Tuesday, July 6, 2021

مسابقت

 

خوشی کا حصول کیسے؟

مسابقت (Competition)

برٹرینڈ رسل

امریکا میں اگر آپ کسی بھی شخص یا برطانیہ میں کسی بھی بزنس مین سے دریا فت کریں کہ اس کے نزدیک زندگی کے لطف  کو بدمزہ کرنے والی شے کون سی ہے؟ تو اس جواب ہوگا:”زندگی کے لیے  جدوجہد۔“ یہ بات وہ پوری سنجیدگی سے کہے گا۔ ایک لحاظ سے یہ بات درست بھی ہے، لیکن دوسرے اہم پہلو سے یہ اتنی ہی غلط بھی ہے۔ اپنی بقاء  کی آزمائش  ایک واقعہ ہے جو بلاشبہ عملی زندگی میں رونما ہوتا ہےاور بدنصیبی کی صورت میں  یہ ہم میں سے کسی کے ساتھ بھی پیش آسکتا ہے۔مثلاً ایک ناول میں ہیرو نے خود کوایک بھٹکی ہوئی کشتی میں پایا جہاں اس کے علاوہ ایک آدمی اور تھا۔ کشتی میں کھانے کو کوئی چیز نہ تھی، سوائے اس کے  وہ خود ہی ایک دوسرے کو کھاجائیں۔ جب ان دونوں آدمیوں کو کھانے کو کچھ نہ ملا تو ان کے درمیان صحیح معنوں میں زندگی کے لیے مقابلہ شروع ہوا۔ ناول کا ہیرو یہ جنگ جیت گیا، لیکن اس کے بعد وہ ساری زندگی ایک سبزی خور بن کر رہا!

تاہم ایک بزنس مین جب ’زندگی کی جدوجہد‘ کے الفاظ بولتا ہے تو اس کی مراد یہ نہیں ہوتی۔ یہ دراصل ایک غیر موزوں فقرہ ہے جو وہ  زندگی کی ایک عام حقیقت کو سنگین تر بنانے کی خاطر کہتا ہے۔اس سے پوچھا جائے کہ وہ کتنے ایسے آدمیوں کو جانتا ہے جو بھوک سے ہلاک ہوئے یا یہ  کہ اس کے ان دوستوں کا کیا بنا جودیوالیہ ہوگئے؟ ہر کوئی جانتا ہے کہ دیوالیہ ہوجانے والے بزنس مین بھی کم از کم  مادی آسائشوں کے اعتبار سے ان لوگوں سے بہتر ہی رہتے ہیں جو کبھی بھی اتنے امیر نہیں ہوپاتے کہ دیوالیہ ہوسکیں۔ پس دراصل جب لوگ ’زندگی کے لیے کشمکش‘ جیسے الفاظ کہتے ہیں تو ان کامطلب حقیقتاً کامیابی کے لیے جدوجہد ہوتا ہے۔ جب لوگ ایسی جدوجہد میں مشغول ہوتے ہیں تو انھیں اس بات کا خدشہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنے صبح کے ناشتے کا سامان نہیں کرسکیں گے، بلکہ انھیں تشویش ہوتی ہے کہ وہ مادی شان و شوکت  میں اپنے پڑوسیوں کو نیچا نہیں دکھا پائیں گے۔

یہ بات عجیب ہے کہ لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے  کہ وہ بہرحال کسی ایسے شکنجے میں نہیں پھنس  گئے ہیں جس سے وہ آزادی حاصل نہ کرسکتے ہوں۔میں ان لوگوں کی بات کررہا ہوں جو اونچے کاروباری طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور جو اتنی قابلِ رشک آمدنی اور بینک بیلنس رکھتے ہیں کہ اگر وہ چاہیں تو اسی پر بس کرسکتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے میں انھیں ویسی ہی سبکی محسوس ہوتی ہے جیسے میدانِ جنگ میں مخالف فوجوں کے سامنے ہتھیار پھینک دیے جائیں۔تاہم اگر ان سے دریافت کیا جائے کہ وہ اپنے کام سے کون سی سماجی خدمت انجام دے رہے ہیں تو وہ جواب کچھ کہنے سے قاصر ہی رہیں گے، تاوقتیکہ وہ ’سرگرم زندگی‘ کے بارے میں پائے جانے والے فرسودہ تصورات سے نجات حاصل کرلیں۔

