Saturday, June 15, 2019

ذاتی آئین


ذاتی آئین

                                                                                          انسان کے سوا باقی ساری کائنات محکم اورمنظم قوانین کے تحت چل رہی ہے۔سیارے اپنے متعین مداروں میں گردش کرتے ہیں، نباتات لگے بندھے ضابطوں کے تحت نشوونما پاتے ہیں حیوانات مخصوص جبلتوں کے پابند ہیں، لہٰذا کائنات میں ہمیں کہیں انتشار اوربدنظمی کاشائبہ تک نہیں ملتا، لیکن اسی کائنات کے اندر رہنے والا انسان بدامنی اورذہنی پراگندگی کاشکارہے۔اگرانسان بھی اپنی زندگی طے شدہ اصولوں کے مطابق گزارے تو اس کامعاملہ بھی باقی کائنات جیسا ہوجائے۔
                                                                                                                             ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی ریاست یاادارہ آئین و قانون کے بغیر ایک دن بھی نہیں چل سکتا۔جس ریاست میں آئین کی گرفت جس قدر ڈھیلی ہوگی، اسی قدروہ بدامنی اورانارکی نشانہ بنے گی۔یہی معاملہ فرد کی زندگی کابھی ہے جو اپنے اندر ایک چھوٹی سی ریاست لیے ہوتاہے۔فرد کی سطح پر جوانتشار اورذہنی تناؤ دیکھنے میں آتاہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ فرد کی ذات کسی اصول و ضابطے کی پابند نہیں اوراس کی باگ دوڑ ناآسودہ خواہشات، حیوانی جذبات اوروقتی پریشانیوں کے ہاتھ میں ہے۔ موجودہ دور میں شخصی آزادی کوصور اتنی زورسے پھونکاگیا ہے کہ اب انسان خودکواپنے فائدے کیلئے بھی کسی قانون یا ضابطے کی پیروی کو اپنے حقوق کے منافی سمجھتاہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کے زمانے کی پہچان اگرانفرادی حقوق کے حوالے سے نمایاں ہے تواس کے ساتھ ہی آج کادور ذہنی تناؤ(ڈپریشن) کادوربھی کہلاتاہے۔
                                                                                                                              ضروری ہے کہ جس طرح ریاستیں ایک طے شدہ آئین کے مطابق کام کرتی ہیں ،اسی طرح انسان کابھی بحثیت فرد ایک آئین ہو اورانسان کے تمام ذاتی اورمعاشرتی امور اسی آئین کے تحت انجام پائیں۔اس ذاتی آئین کوفرد کی زندگی میں وہی تقدس اورمرتبہ حاصل ہو جوریاستی قوانین کوحاصل ہواکرتاہے۔یہ ذاتی آئین انسان کی زندگی کے ہر چھوٹے بڑے پہلو کااحاطہ کرے خواہ وہ پہلو جذباتی ہو یا عقلی، مادی ہو یا روحانی ۔اس آئین سے روگردانی کرنے پر انسان اپنے ضمیر کی عدالت میں اسی طرح مجرم ٹھیرایاجائے  جیسے ریاستی آئین کی خلاف ورزی کرنے والے لوگ عدالت کے کٹہرے میں لاکھڑے  کیے جاتے ہیں۔انسان کاذاتی آئین بھی اسی طرح طویل غوروفکر اور مشاورت کے بعد مرتب کیا جائے جس طرح ریاستی سطح پر آئین سازی کاعمل ہواکرتاہے۔
                                                                                                             ذاتی آئین کی ضرورت واہمیت کوسمجھ لینے کے بعد سوال یہ ہے کہ اگر آپ اپنی ذات کیلئے ایک آئین مرتب کرناچاہیں تو اس کاطریقہ کیاہوگا اوراس آئین کے خدوخال کیا ہوں گے۔ اس سلسلے میں پہلی چیز آپ کے ذاتی آئین کے ماخذ ہیں یعنی آپ  کن چیزوں کی روشنی میں  اپنی زندگی کے اصول وضوابط مرتب  کریں گے۔ اس ضمن میں ہم یہاں چند اہم ماخذوں کی نشاندہی کریں گے۔

