Sunday, October 3, 2021

حسد

 

خوشی کا حصول کیسے؟

حسد

برٹرینڈ رسل

ناخوشی کا اگلا قوی  سبب حسد ہے۔ حسد کے بارے میں میں کہوں گا کہ یہ سب سے زیادہ آفاقی اور گہرا انسانی جذبہ ہے۔ یہ چھوٹے بچوں میں بہت زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ بچہ خود پر  کسی دوسرے بچے کو دی جانے والی معمولی سی بھی ترجیح کو محسوس کرکے فوراً ہی ردعمل ظاہر کرتا ہے۔اسی لیے بچوں کے ساتھ معاملہ کرنے والے افراد کو بہت زیادہ انصاف پسند، محتاط اور غیر جانبدار رہنا پڑتا ہے۔بچے اپنے حاسدانہ جذبات کے اظہار میں  بالغ افراد کے مقابلے میں زیادہ بےباک ہوتے ہیں، تاہم حسد کا جذبہ ہر چھوٹے بڑے میں موجود ہوتا ہے۔ مثلاً مجھے یاد ہے کہ ہماری ایک ملازمہ جو کہ شادی شدہ تھی، امید سے ہوگئی تو ہم نے کہا کہ اب اسے بھاری وزن نہیں اٹھانے چاہیئں، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ باقی تمام ملازماؤں نے بھی بھاری سامان اٹھا نا چھوڑ دیا اور پھر اس قسم کے کام ہمیں خود ہی کرنے پڑتے تھے۔

جمہوریت کی بنیاد حسد  ہی ہے۔ قدیم یونانی ریاستوں میں جمہوری تحریک کا روحِ رواں یہی جذبہ تھا اور یہی بات  جدید دور کی جمہوریت کے بارے میں درست ہے۔ مثا ل کے طور پر اگر آپ  مادام رولینڈ کی یادداشتوں کا مطالعہ کریں جو کہ فلاحی کام انجام دینے والی ایک معزز خاتون تھی،  تو  آپ کو معلوم ہوگا کہ ایک موقعے پر طبقۂ امراء کے محلّات کی سیر کرنے کے بعد ہی وہ جمہوریت کی پُرجوش حامی بنی۔

عام خاندانی خواتین میں حسد کا جذبہ بہت زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ آپ کسی گاڑی میں بیٹھے ہوں اور اسی اثناء میں ایک خوش لباس عورت بھی اس میں سوار ہوجائے، تو ذرا وہاں موجود دوسری خواتین کی نگاہوں کی طرف دیکھیے۔ آپ دیکھیں گے کہ چند زیادہ خوشحال خواتین کو چھوڑ کر، باقی ہر ایک کی نظریں حاسدانہ ہوں گی اور سب اس نوارد خاتون  کے بارے میں توہین آمیز تبصروں میں مصروف ہوجائیں گی۔ افسانہ تراشی (اسکینڈل) میں دلچسپی کی وجہ بھی حسد ہی ہوتا ہے۔ کسی دوسری عورت کے بارے میں کوئی بھی کہانی فوراً مان لی جاتی ہے خواہ اس کا کوئی بھی ظاہری ثبوت نہ ہو۔