ایک ایسے ہی شخص کی زندگی کو لیجیے۔ہم فرض کرتے ہیں کہ اس شخص کے پاس ایک عالیشان گھر، ایک خُوبرو بیوی اور پیارے پیارے بچے ہیں۔وہ صبح سویرے اس وقت بیدار ہوتا ہے جب اس کے بیوی بچے ابھی محوِ خواب ہوتے ہیں اور وہ تیار ہوکر جلدی سے دفتر کا رخ کرتا ہے۔ دفتر میں اس کی ذمے داری ہے کہ وہ ایک اچھے منتظم کی تمام مثالی خوبیوں کا مظاہرہ کرے، چنانچہ وہ مخصوص انداز میں جبڑے بھینچ کر حاکمانہ اور بارُعب انداز میں لوگوں سے مخاطب ہوتا ہےاور پیشانی پر فراست بھری شکنیں سجائے  وہ سب ہی کو متاثر کرتا ہے ، سوائے اپنے آفس بوائے کے! وہ خطوط ٹائپ کرواتا ہے، اہم افراد سے فون پر بات چیت کرتا ہے، کاروباری دنیا کے حالات کا جائزہ لیتا ہے اور پھر کسی ایسے شخص کے ساتھ لنچ کرتا ہے جس کے ساتھ  کوئی اہم کاروباری معاملہ طے  پاجانے کی امید ہوتی ہے۔رات کو وہ تھکا ہارا گھر لوٹتا ہے اور اس کے پاس بس اتنا وقت ہوتا ہے کہ ڈنر کے لیے مناسب لباس پہن لے۔رات کے کھانے پر اُسے اور کئی دوسرے تھکن زدہ افراد کو یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ وہ گھر کی اُن خواتین کی صحبت سے بہت لطف اندوز ہورہے ہیں جن کے پاس ابھی تھکن پھٹکی بھی نہیں ہوتی۔ اسی کیفیت میں اس بے چارے کو نجانے کتنا وقت گزارنا پڑتا ہے۔ آخر کار وہ سو جاتا ہے اور چند گھنٹوں کے لیے تناؤ سے نجات مل جاتی ہے۔

اس شخص کی سرگرم زندگی دراصل ”100کلومیٹر کی دوڑ“ والی نفسیات پر مبنی  ہے  ، ایک ایسی دوڑ جس کا آخری مقام قبر ہے۔وہ اپنے بچوں کے بارے میں کیا جانتا ہے؟ سارا ہفتہ اس کے دن کے اوقات دفتر میں گزرتے ہیں اور اتوار کے روز وہ گالف کلب میں رہتا ہے۔ وہ اپنی شریکِ حیات کے بارے میں کیا جانتا ہے؟ جسے وہ صبح خوابیدہ حالت میں چھوڑ کر گھر سے نکل جاتا ہے۔ شام کی تقریبات میں وہ اور اس کی بیوی ہمہ وقت اپنے سماجی فرائض کی انجام دہی میں غرق رہتے ہیں جس کی وجہ سے انھیں آپس میں کوئی بےتکلف مکالمہ کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ غالباً اس کے کوئی مرد دوست نہیں  جو اس کے نزدیک اہم ہوں، اگرچہ ایسے متعدد افراد ہیں جن کی صحبت اسے خوشگوار محسوس ہوتی ہے یا وہ چاہتا ہے کہ اسے خوشگوار لگے۔موسموں کے تغیر و تبدل کو وہ صرف مارکیٹ کے رجحانات کے حوالے سے دیکھتا ہے۔ اس نے غالباً غیر ممالک بھی دیکھ رکھے ہیں، لیکن بیزاری اور نیم دلی کے ساتھ۔ کتابیں اسے غیر دلچسپ لگتی ہیں اور موسیقی عامیانہ محسوس ہوتی ہے۔ سال بہ سال اس کی تنہائی بڑھتی چلی جاتی ہے، دماغی بوجھ میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور اس کی بزنس کے علاوہ کی زندگی میں بے کیفی کا گراف اوپر چڑھتا چلاجاتا ہے۔

