خوشی کا حصول کیسے؟
فلسفیانہ ناخوشی
برٹرینڈ رسل
تاریخ کے کئی دوسرے ادوار کی طرح موجودہ دور میں بھی یہ مفروضہ عام ہے کہ دنیا کے ذہین ترین انسانوں کی دانشمندانہ رائے کے مطابق یہ دنیا جینے کے قابل نہیں۔ جو لوگ اس رائے کے حامل ہوتے ہیں، انھیں اپنے ناخوش ہونے پر ایک طرح ناز ہوتا ہے۔ وہ اپنی ناخوشی کا ذمہ دار کائنات کی فطرت کو ٹھیراتے ہیں۔ ان کے خیال میں روشن خیال افراد کے لیے صرف یہی رویہ معقول ہے۔ بلاشبہ ایک طرح کی احساسِ برتری اور بصیرت جو ایسے لوگوں کے پاس ہوتی ہے، کسی حد تک زندگی کے دُکھوں کی تلافی بن جاتی ہے، لیکن پھربھی یہ زندگی کی عام خوشیوں کی متبادل نہیں ہوسکتی۔ میرے ذاتی خیال میں ناخوش رہنا کسی برتر ذہانت کی علامت نہیں۔ ایک دانشور انسان بھی حالات کے مطابق خوش ہو سکتا ہے۔ اگر اس کے خیال میں کائنات کی اصل حقیقت مایوس کن ہےتو وہ اپنی دھیان کسی اور جانب مرکوز کر سکتا ہے۔یہی بات میں اس باب میں ثابت کرنا چاہتا ہوں۔ میں قاری کو قائل کرنا چاہوں گا کہ فلسفہ انسانی مسرتوں پر کوئی پابندی نہیں لگاتا۔ وہ جو اپنی پریشانی کو کائنات کے حوالے سے اپنے نظریات سے منسوب کرتے ہیں، دراصل چھکڑے کو گھوڑے کے آگے باندھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی ناخوشی کا سبب کچھ اور ہوتا ہے جس سے وہ بے خبر ہوتے ہیں۔
قدیم اور جدید کئی فلسفی ایسے خیالات کا اظہار کرتے ملتے ہیں کہ ”اس دنیا کے غم اس کی مسرتوں سے کئی گنا بھاری ہیں، مردہ لوگ زندوں سے بہتر ہیں اور ان دونوں سے بھی زیادہ فائدے میں وہ ہیں جو ابھی اس دنیا میں آئے ہی نہیں اور جو فی الحال اس دنیا کی شیطانی تاریکیوں سے محفوظ ہیں۔اس دنیا کی ہر چیز فریب ہے حتی ٰ کہ عقل و شعور بھی۔ زندگی احمق اور عاقل دونوں کے ساتھ ایک جیسا معاملہ کرتی ہے، پس یہ دونوں یکساں ہوئے۔ انسان اس دنیا میں کسی سبب کے بغیر موجود ہیں اور اس مادی کائنا ت میں بن بلائے مہمان کی طرح رہ رہے ہیں ۔۔۔“
مجھے یہ ثابت کرنا ہے کہ ذہین انسان کے پاس صرف یہی واحد طرزِ فکر دستیاب نہیں۔ مذکورہ بالا دلیل میں ہمیں ایک خاص مزاجی کیفیت (موڈ) اور اس کے عقلی اظہار میں فرق کرنا ہوگا۔مزاجی کیفیت کے آگے کوئی دلیل نہیں چلتی، موڈ کو تو کوئی خوش کن واقعہ ہی تبدیل کرسکتا ہے یا پھر کوئی جسمانی سرگرمی۔ میں نے خود کئی بار ایسے موڈ کا تجربہ کیا ہے جس میں دنیا کی ہر چیز ایک فریب نظر آتی ہے، پھر اس خراب موڈ سے مجھے باہر نکا لنے والی چیز میرا فلسفہ نہیں تھا ، بلکہ زندگی کی کوئی عملی حاجت تھی۔ اگر آپ کا بچہ علیل ہے تو آپ رنجیدہ ہوسکتے ہیں، لیکن اس وقت آپ کو دنیا فریب نہیں معلوم ہوگی، ایسے میں بچے کی صحت کی بحالی کا معاملہ ہی آپ کےلیے اہم ہوگا ، یہ سوچے بغیر کہ انسانی زندگی واقعی میں کوئی حقیقی قدر و قیمت بھی رکھتی ہے یا نہیں۔ ایک دولتمند انسان بھی کبھی دنیا کو ایک فریب خیال کرسکتا ہے، لیکن اگر واقعی اس کی دولت کھو جائے تو پھر اگلے دن کھانے اور رہائش کے مسائل یقیناً کوئی فریب نہیں ہوں گے۔
مایوس کن اور قنوطیت پر مبنی فلاسفی دراصل پید اہی اس وقت ہوتی ہے جب زندگی کی فطری ضرورتیں بڑی آسانی سے پوری ہورہی ہوں۔ جانوروں کو اپنی حاجتیں پوری کرنے کے لیے کافی کوشش کرنی پڑتی ہے، لیکن جب انسانوں کو دولت کے ذریعے ہر نعمت گھر کے دروازے پر پڑی مل جاتی ہے تو اس طرح زندگی میں جدوجہد کی غیر موجودگی میں ان نعمتوں کا ایک اہم جزو مفقود ہوتا ہے ،یعنی خوشی! جس انسان کی ہر خواہش ذراسی طلب ظاہر کرنے پر باآسانی پوری ہوجاتی ہو، وہ محسوس کرتا ہے کہ تمناؤں کی تسکین ہوجانے پر بھی خوشی حاصل نہیں ہوتی۔اگر ایسا شخص فلسفیانہ ذوق کا حامل ہوتو اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ انسانی زندگی ایک عذاب ہے، کیونکہ سب کچھ ہونے کے باوجود لوگ غم زدہ ہی رہتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھتا کہ زندگی میں من پسند چیزوں سے محرومی، حصولِ مسرت کا ایک ضروری حصہ ہے۔
مزاجی کیفیت یعنی موڈ پر کافی بات ہوگئی۔ اب ذرا اس کے عقلی اظہار کا جائزہ لیتے ہیں کہ ”زندگی بعض امور کی بے مقصد تکرار کا نام ہے۔ دریاؤں کا پانی ایک جگہ سے بہہ کر دوبارہ اسی مقام پر واپس آجاتا ہے۔ اس نیلے آسمان کے نیچے کوئی نئی شے موجود نہیں ہے۔ اس دنیا میں مشقت کرنے سے بہتر ہے کہ کاموں کو آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ دیا جائے، کیونکہ آپ کی محنت کا ثمر آپ کے وارثوں کے ہی حصے میں آئے گا۔“
ایک خاص مزاجی کیفیت میں انسان کو ایسا استدلال متاثرکن محسوس ہوتا ہے، لیکن ایک مختلف موڈ کے ساتھ ساری بات بدل جاتی ہے۔ کیا واقعی اس نیلے آسمان کے نیچے دیکھنے کو کچھ نیا نہیں؟پھر یہ فلک بوس عمارتیں (Skyscrapers)، ہوائی جہاز، سیاست دانوں کی نشری تقریں کیا ہیں؟قدیم دور کے اہلِ دانش ان چیزوں کے بارے میں کیاجانتے تھے ؟ کیا اگر اس دور کے کسی قنوطی کو وائرلیس پر کسی عزیز کا پیغام ملتا تو کیا اس کی بیزاری زائل نہ ہوجاتی؟ ممکن ہے کہ ایسی ایجادات بھی اس کی ناامیدی کو بالکل ختم نہ کرپاتیں ،پھر بھی اسے اپنے سوچنے کے اندازمیں کچھ تبدیلی ضرور لانا پڑتی ۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ موجودہ دور کے بعض فلسفی اس بات پر شاکی ہیں کہ اب نیلے آسمان کے تلے بہت زیادہ نئی چیزیں پیدا ہوگئی ہیں! اگر دنیا میں نئے پن کی موجودگی یا غیر موجودگی، دونوں یکساں طور پر مسئلہ ہیں تو پھر واضح ہے کہ یہ دونوں دنیا میں ناخوشی کا حقیقی سبب نہیں ہوسکتیں۔