تقریباً یہی صورتحال مردوں کی دنیا میں بھی پائی جاتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ خواتین باقی سب ہی عورتوں کو اپنا حریف خیال کرتی ہیں، جبکہ مرد صرف ہم پیشہ مردوں سے ہی رقابت محسوس کرتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی ایسی ناسمجھی کا مظاہرہ کیا ہے کہ ایک آرٹسٹ  کے سامنے کسی دوسرے آرٹسٹ کی تعریف کر دی ہو؟ کیا آپ نے کبھی ایک سیاستدان کے سامنے اسی کی پارٹی کے کسی دوسرے سیاستدان کے بارے میں کلماتِ تحسین ادا کیے ہیں؟ یا آپ نے کبھی مصریات کے ایک ماہر (Egyptologist) کے روبرو کسی دوسرے ماہرِ مصریات کو سراہا ہے؟ اگر کبھی آپ نے ایسا کیا ہے تو ننانوے فیصد امکان یہ ہے کہ آپ نے لوگوں میں حسد و جلن کا بارود سُلگا دیا ہوگا۔ مشہور فلسفی لیبینیز اور ہیگینز کی باہمی خط و کتابت میں ایسے خطوط بھی موجود ہیں جن میں شہرۂ آفاق سائنسدان نیوٹن کے پاگل ہوجانے کا ماتم کیا گیا ہے: ”کیا یہ افسوسناک بات نہیں ہے“۔وہ  ایک دوسرے کو لکھتے ہیں، ”کہ جناب نیوٹن جیسی غیرمعمولی شخصیت کی عقل میں فتور آجائے؟“ ان دونوں معروف ہستیوں نے اپنے کئی خطوط میں اس پر لطف لیتے ہوئے مگرمچھ کے آنسو بہائے ہیں۔ درحقیقت جس واقعے کا انھوں نے ذکر کیا ، وہ ہوا ہی نہیں تھا، البتہ نیوٹن کی طرف سے کج روی کے چند مظاہروں نے یہ افواہیں اڑا دی تھیں۔

انسانی جذبات میں حسد سب سے بدنصیب جذبہ ہے۔ حاسد انسان نہ صرف دوسرے کو تباہ حال دیکھنا چاہتا ہے، بلکہ حسد کی وجہ سے خود بھی رنجیدہ اور ناخوش رہتا ہے۔ اسے خود کو حاصل نعمتوں پر اتنی خوشی نہیں ہوتی جتنا  افسوس دوسروں کو ملی نعمتیں دیکھ کر  ہوتا ہے۔جب بھی ممکن ہو، وہ دوسروں کو ان کی خوشیوں سے محروم کردیتا ہےاور ایسا کرنا اس کیلئے اتنا ہی ضروری ہوتا ہے جتنا کہ ان خوشیوں کو خود اپنی ذات کیلئے حاصل کرنا۔ اگر اس جذبے کو بےلگام چھوڑ دیا جائے تو یہ انسان کی تمام مثبت صلاحیتوں کو کند کرکے رکھ دیتا ہے۔ خوش قسمتی سے انسانی فطرت میں حسد کا پاسنگ جذبہ موجود ہے،یعنی تحسین اور دوسروں کی صلاحیتوں کے اعتراف کا جذبہ۔جو کوئی بھی انسانی مسرت میں اضافے  کا خواہشمند ہو ، اسے انسانی زندگی میں تحسین کا عنصر بڑھانے اور حسد کا مادہ گھٹانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

