خوشی کا حصول کیسے ؟
انسان ناخوش
کیوں ہوتا ہے؟
برٹرینڈ رسل
جانور اس وقت تک خوش ہی رہتے ہیں جب تک کہ ان کے پاس صحت و خوراک موجود رہتی ہے۔ تاہم انسانوں کے
بارے میں تاثر یہی ہے کہ اس جدید دور میں ان کی اکثریت خوش نہیں ہے، حالانکہ انھیں
ایسا ہونا چاہیئے۔ اگر آپ ذاتی طور پر غمگین ہیں تو پھر آپ یہ بھی مانیں گے کہ اس حوالے سے آپ تنہا نہیں ہیں۔ اگر
آپ زندگی میں خوش ہیں تو ذرا اپنے آپ سے پوچھیے کہ آپ کے کتنے دوست بھی آپ ہی کی
طرح خوش ہیں۔ اپنے دوستوں کا جائزہ لینے کے بعد ذرا چہروں کو پڑھنے کا فن سیکھئے
اور روزمرہ زندگی میں جن افراد سے آپ ملتے ہیں، ان کے ظاہری تاثرات کو محسوس کرنے
کی کوشش کیجیے۔ بقول شاعر
ملنے والے ہر چہرے پر
نشان ہے
ضُعف کا نشان، کَرب
کا نشان!
زندگی میں ہر طرف آپ کو پریشانی رقص کرتی دکھائی دے گی،
اگرچہ اس کے ناچنے کے انداز مختلف ہوں گے۔ذرا فرض کرلیجیے کہ آپ نیویارک میں ہیں جو
کہ دنیا کے جدید ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ کام کے اوقات کے دوران کسی مصروف گلی ،
کسی مرکزی شاہراہ یا شام میں کسی رقص گاہ (ڈانس کلب) میں کھڑے ہوجائیے۔ آپ محسوس
کریں گے کہ اس ہجوم میں ہر ایک کی اپنی ایک الجھن ہے۔ کام پر جاتے ہوئے ہر چہرے پر آپ کو اضطراب ، بوجھل سی
یکسوئی، بھاگ دوڑ کی تھکن کے علاوہ ہر چیز سے بیزاری اور اپنے ہم جنسوں کے وجود سے
بھی بےخبری دکھائی دے گی۔ ہفتے کے اختتام پر کسی مرکزی شارع پر آپ کوایسے مرد و زن
ملیں گے جن میں کچھ بہت زیادہ امیر ہوں گے اور جومسرت کی تلاش میں سرگرداں ہوں گے۔
قیمتی گاڑیوں میں سوارافراد ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی خواہش سے مغلوب ہوں گے
اور چند لمحوں کے لیے ان کا ذہن اس خواہش
سے آزاد ہوجائے تو ایک ناقابلِ اظہار قسم کی بوریت انھیں آجکڑے
گی اور پھر ان کے چہروں پر وہی ناخوشی ثبت ہوکر رہ جائے گی۔ایک لمحے اگر آپ کسی
کار سوار کسی خوشی سے دمکتے ہوئے چہروں کو دیکھیں گے ، تو اگلے لمحے وہی چہرے
ندامت سے شرابور پولیس کے سامنے کھڑے ہوں گے ، کیونکہ بےقابو مسرت نے کوئی حادثہ
کردیا ہوگا۔ یا ایک بار پھر لوگوں کوکسی خوشگوار شام میں سیروتفریح میں مشغول
دیکھیے۔ یہ سب مسرور ہونے کے ارادے سے لبریز ہوں گے۔ یہ سمجھا جاتا ہےکہ شراب شاہراہِ
مسرت ہے، اس لیے لوگ جلد ہی پی کر مدہوش ہوجاتے ہیں۔ شراب ان کی پریشانی کے صرف
اُس احساس کوختم کرتی ہے جسے ہوش و حواس
کے لمحات میں عقلی دلائل بھی زائل کر سکتے
ہیں۔
اس متنوع اقسام کی
ناخوشی کے اسباب جزوی طورپر ہمارے سماجی نظام میں موجود ہیں اور جزوی طور
پر انفرادی نفسیات میں، جو بذاتِ خود بھی بڑی حد تک سماجی نظام ہی کا نتیجہ ہوتی
ہے۔ مسرت کے فروغ کے لیے سماجی نظام میں مطلوب تبدیلیوں کے بارے میں میں پہلے بھی
