Friday, July 16, 2021

بُوریت اور جوش

 

خوشی کا حصول کیسے؟

بُوریت اور جوش

بوریت انسانی کردار کا ایسا تجربہ ہے جس پر میری رائے میں، ماہرین  نے قرار واقعی توجہ نہیں دی ہے۔ میرے تاثر کے مطابق اسے انسانی تاریخ میں اہم محرک کی حیثیت حاصل رہی ہے اور موجودہ دور میں یہ پہلے سے بھی زیادہ  اہمیت حاصل کرچکا ہے۔ بوریت بظاہر  ایک خالصتاًانسانی احساس ہے۔ جانور بھی بعض دفعہ بے چین اور جمائیاں لیتے دکھائی دیتے ہیں، مگر میں نہیں سمجھتا کہ وہ بوریت جیسی کوئی چیز محسوس کرتے ہوں گے۔ زیادہ وقت وہ خوراک یا دشمن ، یا پھر دونوں کی تلاش میں رہتے ہیں، جبکہ کچھ وقت وظیفۂ تولید اور  جسم کو گرمانے میں گزارتے ہیں۔حتیٰ کہ جب وہ ناخوش  ہوتے ہیں تو بھی میرے خیال میں وہ بور نہیں ہوتے۔شاید اس حوالے سے چمپینزی ہم سے کچھ مشابہت رکھتے ہوں، لیکن ان کی صحبت کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے میں  کوئی رائے نہیں دے سکتا۔

بوریت کا ایک اہم لازمہ اپنے موجودہ حال اور کسی دوسرے زیادہ خوشگوار حال میں تقابل کا تصور ہے۔ یہ بھی اس کاایک لازمہ ہے کہ اس کیفیت میں انسان کی صلاحیتیں پوری طرح بروئے کار نہیں آرہی ہوتیں۔ جان کے درپے دشمنوں سے بھاگنے کا عمل اگرچہ ناخوشگوار ہوتا ہے ، لیکن بوریقیناً  نہیں ہوتا۔ پھانسی کے تختے پر چڑھتا ہوا انسان کبھی بوریت محسوس نہیں کرے گا، مگر یہ کہ وہ اپنے خوف پر قابو پالینے والی کوئی فوق الاانسانی ہمت رکھتا ہو۔ اسی طرح کوئی سیاستدان اپنی تقریر کے دوران بور نہیں ہوتا۔ بوریت دراصل بعض واقعات کے لیے رُکی ہوئی خواہش ہے جو ضروری نہیں کہ خوشگوار ہوں، مگر وہ بوریت کے شکار انسان کی زندگی میں ایسی تبدیلیاں لاسکتے ہوں جن سے اسے اپنا ایک دن دوسرے سے مختلف لگے۔ بوریت کا متضاد لفظ خوشی نہیں ، بلکہ جوش ہے۔

جوش کی طلب انسانی فطرت میں بہت گہری ہوتی ہے، خاص طور پر مردوں میں۔میرے خیال سے تاریخ کے شکاری دور میں یہ خواہش بعد کے ادوار کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے پوری ہوجایا کرتی تھی۔اس دور میں ایک وحشی انسان اپنے شوہر کے پہلو میں لیٹی عورت کے ساتھ یہ جانتے ہوئے بھی بدکاری کا ارادہ کر لیتا تھا کہ اگر اس کا شوہر جاگ گیا تو پلک جھپکتے میں اسے موت کے گھاٹ اتار دے گا۔ میرے خیال میں یہ صورت بورکُن نہیں ہوتی تھی۔ لیکن پھر زراعت کے آغاز سے  لوگوں کی زندگی سست سی ہوگئی، ماسوائے طبقۂ امراء کے جو اُس وقت بھی اور اب بھی  شکاری دور ہی میں جی  رہے ہیں!آج ہم مشینی زندگی کی مصیبت کے بارے میں بہت تنقید سنتے ہیں، لیکن میرے خیال میں پرانے طریقوں سے کاشتکاری بھی ایسا ہی مسئلہ تھی۔ بعض دانشوروں کی رائے کے برعکس ، میں کہوں گا کہ مشینی دور نے مجموعی طور پر انسانی بوریت میں کمی پید اکی ہے۔ آج کا مزدور اپنا کام جلد ختم کرکے شام کے وقت ایسی تفریحات میں حصہ لے سکتا جن کا تصور بھی پرانی طرز کے قصبوں میں محال تھا۔ذرا قرونِ وسطیٰ کے ایک گاؤں کے موسمِ سرما کا تصور کیجیے۔ وہاں لوگ شام یا رات کے اوقات میں پڑھ لکھ نہیں سکتے تھے، کیونکہ ان کے پاس روشنی کے لیے صرف موم بتیاں ہوتی تھیں جن کے جلنے سے سردی سے محفوظ واحد کمرہ بھی دھوئیں سے بھر جاتا تھا۔سڑکیں انتہائی دشوار گزار ہوتی تھیں، اس لیے ایک سے دوسرے گاؤں میں جانے والا کوئی نہ ہوتا تھا۔دوسرے اسباب کے ساتھ یہ بوریت بھی تھی جس کی وجہ سے لوگ اس دور میں جادوگرنیوں کے شکار کی طرف مائل ہوئے کیونکہ سردیوں کی شامیں گزارنے کا اس کے علاوہ کوئی اور دلچسپ  مشغلہ میسر نہ تھا۔