حسد کا علاج کیا ہے؟ صوفیوں کے نزدیک اس کا علاج بے غرضی اور نفئ ذات ہے، اگرچہ خود ایک صوفی کے ہاں دوسرے صوفی سے حسد کوئی عجوبہ واقعہ نہیں ہوتا۔ میں نہیں سمجھتا کہ ایک درویش کسی دوسرے درویش کی کرامات کے تذکرے سن کر خوشی محسوس  کرتا ہوگا۔ تاہم صوفیوں کی تجویز کو ایک طرف رکھتے ہوئے عام انسانوں کیلئے حسد کا صرف ایک ہی علاج رہ جاتا ہے اور وہ ہے خوشی۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حسد خود انسانی مسرت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ میرے خیال میں حسد کا مادہ بچپن کی محرومیوں سے پنپتا ہے۔ جو بچہ اپنے بہن بھائیوں کو خود پر ترجیح پاتے دیکھتا ہے، اس میں حسد کی عادت پیدا ہوجاتی ہے۔ جب وہ باہر کی دنیا میں جاتا ہے تو اپنے ساتھ ناانصافیوں کی توقع کرنے لگتا ہے۔ایسی ناانصافیوں اگر واقعی ہوجائیں تو وہ انھیں فوراً محسوس کرتا ہے اور نہ ہوں تو انھیں ذہن میں ہی تصور کرتا رہتاہے۔ایسا شخص ناگزیر طور پر ناخوش ہوتا ہے اور اپنے ان دوستوں کیلئے مصیبت بن جاتا ہے جو ہنسی مذاق میں چھوٹی موٹی ناانصافی کر ہی جاتے ہیں۔ وہ فرض کر لیتا ہے کہ کوئی بھی اسے پسند نہیں کرتا اور پھر اپنے رویے سے اس مفروضے کو بالآخر حقیقت بنا دیتا ہے۔بچپن کی ایک اور محرومی جو یہی مسئلہ پیدا کرتی ہے ، یہ ہے کہ بچے کو والدین سے کافی شفقت حاصل نہ ہو۔ والدین کے لاڈلے کسی دوسری بھائی یا بہن کی غیر موجودگی میں بھی وہ خیال کرتا ہے کہ دوسرے گھرانوں کے بچے اس کے مقابلے میں اپنے والدین سے زیادہ توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ یہ سوچ کر وہ دوسرے بچوں اور اپنے والدین سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ بڑا ہوکر وہ خود کو کوئی جلا وطن شخص خیال کرتا ہے۔کسی نہ کسی طرح کی خوشیاں ہر فرد کا پیدائشی حق ہوتی ہیں او ر ان سے محروم رہنا ناگزیر طور پر ایک انسان کو تلخ اور گمراہ بنا دیتا ہے۔

