقین کریں کہ بہت سے ہمدرد اور غم شناس لوگ آپ کے بلاگ پر اُمڈ پڑیں گے اور آپ کے بلاگ پر اتنی ٹریفک آجائے گی کہ ٹریفک پولیس کو اضافی اہلکار تعینات کرنا پڑیں گے۔

                     شادی شدہ ہونے کی وجہ سے موضوعات کی آپ کے پاس کمی نہ ہوگی کیونکہ ان کی فراہمی تو بیگم کے ذمے ہوگی۔ مثال کے طورپر اگر گرمیوں میں آپ نے فریج سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکالی مگر پھر اسے دوبارہ بھر کر رکھنا بھول گئے ۔۔۔  تو بیگم کی بلاگ کے لیے فیڈبیک کچھ یوں ہوگی :

” حد ہوتی ہے لاپرواہی کی ۔ جو کروں بس میں کروں۔آپ نے تو مجال ہے جو کوئی کام کرنا ہو۔ فلاں کا شوہر گھر کے کاموں میں اس کا کتنا ہاتھ بٹاتا ہے۔ وہ کپڑے دھوپ میں ڈالتی ہے تو وہ امداد کے طور پر پہلے انھیں دھو دیتا ہے، اس نےکھانا ڈائننگ ٹیبل پر لگانا ہوتا ہے تو وہ  پہلے  کچن میں اسے پکادیتا ہے، وہ برتنوں کو شیلف میں سجانے لگتی  ہے تو وہ پہلے انھیں اچھی طرح مانجھ دیتا ہے ۔۔۔ مگر آپ تو گھر کے کام کرنا اپنی مردانگی کی توہین سمجھتے ہیں۔ میری تو قسمت پھوٹ گئی جو آپ سے شادی ہوئی۔حالانکہ میرے کتنے اچھے اچھے رشتے آئے تھے۔ ایک تو سی ایس پی افسر تھا، بنگلہ، گاڑی، نوکرچاکر، سب کچھ ہوتا۔۔۔ مگر نہ جانے اباجان کو آپ میں کیا نظرآیا جو مجھے اس جہنم میں جھونک دیا۔ سارا دن کولہو کے بیل، میرا مطلب ہے کہ گائے کی طرح کام میں جُتی رہتی ہوں اور صلہ کیا ملتا ہے؟ خاک بھی نہیں۔ مجال ہے جو تعریف کے دو بول کبھی زبان سے نکل جائیں۔ غیر عورتوں سےبات کرتے ہوئے تو زبان ایسی میٹھی ہوجاتی ہے جیسے باپ دادا مٹھائیوں کا ہی کاروبار کرتے تھے، مگر اپنی بیوی سے بات کرتے ہوئے زمانے بھر کی بیزاری  گلے میں اُتر آتی  ہے ۔۔۔۔“

یہ رُوداد جب آپ اپنے بلاگ میں لکھ دیں گے تو پڑھ کر کتنی ہی آنکھیں اشکبار ہوجائیں گی اور کتنے ہی ستم رسیدہ شوہر اسے جگ بیتی قرار دے کر آپ  کے بلاگ کو فالو کرنے لگیں گے۔ یوں جب آپ کے فالوورز کی تعداد زیادہ ہوجائے گی تواتنے ہی اشتہارات آپ کے بلاگ پر لگنا شروع ہوجائیں گے۔ یہ اشتہارات ان کمپنیوں کی طرف سے ہوں گے جو شوہروں کے لیے حفاظتی سامان مثلاً ہیلمٹ، گلووز، جیکٹس اور آہنی شوز وغیرہ ، تیا ر کرتی ہیں۔پھر جتنے ضرورت مند ان اشتہارات پرکلک کریں گے ، اتنے ہی پیسے آپ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوجایا کریں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ رقم بھی بالآخر نیل پالش، لپ اسٹک، زنانہ کپڑوں اور جوتوں پر ہی خرچ ہوگی !