ہم اپنے پُرکھوں کے مقابلے میں کم بوریت  کے شکار ہیں، لیکن ہم بوریت کے خوف میں زیادہ مبتلا ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بوریت انسان کا مقدر نہیں، بلکہ جوش و ہیجان پیدا کرکے اس سے بچا سکتا ہے۔ امریکہ میں ہر ایک کے پاس گاڑی ہے جس کے ذریعے وہ منٹوں میں کسی سینما گھر کے پاس جا کھڑا ہوتا ہے۔ گھریلو خواتین کو بھی اپنی نانیوں دادیوں کےمقابلے میں تفریح کے زیادہ ذرائع میسر ہیں۔جوں جوں ہم سماجی طبقات میں اوپر کی طرف جاتے ہیں، جوش و ترنگ کی جستجو شدید سے شدید تر ہوتی نظر آتی ہے۔جن کے پاس وسائل ہیں ، وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے ہیں اور نت نئی جگہوں پر کیف و مستی تلاش کرتے ہیں۔ جو لوگ معاشی طور پر تنگ دستی کا شکار ہیں ، وہ بوریت سے بھی اپنا حصہ پاتے ہیں۔ لیکن جن کےپاس اتنی دولت ہے جو انھیں کام سے بے نیاز کردے، وہ بوریت سے پاک ایک مثالی زندگی گزارتے ہیں۔ میں ایسی زندگی کی خواہش کو غلط نہیں کہہ سکتا، لیکن دوسری مثالی چیزوں کی طرح ایسی زندگی کا حصول بھی آسان نہیں۔ ہر صبح گزشتہ شام کی طرح کیف آور نہیں ہوسکتی۔ نوجوانی کےبعد عمر رسیدگی اور ممکنہ طور پر بڑھاپا ہوگا۔ بیس سال کی عمر میں انسان خیال کرتا ہے کہ زندگی تیس پر ختم ہوجائے گی۔ لیکن میں اٹھاون برس کی عمر میں ایسا نہیں سمجھتا۔  غالباً دولت کی طرح جسمانی طاقت کی فضول خرچی بھی درست نہیں۔ شاید زندگی میں کچھ نہ کچھ بوریت ناگزیر ہے۔ تاہم بوریت سے بچنے کی خواہش فطری ہے اور انسان کی سب ہی نسلوں یہ خواہش ظاہر کرتی آرہی ہیں۔جنگیں، مخالفین کی نسل کشی، تعذیب، یہ سب بوریت سے فرار ہی کی ترکیبیں تھیں، حتیٰ کہ پڑوسیوں سے جھگڑنا بھی کچھ نہ کرنے سے بہتر سمجھا گیا۔ اس لیے بوریت کا مسئلہ معلمینِ اخلاق کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ تاریخ میں آدھے انسانی گناہ اسی سے بچنے کی کوشش میں سرزد ہوئے۔

تاہم بوریت کوئی برائی نہیں۔ اس کی دو اقسام ہیں: ایک جو منشیات کے نہ ملنے سے پیدا ہوتی ہے اور دوسری جو جسمانی سرگرمیاں نہ ہونے سے جنم لیتی ہے۔ میں سکون آور دواؤں کے استعمال کی پوری مخالفت نہیں کرسکتا۔ ایسی صورتیں ہوتی ہیں جب ایک ماہر معالج خود مریض کے لیے افیون تجویز کرتا ہے اور میرے خیال میں ایسی صورتیں اتنی نادر بھی نہیں ہوتیں جتنا کہ ایسی دواؤں کے مخالفین سمجھتے ہیں۔ تاہم نشے کی لت کو محض انسانی طلب پر بھی نہیں چھوڑا جاسکتا۔ نشہ آور دوا کی عدم دستیابی سے عادی فرد جو بوریت محسوس کرتا ہے، اس کے لیے میں وقت کے سوا کوئی علاج تجویز نہیں کرسکتا۔ جو کچھ نشہ آور دواؤں کے بارے میں درست ہے، وہی ہر قسم کے جوش و ہیجان کے بارے میں بھی کہا جاسکتاہے۔ جوش اور انگیخت سے بھر پور زندگی تھکادینے والی ہوتی ہے جس میں ہیجان کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل تحریک کی ضرورت رہتی ہے۔بہت زیادہ جوشیلی زندگی کا عادی فرد اس شخص کی طرح ہوتا ہےجسے مرچوں کی غیر فطری طلب ہوتی ہے اور وہ ایسی بڑی  مقدار منہ میں ڈال لینے کے بعد بھی ان کا ذائقہ محسوس نہیں کر پاتا جس سے کسی دوسرے انسان کی گلابند ہوسکتا ہے۔زندگی میں بہت زیادہ جوش نہ صرف صحت کے لیے  مضر ہوسکتا ہے، بلکہ  خوشی کی ہر فطری کیفیت کو یوں مسخ کر دیتا ہے کہ انسان کو جسمانی راحت کی بجائےہر وقت ایک گُدگُدی کی طلب رہتی ہے، ذہانت کی جگہ عیاری لے لیتی ہے اور حُسن کو دیکھنے سے جمالیاتی تسکین کی بجائے بے قراری سی محسوس ہوتی ہے۔میں جوش پر حد سے زیادہ اعتراض نہیں کرنا چاہتا، بلاشبہ زندگی میں ایک حد تک جوش اچھی بات ہے، لیکن کسی بھی دوسری چیز کی طرح اس کی زیادتی بھی مسئلہ بنتی ہے۔ زندگی میں جوش کی بہت زیادہ کمی غیرفطری اُکتاہٹ اور بہت زیادہ موجودگی مُردنی پیداکرتی ہے۔ چنانچہ بوریت کو ایک حد تک برداشت کرنے کی صلاحیت ایک پُرمسرت زندگی کے لیے ضروری ہے اور یہ فن ہر نوجوان کو سکھایا جانا چاہیئے۔