اب اس حقیقت کو لیجیے کہ دریاؤں کا پانی ایک دائرے میں گھوم کر اپنی جگہ لوٹ آتا ہے۔ بعض لوگوں نے اسے اپنی فلسفیانہ مایوسی کی بنیا د بنایا ہے کہ سفر ایک ناخوشگوار شے ہے۔ لوگ موسمِ گرما میں صحت افزا مقامات پر جاتے ہیں اور وہاں سے پھر اپنے کام کی جگہ پر لوٹ آتے ہیں، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ گرمیوں میں پہاڑی مقامات پر جانا ایک لاحاصل مشق ہے۔ اگر دریا کےپانی میں احساسات موجود ہوتے تو غالباً وہ ”شیلے کے بادل“ کی طرح اپنے دائروی سفر سے لطف اندوز ہوتا۔
اب رہا یہ مسئلہ کہ انسان کی محنت کا پھل اس کی بجائے اس کے وارثوں کے ہاتھ آتا ہے، تو اس معاملے کو دو زاویوں سے دیکھاجاسکتا ہے: وارثوں کے نقطۂ نظر سے یہ ایک راحت ہے(اور ہرانسان کسی کا وارث ہوتا ہے)۔ اس حقیقت میں کہ دنیا کی ہر چیز گزر جانے والی ہے، بھی مایوسی کی کوئی بنیا دنہیں۔مایوسی کی بات تب ہوتی اگر اچھی چیزوں کی جگہ بری چیزیں لیتیں۔تاہم اس صورت میں ہم کیا کہیں گے جب ایک طرح کی چیزوں کی جگہ بھی ویسی ہی چیزیں لے رہی ہوں؟ کیا پھر اس عمل کو بے مقصد قرار نہیں دیا جائے گا؟ ایسا ہرگز نہیں کہا جاسکتا جب تک ایسا عمل بذاتِ خود تکلیف دہ نہ ہو۔ زمانۂ حال کی ساری اہمیت اس بات میں دیکھنا کہ یہ مستقبل کو کیا دیتا ہے، بہت ہی غلط اندازِ فکر ہے۔کُل کی اہمیت نہیں ہوسکتی جب تک اس کے اجزاء کی کوئی قیمت نہ ہو۔
زندگی کو ایسے ڈرامے پر قیاس نہیں کرنا چاہیئے جس میں ہیرو اور ہیروئن کچھ مصائب کا سامنا کرنے کے بعد انجامِ کار خوشی سے ہمکنار ہوجاتے ہیں۔ میں اپنی باری پر زندہ ہوں، پھر میرا بیٹا آئے گا اور اپنی باری لے گا، اور پھر اس کا بیٹا اس کی جگہ لے لے گا۔اس سارے عمل میں دل توڑنے والی کون سی بات ہے؟ اس کے برعکس، ا گر مجھے ہمیشہ کی زندگی مل جائے تو رفتہ رفتہ اس کی ساری مسرتوں سے میرا دل بھر جائے گا۔ محدود زندگی میں ہر خوشی اپنی تازگی برقرار رکھتی ہے۔ بقول شاعر:
میں آتشِ حیات کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ گرماتا ہوں
پھر یہ سرد پڑجاتی ہےاور میں جانے کیلئے تیار ہوجاتا ہوں
(مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل کی کتاب The Conquest of Happiness سے ترجمہ)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
No comments:
Post a Comment