لکھ چکا ہوں۔ جنگوں، معاشی استحصال اور ظلم و خوف کی تعلیم کے بارے میں مجھے اس
کتاب میں کچھ نہیں کہنا۔ جنگ و جدل سے بچاؤ کے لیے کسی ضابطے کی تلاش ہماری تہذیب کی ایک بڑی ضرورت ہے۔لیکن ایسے ضابطے کا ایسے میں کوئی
فائدہ نہیں جب لوگ اتنے افسردہ اور مضطرب ہوں کہ ایک دوسرے کی جانیں لینا انھیں
روزمرہ کے دباؤ (اسٹریس) سے کم بُرا محسوس ہو۔ غربت کے خاتمے کےلیے اقدامات ضروری
ہیں، مگر لوگوں کو خوشحال بنانے سے کیا ملے گا جب متمول افراد اپنی ذات میں دل
شکستہ ہوں؟ ظلم اور خوف کی تعلیم بُری ہے مگر جو لوگ انہی جذبات کے اسیر ہیں،
انھیں ان کے علاوہ او ر دیا بھی کیا جاسکتا ہے؟
یہ حقائق ہمیں فرد کے اس مسئلے کی طرف متوجہ کرتی ہےکہ ایک
مردیا ایک عورت آج کے دور میں خوشی کے حصول کےلیے کیا کرے؟اس سوال کے جواب کےلیے
میں خود کو ان افراد تک محدود رکھوں گا جو اپنی زندگیوں میں کسی غیر معمولی صدمے
یا بحران سے دوچار نہیں۔ میں فرض کروں گاکہ اس کتاب کے قاری کے پاس خوراک و رہائش
کا معقول انتظام ہے اور زندگی کے ضروری
معمولا ت انجام دہی کے لیے اچھی صحت موجود ہے۔میں زندگی کے بڑے حادثات مثلاً سب
افرادِ خانہ کا بچھڑ جانا، معاشرے میں کسی وجہ سے بدنام ہوجانا، وغیرہ جیسے مسائل
کو مدِنظر نہیں رکھوں گا۔ ایسے المیوں کے بارے میں کچھ کہا جاسکتا ہے، مگر یہ ان
باتوں سے مختلف ہوگا جو میں یہاں کہنا چاہتا ہوں۔میرا مقصد روزمرہ زندگی کی اس
ناخوشی کا علاج تجویز کرنا ہے جس سے جدید صنعتی معاشروں سے تعلق رکھنے والے اکثر
افراد دوچار ہوتے ہیں اور جو بظاہر ناقابلِ برداشت محسوس ہوتی ہے، کیونکہ کوئی
بیرونی سبب نہ ہونے کی وجہ سے یہ قابلِ بچاؤ بھی نہیں ہوتی۔ میرے خیال میں سے یہ
ناخوشی بڑی حد تک دنیا میں پائے جانے والے غلط تصورات، غیر صحیح اخلاقیات اور
نامناسب رویوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔یہ ناخوشی زندگی کے لیے انسان کے اندر فطری
طور پر موجود اس جوش اور طلب کو ختم کردیتی ہے جو ہر خوشی کا سرچشمہ
ہے۔یہ وہ فطری جذبات ہیں جن پر ایک فرد کو
اختیار حاصل ہوتا ہے۔میں ایک فرد کی زندگی میں ایسی تبدیلیاں تجویز کروں گا جن کے
ذریعے مسرت کی راہیں کُھل سکتی ہیں، بشرطیکہ فرد کو زندگی میں واجبی درجے کی خوش بختی حاصل رہے۔
شاید میری اس مجوزہ فلاسفی کا بہترین تعارف میری اپنی زندگی
کے بارے میں چند الفاظ ہوں گے۔ میں پیدائشی طور پر کوئی خوش وخرم انسان نہیں تھا۔
بچپن میں میرا پسندیدہ گیت ایک المیہ نغمہ تھا۔ پانچ سال کی عمر میں میں نے سوچا
کہ مجھے ستر سال تک جینا چاہیئے، لیکن عمر کے چودھویں برس ہی ایک ناقابلِ برداشت
قسم کی بیزاری اور بے کیفی مجھے آلیا۔بلوغت کے دور میں مجھے زندگی سے نفرت ہوچکی
تھی اور میں قریب قریب خودکشی کے مقام تک پہنچ چکا تھا، تاہم جس چیز نے مجھے مرنے
