چہرے کاحسن وجمال اوراس کے مسائل
انسانی جسم میں چہرے کو وہی حثیت حاصل ہے جو ایک پودے میں
پھول کی ہوتی ہے۔چہرہ انسان کی شناخت ہی نہیں ، اس کی دلکشی اورجازبیت کامرکز بھی
ہوتاہے۔تاہم بعض مسائل ایسے ہیں جو انسان کے چہرے کی رعنائی کو متاثر کرتے ہیں ۔
نوجوان لڑکے لڑکیاں بالخصوص ان مسائل کے ہاتھوں پریشان ہوتے ہیں۔اس عمر میں
نوجوانوں کیلئے چہرہ ایسی دولت کی طرح ہوتاہے جسے وہ کسی بخل کے بغیر دوسروں میں
بانٹنا چاہتے ہیں مگر جب چہرہ دانوں اور
غیرضروری بالوں سے بھر جائے یا چہرے کی رنگت خراب ہو جائے، تو انھیں یہی
اثاثہ لوگوں سے چھپانے کی فکر لگ جاتی
ہے۔یہ چیزحساس نوجوانوں میں شرم، جھجک اوراحساسِ کمتری پیدا کرتی ہے۔اور انھیں
آئینہ اپنا دشمن لگنے لگتاہے۔پھر یہ نوجوان بدحواس ہو کرانواع واقسام کی
کریمیں،لوشنز اورپاؤڈر آزماتےہیں جواکثر صورتوں میں ناقص اورغیرمستند ہونے کے سبب چہرے کی نازک جلد کو
الٹا نقصان پہنچاتے ہیں۔
ذیل میں ہم چہرے کے حوالے سے چند مسائل اور ان کے حل پر بات
کریں گے:
کیل اورمہاسے
چہرے پر دانوں، کیل اورمہاسے اس وقت نمودار ہوتے ہیں جب جلد
میں روغنی اجزا ء بڑھ کر بالوں کی جڑوں
میں پائی جانے والی تھیلیوں(Follicles) کو ڈھانپ لیتے ہیں اور اس رکاوٹ کے پیش آجانے کی وجہ سے جلد پر
سفید،سیاہ یاسرخ رنگ کے دانے ابھرآتےہیں۔یہ دانے پیپ سے بھرے ہوئے اورتکلیف کا
باعث ہوتے ہیں۔یہ پیشانی اوررخساروں کے علاوہ سینے،کندھوں اوربالائی کمر پر بھی
ہوسکتے ہیں۔
کیل مہاسوں کے اسباب میں جسم میں روغنی مادوں کی کثرت،
بالوں کی مردہ جڑیں، جراثیمی انفیکشنز اورمردانہ
ہارمون اینڈروجن کی زیادتی شامل ہیں۔یہ مسئلہ زیادہ تر نوجوانوں(ٹین ایجرز)
کوپیش آتاہے ۔
زخم ،خارش اورانفیکشنز کی شدید صورتوں میں کسی ماہر امراضِ
جلد (ڈرماٹولوجسٹ) سے رجوع کرنا چاہیئے جو اینٹی بایوٹکس اور اینٹی اینڈروجن
دوائیں کھانے کیلئے تجویز کرے گا۔اس کے علاوہ بیرونی استعمال کیلئے جیل اورلوشنز
بھی دیے جاتےہیں۔تاہم ان دواؤں کے سائیڈ ایفیکٹس بھی ہوتےہیں ، لہٰذا یہ علاج
ہمیشہ کسی ماہر اورمستند معالج کی زیرِ نگرانی ہی کرنا چاہیئے۔ یہاں ہم آپ کو چند
متبادل دوائیں (Alternative
Medicines) بتارہے ہیں جو
قدرتی نباتاتی اجزاء سے تیارشدہ ہونے کی وجہ سے بے ضرر اورمحفوظ ہیں اورجلد ی
امراض کیلئے انتہائی مؤثر بھی ہیں:
1) صافی(ہمدرددواخانہ ،کراچی): یہ خون صاف کرنے والی قدرتی جڑی بوٹیوں سے تیارشدہ شربت ہے
جوخون سے خراب مادوں کو خارج کرکے دانوں، کیلوں اورمہاسوں سے نجات دلاتاہے۔ اس کے
علاوہ یہ اپنی سرد تاثیر کے باعث مردانہ ہارمون پیداکرنے والے غدودوں کے فعل کوبھی
