Friday, May 10, 2019

خودتقویتی


خودتقویتی

اپنے جذبات اورخواہشات سے براہ راست الجھے بغیر 
  اپنی بری عادات سے نجات پانے کا ایک منفرد اورتیر بہدف طریقہ
 
                                                                                                                                                                                                خود تقویتی(Self-Reinforcement) اپنی بری عادات کوترک کرنے اورمثبت کردار کو اپنانے کاایک بہت ہی مؤثر،سہل اورسریع الاثر طریقہ ہے جس کی مدد سے آپ اپنے منفی جذبات اوررجحانات سے براہ راست کشمکش کیے بغیر اپنی شخصیت کی اصلاح کرسکتے ہیں۔تاہم اس تکنیک کے عملی طریقے بتانےسے پہلے ہم اس کے علمی پس منظر  کو مختصراً بیان کریں گے۔
کرداریت
                                                                                                                                                            کرداریت(Behaviorism) جدید نفسیات کی ایک شاخ ہے  جس کی بنیادی ماہر نفسیات واٹسن نے 1912ء میں رکھیں۔اس کے بعد بی –ایف سکنرنے اسے  بام عروج پر پہنچایا۔کرداریت میں انسانی ذہن کے صرف کرداری پہلو سے بحث کی جاتی ہے جبکہ ذہنی عمل سے اعتنا نہیں کیا جاتا۔اپنی تعریف کی رو سے کردار(Behavior) ان جوابی افعال پرمشتمل ہوتاہے جن کامظاہرہ زندگی اور ذہن رکھنےوالی اشیاء خارجی محرکات کے زیراثر کرتی ہیں۔کرداری نفسیات انسانی افعال کاسبب انسان کے ذہن اورخیالات میں نہیں  بلکہ انسان کے خارجی ماحول میں تلاش کرتی ہے ۔ یعنی اس کے مطابق انسانی شخصیت خارجی محرکات اوران  کے زیراثر اختیار کیے گئے ردعمل سے عبارت ہوتی ہے۔
انسانی کردار کی دواقسام 
                                                                                                                                                                                                     سکنر نے انسانی کردار کودواقسام  متعین کی ہیں: 1) مفعولانہ کردار(Respondent Behavior) 2) اور فاعلانہ کردار(Operant Behavior)۔مفعولانہ کردار کسی خاص محرک کے تحت اضطراری ردعمل پر مبنی ہوتاہے ۔مثال کے طورپر تیز روشنی پڑنے پر آنکھ کے پپوٹے کاجھپک کر بند ہوجانا،کسی شدید گرم یا تیزدھار والی چیز پر ہاتھ کالگتے ہی فوراً پیچھے کھنچ جانا اور کسی لذیذ کھانےکو دیکھ کر منہ میں پانی بھر آنا وغیرہ۔ اس قسم کے افعال اپنے مخصوص محرکات سے مشروط ہوتے ہیں۔