میں نے خود ایک ایسے ہی ادھیڑ عمر امریکی کو دیکھا ہے جو یورپ میں اپنی بیوی اور بیٹیوں کے ساتھ آیا ہوا تھا۔ محسوس ہوتا تھا کہ  ا س کے اہلِ خانہ نے اصرار کرکے اسے چند دن کی چھٹی کرنے کا کہا ہوگا جس کے نتیجے میں انھیں گھومنے پھرنے کا یہ موقع نصیب ہوا تھا۔ اس موقع پر اس کے بیوی بچوں نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ اسے گھیر رکھا تھا اور اس کی توجہ ہر ایسی چیز کی طرف مبذول کراتے جو ان کے خیال میں دلچسپ ہوتی تھی۔ مگر وہ افسردہ اور بیزار سربراہِ کنبہ ایسے میں بھی سوچ رہا ہے کہ دفتر کا کام کیساچل رہا ہوگا یا بیس بال کے میدان میں کھیل کی کیا صورتحال ہے۔ اس کی بیوی نہیں جانتی کہ وہ دراصل اپنے حریص شوہر کے ہاتھوں  ویسی ہی اذیت زدہ ہے جس طرح کہ ہندو معاشرے کی بیوہ ہوتی ہے۔غالباًایسی  دس میں سے نو بیوائیں  پوری آمادگی کے ساتھ اپنے مرد کی شان اور مذہبی تقدس کے نام پر ستی ہوجاتی ہیں۔اس امریکی بزنس مین کا مذہب زیادہ سے زیادہ دولت کمانا ہے، چنانچہ اس کی بیوی بھی کسی ہندو بیوہ کی مانند باخوشی اپنے جذبات کی قربانی دیتی رہتی ہے۔اگر اس بزنس مین کو مسرور و شادماں ہونا ہے تو اسے اپنا یہ مذہب تبدیل کرنا ہوگا۔ جب تک وہ  مادی ترقی کے حصول کوہی  اپنی عبادت سمجھتا رہے گا، اس کی زندگی میں خوشی کا گزر مشکل ہے۔

ایک سادہ سے معاملے کو لیجیے، مثلاً سرمایہ کاری۔ تقریباً ہر امریکی جلد از جلد ایک پُرخطر سرمایہ کاری سے آٹھ فی صد منافع حاصل کرنا چاہے گا، بہ نسبت اس کے کہ وہ ایک محفوظ سرمایہ کاری سے چار فی صد منافع پالے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہےکہ وہ مسلسل رقم کھوتے چلے جاتے ہیں اور ان کا ذہنی اضطراب بڑھتا چلاجاتا ہے۔ ذاتی حوالے سے میں کہوں گا کہ دولت کمانے سے میرا مقصد تحفظ کے ساتھ فراغت کا حصول ہوگا، جبکہ جدید دور کا بزنس مین دولت سے مزید دولت کمانا چاہتا ہے تاکہ اپنے ہم پلہ لوگوں کو پیچھے چھوڑ سکے۔ امریکہ میں سماجی حیثیت کا معیار غیر متعین اور آئے دن بدلتا رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں امارت پسندی کے جذبات مسلسل فعال رہتے ہیں، بہ نسبت ان ممالک کے جہاں سماجی معیارات جامد رہتے ہیں۔ اگرچہ کسی کو بڑا آدمی بنانے کے لیے محض پیسہ کافی نہیں ہوسکتا، لیکن پیسے کے بغیر بڑا آدمی بننا بھی محال ہے۔ مزید برآں، اکتسابِ دولت کسی شخص کی ذہنی صلاحیتوں کو ناپنے کا یک معروف پیمانہ ہے۔ ایک شخص جو بہت دولت کماتا ہو ، ذہین اور تیز طرار سمجھا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی احمق کہلانا پسند نہیں کرتا، اس لیے سب ہی اکتسابِ مال کو اپنی زندگی بنا لیتے ہیں۔ چنا نچہ جب مارکیٹ میں مندی کا رجحان ہوتا ہے تو ایسے لوگ ویسی ہی کیفیت محسوس کرتے ہیں  جیسی ایک طالب علم پر امتحان کے دنوں میں طاری ہوتی ہے۔

یہ بات تسلیم شدہ ہے  کہ ایک بزنس مین دیوالیہ ہونے کے خوف میں مبتلا رہتا ہے۔ جن افراد نے بچپن غربت کی دھوپ میں گزارا ہوتا ہے، وہ اپنی اولاد کے مستقبل سے پریشان و متوحش رہتے ہیں۔ یہ خوف پہلی نسل کے لیے ناگزیر ہے ، البتہ دوسری نسل ، جس نے غربت کو انتہائی صورت میں نہیں دیکھا ہوتا، میں یہ خوف کم ہوجاتا ہے۔

ابھی تک ہم نے اصل مسئلے (ناخوشی) کے چند چھوٹے اسباب اور کسی حد تک استثنائی عوامل پر نظر ڈالی ہے۔ اس مسئلے کی اصل جڑ ”مسابقت کے ذریعے کامیابی“ پر ضرورت سے زیادہ زور دینا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ کامیابی کا احساس زندگی کو پُرلطف بنا دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مصور جو اپنی جوانی کے ایام میں گمنام رہا ہو، یقیناً اس امر سے خوشی حاصل کرے گا کہ بالآخر اس کی صلاحیتوں کو دنیا نے تسلیم کرلیا ہے۔ میں اس بات سے بھی انکار نہیں کرتا کہ ایک حد تک دولت بھی زندگی کی مسرتوں میں اضافہ کرتی ہے۔ تاہم زیادہ دولت زیادہ خوشی کی ضمانت نہیں۔ میں کہوں گا کہ کامیابی خوشی کا محض ایک جزو ہے، لیکن اسے بڑے اشتیاق سے دوسرے اجزاء کی قیمت پر خریدا جاتا ہے۔