ذاتی آئین کے ماخذ

1)مذہب: ذاتی آئین کاپہلااوربنیادی ماخذ مذہب ہونا چاہیئے۔آپ اپنی دنیاوی زندگی  کاآئین اسی وقت ترتیب دے سکے گے جب آپ بحثیت انسان اپنے خالق کی ہستی ،اس دنیا میں حثیت اوراپنے آغازوانجام سے آگاہ ہوں گے۔مذہب آپ کو یہی آگاہی دیتاہے۔اس کے علاوہ مذہب آپ کو زندگی گزارنے  کے وہ عملی اصول دیتاہے جن کاآپ کی زندگی کے ساتھ وہی تعلق ہے جوکسی مشین اوراس پر درج ہدایات کاآپس میں ہوتاہے۔لہٰذا آپ کی زندگی کے اصول وضوابط مذہبی تعلیمات کی روشنی میں طے پانے چاہیئں۔آپ اپنی زندگی کے بارے میں جو بھی عزائم رکھتے ہوں،انھیں مذہب کی طرف سے توثیق حاصل ہونی چاہیئے۔
2) ماضی کاتجربہ: ذاتی آئین کادوسراماخذ آپ کااپناذاتی تجربہ ہے۔آپ اس دنیا میں وقت کاایک قابلِ لحاظ حصہ گزارچکے ہیں ۔آپ ساقئ حیات کے ہاتھوں تلخ وشیریں دونوں طرح کے جام پی چکے ہیں۔آپ کو نفع ونقصان کاکسی قدر ادراک ہوچکاہے۔اتناعرصہ انسانوں کے ساتھ معاملہ کرتے کرتے آپ کچھ نہ کچھ ان کی فطرت سے آشنا ہوچکے ہیں۔لہٰذا آپ کے یہ تجربات ذاتی آئین کی تیاری میں بہت معاون ثابت ہوں گے۔جن باتوں سے آپ ماضی میں نقصان اٹھاچکے ہیں،اب آپ کی زندگی ان کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیئے۔جن سابقہ غلطیوں نے آپ کی زندگی کوشدید بحرانوں سے دوچار کیا،وہ غلطیاں اب آپ کوخواب میں بھی نہیں دوہرانی چاہیئں۔
3) عظیم لوگوں کی سوانح : انسان اپنے ذاتی تجربات سے بہت کچھ سیکھتاہے، لیکن یہ سیکھنا ہمیشہ نقصان کی قیمت پر ہوتاہے یعنی عملاً نقصان اٹھانے کے بعد ہمیں معاملے کی حقیقت سمجھ میں آتی ہے۔بہتر بات یہ ہے کہ انسان دوسروں کے تجربات سے سیکھے۔یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ بحثیت فرد ہماراتجربہ  محدود ہوتاہے جس کی وجہ سے زندگی کے بہت سے پہلوؤں کوہمارا ذہن گرفت میں لینے سے قاصر رہتاہے۔اس ضمن میں عظیم لوگوں کی سوانح عمریاں بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے  اس دنیا میں وہ سب کچھ حاصل کیا جس طرح ہر انسان خواہش کیا کرتاہے یعنی دولت ،عزت ،شہرت وغیرہ اوراس کیلئے انھوں نے وہ سب کچھ کیا جس کاکرنا اس دنیا ناگزیر ہے یعنی محنت، منصوبہ بندی،پختہ عزم،صبر واستقلال وغیرہ۔لہٰذا ان لوگوں کی زندگیوں سے آپ اپنے ذاتی آئین کیلئے بہت مفید اصول اخذ کرسکتے ہیں۔
4) عقل وفہم: انسانی ذہن اللہ کاانسان کیلئے ایک بے نظیر تحفہ ہے۔کم ازکم موجودہ دور میں اس بات کوثابت کرنے کی کوئی  حاجت نہیں کیونکہ سائنسی ایجادات اورترقیاں اس پر دلیل ہیں۔آپ اپنی زندگی کے بہت سے معاملات اورمسائل ایسے ہوں گے  جنھیں آپ اپنی عقل وخرد سے ماوراء اورلاینحل خیال کرتے ہوں گے ، مگر ایسا اس وقت تک  ہے کہ جب تک آپ ان مسائل پر اپنی پوری توجہ مرکوز کرکے ان کاتجزیہ نہیں کریں گے۔آپ کے ذہن نے شعوری یالاشعوری سطح پر ان مسائل کاحل  آپ کودے دیا ہوتا اگر آپ نے تھوڑی دماغ سوزی کی زحمت کی ہوتی۔سوچ بچار بلاشبہ ایک مشکل کام ہے ، مگر جب  آپ نے ایک دفعہ اس مشقت سے گزرکراپنی ذہنی کاوش کے نتائج کوعملی اصولوں کی شکل میں اپنے ذاتی آئین میں لکھ دیں گے توپھر آپ زندگی بھر ان سے رہنمائی ملتی رہے گی۔
5) مشاورت:اپنی حد تک غوروفکر کے باوجود آپ کے کچھ ایسے مسائل ہوں گے جنھیں تن تنہا حل کرنا آپ کیلئے ممکن نہ ہوگا ۔ اس سلسلے میں دوسروں کے علم اورصلاحیتوں سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے طبعاً ایک انسان کودوسرے انسان کامحتاج بنایا ہے ۔اس دنیا میں ہمارے بیشتر مسائل کاسبب دوسرے انسان ہواکرتے ہیں اوران کاحل بھی کچھ دوسرے انسانوں کے پاس ہوتاہے۔مشاورت کے سلسلے میں چند باتیں یاد رکھنے کی یہ ہیں کہ مشورہ ہمیشہ مستند اورمتعلقہ لوگوں سے ہی حاصل کیاجائے یعنی اگر آپ کامسئلہ نفسیاتی نوعیت کاہے توکسی ماہرنفسیات سے رہنمائی لیں، مسئلہ معاشی ہے تو کسی ماہر معاشیات سے رجوع کریں اوراگر گھریلو یاسماجی نوعیت کاہے  توان لوگوں سے رابطہ کریں جنھیں ایسے معاملات کاکچھ تجربہ ہو۔نااہل اور غیرمتعلقہ انسان  کوکبھی بھی اپنے مسئلے سے آگاہ نہ کیجئے۔نااہل انسان سے مشورہ کرنے سے بہتر ہے کہ انسان اپنی مصیبت تنہا بھگت لے۔دوسرے لوگوں  سے ملنے والے مشوروں کوآپ اپنے ذاتی حالات کے مطابق قابل عمل صورت میں ڈھال کر اپنے آئین میں تحریر کرسکتے ہیں۔

