Monday, November 4, 2019

خودترغیبی


خودترغیبی

                                                                                                                ہرانسان اپنی ذات کی گہرائیوں میں یہ احساس رکھتاہے کہ وہ ایک غیرمعمولی اورمنفرد صلاحیتوں کاحامل ہے اور ہر لحاظ سے زندگی میں بڑی کامیابیوں کا مستحق ہے۔ لیکن انسانوں کی اکثریت کو اس مایوس کن حقیقت کاسامنا کرنا پڑتاہےکہ قابلیت اور اہلیت کے باوجود وہ زندگی میں کوئی خاطرخواہ کامیابی حاصل نہ کرسکے۔
ناکامی کی وجہ
                                                                                                                                                           بہت کم لوگ ہی کیوں کامیاب رہتے ہیں؟ بہت کم لوگ ہی کیوں اپنی مخفی صلاحیتوں کو مادی  نتائج میں ڈھالنےمیں کیوں کامیاب ہوتے ہیں؟اس کی وجہ یہ نہیں کہ قدرت صرف چند لوگوں کو باصلاحیت پیداکرتی ہے  بلکہ اس کابڑا سبب یہ ہے کہ انسان کی اپنی نفسیات میں ایسی منفی قوتیں موجود ہوتی ہیں جو انسان کی کامیابی کے حصول میں زبردست مزاحمت کرتی ہیں۔
                                                                                                                                   انسان کے تقریباً نوے فیصد ذہنی اعمال ذہن کے ایک پوشیدہ اورپراسرار حصے میں وقوع پذیر ہوتے ہیں جس کی سرگرمیوں سے ہم شعوری طورپر بے خبر رہتے ہیں۔ اس حصے کو لاشعور کہا جاتاہے۔ یہی لا شعور حقیقت میں ہماری کامیابیوں اورناکامیوں کاذمہ دار ہوتاہے۔ہم جوزندگی میں اپنی واقعی صلاحیتوں سے بہت ہی کم حاصل کرپاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ذہن کا لاشعوی حصہ بچپن کے ناخوشگوار ماحول، ناقص تربیت ، دوسروں کی تنقید اورزندگی کے سابقہ ناکام تجربات کی بنیادپر ہماری شخصیت کا ایک منفی اور حوصلہ شکن تصور مسلسل ہمارے شعوری ذہن کی طرف بھیجتارہتا ہے۔
                                                                                                                                                 جب آپ کالاشعور مایوسیوں، تلخیوں،خوف وخدشات اورشکست کوردہ خیالات سے بھرا ہواہے تو آپ محض شعوری سطح پر مثبت سوچوں  اور اعلیٰ عزائم سے اپنی زندگی میں کوئی انقلاب نہیں لاسکتے کیونکہ خود آپ کی ذات کاایک طاقتور حصہ یعنی لاشعور آپ پر یقین نہیں کرتا اورآپ  اپنے شعوری ارادے کے ذریعے لاشعور پر اثرانداز نہیں ہوسکتے ۔ اس سلسلے میں محض عزم و ارادہ سے کام نہیں بنتا۔دراصل آپ کے لاشعوری ذہن کایہی منفی طرزِ عمل آپ کی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔دیگر اسباب مثلاًتقدیر، وسائل اورلوگوں کارویہ وغیرہ ثانوی حثیت رکھتے ہیں۔
کامیابی کی تکنیک
                                                                                                                 اب سوال یہ ہے کہ ہم کس طرح اپنی لاشعوری نفسیات کو بدل سکتے ہیں اورکس طرح منفی سوچوں کی جگہ مثبت خیالات کی آبیاری کرسکتے ہیں؟ اس کیلئے ایک آزمودہ اورمؤثر طریقہ ہے جسے آٹو جینک کنڈیشننگ (Autogenic Conditioning ) کہا جاتا ہے۔اس میں اپنے لاشعوری ذہن کو مثبت ترغیبات دے کر اپنے اندر گہری تبدیلی لائی جاتی ہے۔ یہ تکنیک آپ کامسئلہ حل کرسکتی ہے۔ اس طریقے کو ایک جرمن ماہر نفسیات ڈاکٹر چوہانس نے اختیار کیا اور اب اسے پورے یورپ میں فروغ دیا جارہا ہے۔ اس طریقے پر عمل کر کےآپ ان اپنی نفسیاتی کمزوریوں  کو دور کرسکتے ہیں جو ہمیشہ آپ کو ناکامی سے دوچار کرتی ہیں۔