ہر عظیم کتاب میں بعض حصے بور ہوتے ہیں اور ہر بڑے آدمی کی سوانح میں غیر دلچسپ واقعات کا سلسلہ بھی ہوتا ہے،حتیٰ کہ کثیر الفروخت (بیسٹ سیلنگ) ناولوں میں بھی بور کردینے والے اقتباسات ہوتے ہیں۔یہ سمجھا جا سکتا ہےکہ سکون اور جمود عظیم انسانوں کی زندگیوں کا ایک خاصہ رہا ہے۔ سقراط کی زندگی کا ایک بڑا حصہ خاموشی پر مبنی تھا۔ فلسفی کانٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زندگی بھر اپنے شہر سے دس میل سے زیادہ دور نہیں گیا۔ دنیا کا سفر کرلینے  کے بعد ڈارون نے بقیہ زندگی گھر پر ہی گزاری۔ کارل مارکس نے چند انقلابات برپا کرنے کے بعد زندگی کے باقی ایام برٹش میوزیم میں گزارنے کا فیصلہ کیا تھا۔ دنیا میں کوئی بڑاکام مسلسل سعی کے بغیر انجام نہیں دیا جاسکتا، جس میں اتنی توانائی صرف ہوجاتی ہے کہ پُرجوش دلچسپیوں کے لیے بہت کم بچتی ہے اور پھر انسان  قوتِ کار کی بحالی کے لیے صرف تعطیلات ہی منا سکتا ہے۔

یکسانیت والی زندگی کو برداشت کرنے کی صلاحیت بچپن ہی سے حاصل ہونی چاہیئے۔ جدید دور کے والدین پر میرا ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ان کی من پسند چیزیں متواتر دے کر انھیں ہر وقت خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ بچے کی زندگی میں جمود اور یکسانیت کی گنجائش نہیں چھوڑتے۔ بچوں کو تفریح خاص خاص موقعوں پر ہی دی جانی چاہیئے۔ بچپن کی اصل خوشی یہ ہونی چاہیئے کہ وہ اپنے ماحول سے کاوش و ایجاد کے ذریعے اپنے لیے خود دلچسپیاں کشید کرے۔ایسی تفریحات کبھی کبھار ہی ہونی چاہیئں جو بہت پُرجوش مگر کسی جسمانی سرگرمی کے بغیر ہوں۔بچہ اسی وقت اچھی طرح سے نشوونما پاتا ہے جب اسے ایک نوخیز پودے کی طرح اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے۔نونہالوں کے لیے بہت زیادہ سفری مہمات  اور متنوع رنگینیاں مفید نہیں ہوتیں، کیونکہ ان کی وجہ سے بڑے ہوکر وہ زندگی میں سود مند یکسانیت کو برداشت نہیں کرپاتے۔میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ یکسانیت کوئی ہر حال میں مفید شے ہے، میری مراد یہ ہے کہ زندگی میں بعض اچھی باتیں صرف اسی وقت پیش آتی ہیں جب پہلے سے کسی حد تک یکسانیت موجود ہو۔ جو انسان زندگی میں کوئی سنجیدہ تعمیری مقصد رکھتا ہو، وہ رضاکارانہ طور پر بوریت کو ایک ناگزیر برائی جان کر برداشت کرے گا۔ لیکن کوئی تعمیری مقصد ایسے ذہن میں پیدا نہیں ہوتا جو ہمہ وقت رنگارنگ مشاغل کی طرف متوجہ رہتا ہو، کیونکہ ایسا ذہن مستقبل بعید کے کسی حاصل پر مرکوز  نہیں ہوسکتا۔ان سب باتوں کی وجہ سے جو نسل بوریت برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، وہ چھوٹے انسانوں پر مشتمل ایسی نسل ہوگی جس  کو فطرت اس کی تیز رفتاری کی وجہ سے طلاق دے چکی ہو اور جس  کی جسمانی قوتیں گملے کے پھولوں کی طرح رفتہ رفتہ مُرجھا گئی ہوں۔

