Saturday, October 19, 2019

اپنا قد بڑھائیے


اپنا قد بڑھائیے

                                                                                                                                             چھوٹے قد کامسئلہ بہت سے افراد بالخصوص ٹین ایجرز کیلئے پریشانی اورپشیمانی کاباعث ہوتاہے۔قد کے کمپلیکس میں مبتلا نوجوان سمجھتےہیں کہ چھوٹا قد ان کی سماجی زندگی پر اثرانداز ہورہے ۔اس کی وجہ سے وہ گھر کے اندر اورباہر تضحیک کانشانہ بنتے ہیں۔ بہن بھائیوں نے ان کے برے القاب رکھے ہوتے ہیں، دوستوں کی محفل میں ان پر لطائف بنائے جاتے ہیں،  انھیں دیکھ کر مخالف جنس کے لوگ زیرِ لب مسکرانے لگتے ہیں، وہ خواہ کتنی ہی دانائی کی بات کریں،ان کاچھوٹا قد ان کی بات کو بھی چھوٹا کردیتا ہے۔ لوگ اپنی پستہ قامت کے سبب گھر سے باہر نکلنے اور سماجی میل جول سے گھبراتے ہیں۔اس پر رونا یہ ہوتاہے کہ انھیں مناسب نفسیاتی رہنمائی بھی نہیں ملتی  اورنہ کوئی ان کی دلجوئی کرنے والا ہوتا ہے۔ ایسے افراد کیلئے اچھی خبر یہ ہے کہ 20سال کی عمر تک وہ اپنے قد میں اضافے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

قد چھوٹا رہ جانے کے اسباب

                                                                                                                                                                                                                                                                          ماہرین کے مطابق انسان کے قدوقامت کا انحصار60سے 80 فیصد موروثی  جینزپر ہوتاہے۔ ہم دوسرے کوائف کی طرح قدوقامت بھی اپنے والدین سے حاصل کرتے ہیں ۔باقی کاکام  غذا اورورزش جیسے عوامل  کرتےہیں۔  ایک سال کی عمرسے بلوغت تک انسان کاقد دوانچ سالانہ کی شرح سے بڑھتاہے  تاہم بلوغت کے آغازپر یہ شرح بڑھ کرچارانچ سالانہ ہوجاتی ہے۔ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کاقد ٹین ایج کے شروع میں  زیادہ تیزی سے بڑھتاہے۔اٹھارہ سے بیس سال کی عمر کے بعد قد کی بڑھوتری رک جاتی ہے ۔
                                                                                                                 بعض صورتوں میں جسم میں پیدا ہونے والے نشوونما کاہارمون(Human Growth Hormone) کی پیدائش میں کمی بھی چھوٹے قد کاباعث بنتی ہے۔ایسی صورت میں خون کے ٹیسٹ کے ذریعے اس مسئلے کاسراغ لگایا جاتاہے۔اگر جسم میں اس ہارمون کی مقدار کم ہوتو معالج یہ ہارمون گولیوں کی شکل میں تجویز کرتے ہیں۔ تاہم یہ علاج کوئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر ہی کرسکتا ہے۔