کے ارادے سے باز رکھا، وہ ”ریاضی“ کا مزید علم حاصل کرنے کی تمنا تھی۔ ماضی کے
برعکس اب میں اپنی زندگی سے لطف اندوز ہوتا ہوں، بلکہ میں کہہ سکتا ہوں کہ گزرتے
سالوں کے ساتھ میری مسرتِ حیات میں اضافہ ہوتا چلاجارہا ہے۔ اس کا ایک سبب تو یہ
ہے کہ میں نے اپنی دیرینہ خواہشات میں سے
بتدریج بہت سی پوری کرلی ہیں اور دوسرا سبب یہ ہےکہ میں نے ایسی بہت سی خواہشات سے
دست بردار ہوجانا سیکھ لیا جن کی تسکین
ممکن ہی نہیں تھی مثلاً حتمی اور یقینی علم کی خواہش۔ تاہم میری مسرت کا راز سب سے
بڑھ کریہ ہے کہ میں نے ہر وقت اپنے بارے میں سوچتے رہنے کا رویہ ترک کردیا۔ بہت سے
دوسرے افراد کی طرح پہلے میں بھی ہر وقت اپنے گناہوں، اپنی حماقتوں اور ذاتی
محرومیوں کو خود پر سوار کیے رکھتا تھااور اس کے نتیجے میں میں خود کو دنیا کا
بدقسمت ترین انسان خیال کرتاتھا۔ مگر پھر میں نے رفتہ رفتہ خود کو اپنی ذات اور
اپنی کوتاہیوں سے اوپر اٹھالینے کا فن سیکھ لیا۔ میں نے زیادہ سے زیادہ توجہ
بیرونی دنیا پر مرکوز کرنا شروع کردی۔ میں خارجی دنیا کے حالات، علوم کی مختلف
شاخوں اور اپنے قریبی احباب کے بارے میں سوچنے لگا۔ بلاشبہ ان بیرونی احوال کے ساتھ بھی مسائل موجود ہیں
مثلاً عالمی امن کسی بھی وقت تہہ و بالا ہوسکتا ہے، بعض علوم کا حصول دشوار بن
سکتا ہے اور دوست ہمیشہ کے لیے بچھڑ سکتے ہیں۔لیکن اس طرح کے صدمات زندگی کے لطف
کو اس طرح زائل نہیں کرتے جس طرح کہ اپنی ذات کے اندر جنم لینے والی بےاطمینانی
کرتی ہے۔
بیرونی دنیا کی چیزوں میں لی جانے والی ہر دلچسپی کسی صحت
مند اور مثبت سرگرمی کو جنم دیتی ہے، اس کے برعکس محض اپنی ذات میں کھوئے رہنا
کوئی مفید نتائج نہیں دیتا۔ اپنی ذات میں دلچسپی سےبس یہی ہوسکتا ہے کہ آپ اپنے
روزمرہ خیالات کی ایک ڈائری مرتب کرتے چلے جائیں، اپنا نفسیاتی تجزیہ کرڈالیں یا شاید
پھر کوئی صوفی درویش قسم کی چیز بن جائیں۔ لیکن صوفی طرز کے لوگ بھی اس وقت تک
ناخوش ہی رہیں گے جب تک وہ خود کو خانقاہ کی ریاضتوں میں مشغول کرکے اپنی ذات کو
فراموش نہ کردیں۔
اپنی ذات میں ڈوبے رہنے یعنی خود انجذابی (Self-absorption ) کی مختلف
صورتیں ہوتی ہیں۔ اس ضمن میں ہم ایک گناہگار (Sinner)، ایک خود پسند
(Narcissist)، اور ایک طاقت پسند (Megalomaniac) کو تین سب سے
عام پائی جانے والی اقسام کہہ سکتے ہیں۔
جب میں ”گناہگار“ کہتا ہوں تو میری مراد وہ شخص نہیں جو
گناہ کا ارتکاب کرتا ہے، بلکہ وہ شخص ہے جو گناہ کے احساس سےمغلوب ہوجاتا ہے۔ ایسا
شخص مسلسل اپنے آپ کو دُھتکارتا رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خدا کے نزدیک بھی وہ
ناپسندیدہ قرار پاچکا ہے۔ اس نے اپنی شخصیت کا ایک مثالی نمونہ تراش رکھا ہوتا ہے،
