نفسیاتی چٹکلے
آج کے دور میں ذہنی اور نفسیاتی امراض
میں جس قدر ہوشربا اضافہ ہورہاہے ، اس سے ہر فرد آگاہ ہے۔مغرب میں بھی جہاں نفسیاتی
تحقیق اورعلاج کاکام بڑے پیمانے پرہورہا ہے
،نفسیاتی پیچیدگیاں قابو سے باہر ہورہی ہیں۔ہمارے ہاں تو صورتِ حال اوربھی
زیادہ تشویش ناک ہے۔پاکستان میں مستند ماہرین نفسیات کی تعداد انگلیوں پرگنی جاسکتی
ہے اورنفسیاتی کلینک بھی صرف چند ایک بڑے شہروں میں قائم ہیں ۔باقی آبادی میں نہ
تو نفسیاتی علاج کی سہولت دستیاب ہے اورنہ یہ خود لوگوں میں نفسیاتی علاج کاشعور
موجود ہے۔
اس صورت حال کاکسی قدر ازالہ یوں
ہوسکتاہےکہ ہر فرد نفسیاتی مسائل اوران کے حل کے بارے میں کچھ نہ کچھ معلومات حاصل
کرے اور بوقتِ ضرورت نہ صرف خود ان سے فائدہ اٹھا سکے بلکہ دوسروں کی بھی رہنمائی
کرسکے ۔ذیل میں چند عام نفسیاتی امراض اورمسائل کے آسان اور آزمودہ علاج بتائے
جارہے ہیں۔مگر یہ بات واضح رہنی چاہیئے کہ شدید اورپیچیدہ صورتوں میں مستند نفسیاتی
علاج کے بغیر چارہ نہیں اوراس میں تاخیر
نہیں کرنی چاہیئے۔
خوف(فوبیا)
کسی بھی قسم کے خوف کاآخری علاج اس کا
سامنا کرنا ہے ۔ اس کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ کاغذ قلم لے کر بیٹھ جائیں اور جس
چیز سے بھی آپ خوفزدہ ہیں، اس کی تصویر بناناشروع کردیں خواہ کیسی بھی بنے
اور مسلسل بناتے جائیں۔روزانہ پندرہ بیس منٹ یہ مشق کریں۔ چند ہی دنوں میں آپ کاخوف
تحلیل ہوجائے گا۔
وہم اوروسوسے
وہم اوروسوسوں کی بیماری بہت اذیت ناک
ہواکرتی ہے۔مثلاً انسان کے ذہن میں یہ بات چپک جاتی ہے کہ اس کے ہاتھ پاک صاف نہیں ہیں لہٰذا وہ مسلسل اپنے
ہاتھوں کوپانی سے دھوتارہتاہےمگر ناپاکی کااحساس ختم نہیں ہوتا۔اس کاعلاج عملی نوعیت
کاہے ۔وہ یہ کہ اپنے خیالات سے جنگ نہ کریں بلکہ کسی ایسے معقول اورباوقار انسان کی
صحبت میں بیٹھنا شروع کردیں جس سے آپ بہت متاثر ہوں اوراس کے ان معمولات کا بغور
مشاہدہ کریں کہ وہ کس طرح اپنے ہاتھ منہ
دھوتاہے اورکتنی بار دھوتاہے۔کن چیزوں کو چھونے کے بعد وہ ہاتھ دھوتاہے اورکن چیزوں کو وہ پاک خیال کرتاہے۔اس مشاہدے
سے آپ اپنے وہم سے نجات حاصل کرلیں گے۔آزمائش شرط ہے۔یہی علاج دوسری قسم کے وہموں
اوروسوسوں کیلئے بھی اختیار کیا جاسکتاہے۔
ذہنی انتشار
اگر آپ ذہنی اورفکری انتشارمیں مبتلا
ہیں اورآپ کاذہن مختلف اورمتضاد خیالات کی آماجگاہ بنا رہتاہے تو اس کانہایت آسان
حل یہ ہے کہ آپ روزنامچہ یعنی ڈائری لکھناشروع کردیں۔اس میں نہ صرف اپنے دن بھر کے
معمولات تحریر کریں بلکہ ذہن میں آنے والے خیالات کو بھی ترتیب سے لکھتے رہیں خواہ
یہ خیالات کتنے ہی بے معنی اورشرمناک کیوں
نہ ہوں۔کچھ عرصے کے بعد آپ نوٹ کریں گے کہ آپ کے خیالات میں سلجھاؤ آرہا ہے اور
ذہنی انتشار دور ہو رہا ہے۔روزنامچہ لکھنے کے دیگر فوائد اس کے علاوہ ہیں۔
جذباتی صدمہ
جی بھر کر آنسو بہالینا کسی بھی جذباتی
صدمے اوردباؤ کا فرسٹ ایڈ علاج ہے۔آنسوؤں
کو روکنا نہیں چاہیئے، یہ قدرت کاایک تحفہ ہیں۔بعض لوگ رونے دھونے کو "مردانگی
" کےخلاف سمجھتے ہیں۔مگر یہ "مردانگی " دل کے امراض،بلڈ پریشر
اورڈپریشن کی قیمت پر حاصل ہوا کرتی ہے!