لیکن ایک  حاسد شخص کہے گا: ” مجھے یہ بتانے کا کیا فائدہ ہے کہ میرے حسد کا علاج خوشی ہے؟ میں جب تک حسد میں جل رہا ہوں، اس وقت تک خوش نہیں ہوسکتا، لیکن تم  کہہ رہے ہو کہ میں اس وقت تک خوش نہیں ہو سکتا جب تک حسد کرنا ترک نہیں کردیتا۔“ تاہم زندگی کبھی اتنی منطقی نہیں ہوتی جتنا کہ یہ بیان ہے۔ صرف اپنے حاسدانہ جذبات کا سبب جان لینا ہی ان کے تدارک کی طرف ایک بڑا قدم ہوسکتا ہے۔ تقابل کے انداز میں سوچنے کی عادت نقصان دہ ہوتی ہے۔ جب کوئی خوشی کی بات ہو، اس سے بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہونا چاہیئے، یہ سوچے بغیر کہ یہ خوشی  کوئی ایسی خاص نہیں کیونکہ اس سے زیادہ خوشی کی بات کسی اور کے ساتھ ہو رہی ہوگی۔ حاسد یوں کہتا ہے: ”ہاں، یہ ایک آفتابی دن ہے اور یہ بہار کا موسم ہے، اور پرندے چہچہا رہے ہیں، اور پھول کِھلے ہوئے ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ فلاں ملک  کا موسمِ بہار اس سے ہزار درجے زیادہ خوبصورت ہوتا ہے، وہاں کے پرندے زیادہ سریلے ہوتے ہیں او ر وہاں کے گلاب میرے باغیچے کے گلابوں سے زیادہ خوش رنگ ہوتے ہیں۔“ اور جیسے ہی اس کے ذہن میں یہ خیالات آتے ہیں، سورج ماند پڑ جاتا ہے، پرندوں کے گیت بے ہنگم شور بن جاتے ہیں اور پھولوں کا نظارا آنکھوں میں چبھنے لگتا ہے۔ زندگی کی دوسری مسرتیں بھی وہ اسی طرح کھو دیتا ہے۔ ”بے شک“ ۔وہ اپنے آپ سے کہتا ہے۔”میری محبوب عورت بہت خوبصورت ہے، میں اس سے محبت کرتا ہوں او روہ مجھے چاہتی ہے، لیکن ملکۂ سبا کتنی زیادہ حسین ہوگی، کاش میں بادشاہ سلیمان کی جگہ ہوتا!“ ایسے تمام تقابل بے مقصد اور احمقانہ ہوتے ہیں، خواہ ناخوشی کا سبب ملکۂ سبا ہو یا کوئی پڑوسی۔ عقلمند انسان ایک نعمت کی بےقدری اس وجہ سے نہیں کرتا کہ کسی اور کے پاس کوئی اور نعمت ہے۔ حسد دراصل ایسے عیب کی ایک صورت ہے جو کچھ اخلاقی ہے اور کچھ عقلی۔ یہ عیب چیزوں کو خود ان کے حوالے سے دیکھنے کی بجائے انھیں دوسرے حوالوں سے دیکھنا ہے۔ فرض کیجیے، میں اپنی ضروریات کے مطابق ایک معقول آمدنی پا رہا ہوں۔ مجھے مطمئن ہونا چاہیئے ، لیکن میں سنتا ہوں کہ کوئی دوسرا جو کسی طرح بھی مجھ سے بہتر نہیں، مجھ سے دوگنی آمدن حاصل کر رہا ہے۔ اب اگر میرا مزاج حاسدانہ ہے تو فوراً میرا سکون زائل ہوجائے گا اور اپنے ساتھ ناانصافی کا احساس مجھے اندر سے کھانا شروع کردے گا۔ اس سارے عمل کا علاج ذہنی تنظیم (ڈسپلن) ہے کہ انسان بےکار باتیں نہ سوچنے کی عادت پختہ کرے۔ بھلا خوشی سے زیادہ قابلِ رشک اور کون سی شے ہے؟ اور اگر میں اپنے حسد کا علاج کر لیتا ہوں تو مسرور ہو کر قابلِ رشک بن سکتا ہوں۔ جس شخص کی آمدنی مجھ سے دوگنی ہے، وہ بھی یقیناً اس خیال سے اذیت پاتا ہے کہ کسی تیسرے کی آمدنی اس سے دوگنا ہے اور یہ سلسلہ یونہی آگے چلتا جاتا ہے۔اگر آپ عظمت کی خواہش  رکھتے ہیں تو  پھر آپ نپولین سے حسد کریں گے، لیکن نپولین سیزر سے حسد کرتا تھا، سیزر سکندر سے اور سکندر ہرکولیس سے حسد کرتا تھا۔ اس لیے آپ محض کامیابی کے ذریعے حسد سے آزاد نہیں ہوسکتے، کیونکہ تاریخ میں ہمیشہ کوئی ہستی ایسی ہوگی جو آپ سے زیادہ کامیاب رہی ہو۔ آپ صرف اس طرح حسد سے نجات پا سکتے ہیں کہ ملنے والی ہر خوشی سے لطف اندوز ہوں، وہ کام کریں جو آپ کو کرنا ہے اور اپنی ذات کا ایسے افراد کے ساتھ تقابل کرنا چھوڑ دیں جنھیں آپ خود سے زیادہ خوش نصیب خیال کرتے ہیں۔