اب اگرچہ یہ بات درست ہے کہ کسی بھی شعبے کی کامیابی میں ایک مسابقتی عنصر موجود ہوتا ہے، تاہم اہم چیز کامیابی نہیں،بلکہ وہ جوہر ہے جس کے صلے میں کامیابی ملتی ہے۔ سائنسی حلقے سے تعلق رکھنے والا ایک فرد دولتمند بھی ہوسکتا ہے اور نہیں بھی، لیکن معاشرے میں اس کی تکریم کا سبب اس کی ذات کا یہ پہلو نہیں ہوتا۔ اگر کسی علمی ذوق کے حامل شخص کے بارے میں پتہ چلے کہ وہ مفلس ہے تو اس پر تعجب نہیں ہوگا، بلکہ ایسے حالات میں غربت ایک اعزاز سمجھی جاتی ہے۔

اٹھارہویں صدی میں یہ ایک معزز شخص کی پہچان تھی کہ وہ ادب، مصوری اور موسیقی میں دلچسپی رکھتا ہے۔ آج ہم اس کے ذوق سے اختلاف کرسکتے ہیں کہ وہ کس طرح کی چیزوں کو پسند کرتا تھا، لیکن یہ تھا بہرحال ایک خالص ذوق۔ آج کے دور کا امیر آدمی ایک بالکل مختلف شخصیت کا حامل ہے۔ اسے مطالعے سے کوئی رغبت نہیں۔ اگر وہ کوئی آرٹ گیلری تعمیر کرتا ہے تو مصوری سے لطف اٹھانے کے لیے نہیں، بلکہ دوسرے متمول لوگوں پر رعب جمانے کے لیے۔اس  کے ساتھ ہی وہ ذوقِ موسیقی کے حوالے سے بھی پسماندہ ہے۔ ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ نہیں جانتا  کہ اپنے فارغ لمحات کو کس طرح بسرکرے۔ جوں جوں وہ دولتمند ہوتا جاتا ہے، دولت کمانے کا ہنر بھی اس کے لیے سہل ہوتاچلاجاتاہے۔لیکن بڑھتی ہوئی آمدن کے ساتھ ہی اسے خرچ کرنے کا سلیقہ مفقود ہوجاتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی کامیابی کے باوجود شکست سے دوچار ہوتا ہے۔ ایسا ہونا اس وقت تک ناگزیر ہے جب تک خود کامیابی کو ہی زندگی کا حقیقی مقصد سمجھا جائے گا۔ جب تک ایک انسان کو اپنی کامیابی سے استفادہ کرنے کا ہنر نہیں آئے گا، محض کامیابی  اس کی زندگی سے بوریت اور بے کیفی  دور نہیں کرے گی۔

ذہن کی مسابقانہ عادت  باآسانی دوسرے مثبت رجحانات  کو بھی اپنا شکار بنالیتی ہے۔ مثال کے طور پر مطالعے کو لیجیے۔ کتابیں پڑھنے کے دو محرکات ہوتے ہیں: ایک یہ کہ آپ اس سے تسکین پاتے ہیں، دوسرا یہ کہ آپ دوسروں کی دیکھا دیکھی یا  ترغیب سےیہ  مشغلہ اختیا رکریں۔امریکہ میں متمول خواتین کی یہ عادت ہے کہ وہ ہر ماہ چند کتابیں ضرور پڑھتی ہیں(یا کم از کم ایسا ظاہر کرتی ہیں)۔ ان میں سے بعض واقعی پوری کتاب پڑھتی ہیں، بعض صرف پہلا باب اور باقی  محض تبصرے ہی دیکھتی ہیں۔ تاہم ان سب خواتین کی میزوں پر ہر نئی کتاب پڑی نظر آتی ہے۔ایسی خواتین ہمیشہ نئی آنے والی اوسط درجے کی کتابیں ہی دیکھتی ہیں، کبھی کوئی ماسٹر پیس نہیں پڑھتیں۔ یہ بھی مسابقت کے رجحان کا ایک نتیجہ ہے۔