میں صوفیانہ طرز کی زبان استعمال کرنا پسند نہیں کرتا جو سائنسی سے زیادہ شاعرانہ ہوتی ہے، لیکن پھر بھی نہیں جانتا کہ ایسی زبان کے بغیر اپنا مدعا کیسے بیان کروں۔اپنے بارے میں ہمارا جو بھی خیال ہو، دراصل ہم اس زمین کی مخلوق ہیں اور ہماری زندگی زمین کی زندگی کا ایک حصہ ہے۔پودوں اور جانوروں کی طرح ہم بھی اپنی غذا زمین سے ہی حاصل کرتے ہیں۔ زمین کے تمام عوامل میں ایک ٹھہراؤ  اور دھیما پن ہے۔ خزاں اور سردی کا موسم بھی اس کے لیے اتنا ہی اہم جتنا کہ بہار اور گرمی کا موسم۔زمین کے لیے سکون بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنی کہ گردش ۔ بڑے آدمی کے مقابلے میں بچے کے لیے یہ زیادہ ضروری ہے کہ وہ ارضی زندگی کے تغیر و ٹھیراؤ سے وابستہ رہے۔ انسانی جسم صدیوں سے اس زمینی ماحول سے مانوس چلا آرہا ہے۔ میں نے دو سال کے ایک بچے کو دیکھا جو لندن میں پرورش پاتا رہا تھا اور پھر اسے پہلی بار ایک سرسبز گاؤں میں لایا گیا۔ وہ سردیوں کا موسم تھا اور ہر چیز بھیگی ہوئی تھی۔ بڑوں کے لیے ایسے ماحول میں دلچسپی کی کوئی بات نہ تھی، لیکن وہاں آکر اس بچے میں ایک عجیب سی سرشاری پیدا ہوئی،  وہ گیلی زمین پر گھٹنوں کے بل چلنے لگااور اپنا چہرہ گھاس پر رکھ دیا۔ پھر اس کے منہ سے ایک مسرت بھری کلکاری نکلی۔ وہ بچہ اس وقت ایک ایسی سادہ اور فطری سی فرحت محسوس کر رہا تھا جس کا انسان ابتدا سے تجربہ کرتا آیا ہے۔فطرت کے ساتھ ہم آہنگی سے انسان کی جو حیاتیاتی ضرورت تسکین پاتی ہے، وہ اتنی اہم ہے کہ اس سے محروم افراد شاذ ہی مکمل طور پر عاقل ہوپاتے ہیں۔بہت سی تفریحات جن میں ہم پتے بازی(تاش)  کی مثال لے سکتے ہیں،میں زمین سے وابستگی کا عنصر مفقود ہوتا ہے۔ایسی تفریحات اپنے اختتام پر انسان کو ایک انجانی سی بے کیفی میں مبتلا کرجاتی ہیں۔ایسی دلچسپیاں ہرگز وہ کیفیت پیدانہیں کرتیں جسے خوشی کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس وہ تفریحی مشاغل جوہمیں زمین کے ساتھ جوڑتے ہیں، اپنے اندر تسکین بخشی کا زبردست عنصر رکھتے ہیں اور ان کے اختتام پر بھی فرحت و انبساط کے احساسات تادیر باقی رہتے ہیں۔ میں جس فرق پر زور دے رہا ہوں، وہ سادہ مشاغل سے لے کر اعلیٰ تہذیبی سرگرمیوں تک کے لیے درست ہے۔دو سال کےبچے نے جس مسرت کا تجربہ کیا، وہ زمینی حیات سے رابطے کی ایک ادنیٰ صورت ہے۔ ایسے رابطے کی ایک اعلیٰ صورت شاعری ہے۔ شکسپیئر کی شاعری کو جس چیز نے عظیم بنایا، وہ اس کے اندر موجود خوشی کا وہ تاثر ہے جس کے تحت اس بچے نےبے اختیار گھاس کا لمس لیا تھا۔ اس کے اشعار میں آپ کو ایسی مسرت کا ایک مہذب اظہار ملے گا جسے دو سال کے بچے کے ہاں صرف بے ساختہ کِلکاری کی ہی صورت مل سکی تھی۔ یا پھر محبت اور محض جنسیت کے درمیان فرق کو لیجیے۔ محبت کے عمل میں انسان کی ذات اسی طرح ایک تازگی حاصل کرتی ہے جس طرح خشک سالی کے بعد کی بارش سے پودے کِھل اٹھتے ہیں۔ محبت کے جذبات سے عاری جنسیت میں اس طرح کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ لمحاتی لذت جب ختم ہوتی ہےتوصرف  تھکن، کراہت اور خالی پن کے احساسات باقی رہ جاتے ہیں۔محبت حیاتِ ارض  کا ایک حصہ ہے، جبکہ  حیوانی  جنسیت کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔

بوریت کی ایک مخصوص صورت جسے جدید دور کے شہری افراد محسوس کرتے ہیں، زمین کی زندگی سے دُوری کی وجہ سے ہے۔یہ دُوری زندگی میں تشنگی سی پیدا کرتی ہے۔ ایسے خوش نصیب افراد جن کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ اپنی زندگی کا انداز خود منتخب کرسکتے ہیں، جس قسم کی بوریت کا شکار ہوتے ہیں، وہ دراصل بوریت کے خوف کے سبب ہوتی ہے۔ وہ ایک قسم کی بوریت سے بھاگ کردوسری زیادہ بری قسم کی بوریت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ آخری بات یہ ہے کہ ایک پُرمسرت زندگی بڑی حد تک ایک پُرسکون زندگی ہوتی ہے، کیونکہ حقیقی خوشی صرف ایک ٹھہرے ہوئے ماحول ہی میں جنم لے سکتی ہے۔

(مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل کی کتاب ”The Conquest of Happiness “سے ترجمہ)

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

 

 

Tuesday, July 6, 2021

مسابقت

 

خوشی کا حصول کیسے؟

مسابقت (Competition)

برٹرینڈ رسل

امریکا میں اگر آپ کسی بھی شخص یا برطانیہ میں کسی بھی بزنس مین سے دریا فت کریں کہ اس کے نزدیک زندگی کے لطف  کو بدمزہ کرنے والی شے کون سی ہے؟ تو اس جواب ہوگا:”زندگی کے لیے  جدوجہد۔“ یہ بات وہ پوری سنجیدگی سے کہے گا۔ ایک لحاظ سے یہ بات درست بھی ہے، لیکن دوسرے اہم پہلو سے یہ اتنی ہی غلط بھی ہے۔ اپنی بقاء  کی آزمائش  ایک واقعہ ہے جو بلاشبہ عملی زندگی میں رونما ہوتا ہےاور بدنصیبی کی صورت میں  یہ ہم میں سے کسی کے ساتھ بھی پیش آسکتا ہے۔مثلاً ایک ناول میں ہیرو نے خود کوایک بھٹکی ہوئی کشتی میں پایا جہاں اس کے علاوہ ایک آدمی اور تھا۔ کشتی میں کھانے کو کوئی چیز نہ تھی، سوائے اس کے  وہ خود ہی ایک دوسرے کو کھاجائیں۔ جب ان دونوں آدمیوں کو کھانے کو کچھ نہ ملا تو ان کے درمیان صحیح معنوں میں زندگی کے لیے مقابلہ شروع ہوا۔ ناول کا ہیرو یہ جنگ جیت گیا، لیکن اس کے بعد وہ ساری زندگی ایک سبزی خور بن کر رہا!

