Monday, September 21, 2020

ماضی کی مشہور ترک اداکارہ نازاں سانچی کی پاکستان اور پاکستانی فلموں کے بارے میں ایک خصوصی تحریر

 

 


عزیز دوستو!

                                                                                     اس تصویر میں نظر آنے والے کچھ چہرے بدقسمتی سے اب ہم میں نہیں ہیں۔ ان مرحومین کے لیے میرے دل میں ہمیشہ سےبہت  عزت اورقدر رہی ہے۔پاکستان کے چھٹے صدر جناب محمد ضیاء الحق اور ان کی اہلیہ بیگم شفیق ضیاء  ،بہت ہی منکسرالمزاج اورمتاثر کن ہستیاں تھیں۔ اس ملک میں اپنے پانچ سالہ فلمی کام کے دوران مجھے جو محبت اورشہرت ملی، اسے الفاظ میں بیان کرنا میرے لیے آسان نہیں۔۔۔اور  آہ !میرے پیارےمحمد علی مرحوم ، جنھوں نے پاکستانی فلم ”زنجیر “میں میرے باپ  کا کردار ادا کیا تھا، انھیں تو میں بالکل  اپنے  حقیقی والد کی طرح چاہتی تھی۔جب میں نے ان کے انتقال کی خبر سنی تو میری روح تک صدمے سے لرز گئی تھی۔

                                                                                                         ہر گزرتے دن کے ساتھ میں ان رفتگان کی جدائی  کا غم زیادہ  شدت سے محسوس کرتی ہوں۔ خدائے بزرگ و برتر ان تمام مرحومین کوجنت الفردوس میں جگہ عطا کرے۔آمین!

                                                                                                                    میں پاکستان کے تمام عوام اور اپنے ان تمام مداحوں کوجو اب تک مجھے یادرکھے ہوئے ہیں، پاکستان کے تہترویں یومِ آزادی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں! میں ان کے اس تاریخی دن کی مسرتوں میں پورے خلوص کے ساتھ شریک ہوں۔

                                                                                                         ہاں،  ایک بات کہنے کا  میں کبھی کوئی موقع نہیں جانے دیتی۔وہ یہ کہ ہمارے پاکستان کے  ساتھ رشتے بہت طویل تاریخ رکھتے ہیں۔پرانی نسل کے لوگ اس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ ہیں ، لیکن نوجوانوں کوبھی یہ بتانے کی ضرورت ہے۔پاکستان کے عوام  نےاس وقت ہماری جدوجہدِ آزادی کی بھرپور حمایت کی جب وہ خود ابھی برطانوی سامراج کی محکومی میں پِس رہے تھے۔ برصغیر کے مسلمان ان دنوں گلیوں اور بازاروں میں یہ کہتے سنائی دیتے تھے کہ ”خلافتِ عثمانیہ اسلام کا آخری قلعہ ہے، اسے نہیں ٹوٹنا چاہیئے، ہم اسے نہیں ٹوٹنے دیں گے۔“ پھر ان کی عورتوں اور بچوں تک نے ہمارے حق میں جلوس نکالے اور جنگ کے اختتام تک وہ دل کی گہرائیوں سے ہماری ہرممکن مدد کی کوششیں کرتے رہے۔

 

                                                                          عزیز دوستو! پاکستانی ہماری  بہت ہی قریبی برادر قوم ہیں اور وہ ہم سے بہت محبت کرتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ اس موضوع کوایک مختصر تحریر میں سمونا ممکن ہی نہیں۔ جب پاک ترک تعلقات کی تفصیل جانیں گے توآپ اپنے آنسو نہیں تھام سکیں گے ۔اس بارے میں ایک مضمون میں نے پہلے بھی لکھا تھا اور اب ایک بار پھر دوبارہ لکھنے کی خواہش محسوس کررہی ہوں۔

                                                                                             اخباری رپورٹوں اور ذاتی پیغامات کے ذریعے  لوگ بتاتے ہیں کہ ترکی  ڈراموں اور فلموں کی شہرت اب تیسری بار  پاکستان میں داخل ہورہی ہے۔ اس کا آغاز ہلچل ، زنجیر اور دوسری فلموں سے ہوا تھا، پھر  عشقِ ممنوع کادور آیا اور اب ارطغرل غازی نے نوجوان  پاکستانی نسل کو ترکی کا گرویدہ بنا لیا ہے۔ایک ترک کی حثیت سے اس چیز نے بھی  میرا سر فخر سے بلند کردیا ہے اورمیں پاکستان کے بارے میں کچھ باتیں آپ کے ساتھ شیئر کرنے پر مجبور ہوگئی ہوں۔