اعصابی تناؤ
عام ذہنی تناؤ اوربوریت کاعلاج ہلکے
سروں پر مبنی دھیمی موسیقی کاسننا ہے ۔موسیقی سے دل بہلانا نہ صرف اعصاب کو پر سکون بناتاہے بلکہ
اس سے نفسیاتی وجوہ سے ہونے والے سردرد اور بے خوابی جیسے مسائل بھی دور ہوجاتے ہیں۔
پریشانی کاعلاج
خود کوکام میں مصروف کرلینا، کسی بھی
قسم کی پریشانی اوراضطراب کامؤثر ترین توڑ
ہے۔
بے خوابی
بے خوابی کا ایک تیربہدف علاج یہ
ہے کہ رات کو کسی مشکل اور غیردلچسپ کتاب
کامطالعہ شروع کردیں۔کچھ دیر بعد ہی آپ کو نیند کے جھونکے محسوس ہونے لگیں گے مگر
کتاب کامطالعہ جاری رکھیں، یہاں تک کہ وہ خود آپ کے ہاتھوں سے چھوٹ کر گرپڑے۔
الجھن یامسئلہ
اگر آپ کسی الجھن سے دوچار ہیں اوراسے
سلجھانامقصود ہے تو اس کابہترین طریقہ یہ ہے کہ صبح یاشام کےوقت کسی باغ یا سبزہ
زار میں چہل قدمی کریں اوراس دوران اپنے ذہن کو مسئلے کے حل کی طرف لگائیں۔ طبی
تحقیقات کے مطابق چہل قدمی کے دوران انسانی ذہن کی تخلیقی صلاحیت میں کئی گنا
اضافہ ہوجاتاہے اورمسئلے کاحل مل جانےکے امکانات بہت روشن ہوجاتےہیں۔
ارادے کی کمزوری
آپ جانتے ہیں کہ مضبوط قوتِ ارادی کے
بغیر کسی کام میں کامیابی ممکن نہیں۔مگر اپنی قوتِ ارادی میں کس طرح اضافہ کیا
جائے؟ اس کاطریقہ ایک ماہر نفسیات نے یہ تجویز کیا ہے کہ ماچس کی ڈبیا سے ساری
تیلیاں نکال کرفرش پربکھیر دیں اوراس کے بعد یہ تیلیاں دوبارہ ایک ایک چن کر ڈبیا
میں ڈالنی شروع کردیں اوراس کے بعد دوبارہ تیلیاں نکال کر پھر ڈبیا میں جمع کریں
۔اس طرح باربار کی مشق سے آپ کی قوتِ ارادی میں حیرت انگیز اضافہ ہوجائے گا اورآپ
کی مشکل اورصبر آزما کاموں کو کرنے کی صلاحیت بڑھ جائے گی۔ایک متبادل مشق یہ بھی
ہےکہ دھاگے کے کسی گچھے کوپہلے آپس میں بری طرح الجھادیں اوراس کے بعد اسے پورے
صبروتحمل سے سلجھانے کی کوشش کریں۔
غصہ اورہیجان
غصے اورشدید ہیجان کوفرو کرنے کاطریقہ
یہ ہے کہ ایک گلاس تازہ اورٹھنڈا پانی پیئں اوراس کےساتھ اپنی جسمانی پوزیشن
اورجگہ بدل دیں یعنی بیٹھے ہوں تو اٹھ کر ٹہلنے
لگ جائیں، ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں چلے جائیں، گھر سے کچھ دیر کیلئے
باہر نکل جائیں۔
علاجِ غم
ہنسی زمانہ قدیم سے علاجِ غم مانی
جاتی ہے۔لطائف کی ایک کتاب یامزاحیہ وڈیو، سکون بخش دواؤں سے زیادہ فائدہ دیتی ہے۔
ہرنفسیاتی مسئلےکاحل
اورآخر میں ہم اس حقیقت کی طرف توجہ
دلائیں گے کہ "دعا" ہر قسم کے نفسیاتی مسئلے کاشافی علاج ہے ۔ اسے کسی حال میں بھی
فراموش نہیں کرنا چاہیئے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