لیکن عملی زندگی میں وہ ایسا مثالی نہیں بن پاتا جیسا کہ وہ چاہتا ہے۔ اگر وہ
شعوری طور پر اخلاقی تصورات کو رد کردے تو
گناہ کااحساس لاشعور میں دفن ہو جاتا ہے جہاں سے وہ صرف نیند یا مدہوشی کی حالت ہی میں سر اُبھار
سکتا ہے۔ لاشعوری سطح پر وہ اُن سب باتوں پر یقین رکھتا ہے جو بچپن سے اس کے ذہن
میں بٹھادی گئی تھیں مثلاً شراب پینا بُرا ہے، کاروبار میں دھوکہ دینا غلط ہے،
جنسی لذت ناجائز چیز ہے، وغیرہ۔مگر عملاً وہ ان میں سے کسی سے بھی پرہیز نہیں
کرپاتا، چنانچہ یہ سب اسے گناہ اور تنزلی کے احساس میں مبتلا کرکے اندر سے کھوکھلا
کرتی چلی جاتی ہیں۔
خود پسندی (Narcissism) کا احساس ، گناہ کے احساس کے اُلٹ ہوتا ہے۔
اس میں انسان خود کو ایک بہتر فرد سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ دوسرے بھی اس کی
تحسین کریں۔ ایک حد تک یہ بالکل فطری جذبہ ہے، لیکن اپنی حدود سے باہر نکلنے کے
بعد یہ ایک بڑا فتنہ بن جاتا ہے۔ بہت سی خواتین بالخصوص اونچے طبقے کی بیگمات میں
دوسروں سے محبت کرنے کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے اور اس کی جگہ صرف چاہے جانے کی ایک
قوی خواہش لے لیتی ہے۔اس طرح کی عورت کو جب یقین ہوجاتا ہے کہ کوئی مرد اس کی چاہت
میں مبتلا ہوچکا ہے تو پھر اس کے نزدیک اس مرد کا مزید کوئی مصرف باقی نہیں رہتا۔
کچھ کم تعداد میں یہی مسئلہ مردوں کے ساتھ بھی پیش آتا ہے۔ جب خودنمائی کا گراف
اتنا بلند ہوجائے تو پھر کسی دوسرے انسان میں کوئی سچی کشش محسوس نہیں ہوتی اور
عشق و محبت کے عمل سے بھی کوئی حقیقی تسکین حاصل نہیں ہوتی۔ محبت کے علاوہ دوسرے
افراد میں دیگر دلچسپیاں لینے کا رجحان بھی سنگین حد تک کم ہوجاتا ہے۔مثال
کے طور پر ایک خودپسند جب کسی مشہور آرٹسٹ کو بھاری معاوضے لیتے دیکھتا ہے تو وہ بھی طالب علم بن جاتا ہے، لیکن آرٹ چونکہ اس کے
لیے اصل مطلوب تک پہنچنے کا محض ایک ذریعہ ہے، اس لیے آرٹ کی تکنیک اسے دلچسپ
محسوس نہیں ہوتی۔اس طرح خود پسند انسان
دنیا کی ہر چیز کو صرف اپنی ذات کے حوالے سے دیکھتا ہے۔ اس کا نتیجہ ناکامی اور
پریشانی کی صورت میں نکلتا ہے۔ کسی بھی
کام میں کامیابی کا انحصار اُس عمل
(پراسس) یا مواد میں دلچسپی لینے پر ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ انجام پاتا ہے یا جس پر وہ کام مشتمل ہوتا ہے ۔ایک کامیاب سیاست
دان پر اس وقت زوال آتا ہے جب وہ معاشرے کے مفادات پر اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح
دینے لگتا ہے۔جو شخص صرف اپنی ذات کو آگے رکھتا ہے، وہ دوسروں کے لیے قابلِ تحسین
نہیں ٹھہرتا۔ انجامِ کار جس فرد کی تمام تر مساعی کا مقصد دنیا کو اپنی تعریف کرنے
پر آمادہ کرنا ہو، وہ کبھی کامیابی حاصل نہیں کرپاتا۔ تاہم ایسا شخص اگر کامیاب