حسد کے ضمن میں غیر ضروری شرم و حیا بھی کافی دخل رکھتی ہے۔ حیا کو ایک خوبی سمجھا جاتا ہے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ اپنی انتہائی صورتوں میں اسے ایسا سمجھا جانا چاہیئے۔ شرمیلے افراد میں خوداعتمادی نہیں ہوتی اور وہ ایسے کاموں کو کرنے کی بھی جرات نہیں کر پاتے جن کی پوری صلاحیت ان میں موجود ہوتی ہے۔ شرمیلے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی خوشیاں دوسروں کے دم سے ہیں۔ اس لیے یہ لوگ خاص طور پر حسد کے شکار ہوتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ان پر ناخوشی اور پراگندہ ذہنی کا سایہ بھی رہتا ہے۔ میرے خیال میں ایک خیال میں ایک لڑکے کی پرورش کے دوران اسے یہ یہ باور کرانا بہت اہم ہے کہ وہ ایک اچھا انسان ہے۔ میرے خیال میں کوئی مُور دوسرے مُور سے حسد نہیں کرتا، کیونکہ ہر مُورسمجھتا ہے کہ اس کی دُم کی سب سے حسین ترین دُم ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مُور بہت امن پسند پرندے ہوتے ہیں۔ تصور کیجیے کہ ایک مُورکی زندگی کتنی تلخ ہوجاتی ، اگر اسے بتایا جاتا کہ خودپسندی بہت بری بات ہے۔ایسی صورت میں جب وہ کسی دوسرے مُور کو دیکھتا تو اپنے آپ سے کہتا: ”مجھے یہ نہیں سوچنا چاہیئے کہ میری دُم اس سے اچھی ہے، کیونکہ یہ خودپسندی ہوگی، لیکن آہ! کاش ایسا ہوتا! یہ بدنما پرندہ خود کو کتنا خوبصورت سمجھتا ہے۔ کیا میں اس کے چند پَر اکھاڑ نہ ڈالوں؟ پھر شاید مجھے اس کا سامنا کرنے میں کوئی جھجک نہ رہےگی۔“ یا شاید وہ اس دوسرے مُور کیلئے سازش کا کوئی جال تیا ر کرتا اور ثابت کر دیتا کہ وہ دوسرا ایک بدمعاش مُور تھا اور ’غیر ذمہ دارانہ‘ طرزِ عمل کا مرتکب ہوا تھا، اور اعلیٰ حکام کے روبرو اسے ملامت کرتا۔ رفتہ رفتہ وہ اس اصول کو پھیلادیتا کہ خوبصورت دُم والے مُور ہمیشہ بدمعاش ہوتے ہیں اور مُوروں کی سلطنت کے بادشاہ کو صرف عاجز اور مسکین قسم کے مُورکو اپنا جانشین بنانا چاہیئے جس کی دُم میں صرف چند گھسےپٹے پَر ہوں۔اس اصول کو تسلیم کرا لینے کے بعد، وہ تمام خوبصورت مُوروں کو قتل کروا دیتا اور آخر میں خوبصورت دُم تاریخ کا حصہ بن جاتی۔اخلاقیات کا روپ دھار حسد اس طرح غلبہ حاصل کرتا ہے۔لیکن جہاں ہر مُور خود کو دوسروں سے زیادہ نفیس اور وجیہہ خیال کرتا ہو ، وہاں ایسے سازشی جوڑ توڑ کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہر مُور مقابلۂ حُسن میں اوّل انعام حاصل کرنے کیلئے پُراعتماد ہوتا ہے اور چونکہ ہر مُور اپنی مُورنی کی رائے کو اہمیت دیتا ہے، اس لیے سب ہی خیال کرتے ہیں کہ وہ یہ مقابلہ جیت چکے ہیں۔