 

میں پاکستانی فلموں میں کیسے گئی؟

 

                                                                            یہ سوال مجھ سے اکثر کیا جاتاہے۔ اس کاتفصیلی جواب تو فی الحال ممکن نہیں ۔البتہ ایک مختصر سی روداد لکھ رہی ہوں۔

                                                                                                                        یہ1985ء کی گرمیوں کاذکر ہے۔ اس وقت رات کے نو بج رہے تھے اور میں اپنی  بہن  ریزاں سانچی کے ساتھ  گھر میں  ٹی وی دیکھ رہی تھی کہ اچانک فون کی  گھنٹی بجی۔دوسری طرف ترکی کی فلم انڈسٹری کے ایک  شناسا پروڈکشن سپروائزر تھے۔

”نازاں! پاکستان سے کچھ فلم ساز یہاں آئے ہوئے ہیں ۔ وہ استنبول میں ایک فلم بنارہے ہیں اور اس کے لیے انھیں ایک اداکارہ کی تلاش ہے۔ہم  صبح سے انھیں اپنے البم میں موجود ہر ترک اداکارہ کی تصویر دکھا چکے ہیں، مگر ان کی نظریں ہمارے آفس میں لگی تمھاری  ایک تصویر پر اٹک گئی ہیں اور وہ تم سے ملناچاہتے ہیں۔ کیا تم ابھی آسکتی ہو؟ وہ  ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ اس وقت  بہت  دیرہوچکی ہے ، لیکن اگر تم ابھی آجاؤ  تو بہت اچھا ہوگا۔ تم انگریزی بول سکتی ہو ناں، یہ لو بات کرو۔۔۔“ پھر ہماری گفتگو پاکستانی فلم  کمپنی رپلیکا کے مالک شکیل اختر سے ہوئی۔

”ہم کل مل لیتے ہیں۔“ میں نے ان سے کہا۔مگر انھوں نے ابھی ملنے پر اصرار کیا کیونکہ اگلی صبح ان کی لاہور کے لیے واپسی کی  فلائیٹ بک تھی۔

”کیا کریں؟“ میں نے ریزاں کی طرف دیکھا۔” بہت دیر ہوچکی ہے ، میرے خیال سے نہیں جاتے ۔“ دراصل میں سوچ رہی تھی کہ یہ خوامخواہ کا خرچہ ہوگا۔ اس ہوٹل آنے جانے کے لیے ٹیکسی لینی پڑے گی۔

 

*********************

                                                                                                          

                                                               ہم لوگ  ایک مڈل کلاس فیمیلی سے تعلق رکھتے تھے اور میں نے اپنی یونیورسٹی  کی تعلیم بھی بڑی مشکل سے حاصل کی تھی۔میرے والد کا کاروبار  ٹھیک نہیں چل رہاتھا۔جن دنوں ترکی کا سماج  ایک  بحران سے گزر رہا تھا، میرے والد   صلاح الدین ،ترکی کے ایک شہر سیمسن میں  ایک ماہر مکینک تھے اور وہ فریج، ریڈیو سیٹ، واشنگ مشین، گھڑیاں وغیرہ مرمت کیا کرتے تھے۔ لوگ انھیں  ”استاد صلاح الدین “  کہا کرتے تھے۔جب تک مرمت کے کام کی طلب تھی ، لوگ دوردراز کے شہروں سے ان کے پاس آتے تھے۔وہ دن اب بھی میری یادداشت میں محفوظ ہیں،جب ابّا گھر میں فارغ ہوتے تو ہم دونوں بہنوں کے ساتھ بہت ہنسی مذاق کرتے تھے۔ وہ جب    کام سے لوٹتے  تو بہت خوش دکھائی دیتے تھے ۔ وہ ہماری طرف بالکل نئے  نوٹوں کی گڈیاں ، چاکلیٹ اور دوسرے تحفے اچھال دیتے تھے۔ چاکلیٹس تو ہم مزے سے کھاجاتیں، جبکہ نوٹوں کو ہم گلّے میں ڈال دیا کرتی تھیں۔ جب وہ خوشگوار موڈ میں ہوتے تھے تو گھر میں  ہماری والدہ کے کپڑے پہن کر ہمیں ان کی نقل کرکے دکھاتے  جس پر میری والدہ بہت خفا ہوتی تھیں۔وہ میرے والد سے کہتیں کہ شرم کرو، بچوں کے سامنے یہ کیا حرکتیں کررہے ہو۔ لیکن والد کی  ان   خوش فعلیوں پر ہم  دونوں بہنیں ہنس ہنس کر دوہری ہوجاتی تھیں۔ لیکن پھر میرے والد کا کام اور خوش طبعی دونوں  ہی رفتہ رفتہ ختم ہوتی چلی گئیں۔ 80ء کی دہائی میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی نے ہر شخص کی جیب نوٹوں  سے بھر دی تھی۔ اب  لوگ اپنی پرانی اشیاء کی مرمت کرانے کی بجائے نئی چیز خرید لانے کو ترجیح دیتے  تھے۔اب کسی کوبھی ”استاد صلاح الدین“ کی ضرورت نہیں  تھی!