فاعلانہ کردار وہ کردار ہوتاہے جو انسان کے خارجی ماحول پر عمل کرکے کچھ نتائج پیداکرتاہے۔مفعولانہ کردار کے برعکس اس کردار کے محرکات خارجی ماحول میں واضح نہیں ہوتے اوریہ کردار اپنے نتائج کے تحت  ہوتاہے۔ اس کی مثالوں میں کتاب پڑھنا، گاڑی چلانا اورخط لکھنا وغیرہ شامل ہیں۔فاعلانہ کردار جس قسم کے نتائج سے مشروط ہوتاہے، ان میں سب سے اہم خارجی ماحول سے حاصل ہونے والی تائید یا تقویت (Reinforcement) ہے۔سکنر کے مطابق اگر کسی فعل کو خارجی ماحول سے تقویت حاصل ہوجائے تو وہ فعل یا رویہ مستحکم ہوجاتاہے جس سے اس بات کاامکان بڑھ جاتاہے کہ وہ کردار دوبارہ بھی انہی شرائط کے تحت دہرایا جائے گا مثلاً اگر آپ کسی تقریب میں کوئی نیا لباس پہن کر جائیں اوروہاں لوگ آپ کے اس لباس کی تعریف کریں تو ا س حوصلہ افزائی کی بنیاد پر آپ آئندہ بھی تقریبات میں یہی لباس پہن کر جائیں گے یا اگر کسی محنتی طالب علم کو امتحان میں کامیابی پر تعریفی کلمات یا انعام حاصل ہو تو وہ طالب علم اپنی محنت سے پڑھنے کے رویے کو آئندہ بھی جاری رکھے گا۔ اس طرح مسلسل تقویت اورحوصلہ افزائی کی وجہ سے کوئی کردار کی رویہ "عادت" کی شکل اختیار کرکے انسان کی عمومی شخصیت کاحصہ بن جاتاہے۔دوسری طرف اگرانسان کاکوئی فاعلانہ کردار خارجی ماحول سے تقویت حاصل کرنے میں مسلسل ناکامی سے دوچار ہو تو اس صورت میں وہ کردار ضعف کاشکار ہوکر متروک ہوجاتاہے۔سکنر نے اس عمل کو کسی چراغ کے بتدریج گُل ہوجانے سے تشبیہ دی ہے۔مثال کے طورپر اگر بچے کے رونے اورچیخنے کے باوجود ماں اس کی طرف متوجہ نہ ہو توبچہ کچھ دیر بعد خودبخود خاموش ہوجاتاہے۔اسی طرح ہماری وہ عادات اوررویے خودبخود ترک ہوجاتے ہیں جنھیں دوسروں کی طرف سے قبولیت یا توجہ حاصل نہیں ہوتی ۔ پس ہمارے فاعلانہ کردار کے جاری رہنے یا متروک ہوجانے کاانحصار خارجی ماحول سے ملنے والی تقویت پر ہے۔ یہ تقویت اگر تعریف،انعام اور توجہ کی شکل میں ہو تو اسے مثبت تقویت اور اگر سزا،ناپسندیدگی اور عدم توجہ کی شکل میں ہو تو اسے منفی تقویت کہتے ہیں۔
خودتقویتی کے دو اصول
ماہرنفسیات گولڈائمنڈ(Goldiamond) نے خودتقویتی کے دو اصول بیان کیے ہیں:
1)سب سے پہلے آپ کو اس حقیقت کاادراک کرنا ہوگا کہ آپ کے تمام افعال اوررویوں کا اصل محرک آپ کی ذات کے اندر نہیں بلکہ خارجی ماحول میں ہے۔ کرداریت پسند ماہرین(Behaviorists) انسانی ارادہ و اختیار کے بہت زیادہ قائل نہیں ہیں۔خود انضباطی یعنی سیلف کنٹرول کامطلب ان کے نزدیک قوتِ ارادی کامظاہرہ نہیں بلکہ خارجی ماحول میں پائے جانے والے محرکات کو ازسرِ نو اس طرح ترتیب دینا ہے کہ ان کے زیراثر ناپسندیدہ رویوں کی بجائے مطلونہ افعال سرزد ہوں۔اگر ایک شخص کوشش کے باوجود اپنےناپسندیدہ کردار اورمنفی عادات پرقابو پانے میں ناکام رہتاہے تواس کامطلب یہ نہیں لینا چاہیئے کہ اس شخص کی قوتِ ارادی کمزور ہے بلکہ اس مطلب یہ ہوگا کہ اس شخص  کے منفی کردارکو اس کے خارجی ماحول سے مسلسل کسی نہ کسی صورت میں مثبت یا منفی تقویت پہنچ رہی ہےجس کی وجہ سےوہ شخص نہ چاہتے ہوئے بھی ان ناپسندیدہ عادات واطوار کوجاری رکھے ہوئے ہے۔