ذاتی آئین کاخاکہ

                                                                                                             اس کے بعد اگلا مرحلہ یہ ہے کہ آپ کے  ذاتی آئین کے  خدوخال کیسے ہوں اور یہ کن ابواب اوردفعات پر مشتمل ہو۔ذیل میں ہم چند بنیادی ابواب تجویز کررہے ہیں۔آپ اپنی ضرورت کے مطابق ان میں اضافہ کرسکتے ہیں:
٭ذاتی زندگی اورشخصیت
                                                                                                              آپ کی ذات اور شخصیت کودیگر تمام معاملات پر فوقیت حاصل ہے۔اس باب میں آپ کو اپنی ذات کے بارے میں اپنے خیالات وعزائم کوشق وار دفعات کی صورت میں مرتب کرنا ہے مثلاًیہ باب ان امور پر محیط ہونا چاہیے کہ آپ کی شخصیت کیا ہے اورکیا نہیں ہے۔آپ کواپنی خامیوں اورکمزوریوں کی طرف کیسا رویہ اختیار کرناہے۔آپ کو اپنی شخصی تعمیر وترقی کیلئے کس قسم کالائحہ عمل تیارکرنا ہے۔آپ کو اپنی ذات کے اندر کس قسم کے اوصاف پیداکرنے کی ضرورت ہے۔آپ کی شخصیت کن ذہنی ،نفسیاتی اورسماجی رکاوٹوں کاشکار ہے۔آپ کی جسمانی صحت کے کیا مسائل ہیں اوران کے تدارک کی کیا صورت ہے وغیرہ۔