آٹو جینک کنڈیشننگ کی یہ تکنیک تین اجزاء پرمشتمل ہے:
1) تدریجی جسمانی ڈھیلاؤ (Progressive Relaxation)
2) مثبت ترغیبات (Positive Affirmations)
3) تخلیقی تصور سازی (Creative Visualization)
                                                                                                                                                             اس طریقہ کار کی وضاحت یہ ہے کہ انسان کے ذہن میں شعوری سطح پر ہمہ وقت مختلف اقسام کی لہریں مرتعش  ہوتی ہیں۔ا ن میں  پہلی قسم کی لہروں کو بیٹا لہریں (ß-waves) کہتے ہیں جن کی فریکوئینسی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ لہریں اس وقت پیداہوتی ہیں جب ہم پوری طرح بیدار اورروزمرہ کی سرگرمیوں میں مشغول ہوتےہیں۔ اس وقت جب آپ یہ مضمون پڑھ رہے ہیں  تو آپ کے شعور پر انہی لہروں کاغلبہ ہے۔
                                                                                                                         دوسری قسم کی لہروں کی فریکویئنسی بہت کم ہوتی ہے، انھیں ایلفا لہریں   (α-waves) کہتےہیں۔یہ اس وقت پیداہوتی ہیں جب تکان کی وجہ سے ہماری شعوری سرگرمیاں دھیمی پڑنے لگتی ہیں ۔ اس کیفیت کو ہم اس وقت محسوس  کرتے ہیں جب رات کوہم نیند کے بالکل کنارے پر ہوتے ہیں یعنی سونے سے چند سیکنڈ پہلے اور اسی طرح صبح بیدار ہونے کے چند سیکنڈ بعد تک یہ حالت رہتی ہے۔ یہ شعور کی ایسی بدلی ہوئی کیفیت  (Altered State of Consciousness)  ہوتی ہے جو اس بات کاغیرمعمولی امکان پیدا کردیتی ہے کہ ہم اپنے لاشعور تک رسائی حاصل کرسکیں اور ترغیب کے ذریعے اپنے لاشعوری رجحانات کی  نوعیت میں حسبِ منشا تبدیل کرسکیں۔ یہ چیز اس وقت ممکن نہیں ہوتی جب ہمارے ذہن پر بیٹا لہروں کاغلبہ ہوتا ہے۔آٹوجینک کنڈیشننگ کامقصد یہی ایلفا حالت  بیداری کے وقت  پیداکرنا ہے تاکہ ہماری شعوری  ترغیبات بلاروک ٹوک لاشعور میں داخل ہوسکیں۔
عملی طریقہ
آٹو جینک کنڈیشننگ کا عمل سات اقدامات پر مبنی ہوتاہے:
1) سب سے پہلے ایک پرسکون جگہ کاانتخاب کریں جہاں آپ با کل تنہا ہوں۔
2) آرام دہ بستر پر پشت کے بل لیٹ جائیں اوربتدریج اپنے سب جسمانی اعضاء کو ڈھیلا کرتےجائیں۔ چہرے سے لے کر پیروں تک آپ کے جسم  میں کہیں تناؤ نہیں ہونا چاہیئے۔ خود کو ایک بے جان لاش کی طرح  محسوس کریں۔ اس عمل میں کافی وقت صرف کریں حتٰی کہ آپ پر گہرے سکون اورہلکی سی غنودگی کی کیفیت طاری ہونے لگے۔ اس وقت آپ کے ذہن پر ایلفا لہروں کابہاؤ بڑھ جائے گا۔
3) اس کے بعد دھیمے لہجے میں آہستہ آہستہ اپنی ترغیب دہرانا شروع کریں ۔مثلاً اگر آپ سگریٹ نوشی کی عادت پر قابو پانا چاہتے ہیں تو اس طرح ترغیب دیں: ۔۔۔”میری سگریٹ نوشی کی عادت ختم ہوتی جارہی ہے۔۔۔میں رفتہ رفتہ  اس طلب پر غالب آتا جارہا ہوں۔“ ۔۔۔۔ترغیب کو مسلسل دہراتے جائیں۔ اس سلسلے میں یہ خیال رکھیں کہی ترغیب ہمیشہ مثبت اور زمانۂ حال میں ہونی چاہیئے۔
4) اس کےساتھ اپنی قوتِ تصور کو حرکت دیں اور تصور کی آنکھ سے خود کومطلوبہ حالت میں دیکھیں ۔ مثلاً اگرآپ خود کو تقریر کیلئے تیار کرنا چاہتےہیں تو اپنے دماغ کی سکرین پر خود کو بھرے مجمع کے سامنے پُراعتماد اوربے باک انداز میں تقریر کرتا دیکھیں۔اپنی مطلوبہ حالت کاپوری تفصیلات کےساتھ تصور کریں مثلاً تصوراتی عمل میں مجمع میں موجود لوگوں کے چہروں کابھی جائزہ لیں اور دیکھیں کہ آپ کی تقریر سن کر ان کے چہروں پر دادوتحسین کے جذبات نمایاں ہورہے ہیں، ساری آنکھیں خاموشی کے ساتھ آپ کی طرف متوجہ ہیں وغیرہ۔