لہٰذا خارجی محرکات کو تبدیل کیے بغیر محض ارادے کے بل بوتے پر اپنے کردارپر قابوپانے کی کوشش بے سود ہوگی۔مثلاًاگر آپ کامسئلہ سگریٹ نوشی ہے اورآپ ارادہ کرتے ہیں کہ آئندہ سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگائیں گے تو اس کوشش میں آپ کو عارضی کامیابی ہی ہوگی ، کیونکہ سگریٹ نوشی کے اصل اسباب بدستور خارجی ماحول میں موجود ہیں۔نتیجتاًآپ کچھ دنوں تک اپنے آپ کے ساتھ لڑیں گے اورپھر سگریٹ کی طلب کے آگے ہتھیار ڈال دیں گے۔پس اس بات کو ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ اگرچہ ہمارا مقصد خود انضباطی ہے مگر ہمیں اصل کام خارجی اسباب وعوامل پر کرناہے۔
2) اس کے بعد آپ کو اپنی ناپسندیدہ عادت اورناقابل اصلاح کردار کاایک عملی تجزیہ کرنا ہوگا۔عملی تجزیے سے مراد ہےکہ آپ دیکھیں کہ:
                  i.            آپ کی ناپسندیدہ عادت یا کردار کے آپ کے ماحول میں اصل اسباب ومحرکات کیا ہیں مثلاً اگر خودلذتی کی عادت کاشکار ہیں توآپ کوغور کرنا ہوگا کہ کون سا خارجی محرک آپ سے اس فعل کاارتکاب کرواتاہے؟ ممکن ہے کہ اس کا سبب وہ فحش فلمیں ہوں جو آپ دوستوں کے ہمراہ دیکھتے ہیں یا وہ رسالے اورڈائجسٹ ہوں جو منفی ترغیبات پر مبنی ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ ہوسکتاہے کہ جذباتی انتشار اس کا اصل سبب ہو یا پھر بے مقصدیت،فراغت اورکسی مناسب مشغلے کانہ ہونا آپ کو اس فعل کاعادی بنائے ہوئے ہو۔
               ii.            کن اوقات اورکن مقامات پرآپ زیادہ تر اپنے ناپسندیدہ کردار کاارتکاب کرتے ہیں مثلاً اگرسگریٹ نوشی میں مبتلاہیں تو ممکن ہے کہ آپ دوسروں کو سگریٹ پیتے دیکھ کر اس کی تحریک محسوس کرتے ہوں یا پھر کھانے کےبعد،مصروفیت کے دوران یاسوچ بچار کےوقت آپ سگریٹ کی زیادہ طلب محسوس کرتےہیں۔
خودتقویتی کاطریقۂ کار
سکنرکے بیان کردہ تقویت کے اصول کی مدد سے آپ اپنےکردار کی اصلاح مندرجہ ذیل طریقوں سے کرسکتے ہیں:
1) اپنے انضباطی رویے کے ساتھ کوئی مثبت تقویتی عامل (Positive Reinforcer) مثلاً انعام، تعریف وغیرہ مشروط کریں۔مثال کے طورپر اگرآپ اپنی سگریٹ نوشی کی عادت بتدریج ختم کرنے کیلئے روزانہ دوسے زیادہ سگریٹ نہ پینے کافیصلہ کرتےہیں تودن کے اختتام پر جب آپ نے کامیابی کے ساتھ سگریٹ کی طلب کامقابلہ کیاہو،تو خود کو کوئی انعام دیں مثلاً چائے کااضافی کپ،کوئی سویٹ ڈش وغیرہ۔اسی طرح جب آپ ایک مکمل ہفتہ کامیابی کے ساتھ اپنی عادت پر قابو رکھتے ہوئے گزار لیں تو ہفتے کے اختتام پرخود کوئی زیادہ بڑا انعام دیں مثلاً  کسی پسندیدہ ناول کامطالعہ،کوئی دلچسپ فلم،من پسند موسیقی وغیرہ۔