آپ کیا کرسکتے ہیں؟

1) متوازن غذا کھائیے: بلوغت کے دوران جب قد بڑھنے کاعمل تیزی سے جاری ہوتاہے تو ضروری ہے کہ آپ  کی روزمرہ خوراک میں تمام غذائی اجزاء موجود ہوں۔اس کیلئے تازہ سبزیاں اورپھل خوب کھائیے۔زرعی اجناس(گندم،چاول، مکئی وغیرہ) اور پروٹین (گوشت،دالیں) کااستعمال بھی باقاعدگی سے کریں۔دودھ اوراس سے بھی ہوئی اشیاء(دہی،پنیر،لسّی وغیرہ) بھی حالات اورموسم کے مطابق لیں۔
                                                                                                                     کھانے میں مٹھاس اورچکنائیوں کااستعمال کم رکھیں۔تمباکونوشی اورشراب بھی جسم کی نشوونما پر اثراندازہوتے ہیں، لہٰذا ان سے مکمل پرہیز کریں۔
2) پوری نیند لیجیے: نیند کے دوران جسم میں ہیومن گروتھ ہارمون(HGH ) کی پیدائش ہوتی ہے ، لہٰذا اگر آپ پوری نیند نہیں لیتے تو اس سے آپ کے قد کی بڑھوتری متاثر ہوسکتی ہے۔تیرہ سے اٹھارہ سال کی عمر کے نوجوانوں کو روزانہ آٹھ سے دس گھنٹے سونا چاہیئے۔اضافی نیند سے آپ کےجسم میں گروتھ ہارمون زیادہ پیداہوگا اور اسی تناسب سے آپ کے قد میں اضافہ ہوگا۔ گویا لمبی نیند لمبے قد کی کنجی ہے۔
3) چست رہیے : ورزش کے بے پناہ صحی فوائد ہوتے ہیں۔اس سے جسم کی ہڈیاں اورعضلات مضبوط ہوتے ہیں۔جسم میں حرارت پیداہونے سے قد بڑھانے والےگروتھ ہارمون کی مقدار میں اضافہ ہوتاہے۔اس کیلئے بطورِ خاص اٹھک بیٹھک ، پش اپس، بائیکنگ ،رسہ کودنے اور لٹکنے کی ورزشیں مفید ہوتی ہیں۔قد میں اضافے کیلئے ٹینس اوربیڈمنٹن جیسے اچھلنے کودنے والے کھیل معاون ہوتے ہیں۔
4) سیدھا چلیے: ڈھیلے انداز میں جھک کر کھڑے ہونے سے نہ صرف آپ اپنے حقیقی قد سے کم دکھائی دیتے ہیں بلکہ عادت بن جانے کی صورت میں ایسا پوسچرآپ کے قد کی افزائش میں رکاوٹ  بھی پیداکرسکتاہے۔ اس با ت پر شعوری طور توجہ دیجیے کہ آپ کیسے کھڑ ے ہوتے ہیں ، کیسے بیٹھتے ہیں اور کیسے لیٹتے  ہیں۔ریڑھ کی ہڈی اورکمر کو سیدھا رکھ کر چلنا اپنی عادت بنا لیں۔

قد بڑھانے والی دوائیں

                                                                                                                                                                                  ایسی دواؤں کے حوالے سے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ قد بڑھانے کادعٰوی کرنے والی غیرقانونی اور اشتہاری  دوائیں صحت اورپیسے کے ضیاع کاہی باعث بنتی ہیں۔اس سلسلے میں بہتر طریقہ یہی ہے کہ کسی مستند معالج سے مشورہ کرکے ہی کوئی دوا استعمال کی جائے۔ ذیل میں ایسی کچھ دوائیں دی جارہی ہیں جو مستند دواساز کمپنیوں کی تیارکردہ ہیں اوراشتہاری دواؤں کے برعکس عام میڈیکل سٹورز سے مل جاتی ہیں:
1) تھیراگران ایم(Theragran-M) گولیاں: یہ معروف دواساز کمپنی گلیکسوسمتھ کلائن (GSK) کا تیارکردہ سپلیمنٹ ہے جوایسے وٹامنز اورمنرلز پر مشتمل ہے جو جسم میں غذائی کمی کو دورکرکے نارمل جسمانی نشوونما میں معاون ہوتےہیں۔یہ ایک گولی روزانہ لی جاتی ہے۔
2) آئیڈیل گروتھ کورس(بروکس ہومیو لیب کراچی): یہ ایک ہومیوپیتھک مرکب دوا ہےجو کورس کی صورت میں استعمال کی جاتی ہے۔یہ کورس  جسم میں گروتھ ہارمون پیدا کرنے والے غدودوں کے فعل کو درست کرکے قد بڑھانے میں مددگار ہوتاہے۔اس کے علاوہ یہ پولیو سے متاثرہ بچوں میں صحت کی بحالی  کیلئے بھی مفید ہے۔
****************************

No comments:

Post a Comment

محبت

  خوشی کا حصول کیسے؟   محبت برٹرینڈ رسل                     زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احسا...