ہوجائے تو بھی وہ مکمل طور پر خوش نہیں ہوسکتا، اس لیے کہ انسانی فطرت کبھی بھی
کلیتاً خود بین (Self-centered)
نہیں ہوسکتی۔ یوں خود پسند انسان
بھی گناہگار کی طرح اپنی ذات کو ایک محدود نقطے پر سمیٹ لیتا ہے۔ قدیم زمانے کا انسان اپنے شکاری ہونے پر ناز کرتا تھا،
لیکن وہ شکار کے تعاقب سے بھی لطف اندوز ہوتا تھا۔ خود پسندی جب حد سے بڑھ جاتی ہے
تو ہر کام میں دلچسپی ختم ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں بیزاری اور بوریت کا عارضہ گھیر لیتا ہے۔اکثر
صورتوں میں خودپسندی کا سبب لاشعور میں پوشیدہ کمتری کا احساس ہوتا ہے اور اس کا
علاج اپنی عزتِ نفس کی آبیاری ہے، مگر اس کے لیے اپنی ذات سے باہر نکل کر خارجی دنیا میں دلچسپی لینا ضروری ہے۔
تحکم پسند انسان (Megalomaniac) خودپسند انسان
سے اس اعتبار سے جدا ہوتا ہے کہ وہ پُرکشش بننے کی بجائے طاقت ور بننے کی خواہش
رکھتا ہے اور چاہے جانے کی بجائے دوسروں کو خوف زدہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس
طبقے سے بہت سے خبطی اور تاریخ کے عظیم افراد تعلق رکھتے ہیں۔خودپسندی کی طرح طاقت
اور غلبے کی خواہش بھی انسانی فطرت کا ایک عنصر ہے، یہ بھی اسی وقت مسئلہ بنتی ہے
جب یہ حدود سے تجاوز کرجائے یا غیر حقیقی بنیادوں پر کھڑی ہو۔ ایسی صورت میں طاقت
کی خواہش انسان کو ناخوش یا احمق، دونوں میں سے کوئی ایک ضرور بنادیتی ہے۔ایک پاگل
شخص جو شہنشاہِ عالم ہونے کے خبط میں مبتلا ہے ، اپنی جگہ خوش ہوسکتا ہے، مگر اس کی
خوشی ایسی چیز نہیں جس پر کسی عقلمند انسان کو رشک آئے۔سکندرِ اعظم بھی دراصل اسی
قسم کا انسان تھا ، اس فرق کے ساتھ کہ وہ دیوانہ
اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔جب اس پر یہ واضح ہوا کہ وہ
تاریخ کا سب سے بڑا فاتح بن چکا ہے تو اس
نے خدا بننے کا ارادہ کرلیا۔کیا وہ ایک مسرور انسان تھا؟ اس کی شراب نوشی، اس کا
جارحانہ اشتعال، عورتوں سے اس کی بے نیازی اور خدائی کادعویٰ، یہ سب ظاہر کرتے ہیں
کہ اسے خوشی حاصل نہ تھی۔ انسانی فطرت کے کسی ایک عنصر کی دوسرے عناصر کی قیمت پر
نشوونما کبھی مکمل تسکین کا باعث نہیں بنتی اور نہ دنیا کو اپنی انانیت کی تکمیل کا ذریعہ تصور کرنا ہی کسی روحانی
طمانیت کا موجب ہوتا ہے۔
عام طور پر اقتدار پسندی، خواہ دیوانگی کی صورت میں ہو یا
بظاہر عاقلانہ صورت میں ، دراصل غیر معمولی عاجزی کا نتیجہ ہوتی ہے۔نپولین کو
اسکول میں احساسِ کمتری کا سامنا تھا جہاں اس کے ہم جماعت خوشحال اور حاکم طبقے سے
تعلق رکھتے تھے، جبکہ وہ ایک وظیفہ خوار طالب علم تھا۔ اقتدار حاصل کرلینے کے بعد
اسے یہ تسکین حاصل ہوئی کہ اس کے ہم جماعت اب اس کے سامنے جھکے ہوئے ہیں۔واقعی اس
کے لیے بڑی خوش بختی کی بات ہوئی ! لیکن چونکہ کوئی انسان قادرِ مطلق نہیں