مگر ناکامی کی صورت میں خود کو ان چیزوں کامستحق نہ سمجھیں۔اسی طرح جب آپ پوراایک ماہ اس طرح ختم کریں کہ آپ نے اپنے فیصلے کے مطابق روزانہ دو سگریٹوں سے زیادہ تمباکو نوشی نہ کی  تو مہینے کے اختتام پر خود اپنے اعزاز میں ایک شاندار ضیافت دیں۔ا س کیلئے ایک پورادن مختص کرکے خود کو بھرپور تفریح بہم پہنچائیں مثلاًدوست احباب کے ساتھ سیروتفریح کاپروگرام بنائیں،سینما پر جاکر کوئی نئی فلم دیکھیں،کسی ضخیم ناول کامطالعہ کریں، اس دن اپنی من پسند ڈش بنوائیں وغیرہ۔لیکن اگر کسی مرحلے پر آپ زیادہ سگریٹ نوشی کے مرتکب ہوگئے ہوں توخود کو ان تفریحات سے محروم رکھیں۔
                                                                                                             اس کے علاوہ مثبت تقویت کاایک طریقہ اور بھی ہے کہ اپنی بری عادت کے کامیاب ضبط پر آپ خود اپنی تعریف کریں یا اپنے دوستوں اورشریکِ حیات سے اس بات کاذکر کریں کہ آپ نے پورا ایک ماہ دو سے زائد سگریٹ نہیں پیے ہیں۔اس پر یقیناً وہ آپ کی تحسین کریں گے جس سے آپ کی حوصلہ افزائی ہوگی  اور آپ کی قوتِ انضباط (سیلف کنٹرول )میں اضافہ ہوگا۔
2) اپنی ترقی و اصلاح کاجائزہ لینے کیلئے ایک چارٹ یا گراف بنائیں مثلاً اگر آپ اپنی بسیارخوری پر قابو پاکر اپنے وزن میں کمی کررہے ہیں تو اپنے وزن میں ہونے والی ہفتہ وار کمی (پاؤنڈز میں) چارٹ میں لکھتے جائیں۔اس طرح آپ اپنی اس ترقی کوآنکھوں سے دیکھ سکیں گے جسے آپ محسوس نہیں کرسکتے۔یہ چیز آپ کےلئے فوری تقویت کاباعث  ہوگی ۔قابل  ِ اصلاح کردارکی نوعیت کے مطابق آپ یہ طریقہ بھی اختیار کرسکتے ہیں کہ اپنے ٹیبل کیلنڈر کی ان تاریخوں پرکراس کے نشان لگاتے جائیں جن تاریخوں  میں آپ  اپنی بری عادت  کے ارتکاب سے بچتے رہے ہوں۔اس طرح نشان زدہ تاریخوں کی بڑھتی ہوئی تعداد آپ کی مسلسل کامیابی کو ظاہر کرے گی اورروزانہ کیلنڈر پر نظر ڈالنا آپ کو مثبت تقویت فراہم کیا کرے گا۔اس سلسلے میں آپ پوائنٹ سسٹم سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔یعنی ہر اس موقع پر جب آپ  اپنے ناپسندیدہ رویے کو ظہور میں آنے سے روک لیں،خود کو ایک پوائنٹ دیں اوراس طرح پوائنٹس کی صورت میں ایک ریکارڈ بناتے  جائیں۔
3) جب آپ پختہ عہد کے باوجود اپنی ناپسندیدہ عادت یارویہ کے مرتکب ہوجائیں تواپنے لیے کوئی سزا مقرر کریں مثلاً روزمرہ کےکام کا دورانیہ بڑھادیں،نصابی کتب کااضافی مطالعہ کریں یا اسی طرح کے دیگر کام جنھیں آپ مشکل اورناگوار خیال کرتے ہوں۔اس سلسلے میں خود پر جرمانہ عائد کرنے کی تدبیر زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے مثلاً ایک عورت نے محسوس کیاکہ اسے گفتگو کے دوران بات بات پر قہقہہ لگانے کی عادت پڑگئی ہے۔