تاہم ایک بزنس مین جب ’زندگی کی جدوجہد‘ کے الفاظ بولتا ہے تو اس کی مراد یہ نہیں ہوتی۔ یہ دراصل ایک غیر موزوں فقرہ ہے جو وہ  زندگی کی ایک عام حقیقت کو سنگین تر بنانے کی خاطر کہتا ہے۔اس سے پوچھا جائے کہ وہ کتنے ایسے آدمیوں کو جانتا ہے جو بھوک سے ہلاک ہوئے یا یہ  کہ اس کے ان دوستوں کا کیا بنا جودیوالیہ ہوگئے؟ ہر کوئی جانتا ہے کہ دیوالیہ ہوجانے والے بزنس مین بھی کم از کم  مادی آسائشوں کے اعتبار سے ان لوگوں سے بہتر ہی رہتے ہیں جو کبھی بھی اتنے امیر نہیں ہوپاتے کہ دیوالیہ ہوسکیں۔ پس دراصل جب لوگ ’زندگی کے لیے کشمکش‘ جیسے الفاظ کہتے ہیں تو ان کامطلب حقیقتاً کامیابی کے لیے جدوجہد ہوتا ہے۔ جب لوگ ایسی جدوجہد میں مشغول ہوتے ہیں تو انھیں اس بات کا خدشہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنے صبح کے ناشتے کا سامان نہیں کرسکیں گے، بلکہ انھیں تشویش ہوتی ہے کہ وہ مادی شان و شوکت  میں اپنے پڑوسیوں کو نیچا نہیں دکھا پائیں گے۔

یہ بات عجیب ہے کہ لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے  کہ وہ بہرحال کسی ایسے شکنجے میں نہیں پھنس  گئے ہیں جس سے وہ آزادی حاصل نہ کرسکتے ہوں۔میں ان لوگوں کی بات کررہا ہوں جو اونچے کاروباری طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور جو اتنی قابلِ رشک آمدنی اور بینک بیلنس رکھتے ہیں کہ اگر وہ چاہیں تو اسی پر بس کرسکتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے میں انھیں ویسی ہی سبکی محسوس ہوتی ہے جیسے میدانِ جنگ میں مخالف فوجوں کے سامنے ہتھیار پھینک دیے جائیں۔تاہم اگر ان سے دریافت کیا جائے کہ وہ اپنے کام سے کون سی سماجی خدمت انجام دے رہے ہیں تو وہ جواب کچھ کہنے سے قاصر ہی رہیں گے، تاوقتیکہ وہ ’سرگرم زندگی‘ کے بارے میں پائے جانے والے فرسودہ تصورات سے نجات حاصل کرلیں۔

ایک ایسے ہی شخص کی زندگی کو لیجیے۔ہم فرض کرتے ہیں کہ اس شخص کے پاس ایک عالیشان گھر، ایک خُوبرو بیوی اور پیارے پیارے بچے ہیں۔وہ صبح سویرے اس وقت بیدار ہوتا ہے جب اس کے بیوی بچے ابھی محوِ خواب ہوتے ہیں اور وہ تیار ہوکر جلدی سے دفتر کا رخ کرتا ہے۔ دفتر میں اس کی ذمے داری ہے کہ وہ ایک اچھے منتظم کی تمام مثالی خوبیوں کا مظاہرہ کرے، چنانچہ وہ مخصوص انداز میں جبڑے بھینچ کر حاکمانہ اور بارُعب انداز میں لوگوں سے مخاطب ہوتا ہےاور پیشانی پر فراست بھری شکنیں سجائے  وہ سب ہی کو متاثر کرتا ہے ، سوائے اپنے آفس بوائے کے! وہ خطوط ٹائپ کرواتا ہے، اہم افراد سے فون پر بات چیت کرتا ہے، کاروباری دنیا کے حالات کا جائزہ لیتا ہے اور پھر کسی ایسے شخص کے ساتھ لنچ کرتا ہے جس کے ساتھ  کوئی اہم کاروباری معاملہ طے  پاجانے کی امید ہوتی ہے۔رات کو وہ تھکا ہارا گھر لوٹتا ہے اور اس کے پاس بس اتنا وقت ہوتا ہے کہ ڈنر کے لیے مناسب لباس پہن لے۔رات کے کھانے پر اُسے اور کئی دوسرے تھکن زدہ افراد کو یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ وہ گھر کی اُن خواتین کی صحبت سے بہت لطف اندوز ہورہے ہیں جن کے پاس ابھی تھکن پھٹکی بھی نہیں ہوتی۔ اسی کیفیت میں اس بے چارے کو نجانے کتنا وقت گزارنا پڑتا ہے۔ آخر کار وہ سو جاتا ہے اور چند گھنٹوں کے لیے تناؤ سے نجات مل جاتی ہے۔