حسد کا مسابقت سے بھی قریبی تعلق ہے۔ ہم کسی ایسی نعمت سے حسد نہیں کرتے جو ہمارے خیال میں ہماری پہنچ سے باہر ہو۔ ایک زمانے میں جب طبقاتی تقسیم طے شدہ تھی اور امیر و غریب کا فرق خدا کی مشیت سمجھا جاتا تھا، تو نچلے طبقے کے لوگ اونچے طبقے کے افراد سے حسد نہیں کرتے تھے۔ گداگر کبھی کروڑپتیوں سے حسد نہیں کرتے، البتہ ایک گداگر خود سے زیادہ کامیاب بھکاری سے حسد ضرور کیا کرتا ہے۔ جدید دنیا میں سماجی عدم استحکام اور جمہوریت اور سوشلزم کے نظریۂ مساوات نے حسد کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ فی الحال یہ برائی ہے، لیکن ایسی برائی جسے ایک منصفانہ سماجی نظام کے قیام کی غرض سے برداشت کرنا ہوگا۔ ناانصافی سے جو حسد پید اہوتا ہے، اس کا علاج ناانصافی کے تدارک کے سوا کچھ نہیں۔ اس طرح ہمارے عہد میں حسد ایک زیادہ بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔ غریب امیر سے حسد کرتا ہے، ترقی پذیر ممالک ترقی یافتہ ممالک سے حسد کرتے ہیں، عورتیں مردوں سے حسد کرتی ہیں۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ  مختلف طبقات، مختلف اقوام اور مختلف جنسوں کے مابین انصاف کے قیام کے لیے حسد ایک بڑا محرک ہے، لیکن ساتھ میں یہ بھی درست ہے کہ حسد کے ذریعے جو عدل پیدا ہوگا وہ اس کی بدترین صورت ہوگی جس میں خستہ حالوں کی خوشیا ں بڑھانے کی بجائے خوشحالوں سے مسرتیں چھینی جائیں گی۔ جو جذبات انفردی زندگی میں خرابی کا موجب ہوتے ہیں، وہ اجتماعی زندگی میں بھی خرابی لاتے ہیں۔ یہ خیال نہیں کرنا چاہیئے کہ حسد جیسی برائی سے کوئی اچھائی جنم لے گی۔ لہٰذا جو افراد مثالیت پسندانہ رجحان کے تحت سماجی نظام میں بڑی تبدیلیاں لانے کے خواہاں ہیں اور سماجی انصاف کو فروغ دینا چاہتے ہیں، انھیں امید کرنی چاہیئے کہ اس ضمن میں حسد کے علاوہ دوسرے محرکات زیادہ معاون ثابت ہوں گے۔

تمام بُری چیزیں باہم مربوط ہوتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک دوسری کا سبب بن سکتی ہے۔خاص طور پر تھکن، حسد کا ایک عمومی سبب ہے۔ جب ایک شخص اپنے اندر اس کام کی سکت نہیں پاتا جو اسے کرنا ہے، تو وہ ایک طرح کی ناخوشگواری محسوس کرتا ہے جو آگے چل کر ان افراد سے حسد کی صورت لے سکتی ہے جن کا کام اتنا سخت نہیں ہوتا۔ لہٰذا حسد سے نجات کا کرنے کا ایک طریقہ تھکن  کو ختم کرنا ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری ایک ایسی زندگی کی ضمانت ہے جس میں انسانی جبلتوں کو تسکین ہوتی رہے۔ بہت سا حسد جو بظاہر  پیشہ ورانہ  دکھائی دیتا ہے، دراصل اپنے اندرجنسی سبب رکھتا ہے۔ ایک شخص جو اپنی ازدواجی زندگی اور اولاد سے مطمئن ہے، اس کیلئے اپنے سے زیادہ امیر یا کامیاب افراد سے حسد کرنے کا امکان نہیں، جب تک کہ اس کے پاس اپنے بچوں کی پرورش کیلئے کافی ذریعۂ آمدن موجود ہے۔انسانی مسرت کے اصل اجزاء اتنے سادہ ہیں کہ حجت پسند  لوگوں کیلئے یہ تسلیم کرنا مشکل ہوتا ہے کہ درحقیقت وہ کیا چیز ہے جس سے وہ محروم ہیں۔ جن حاسد خواتین کا ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ جو ہر خوش لباس عورت کو حسد بھری نظر سے دیکھتی ہیں، ان کے بارے میں یقین کرنا چاہیئے کہ وہ دراصل جذباتی لحاظ سے خوش نہیں ہوتیں۔ اگر حسد کے جذبے میں کمی لانا مطلوب ہے تو مرد و خواتین کی جذباتی تسکین کو یقینی بنانے کے ذرائع تلاش کرنے ہوں گے، ورنہ ہماری تہذیب دلوں میں پوشیدہ باہمی نفرت کے ہاتھوں دفن ہوجائے گی۔