اس نے فیصلہ کیا کہ آئندہ جب بھی وہ اس طرح غیر ضروری طورپر قہقہہ لگائے گی تواپنے شوہر کی طرف سے ہرہفتے ملنے والی رقم میں سے ایک ڈالر کسی علیٰحدہ تجوری میں رکھ دیا کرے گی اورمہینے کے اختتام پر یہ جتنی کچھ بھی رقم ہوجایا کرے گی ،اسے ذات پرخرچ کرنے کی بجائے کسی فلاحی ادارے میں جمع کرادیا کرے گی۔اس تدبیر سے اس عورت کی یہ ناپسندیدہ عادت چند ماہ میں غائب ہوگئی۔
4) اعراض (Avoidance) کے اصول کےمطابق خود کو ان تمام محرکات اورترغیبات سے دور رکھیں جن کے زیر اثرآپ سے منفی رویے سرزد ہوتےہیں۔ مثلاً  تمباکونوشی کی صورت  میں خودکو تمباکو نوش حضرات کی صحبت سے دور رکھیں ،جیب میں سگریٹ نہ رکھیں، منفی ترغیب کو مثبت ترغیب  میں بدل دیں مثلاً جب سگریٹ کی طلب ہو تو کسی دوسری دلچسپ سرگرمی میں مشغول ہوجائیں وغیرہ۔
                                                                                                                                                         اسی طرح بسیارخوری کی صورت میں ان ریستورانوں میں جانے سے گریز کریں جن کے کھانے لذیذ ہونے کی وجہ سے آپ زیادہ کھاجاتے ہیں، ان تقریبات میں جانے سے بھی پرہیزکریں جن میں زیادہ کھانے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہو،گھر کے ریفریجریٹر کو بھی بلا ضرورت کھول کر دیکھنے سے بچیں ،وغیرہ۔
5) ان تمام فوائد کی ایک فہرست تیارکریں جو آپ کی ناپسندیدہ عادات یا کردارکے خاتمے سے حاصل ہوں گے۔مثلاً وزن میں کمی کی صورت میں پرکشش اورسڈول جسم،چستی اورقوتِ کار میں اضافہ ،سماجی مقبولیت میں اضافہ وغیرہ۔اس فہرست کو کسی ایسی جگہ چسپاں کردیں جہاں آپ اسے روزانہ دیکھ سکیں۔یہ فہرست بسیارخوری پر قابو پانے کے لیے ایک تحریک کاکام دے گی۔
6) جدید طب بعض ایسی ادویات تیارکرچکی ہے  جن سےمنفی رجحانات اورکردار پر قابو پانےمیں مدد ملتی ہے۔مثلاً مانع اضمحلال (Anti-depressants) کے ذریعے مایوسی ،خوف،تخریبی اورخودکشی کے رجحانات کوکم کیاجاتاہے۔اسی طرح تقریر کے خوف کے شکار افراد کو بیٹا بلاکرز نامی ادویات کھلائی جاتی ہیں جن سے قلب کی رفتار اوربعض غدودوں کی تحریک معتدل رہتی ہے جس کی وجہ سے خوف اورگھبراہٹ کی کیفیات لاحق نہیں ہوتیں۔ تمباکونوشی کی عادت ختم کرنے کیلئے بھی معاون ادویات بھی دستیاب ہیں تاہم ادویات کے سلسلے میں اپنے معالج سے مشورہ مناسب ہوتاہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


No comments:

Post a Comment

محبت

  خوشی کا حصول کیسے؟   محبت برٹرینڈ رسل                     زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احسا...