اس شخص کی سرگرم زندگی دراصل ”100کلومیٹر کی دوڑ“ والی نفسیات پر مبنی  ہے  ، ایک ایسی دوڑ جس کا آخری مقام قبر ہے۔وہ اپنے بچوں کے بارے میں کیا جانتا ہے؟ سارا ہفتہ اس کے دن کے اوقات دفتر میں گزرتے ہیں اور اتوار کے روز وہ گالف کلب میں رہتا ہے۔ وہ اپنی شریکِ حیات کے بارے میں کیا جانتا ہے؟ جسے وہ صبح خوابیدہ حالت میں چھوڑ کر گھر سے نکل جاتا ہے۔ شام کی تقریبات میں وہ اور اس کی بیوی ہمہ وقت اپنے سماجی فرائض کی انجام دہی میں غرق رہتے ہیں جس کی وجہ سے انھیں آپس میں کوئی بےتکلف مکالمہ کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ غالباً اس کے کوئی مرد دوست نہیں  جو اس کے نزدیک اہم ہوں، اگرچہ ایسے متعدد افراد ہیں جن کی صحبت اسے خوشگوار محسوس ہوتی ہے یا وہ چاہتا ہے کہ اسے خوشگوار لگے۔موسموں کے تغیر و تبدل کو وہ صرف مارکیٹ کے رجحانات کے حوالے سے دیکھتا ہے۔ اس نے غالباً غیر ممالک بھی دیکھ رکھے ہیں، لیکن بیزاری اور نیم دلی کے ساتھ۔ کتابیں اسے غیر دلچسپ لگتی ہیں اور موسیقی عامیانہ محسوس ہوتی ہے۔ سال بہ سال اس کی تنہائی بڑھتی چلی جاتی ہے، دماغی بوجھ میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور اس کی بزنس کے علاوہ کی زندگی میں بے کیفی کا گراف اوپر چڑھتا چلاجاتا ہے۔

میں نے خود ایک ایسے ہی ادھیڑ عمر امریکی کو دیکھا ہے جو یورپ میں اپنی بیوی اور بیٹیوں کے ساتھ آیا ہوا تھا۔ محسوس ہوتا تھا کہ  ا س کے اہلِ خانہ نے اصرار کرکے اسے چند دن کی چھٹی کرنے کا کہا ہوگا جس کے نتیجے میں انھیں گھومنے پھرنے کا یہ موقع نصیب ہوا تھا۔ اس موقع پر اس کے بیوی بچوں نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ اسے گھیر رکھا تھا اور اس کی توجہ ہر ایسی چیز کی طرف مبذول کراتے جو ان کے خیال میں دلچسپ ہوتی تھی۔ مگر وہ افسردہ اور بیزار سربراہِ کنبہ ایسے میں بھی سوچ رہا ہے کہ دفتر کا کام کیساچل رہا ہوگا یا بیس بال کے میدان میں کھیل کی کیا صورتحال ہے۔ اس کی بیوی نہیں جانتی کہ وہ دراصل اپنے حریص شوہر کے ہاتھوں  ویسی ہی اذیت زدہ ہے جس طرح کہ ہندو معاشرے کی بیوہ ہوتی ہے۔غالباًایسی  دس میں سے نو بیوائیں  پوری آمادگی کے ساتھ اپنے مرد کی شان اور مذہبی تقدس کے نام پر ستی ہوجاتی ہیں۔اس امریکی بزنس مین کا مذہب زیادہ سے زیادہ دولت کمانا ہے، چنانچہ اس کی بیوی بھی کسی ہندو بیوہ کی مانند باخوشی اپنے جذبات کی قربانی دیتی رہتی ہے۔اگر اس بزنس مین کو مسرور و شادماں ہونا ہے تو اسے اپنا یہ مذہب تبدیل کرنا ہوگا۔ جب تک وہ  مادی ترقی کے حصول کوہی  اپنی عبادت سمجھتا رہے گا، اس کی زندگی میں خوشی کا گزر مشکل ہے۔

ایک سادہ سے معاملے کو لیجیے، مثلاً سرمایہ کاری۔ تقریباً ہر امریکی جلد از جلد ایک پُرخطر سرمایہ کاری سے آٹھ فی صد منافع حاصل کرنا چاہے گا، بہ نسبت اس کے کہ وہ ایک محفوظ سرمایہ کاری سے چار فی صد منافع پالے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہےکہ وہ مسلسل رقم کھوتے چلے جاتے ہیں اور ان کا ذہنی اضطراب بڑھتا چلاجاتا ہے۔ ذاتی حوالے سے میں کہوں گا کہ دولت کمانے سے میرا مقصد تحفظ کے ساتھ فراغت کا حصول ہوگا، جبکہ جدید دور کا بزنس مین دولت سے مزید دولت کمانا چاہتا ہے تاکہ اپنے ہم پلہ لوگوں کو پیچھے چھوڑ سکے۔ امریکہ میں سماجی حیثیت کا معیار غیر متعین اور آئے دن بدلتا رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں امارت پسندی کے جذبات مسلسل فعال رہتے ہیں، بہ نسبت ان ممالک کے جہاں سماجی معیارات جامد رہتے ہیں۔ اگرچہ کسی کو بڑا آدمی بنانے کے لیے محض پیسہ کافی نہیں ہوسکتا، لیکن پیسے کے بغیر بڑا آدمی بننا بھی محال ہے۔ مزید برآں، اکتسابِ دولت کسی شخص کی ذہنی صلاحیتوں کو ناپنے کا یک معروف پیمانہ ہے۔ ایک شخص جو بہت دولت کماتا ہو ، ذہین اور تیز طرار سمجھا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی احمق کہلانا پسند نہیں کرتا، اس لیے سب ہی اکتسابِ مال کو اپنی زندگی بنا لیتے ہیں۔ چنا نچہ جب مارکیٹ میں مندی کا رجحان ہوتا ہے تو ایسے لوگ ویسی ہی کیفیت محسوس کرتے ہیں  جیسی ایک طالب علم پر امتحان کے دنوں میں طاری ہوتی ہے۔