پرانے زمانے میں لوگ صرف اپنے ہمسائیوں سے حسد کیا کرتے تھے، کیونکہ وہ دور رہنے والوں سے شناسا نہیں ہوتے تھے۔ اب تعلیم اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے وہ انسانی آبادی کے ایک بڑے حصے کو جانتے ہیں ۔ فلموں کے ذریعے وہ جانتے ہیں کہ امیر لوگ کس طرح زندگی گزارتے ہیں، اخبارات کے ذریعے وہ غیر اقوام کے منفی ہتھکنڈوں سے باخبر ہوتے ہیں اور سرکاری پراپیگنڈے سے وہ ان تمام لوگوں کی  شرارتوں سے آگاہ ہوتے ہیں جن کی جلد کا رنگ ان سے مختلف ہے۔زرد فام، سفید فاموں سے نفرت کرتے ہیں، سفید رنگت والے کالوں سے نفرت کرتے ہیں، وغیرہ۔آپ سمجھتے ہوں گے کہ یہ ساری نفرت پراپیگنڈے کا نتیجہ ہے، مگر آپ کا یہ خیال درست نہیں۔سوال یہ ہے کہ ایسا پراپیگنڈہ محبت کے مقابلے میں نفرت کو اُبھارنے میں کیوں کامیاب رہتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید تہذیب کے زیرِ اثر انسانی قلب محبت کی بجائے نفرت کے لیے زیادہ زرخیز بن چکا ہے۔ نفرت کیلئے مستعد ہونے کا سبب یہ ہے کہ انسانی قلب غیر مطمئن ہے اور اپنے وجود کی گہرائیوں میں محسوس کرتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی اعتبار سے زندگی کی معنویت کھو چکا ہے۔جب کبھی بچوں کے ساتھ آپ کا چڑیا گھر جانے کا اتفاق ہو تو آپ وہاں بندروں کی آنکھوں میں ، جب وہ اچھل کود نہ کر رہے ہوں یا میووں کے چھلکے نہ توڑ رہے ہوں، ایک عجیب سی اداسی دیکھیں گے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ محسوس کرتے ہوں کہ انھیں دراصل انسان ہونا چاہیئےتھا، لیکن وہ انسان بننے کا راز نہیں جان پا رہے۔کچھ ایسی ہی اداسی اور افسردگی جدید انسان کی روح میں بھی سرایت کر گئی ہے۔وہ جانتا ہے کہ اپنی موجودہ حالت سے کوئی بہتر حالت بھی اس کی پہنچ میں ہے ، لیکن یہ نہیں جانتا کہ اسے کہاں تلاش کرے۔اس پریشانی میں وہ اپنے ان ہم جنسوں پر غضبناک ہوتا ہے جو کہ اسی کی طرح گمراہ اور اسی کی طرح ناخوش ہیں۔

ارتقاء کے عمل میں ہم جس منزل کو پہنچ چکے ہیں وہ آخری نہیں۔ ہمیں جلد از جلد اس منزل سے گزر جانا چاہیئے، ورنہ ہم میں سے کچھ راستے ہی میں دم توڑ دیں گے اور باقی خوف اور تذبذب کے جنگل میں کہیں کُھو جائیں گے۔ اس لیے حسد بُرے اور خراب اثرات کا موجب سہی، لیکن یہ کوئی مکمل شیطانیت بھی نہیں ہے۔ جزوی طور پر یہ ایک’ دلیرانہ کرب‘  کا اظہار ہے، ان افراد کا کرب جو اندھیری رات میں کسی جائے سکون کی تلاش میں سرگرداں ہیں، مگر شاید صرف تباہی اور موت کی آغوش میں جانے کیلئے! اس کرب سے نجات پانے کیلئے جدید انسان کا اپنا دل بھی اتنا ہی وسیع کرنا ہوگا جتنا کہ اس نے اپنا دماغ کر لیا ہے۔ اسے اپنی ذات سے اوپر اٹھنا سیکھنا ہوگا تاکہ وہ  آفاقی سطح کی آزادی حاصل کر سکے۔

(مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل کی کتاب ”The Conquest of Happiness “سے ترجمہ)

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

No comments:

Post a Comment

محبت

  خوشی کا حصول کیسے؟   محبت برٹرینڈ رسل                     زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احسا...