اعتدال پر لاتاہے جس سے جوانی کے دانوں اورپھنسیوں کی روک تھام ہوجاتی ہے۔اس کے
استعمال کے دوران گرم،تیزمسالے دار اورچکنائی والی غذاؤں سے پرہیز ضروری ہے۔صافی
کےدوچمچے ایک کپ پانی میں ملاکر صرف ایک بار رات سوتے وقت پیئں۔
2) بیریسال شربت(ہمدرد دواخانہ، کراچی): یہ گھیگوار(ایلوویرا) کے گودے سے تیارکیا گیا شربت ہے۔
گھیکوار کاگودا جلد کیلئے بے شمار فوائد رکھتاہے۔یہ جسم سے غیرضروری اورمضرمادوں
کو خارج کرکے جسم کی صفائی کرتاہے۔اینٹی بایوٹک اثرات کی وجہ سے جلدی انفیکشنز کے
علاج میں معاون ہے اورمانع تکسید (اینٹی آکسیڈینٹ) خوبیوں کی وجہ سے چہرے کی جلد
کی خرابی اورقبل ازوقت جھریاں پڑنے سے روکتاہے۔ اسی لیے ایلوویرا جیل بھی چہرے پر
لگانے کیلئے تجویز کی جاتی ہے۔چہرے کی جلد کی تازگی اورخوبصورتی کیلئے بیریسال
شربت کااستعمال بہت مفید ہوتاہے۔اس شربت کے چائے کے دوچمچے دن میں دوبار کھانے کے
بعد استعمال کریں۔
3) ہیپارسلفورس
پنٹارکن(Hepar Sulphuris
Pentarkan No.53): یہ شوابے جرمنی کی ہومیوپیتھک دواہے۔ یہ ہر طرح کے کیل،
مہاسوں اورپھنسیوں کیلئے انتہائی مفید گولیاں ہیں۔یہ جلد کے نیچے چکنائی اورچربی
کی مقدارکو کم کرتی ہیں۔ دانوں میں پیپ کو چشک کرکے انفیکشن کاخاتمہ کرتی ہیں۔اس
کے علاوہ جلد کی صحت میں اضافہ کرکے چہرے پرچمک اورنکھار پیداکرتی ہیں۔دو گولیا ں
دن میں تین مرتبہ زبان پر رکھ کر چوسیں۔
4) بروکس سلفر کریم (Brooks Sulfur Cream): یہ بروکس ہومیو
لیب کی تیارکردہ ہومیوپیتھک کریم ہے۔یہ چہرے پر نمودار ہونے والےکیل مہاسوں، پھوڑے
پھنسیوں ،پیپ دار دانوں اورجلد کی سوزش اورخارش کیلئے مفید ہوتی ہے۔یہ
کریم متاثرہ جگہ پر دن میں تین مرتبہ لگائیں۔
5) تھوجا کریم(Thuja Occ Cream): یہ بھی بروکس
ہومیو لیب کراچی کی تیارکردہ ہومیوپیتھک کریم ہے جو چہرے پر مسّوں
اورگومڑوں کیلئے بہت مفید ہوتی ہے۔ اس کے استعمال سے مسّے اورگومڑ چہرے پر داغ
چھوڑے بغیر نکل جاتےہیں اوردوبارہ نمودار نہیں ہوتے۔یہ کریم متاثرہ مقامات پر دن
میں کئی مرتبہ لگائیں۔
چہرے کے غیرضروری
بال
چہرے پر اگنے والے غیرضروری بال خاص طورپر خواتین کیلئے
پریشان کن ہوتے ہیں۔ان کاسبب جسم میں
مردانہ ہارمون اینڈروجن کی زیادتی ہوتی ہے۔ طبی زبان میں اس مسئلے کو Hirsutism کہا جاتاہے۔اس
میں چہرے کے ان حصوں میں بال اگنے لگتےہیں جو عام طورپر مردوں کے ساتھ خاص ہوتے
ہیں۔ایسے بال اگرچہ صحت کیلئے کوئی خطرہ نہیں ہوتے لیکن نوجوان لڑکیوں کیلئے
احساسِ کمتری کاباعث بن جاتے ہیں۔
اس مسئلے کے تدارک کیلئے عام طورپر معالج اینٹی اینڈروجن اور
مانع حمل (Contraceptives)دوائیں
دیتے ہیں۔تاہم ان دواؤں کے سائیڈ ایفیکٹس