3)  وڈیو چینل :  موروثی جینز کی مہربانی   سے اگر  شکل وصورت اور آواز اچھی ہے تو آپ اپنا وڈیو چینل بنا کر بھی دولت کماسکتے ہیں۔لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی  صورت اور آواز اچھی نہیں تودل چھوٹا نہ کریں۔ اگر خوبصورت ہونا ایسا ہی ضروری ہوتا تو بھلا پڑوسی ملک کا اداکار اجے دیوگن فلموں میں ہیرو آسکتا تھا؟۔۔۔ اوررہی  آواز۔۔۔ تو اس سلسلے میں ملک کےایک مشہور لوک گلوکار  کی زندگی آپ کے لیے بہترین مثال ہے۔ اس بندۂ خدا نے گانے کے لیے پہلے ریڈیو پاکستان پر آڈیشن دیا تو انھوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ بھائی جاؤ، تمھاری آواز نے تو ہماری مشینری کا ہی ستیاناس کردیا ہے۔ پھر وہ ٹیلی ویژن پر گیا تو وہاں بھی اس کی آواز نے ایسے پتھریلے راگ چھیڑے کہ ٹی وی کیمروں کے شیشے تڑاک تڑاک کرکے ٹوٹنے لگے، مگر پھر بھی اس نے ہمت نہ ہاری اور گاتا ہی رہا  ۔۔۔اور دن رات  اتنا گایا کہ بالآخر لوگ اسے سننا شروع ہوگئے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اصل چیز اچھی آواز نہیں بلکہ ضد ہے۔ آپ بھی بس ضد میں آجائیے کہ ہر صورت میں وڈیوز بنانی ہیں خواہ آپ کی آواز کوؤں جیسی ہی کیوں نہ ہو اور خواہ آپ کے چینل کے کمنٹ سیکشن میں اُلّو ہی کیوں نہ بولتے رہیں۔

                 اب آپ پوچھیں گے کہ وڈیو کس موضوع پر بنائیں اور اس کےلیے مواد کہاں سے لائیں؟ ۔۔۔  تو اچھی طرح ذہن نشین کرلیجیے کہ وڈیوز کے لیے اصل اہمیت thumbnail    کی ہوتی ہے۔ بس ایسا thumbnail لگائیے کہ لوگ ایک مرتبہ آپ کی وڈیو کو کلک کرنے پرمجبور ہوجائیں۔ مثال کے طور پریہ thumbnail  لگائیےکہ:

”عوام تیاری کرلیں۔ محکمۂ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں میں طوفانی برفباری کی پیش گوئی کردی!!“

پھر وڈیو کے اندر بتائیے کہ براعظم انٹارکٹیکا میں سارا سال برف پڑتی ہے اور ماہرین نے کہا ہے کہ کوئی وجہ نہیں کہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں بھی یہ سلسلہ جاری نہ رہے۔

اسی طر ح یہ thumbnail  لگائیے:

”استغفراللہ! قیامت کی نشانی!۔۔۔ شوہر نے بیوی سے ایسا مطالبہ کردیا کہ خدا کی پناہ!!“

 اس کے بعد وڈیو کے اندر بیان کریں کہ ہمارے پڑوس میں ایک بزرگ شوہر نے اپنی بیوی سے کہا کہ بیگم! اب میرے سارے دانت مصنوعی لگ چکے ہیں، اس لیے جب گوشت پکاؤ تو اسے اچھی طرح گَلا لیا کرو۔

یہthumbnail   بھی کارآمد ہوسکتا ہے:

”افسوسناک خبر! مشہور ایکٹریس نے خودکشی کرلی!!۔۔۔“

اور وڈیو میں اس ایکٹریس کے اس ٹویٹ کا حوالہ دیجیے جس میں اس نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اس کی خودکشی کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ ہاں ، البتہ اگر اس کی کوئی ایسی ویسی وڈیو لِیک ہوگئی تو وہ ضرور خودکشی کے بارے میں سوچے گی۔

                 جب اس طرح آپ لوگوں کو بیوقوف بناکر کافی سبسکرائبر اکٹھے کرلیں تو پھرجلدی سے اپنے چینل کو  منیٹائز کر لیجیے ۔ جب تک لوگوں کو آپ کے چینل کی اصل حقیقت معلوم ہوگی، اس وقت تک آپ اچھی خاصی رقم کما چکے ہوں گے۔

                               تو دوستو! آپ کواندازہ ہوگیا ہوگا کہ انٹرنیٹ سے پیسے کمانا کتنا آسان ہے۔ بس ہماری اتنی نصیحت ذہن میں رکھ لیجیے کہ جب آپ بہت امیر ہوجائیں تو اپنے ان بھائیوں کی مدد کرنا نہ بھولیں جو بے چارے بڑی محنت سے نیٹ پر معلوماتی وڈیوز  لگاتے اور تعمیرِ اخلاق پر مبنی بلاگز چلاتے رہتے ہیں۔

(کتاب "مزید احمق پارے" کا ایک مضمون)
منگوانےکا پتا:

https://www.meraqissa.com/book/1777 

**********************

 

 

 

محبت

  خوشی کا حصول کیسے؟   محبت برٹرینڈ رسل                     زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احسا...