٭گھریلو زندگی
                                                                                   اس باب میں آپ اپنی ان پالیسیوں کو وضع کریں گے جوآپ کواپنے والدین،بہن بھائیوں،بیوی بچوں اوردیگر اہل خانہ کے حوالے سے اختیار کرنی ہیں مثلاً ان خونی رشتوں کے ساتھ آپ کے تعلقات کی اب تک کیا نوعیت رہی ہے، ان تعلقات میں کس قسم کی اصلاح کی ضرورت ہے، آئندہ ان تعلقات کی کیاصورت ہونی چاہیئے وغیرہ۔ان تمام باتوں کوشق وار مرتب کرلیجیے۔
٭خاندانی زندگی
                                                                                            خاندانی معاشرت مشرقی تہذیب کاگلِ سرسبد ہے ۔اسی چیز سے محرومی  نے مغربی انسان کوذہنی عذابوں میں مبتلاکررکھاہے۔ذاتی آئین کے اس باب میں آپ نے اپنے عزیز واقارب اور خاندان و برادری سے متعلقہ امور کاجائزہ لیں مثلاً خاندان میں آپ کی حثیت کیا ہے، رشتے داروں کے ساتھ آپ کے روابط مذہبی اورسماجی اعتبارسے معیاری ہیں یانہیں،خاندانی تنازعات اورناچاقیوں میں اب تک آپ کاکیا کردار رہاہے اور آئندہ کیا ہوناچاہیئے،آپ اپنے مستحق عزیز واقارب کی فلاح وبہبود کیلئے کیا کچھ کرسکتے ہیں، وغیرہ۔
٭معاشی زندگی
                                                                             اس باب میں آپ کواپنی معاشی اورکاروباری زندگی کے اصول طے کرنے ہیں مثلاً آپ کس قسم کی معاشی اورکاروباری مشکلات کاشکار ہیں،ان کے اسباب اورممکنہ حل کیا ہوسکتے ہیں، اگرآپ ملازم ہیں تو کیا آپ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی سے مطمئن ہیں، آپ کے اپنے باس یا شراکت داروں سے کیسے تعلقات ہیں اور کیسے ہونے چاہیئں، اگر آپ تنگدستی کاشکار ہیں تو اپنی ماہانہ آمدن میں اضافے کیلئے کس قسم کے اقدامات کرسکتے ہیں ، اگر آپ بیروزگار ہیں تواب تک نوکری کے حصول کیلئے کیا کچھ کرتے رہے ہیں اور حصولِ روزگار کی ان کوششوں کو کس طرح مزید بہتر بنایا جاسکتاہے، وغیرہ۔
٭معاشرتی زندگی
                                                                                           اس میں آپ کو اپنے دوست احباب ، ہم جماعت اور دفتری رفقا کے بارے میں اپنی طرز عمل متعین کرنا ہے کہ آپ کاحلقہ احباب کس قسم کے لوگوں پر مشتمل ہے ، کیا آپ کو اپنے کسی دوست سے شکایات ہیں اور ان کے ازالےاوربہتر تعلقات استوار کرنے کیلئے کس طرح کی اصلاح مناسب رہے گی،کیا آپ خود ایک اچھے اورمخلص دوست ہیں، کیا آپ کو نئے دوست بنانے کی ضرورت ہے، آپ اپنے مخالفوں کی تعداد میں کمی لانے کیلئے کیا اقدامات کرسکتے ہیں، دوستی اوردشمنی کیلئے آپ کے پاس کیا معیار ہے، وغیرہ۔
٭قومی زندگی
                                                                                                  اس باب میں آپ ملک وقوم کے حوالےسے اپنے جذبات اور کردار کاتجزیہ کریں گے کہ آپ اپنے وطن کیلئے کس حدتک مخلص ہیں ،ایک ذمے دار شہری کی حثیت سے  آپ کا کردار کیسا ہے  اور کیسا ہونا چاہیے ، ملک دشمن عناصر کے خلاف آپ کیاکرسکتے ہیں ، قومی تعمیرو ترقی کے عمل میں آپ کی  شرکت کی کون سی صورت موثر ہوسکتی ہے ،وغیرہ۔
٭مسائلِ حیات اورحادثات
                                                                                                                                آپ کی زندگی کے کچھ مستقل نوعیت کے مسائل ہوسکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ناگہانی حوادث اور نقصانات کسی بھی لمحے آپ کیلئے سنگین مسائل پیداکرسکتے ہیں۔اس باب میں آپ کو نہ صرف زندگی کے مستقل اور دائمی مسائل کاحل تلاش کرنا ہے  بلکہ ان مسائل کے بارے میں اپنا ردعمل بھی طے کرنا ہے ۔ یہ مسائل کسی بھی وقت آپ کے اعصاب کو آزما سکتے ہیں مثلاً آپ مشکلات کے لمحات میں خود کو کس طرح پرسکون رکھیں گے ،ان کا کس انداز میں سامنا کریں گے ، خود  کو فوری تقویت بہم پہچانے کیلئے آپ کے پاس کون سے ذرائع موجود ہیں ، مسائل کے حل کیلئے آپ اپنی عقل پر انحصار کریں گے یا دل کی پیروی کریں گے،وغیرہ۔