یہ بات تسلیم شدہ ہے  کہ ایک بزنس مین دیوالیہ ہونے کے خوف میں مبتلا رہتا ہے۔ جن افراد نے بچپن غربت کی دھوپ میں گزارا ہوتا ہے، وہ اپنی اولاد کے مستقبل سے پریشان و متوحش رہتے ہیں۔ یہ خوف پہلی نسل کے لیے ناگزیر ہے ، البتہ دوسری نسل ، جس نے غربت کو انتہائی صورت میں نہیں دیکھا ہوتا، میں یہ خوف کم ہوجاتا ہے۔

ابھی تک ہم نے اصل مسئلے (ناخوشی) کے چند چھوٹے اسباب اور کسی حد تک استثنائی عوامل پر نظر ڈالی ہے۔ اس مسئلے کی اصل جڑ ”مسابقت کے ذریعے کامیابی“ پر ضرورت سے زیادہ زور دینا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ کامیابی کا احساس زندگی کو پُرلطف بنا دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مصور جو اپنی جوانی کے ایام میں گمنام رہا ہو، یقیناً اس امر سے خوشی حاصل کرے گا کہ بالآخر اس کی صلاحیتوں کو دنیا نے تسلیم کرلیا ہے۔ میں اس بات سے بھی انکار نہیں کرتا کہ ایک حد تک دولت بھی زندگی کی مسرتوں میں اضافہ کرتی ہے۔ تاہم زیادہ دولت زیادہ خوشی کی ضمانت نہیں۔ میں کہوں گا کہ کامیابی خوشی کا محض ایک جزو ہے، لیکن اسے بڑے اشتیاق سے دوسرے اجزاء کی قیمت پر خریدا جاتا ہے۔

اب اگرچہ یہ بات درست ہے کہ کسی بھی شعبے کی کامیابی میں ایک مسابقتی عنصر موجود ہوتا ہے، تاہم اہم چیز کامیابی نہیں،بلکہ وہ جوہر ہے جس کے صلے میں کامیابی ملتی ہے۔ سائنسی حلقے سے تعلق رکھنے والا ایک فرد دولتمند بھی ہوسکتا ہے اور نہیں بھی، لیکن معاشرے میں اس کی تکریم کا سبب اس کی ذات کا یہ پہلو نہیں ہوتا۔ اگر کسی علمی ذوق کے حامل شخص کے بارے میں پتہ چلے کہ وہ مفلس ہے تو اس پر تعجب نہیں ہوگا، بلکہ ایسے حالات میں غربت ایک اعزاز سمجھی جاتی ہے۔

اٹھارہویں صدی میں یہ ایک معزز شخص کی پہچان تھی کہ وہ ادب، مصوری اور موسیقی میں دلچسپی رکھتا ہے۔ آج ہم اس کے ذوق سے اختلاف کرسکتے ہیں کہ وہ کس طرح کی چیزوں کو پسند کرتا تھا، لیکن یہ تھا بہرحال ایک خالص ذوق۔ آج کے دور کا امیر آدمی ایک بالکل مختلف شخصیت کا حامل ہے۔ اسے مطالعے سے کوئی رغبت نہیں۔ اگر وہ کوئی آرٹ گیلری تعمیر کرتا ہے تو مصوری سے لطف اٹھانے کے لیے نہیں، بلکہ دوسرے متمول لوگوں پر رعب جمانے کے لیے۔اس  کے ساتھ ہی وہ ذوقِ موسیقی کے حوالے سے بھی پسماندہ ہے۔ ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ نہیں جانتا  کہ اپنے فارغ لمحات کو کس طرح بسرکرے۔ جوں جوں وہ دولتمند ہوتا جاتا ہے، دولت کمانے کا ہنر بھی اس کے لیے سہل ہوتاچلاجاتاہے۔لیکن بڑھتی ہوئی آمدن کے ساتھ ہی اسے خرچ کرنے کا سلیقہ مفقود ہوجاتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی کامیابی کے باوجود شکست سے دوچار ہوتا ہے۔ ایسا ہونا اس وقت تک ناگزیر ہے جب تک خود کامیابی کو ہی زندگی کا حقیقی مقصد سمجھا جائے گا۔ جب تک ایک انسان کو اپنی کامیابی سے استفادہ کرنے کا ہنر نہیں آئے گا، محض کامیابی  اس کی زندگی سے بوریت اور بے کیفی  دور نہیں کرے گی۔