                                                                                              جب  میں یونیورسٹی میں داخلے کے لیے استنبول آئی تو میری بہن ریزاں سانچی  بھی میرے ساتھ تھی ۔اس نے مجھے لڑکیوں کے  ایک ہاسٹل میں چھوڑ کر واپس چلے جانا تھا۔ مگر جب اس نے  ہاسٹل میں میری پہلی رات کا احوال سنا تو اس نے مجھے استنبول میں تنہا نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ان دنوں استنبول یونیورسٹی میں دائیں اور بائیں بازو کی سیاست نے طلباء کو دو متحارب دھڑوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔

” میں ساری رات نہ سو سکی “۔میں نے ریزاں کو بتایا:” رات بھر لڑکیوں نے مجھے گھیرے رکھا اور وہ مجھے بائیں بازو کی کتابیں پڑھنے پر مجبور کرتی رہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ میں ان کے  بائیں بازو کے کیمپ میں شامل ہو جاؤں  ،جبکہ یونیورسٹی کی انتظامیہ دائیں بازو والوں کی حمایت کرتی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ میں ہمیشہ ان دو انتہاؤں کے درمیان ڈولتی رہوں گی“۔

”ٹھیک ہے، میں تمھارے ساتھ رہوں گی“۔ ریزاں نے مصمم لہجے میں کہا: ”ہم یہاں کرائے پر کوئی جگہ لے لیں گے“۔

میں نے مایوسی کے ساتھ ریزاں سے  کہا: ”باجی ، تم جانتی ہو کہ ہمارے والدین پیسے نہیں بھیج سکتے۔ابّا  کا کا روبار نہیں چل رہا اور اب وہ بوڑھے بھی ہوچکے ہیں۔وہ لوگ  خود کرائے سے حاصل ہونے والی آمدنی پر بمشکل گزارا کررہے ہیں۔ پھر میری تعلیم کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟“

” میں کام کروں گی۔“ ریزاں نے  مضبوط آواز میں جواب دیا۔”میں پرائیویٹ ٹیوشن پڑھاؤں گی  اور نوکری  بھی تلاش کروں گی۔“

                                                                                        اس وقت ہم  عارضی طورپر ایک واقف کار کے گھر میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ریزاں نے نوکری اور گھر کی تلاش شروع کردی تھی۔آخرکار ہمیں ایک گراؤنڈ فلور کرائے پر مل گیا۔اس وقت ہمارے پاس کوئی ضروری سامان تک نہ تھا۔ہم نے عمارت کے چوکیدار کے کمرے سے کچھ میزیں اور کرسیاں مستعار لیں۔پھر ہم نے اپنا ایک بستر اور کچن کے کچھ برتن  خریدے۔ کچھ تگ و دو کے بعد ریزاں کو ایک قریبی سکول میں  تدریس کا کام مل گیا۔میں یونیورسٹی جانے کے لیے بس  نہیں لیتی تھی  اور گھر سے یونیورسٹی تک پیدل ہی جاتی تھی تاکہ میری بہن پر بوجھ نہ پڑے۔ویسے بھی ان دنوں طلباء  کی اکثریت  کے لیے پیدل سفر کرنا ایک معمول کی بات تھی۔

                                                                                                    خیر ، یہ تو میری زندگی کی جدوجہد کا وہ حصہ ہے  جسے آپ میری یادد اشتوں پر مبنی کتاب”میں اور میرے پری دوست“ میں پڑھ سکیں گے۔میں نے پریوں کے حوالے سے اپنے تجربات شیئر کرنے کے لیے ایک ویب سائیٹ فیئری وائسز کے نا م سے بھی بنائی ہے  اور  ایک یوٹیوب چینل  بھی شروع کر رکھا ہے۔ان  سوشل میڈیا فورمز پر آپ مجھے فالو کرسکتے ہیں:

https://fairyvoices.com/ 

https://www.youtube.com/channel/UCrFagCElkIZjjZ9l-Ymhc8A 

 