ذاتی آئین کی تدوین اور نفاذ کی طریقہ

1) تمام ابواب پر الگ الگ غوروفکر کرکے انھیں کسی ڈائری یا نوٹ بک میں لکھ لیجیے۔
2) اپنی پالیسیوں اور مجوزہ رویوں کو تحریر کرتے  وقت صیغہ متکلم استعما ل نہ کیجیے یعنی یوں نہ لکھیں کہ ”میں آئندہ لڑائی جھگڑوں سے اجتناب کروں گا“ ، بلکہ یوں تحریر کریں کہ ”آئندہ لڑائی جھگڑوں سے اجتناب کیا جائے گا“۔
3) اس کے بعد پورےصدق دل اورمصمم ارادےاپنے مرتب کردہ آئین پر عمل شروع کردیجیے۔ آپ کی تمام گفتگو، عملی کردار ،تعلقات اورمشاغل اپنے ذاتی آئین کے مطابق ہونے چاہیئں۔
4) ہر ہفتے اس بات کا جائزہ لیجیے کہ آپ کی زندگی اپنے آئین کے مطابق گزر رہی ہے یا نہیں ۔اگر آپ کسی معاملے میں اپنی آئینی پالیسی سے انحراف کررہے ہوں تو سختی سے اپنی سرزنش کریں اور اپنے رویے کودرست کرنے کااہتمام کریں۔آپ کو آئین پر عمل درآمد کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کااحساس ہونا چاہیئے کہ احتساب وتوازن(چیک اینڈ بیلنس) کاکام آپ ہی کو انجام دینا ہے اور اپنے آئین کاتقدس آپ ہی کو قائم رکھنا ہے۔
5)  یہ بالکل ممکن ہے کہ کچھ عرصے بعد آپ کو اپنے آئین میں جزوی ترمیم اوراصلاحات کی ضرورت محسوس ہو، مگر یہ کام حقیقی ضرورت اورمعقول وجوہات کی بنا پر ہوناچاہیئے۔ایسا نہ ہو کہ آپ  سہل پسندی اوروقتی خواہشات سے مغلوب ہوکر آئین کوبدل ڈالیں۔آئین ترمیم واصلاح کاکام ہمیشہ خوب غوروفکر کے ساتھ پر سکون ماحول میں ہونا چاہیئے۔یہ کام اس وقت نہ کریں جب آپ پر مایوسی ،دباؤ یا جھنجھلاہٹ کاغلبہ ہو۔

ذاتی آئین کے فوائد

1) ذاتی آئین مرتب کرنے سے آپ کواپنی ذات کے اندر ایک نظم (ڈسپلن) کا احساس ہوگا کہ آپ کی زندگی کے معاملات خارجی حالات اوراتفاقی اسباب کے تحت نہیں بلکہ آپ کی اپنی ذاتی سوچ اورارادے کے تحت ہیں۔آپ خود کوایک نیا اورخودمختار انسان محسوس کریں گے۔
2) ذاتی آئین مرتب کرنے کے بعد آپ خود کوذہنی طورپر ہلکا پھلکا محسوس کریں گے، کیونکہ آپ اپنی زندگی کے ہرپہلو کاالگ الگ جائزہ لے کر ایک رائے قائم کرچکے ہیں، اس لیے اب آپ ہر قسم کے ذہنی دباؤ اورتفکرات سے آزاد ہوں گے ۔
3) آپ اپنی زندگی کے واقعات وتغیرات کے عین دھارے میں بہتے ہوئے ایک منظم اورمربوط کردار کامظاہرہ کرسکیں گے ۔آپ کے قول و فعل میں تضاد نہ ہوگا۔دوسروں کیلئے آپ ایک ٹھوس اورقابل اعتماد انسان کے روپ میں سامنے آئیں گے۔
4) آپ کومختلف معاملات میں فیصلہ کرنے میں ہمیشہ آسانی ہوگی ۔چونکہ ہر معاملے میں آپ کی رائے پہلے سے طے شدہ ہوگی ، اس لیے کسی بھی وقت آپ ذہنی الجھن اورتذبذب کاشکار نہیں ہوں گے۔
5) ذاتی آئین پر کچھ عرصے پابندی سے عمل کرنے سے آپ کے اندر صبر وثبات اورمستقل مزاجی جیسی صفات نمایاں ہونا شروع ہوجائیں گی۔آپ کے "آج" اور "کل " میں طرزعمل کے اعتبار سے کوئی فرق نہ ہوگا ، نہ آپ کبھی متلون مزاجی میں مبتلا ہوں گے۔
6) ذاتی آئین مرتب کرنے کاکام آپ کوذاتی تجزیے (Self-analysis) کاموقع فراہم کرے گا۔اپنی شخصیت کامختلف زاویوں سے جائزہ لینے سے آپ  پراپنی ذات کے کچھ ایسے مخفی گوشے منکشف ہوں گے جن سے آپ اب تک بے خبر تھے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


         
                      


No comments:

Post a Comment

محبت

  خوشی کا حصول کیسے؟   محبت برٹرینڈ رسل                     زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احسا...