ذہن کی مسابقانہ عادت  باآسانی دوسرے مثبت رجحانات  کو بھی اپنا شکار بنالیتی ہے۔ مثال کے طور پر مطالعے کو لیجیے۔ کتابیں پڑھنے کے دو محرکات ہوتے ہیں: ایک یہ کہ آپ اس سے تسکین پاتے ہیں، دوسرا یہ کہ آپ دوسروں کی دیکھا دیکھی یا  ترغیب سےیہ  مشغلہ اختیا رکریں۔امریکہ میں متمول خواتین کی یہ عادت ہے کہ وہ ہر ماہ چند کتابیں ضرور پڑھتی ہیں(یا کم از کم ایسا ظاہر کرتی ہیں)۔ ان میں سے بعض واقعی پوری کتاب پڑھتی ہیں، بعض صرف پہلا باب اور باقی  محض تبصرے ہی دیکھتی ہیں۔ تاہم ان سب خواتین کی میزوں پر ہر نئی کتاب پڑی نظر آتی ہے۔ایسی خواتین ہمیشہ نئی آنے والی اوسط درجے کی کتابیں ہی دیکھتی ہیں، کبھی کوئی ماسٹر پیس نہیں پڑھتیں۔ یہ بھی مسابقت کے رجحان کا ایک نتیجہ ہے۔

جدید طرزِ زندگی میں مسابقت کا رجحان سماجی اقدار کے عمومی زوال سے وابستہ ہے۔ مرد و زن اب زیادہ عقلی نوعیت کی تفریحات سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں فرانس کے حجام خانوں (سیلونز) میں بحث و مباحثوں کا رجحان بہت عام تھا۔ یہ روزمرہ کے دلچسپ تجربات و  احوال کو محفوظ کرنے کا ایک بہت ہی عمدہ انداز تھا۔لیکن آج کون اس کیلئے وقت نکالنا چاہے گا؟ایک صدی قبل تک اچھے ادبی ذوق کا حامل ہونا تعلیم یافتہ افراد کا خاصہ ہوا کرتا تھا، لیکن اب یہ صرف چند پروفیسروں تک محدود ہوچکاہے۔ ایک بار چند امریکی طالبِ علم مجھے اپنے ساتھ بہار کے موسم میں ایک جنگل میں لے گئے جہاں ہر طرف انتہائی خوبصورت قسم کے جنگلی پھول کھِلے ہوئے تھے، لیکن کسی کو بھی ان میں سے کسی پھول کا نام معلوم نہ تھا۔ ظاہر ہے کہ ایسی معلومات کا کوئی کیا کرے گا جو  آمدنی میں اضافہ نہ کرسکتی ہوں!

زیرِ بحث مسئلہ کسی ایک فرد سے متعلق نہیں، نہ کوئی فرد اسے اپنے طور پر حل ہی کرسکتا ہے۔ یہ مسئلہ عمومی قبولیت حاصل کرلینے والے فلسفۂ حیات سے پیدا ہوا ہے جس کے مطابق زندگی ایک مقابلہ ہے، ایک ایسی کشمکش ہے جس میں صرف فاتح کو ہی عزت و مرتبہ ملتا ہے۔یہ زاویۂ نظر عقل واحساس کے دوسرے تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے انسانی اعصاب  پر ایک ناجائز اور غیر ضروری بوجھ  ڈال دیتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں اس طرح گویا ہم گھوڑے کے آگے چھکڑا باندھتے ہیں۔ موجودہ دور میں انسانوں کی ایک ایسی نسل وجود میں آگئی ہے جن میں عقل و احساس کے مقابلے میں ارادہ زیادہ  طاقتور ہوتا ہے۔یہ جدید ڈائنو سارز جو قدیم دور کے انسان کی طرح ذہانت پر طاقت کو فوقیت دیتے ہیں، ساری دنیا کے لیے ایک غلط نمونہ بن چکے ہیں۔ڈائنوسارز کی نسل تو آپس میں لڑکر ختم ہوگئی، لیکن ہمارے یہ جدید ڈائنو سارز اپنے آپ کو ہی مار کر ختم کررہے ہیں۔ایسے افراد عام طور پر شادی سے افزائشِ نسل کاکوئی شوق نہیں رکھتے۔ ان کے نزدیک  زندگی میں مسرت کا امکان اتنا کم ہے کہ انھیں بچے پالنے میں کوئی دلچسپی نہیں رہی، ایسے افراد حیاتیاتی اعتبار سے اپنی نوع کی موت کا سامان کررہے ہیں۔ امید ہے کہ جلد ہی ان کی جگہ مسرور اور خوش باش لوگ لے لیں گے!

زندگی کو مضبوط اعصاب اور قوی ارادوں کا کھیل قرار دے دینے سے کچھ ہی عرصے بعد افسردگی اور تھکن آ گھیرتی ہے، پھر زندگی سے فرار کے بہت سے اسلوب ایجاد کرنا پڑتے  ہیں اور خوشی کے لمحات بھی اتنے ہی پُرتناؤ بن جاتے ہیں جتنے کہ کا م کے اوقات۔رفتہ رفتہ زندگی بالکل بانجھ ہوجاتی ہے۔ مسابقت کے فلسفے سے کام ہی نہیں، فراغت بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایسی فراغت جو اعصاب کو سکون دے کر بحال کرسکتی ہے، بھی اُلٹا بور کرنے لگتی ہے۔زندگی میں مسلسل حرکت کا انجام ذہنی پژمردگی(ڈپریشن)  اور صحی بحران(ہیلتھ کرائسز)  کی صورت میں سامنے آتا ہے۔اس کا علاج زندگی میں معقول اور موزوں تفریح کی ضرورت کو تسلیم کرنا ہے۔

(مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل کی کتاب ”The Conquest of Happiness “سے ترجمہ)

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

محبت

  خوشی کا حصول کیسے؟   محبت برٹرینڈ رسل                     زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احسا...