*********************

 

اب میں واپس پاکستانی فلموں کی طرف آتی ہوں۔۔۔۔۔

 

     ریزاں جانتی تھی کہ میرے ذہن میں کیا چل رہاہے۔ اس نے مجھے  تسلی دی :

” تم اس کی فکر نہ کرو، ہم ٹیکسی لے کر جاتے ہیں۔“ پھر اس نے مجھے آمادہ کرنے کے لیے کہا:    ”چلو  جلدی سے تیار ہو جاؤ۔  کیا پتہ ،یہ ایک سنہری موقع ہو۔ یاد نہیں ، تم ہمیشہ کہتی تھی کہ  مجھے ہندوستانی طرز کی فلموں میں رقص والے گانے پسند ہیں۔ جیسے اس آوارہ فلم کا گانا ہے  ناں۔۔۔ آوارہ ہوں لالالالا۔۔۔۔۔“ وہ گنگنائی اور ہم دونوں ہنسنے لگیں۔ واقعی  میں یہ   میرا بہت پرانا خواب تھا کہ میں اداکارہ بن کر درختوں کے اردگرد ناچتی ہوئی گانے گاؤں۔

                                                                                                              شکیل اختر آنکھوں پر چشمہ لگائے ایک دھان پان  سے انسان تھے ۔ وہ  بہت ہی نرم اور شائستہ طبیعت کے مالک تھے۔میں اپنی بہت سی تصویریں ساتھ لے کر آئی تھی۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ ان میں  سےجو بھی تصویر چاہیں رکھ سکتے ہیں۔ ان لوگوں کا رویہ اتنا خوش اخلاق اور دوستانہ تھا کہ مجھے یوں لگا جیسے میں انھیں پہلے سے جانتی ہوں۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ اس فلم کا نام ”ہلچل “ ہوگا اور اس میں میرے ساتھ دوسری اداکارہ بنگلہ دیش کی شبانہ ہوں گی۔فلم کے ہیرو پاکستان کے صفِ اول کے اداکار جاوید شیخ تھے۔ جبکہ ہم نے پاکستان کے ایک  بہت ہی بڑے ہدایت کار پرویز ملک  کی ڈائریکشن میں کام کرنا تھا۔ اس فلم کی آدھی شوٹنگ استنبول میں اور آدھی لندن میں ہونی تھی۔

 

پرویز ملک، جاوید شیخ، شکیل اختر اور میں۔۔۔۔ فلم ہلچل  کے سیٹ پر (1985)


” فی الحال میں آپ کے ساتھ کوئی حتمی بات نہیں کرسکتا۔“ شکیل اختر نے مجھ سے کہا۔”فلم ڈسٹریبوٹرز ہی آخری فیصلہ کریں گے کہ کسے کاسٹ کرنا ہے۔ اگر آپ منتخب کر لی گئیں تو ہم آپ کومطلع کردیں گے۔ ویسے آپ کو زبان کا فائدہ حاصل ہے۔“ یہ میرے لیے  ایک اچھی خبر تھی۔  جاتے ہوئے شکیل اختر میری طرف دیکھ کر زور سے ہنسے اور کہنے لگے:

”آپ  خدوخال سے اتنی پاکستانی دکھائی دیتی ہیں کہ وہاں کوئی یقین نہیں کرے گا کہ ہم نے  آپ کو ترکی سے لیا ہے۔“

                                                                                                  واپسی پر میں اور ریزاں اسی پر گفتگو کرنے لگیں کہ آیا  فلم بینوں کے نقطۂ نظر سےمیرے پاکستانیوں جیسے نقوش میرے حق میں جائیں گے یا خلاف۔ ریزاں کا کہنا تھا کہ یہ میرے لیے خوش آئند ہوگا۔ پھر شاید ایک ماہ   ہی گزرا تھا کہ ایورریڈی پکچرز کے مالک ستیش آنند استنبول آئے اور میرے ساتھ فلم کا معاہدہ طے کر لیا۔ اور پھر پاکستان میں میری زندگی کے  ان  یادگار اور خوشگوار ترین  دنوں کا آغاز ہوا جن کی میں نے کبھی خوابوں میں بھی توقع نہیں کی تھی۔

نازاں سانچی

کیلی فورنیا، امریکہ

2020ء  

٭ یہ ترکی زبان  میں لکھی گئی ایک سوشل میڈیا پوسٹ تھی جس کا اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔

 

====================

 

محبت

  خوشی کا حصول کیسے؟   محبت برٹرینڈ رسل                     زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احسا...