جدید طرزِ زندگی میں مسابقت کا رجحان سماجی اقدار کے عمومی زوال سے وابستہ ہے۔ مرد و زن اب زیادہ عقلی نوعیت کی تفریحات سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں فرانس کے حجام خانوں (سیلونز) میں بحث و مباحثوں کا رجحان بہت عام تھا۔ یہ روزمرہ کے دلچسپ تجربات و  احوال کو محفوظ کرنے کا ایک بہت ہی عمدہ انداز تھا۔لیکن آج کون اس کیلئے وقت نکالنا چاہے گا؟ایک صدی قبل تک اچھے ادبی ذوق کا حامل ہونا تعلیم یافتہ افراد کا خاصہ ہوا کرتا تھا، لیکن اب یہ صرف چند پروفیسروں تک محدود ہوچکاہے۔ ایک بار چند امریکی طالبِ علم مجھے اپنے ساتھ بہار کے موسم میں ایک جنگل میں لے گئے جہاں ہر طرف انتہائی خوبصورت قسم کے جنگلی پھول کھِلے ہوئے تھے، لیکن کسی کو بھی ان میں سے کسی پھول کا نام معلوم نہ تھا۔ ظاہر ہے کہ ایسی معلومات کا کوئی کیا کرے گا جو  آمدنی میں اضافہ نہ کرسکتی ہوں!

زیرِ بحث مسئلہ کسی ایک فرد سے متعلق نہیں، نہ کوئی فرد اسے اپنے طور پر حل ہی کرسکتا ہے۔ یہ مسئلہ عمومی قبولیت حاصل کرلینے والے فلسفۂ حیات سے پیدا ہوا ہے جس کے مطابق زندگی ایک مقابلہ ہے، ایک ایسی کشمکش ہے جس میں صرف فاتح کو ہی عزت و مرتبہ ملتا ہے۔یہ زاویۂ نظر عقل واحساس کے دوسرے تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے انسانی اعصاب  پر ایک ناجائز اور غیر ضروری بوجھ  ڈال دیتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں اس طرح گویا ہم گھوڑے کے آگے چھکڑا باندھتے ہیں۔ موجودہ دور میں انسانوں کی ایک ایسی نسل وجود میں آگئی ہے جن میں عقل و احساس کے مقابلے میں ارادہ زیادہ  طاقتور ہوتا ہے۔یہ جدید ڈائنو سارز جو قدیم دور کے انسان کی طرح ذہانت پر طاقت کو فوقیت دیتے ہیں، ساری دنیا کے لیے ایک غلط نمونہ بن چکے ہیں۔ڈائنوسارز کی نسل تو آپس میں لڑکر ختم ہوگئی، لیکن ہمارے یہ جدید ڈائنو سارز اپنے آپ کو ہی مار کر ختم کررہے ہیں۔ایسے افراد عام طور پر شادی سے افزائشِ نسل کاکوئی شوق نہیں رکھتے۔ ان کے نزدیک  زندگی میں مسرت کا امکان اتنا کم ہے کہ انھیں بچے پالنے میں کوئی دلچسپی نہیں رہی، ایسے افراد حیاتیاتی اعتبار سے اپنی نوع کی موت کا سامان کررہے ہیں۔ امید ہے کہ جلد ہی ان کی جگہ مسرور اور خوش باش لوگ لے لیں گے!

زندگی کو مضبوط اعصاب اور قوی ارادوں کا کھیل قرار دے دینے سے کچھ ہی عرصے بعد افسردگی اور تھکن آ گھیرتی ہے، پھر زندگی سے فرار کے بہت سے اسلوب ایجاد کرنا پڑتے  ہیں اور خوشی کے لمحات بھی اتنے ہی پُرتناؤ بن جاتے ہیں جتنے کہ کا م کے اوقات۔رفتہ رفتہ زندگی بالکل بانجھ ہوجاتی ہے۔ مسابقت کے فلسفے سے کام ہی نہیں، فراغت بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایسی فراغت جو اعصاب کو سکون دے کر بحال کرسکتی ہے، بھی اُلٹا بور کرنے لگتی ہے۔زندگی میں مسلسل حرکت کا انجام ذہنی پژمردگی(ڈپریشن)  اور صحی بحران(ہیلتھ کرائسز)  کی صورت میں سامنے آتا ہے۔اس کا علاج زندگی میں معقول اور موزوں تفریح کی ضرورت کو تسلیم کرنا ہے۔

(مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل کی کتاب ”The Conquest of Happiness “سے ترجمہ)

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

No comments:

Post a Comment

محبت

  خوشی کا حصول کیسے؟   محبت برٹرینڈ رسل                     زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احسا...