ہوسکتا، اس لیے ایسی زندگی جو ساری کی ساری اقتدار کی خواہش سے عبارت ہو، بالآخر
ایسی رکاوٹوں سے دوچار ہوتی ہے جنھیں عبور کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اپنے حدود کے اندر
طاقت انسانی خوشی میں اضافہ کرسکتی ہے، لیکن زندگی کے واحد مقصد کے طور پر یہ
بیرونی نہیں تو اندرونی شکست کا باعث ضرور بنتی ہے۔
یہ ظاہر ہے کہ ناخوشی کے نفسیاتی اسباب متعدد اور متنوع
ہوتے ہیں۔ لیکن ان سب میں کچھ مشترک بات ہوتی ہے۔ ایک انتہائی درجے کا ناخوش انسان
وہ فرد ہوتا ہے جس کی زندگی کے ابتدائی حصے میں کوئی خواہش پوری نہیں ہوئی ہوتی
اور پھر وہ باقی زندگی اس خواہش کو اپنی تمام سرگرمیوں کا محور بناڈالتا ہے جس کے
نتیجے میں اس کی زندگی بالکل یک رخی ہوجاتی ہے،جبکہ اس کا زیادہ زور بھی تدبیروں
کی بجائے صرف مطلوب نتائج کے حصول پر ہوتا ہے۔
موجودہ دور میں ایک اور رویہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ
ایک انسان خود کو اتنا بے بس خیال کرنے لگتا ہےکہ وہ خوشی کی تلاش ترک کرکے خود کو
بے حس اور غافل بنانا شروع کردیتا ہے۔ وہ اپنے اندر زندگی کا احساس کم کرکےحالات کی تلخی کو قابلِ برداشت بنا نے
کی کوشش کرتا ہے۔اس کی ایک صورت شراب نوشی ہے جو کہ دراصل ایک طرح کی عارضی خودکشی
ہے۔ شراب انسان کو خوشی کی کوئی مثبت کیفیت نہیں دیتی، بلکہ محض غم کے احساس کوکچھ
ساعتوں کے لیے روک دیتی ہے۔ خود پسند اور
طاقت پسند انسان تو خیال کرتے ہیں کہ خوشی کا حصول ممکن ہے، اگرچہ وہ اس کے لیے
غلط تدابیر اختیا رکرتے ہیں، لیکن نشے میں مدہوش انسان خوشی کی ساری امیدیں ختم کر
لیتا ہے۔ اب وہ خوشی کی بجائے بے خودی کا متلاشی ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں کرنے کا
پہلا کام یہ ہے کہ ایسے انسان کو باور کرایا جائے کہ خوشی ایک مطلوب شے ہے۔ ناخوش
افراد بھی بے خوابی میں مبتلا لوگوں کی طرح اپنے مسئلے کو کو فخر سے بیان کرتے ہیں
جیسے یہ کوئی خوبی ہو۔ ان کا یہ فخر اس لومڑی کی طرح ہوتا ہے جس نے اپنی دُم کھو
دی تھی۔ علاج کے طور پر ایسے لوگوں کو یہ سمجھا نا ہوگا کہ وہ کس طرح اپنی نئی دُم
اُگاسکتے ہیں۔ اگر انسانوں کو خوشی کے حصول کا کوئی راستہ دکھا دیا جائے تو بہت ہی
کم افراد ہوں گے جو خوشی کی جگہ غم کو ترجیح دیں۔ غم پسند افراد بھی اس دنیا میں
ہوتے ہیں، لیکن یہ اقلیت میں ہونے کی وجہ سے قابلِ ذکر نہیں۔ اس لیے میں فرض کروں
گا کہ میرا قاری ناخوش رہنے کی بجائے مسرور ہونا چاہے گا۔ تاہم میں نہیں جانتا کہ
کہ میں اس کے اندر خوشی کی خواہش اجاگر کرنے میں کوئی مدد کرسکوں گا یا نہیں، مگر
کوشش کر لینے میں کوئی ہرج بھی نہیں ہے۔
(مشہور فلسفی برٹرینڈ
رسل کی کتاب ”The Conquest of
Happiness “سے
ترجمہ)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