بہت پریشان کن ہوتےہیں۔ یہاں متبادل ادویہ کے طور پر ایک دوا کاذکر کیا جاتاہے جو غیرضروری بالوں سے
نجات کیلئے مؤثر اورمحفوظ ثابت ہوئی ہے۔
اورنیٹک ٹیبلیٹس (Ornatic Tablets ): یہ شوابے جرمنی کی تیارکردہ ہومیوپیتھک گولیاں ہیں ۔ ان
کاجزو الیم جیکورس(Oleum Jecoris) ہے جو مچھلی کے جگر کے تیل سے حاصل کیا جاتاہے۔ یہ دوا چہرے اور
جسم کے کسی بھی حصے میں پیداہونے والے غیرضروری بالوں کیلئے بہت مفید ہوتی ہے۔ یہ گولیاں خواتین
کے ہارمونی نظام کو اعتدال پر لاتی ہیں
اورغیرضروری بالوں کے تدارک کے علاوہ ماہانہ تکلیف اورحیض کے مسائل بھی دور
کرتی ہیں۔ دو دو گولیاں دن میں دو مرتبہ کھانے سے پہلے چوسیں۔
کالی یا گہری
سانولی رنگت کامسئلہ
ہمارے ہاں گورے رنگ کو خوبصورتی کامعیار مانا جاتاہے ۔ بلکہ
ایک قول کے مطابق، ”گورا رنگ آدھا حسن
ہوتاہے“۔ یہ بات کئی حوالوں سے درست نہیں ، مگر پھر بھی اس عمومی رجحان کے
زیرِ اثر بہت سے مردوزن اپنی سیاہ یا سانولی رنگت پر شرمسار رہتے ہیں۔ اس معاملے
میں قدرت کی کچھ حدود بھی ہیں مگر بعض تدابیر سے چہرے کی رنگت کو قدرے نکھارا
جاسکتا ہے۔ ذیل میں ایسی قدرتی دواؤں کے نام دیے جارہے ہیں جو رنگ گورا کرنے کیلئے
استعما ل کی جاسکتی ہیں:
1) بربیرس ایکوفولیم (Berberis
Aquifolium Q): یہ ایک ہومیو پیتھک مدر ٹنکچر ہے جو رنگ گورا کرنے کیلئے
بہت مفید پایا گیا ہے۔یہ مدرٹنکچر ان تمام صورتوں میں استعمال کیا جاسکتاہے جہاں
چہرے کارنگ سیا ہ ہو یا داغ دھبوں اور مہا سوں کے نشانات کی وجہ سے رنگت خراب ہوچکی
ہو۔یہ دوا چھ ماہ پابندی سے لینے سے چہرے کی رنگت گوری اوراجلی ہوجاتی ہے۔ سیاہی
دور ہوکر چہرے کی جلد میں چمک پیدا ہوجاتی
ہے۔یہ دوا مصفئ خون بھی ہے ، اس لیے خون کوصاف کرکے کیل ، مہاسوں اوردانوں کاخاتمہ
کرتی ہے۔
اس کا ترکیب استعمال یوں ہےکہ اس مدرٹنکچر کے بیس قطرے آدھے
کپ تازہ پانی میں ملاکر دن میں تین بار کھانوں سے آدھا گھنٹہ قبل پیئں۔ اس کے ساتھ
ہی اس مدر ٹنکچرکے بیس قطرے ، عرقِ گلاب
کے بیس قطروں کے ساتھ ملا کر دن میں تین بار چہرے پر لگائیں۔بہتر ہوگا کہ یہ
مدرٹنکچر شوابے جرمنی کا تیا رشدہ ہی استعما ل کیا جائے۔
2) عروسہ: یہ اجمل دواخانہ
لاہور کے قدیم اورمجرب نسخے کے مطابق تیار
کیا گیا ابٹن ہے جوخواتین سنگھار کیلئے استعما ل کرتی ہیں۔عروسہ جلد کو ملائم رکھنے اور رنگت نکھارنے والی جڑی بوٹیوں کا مرکب ہے۔جھائیوں ، مہاسوں
اورداغ دھبوں کودور کرتی ہے۔ عروسہ کے استعمال سے چہرے کاحسن دوبالا ہوجاتاہے
اورجلد میں بھینی بھینی اورسرورانگیز خوشبو بس جاتی ہے۔
بقدر ضرورت پانی میں ملاکر چہرے پر ملیں۔دس پندرہ منٹ بعد
چہر ہ دھو لیں۔
****************************
No comments:
Post a Comment