5) اپنے تصوراتی خاکے کو پورے یقین سے قبول کریں جیسے یہ آپ کا حقیقی تجربہ ہے اورپہلے سے آپ کے کردار کاحصہ ہے۔
6) اپنے آپ کو ان خوشی اورمسرت سے بھرپور جذبات کے حوالے کردیں جو خود کو مطلوبہ حالت میں تصور کرنے سے آپ کے اندر پیداہوں گے۔ ان مثبت جذبات کواپنےسارے جسم میں نفوذ کرتا محسوس کریں۔یہ عمل آپ کی ترغیب کولاشعور کی گہرائیوں میں اتار دے گا اورآپ کی مخفی قوتیں اس تصور کردہ حالت کو حقیقت میں بدلنے کیلئے متحرک ہوجائیں گی۔
7) اس کے بعد پورے جوش کے ساتھ اپنی مٹھیاں بھینچ لیں اور پُراعتماد اور ٹھوس لہجے میں خود سے کہیں: ۔۔۔”ہاں! میں یہ سب کرسکتاہوں۔۔۔ ہاں! یہ سب ہونے والا ہے۔۔۔اب کامیابی میرا مقدر ہے ۔۔ ۔“۔۔۔۔باربار یہ الفاظ دہرائیں۔
لاشعوری پروگرامنگ
                                                                                                                               اس طرح اس تکنیک کے ترغیبی،تصوراتی اورجذباتی اجزاء مل کر آپ کےلاشعور میں آپ کی شخصیت کے بارے میں ایک نیا اعتماد پیداکریں گے کیونکہ آپ کےذہن کی گہرائیوں میں آپ کی ذات کے بارے میں جو منفی تصورات پیوست ہیں، وہ بھی انہی اجزاء سے بنے ہیں۔جب آپ کو خود پر اعتماد نہیں ہوتااور احساسِ کمتری میں مبتلا ہوتے ہیں تو یہی ہوتاہے کہ آپ باربارسوچتے ہیں کہ ’میں ایک ناکام انسان ہوں۔۔مجھ میں فلاں خامی ہے‘ (یہ  اس منفی رجحان کاترغیبی پہلو ہے) ،پھر آپ خود کو دماغ کی آنکھ سے ایسا ہی دیکھنے لگتے ہیں(یہ تصوراتی پہلو ہے)، اس کے نتیجے میں آپ کے اندر مایوسی اور پریشانی کے جذبات پیداہوتے ہیں (یہ جذباتی پہلو ہے) اور یوں  آپ کایہ منفی طرزِ عمل باربار کی تکرار سے لاشعور کے اندر گہرائیوں میں جابیٹھتاہے اور پھر آپ کاکردار اسی لاشعوری  تصویر کے مطابق ہوجاتاہے۔ لہٰذا اسی عمل کی مثبت انداز میں پیروی کرتے ہوئے آپ لاشعور کے اندر نئے رجحانات اورنئے تصورات اتار سکتے ہیں اوراپنے تمام منفی جذبات اور عادات کی اصلاح کرسکتے ہیں۔
استعمالات اورفوائد
                                                                                                                                                                                      آٹوجینک کنڈیشننگ کی یہ مشق دن میں کسی بھی وقت پندرہ سے بیس منٹ تک روزانہ کریں اوررات کوسوتے وقت بھی اس مشق کے پہلے چاراقدامات کرتے ہوئے سوجائیں۔ باقاعدگی اوردلچسپی سے اس طریقے پر عمل کرنے سے ایک ماہ کے اندر آپ اپنی ذات میں نمایاں تبدیلی محسوس کریں گے۔اس طریقےسے آپ اپنی بری عادات مثلاً سگریٹ نوشی، خودلذتی، منشیات کااستعمال،ناخن کاٹنا، ہکلاکربولناوغیرہ پر چند ہفتوں میں قابو پاسکتے ہیں اورنفسیاتی الجھنوں مثلاً خوف،ڈپریشن،شرمیلاپن، خوداعتمادی کی کمی، کمزور حافظہ،بے خوابی وغیرہ کابھی مؤثر انداز میں علاج کرسکتےہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

2 comments:

  1. السلام وعلیکم ماشاءاللہ آپ بہت اچھا لکھتے ہیں، میں طب یونانی کے شعبہ سے وابستہ ہوں، میں نے آپکے دو آرٹیکل دبلاپے سے نجات اور خود ترغیبی پڑھے، میں نے آج تک ان موضوعات پر اتنی جامع اور سلیس تحاریر نہیں دیکھیں خاص طور پر دبلاپن کے کے حوالے سے، میں آپکی تحاریر اور ریسرچ کا فین ہو گیا ہوں۔ آپ بہت مفید آرٹیکل لکھتے ہیں جزاکم اللہ خیرا کثیرا

    ReplyDelete
  2. وعلیکم السلام!
    بہت شکریہ غنی صاحب!

    ReplyDelete

محبت

  خوشی کا حصول کیسے؟   محبت برٹرینڈ رسل                     زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احسا...