دُبلے پن سے نجات پائیے
آج کے
دور میں بیشتر افراد جس پریشانی سے دوچار
ہیں ، وہ مٹاپے کامسئلہ ہے۔انھیں اس مسئلے سے نجات دلانے کیلئے صحی ماہرین دھڑادھڑ
کتابیں لکھ رہے ہیں، سیمینارز ہورہے ہیں،کلب کھولے جارہے ہیں اور وزن کم کرنے والی
دواؤں پر زوروشور سے تحقیق کی جارہی ہے۔تاہم مٹاپے کامتضاد ایک مسئلہ دبلاپا بھی
ہے جس پر تحقیق کاروں کی بہت کم نظر ہے۔مٹاپے کی طرح دبلاپا بھی غارتِ حسن اور
شخصیت کو بے کشش بناتا ہے۔دبلاپے کے شکار افراد کی ذہنی پریشانی بھی ویسی ہی ہوتی
ہے جیسی کہ موٹے افراد کی ۔لیکن جہاں اہلِ
طب مٹاپے کے ہاتھوں پریشان افراد کی چارہ جوئی کیلئے کمربستہ ہیں،وہاں دبلے پتلے
لوگوں کو تسلی دینے والا کوئی نہیں۔شاید اس کا سبب یہ ہے کہ مغربی اقوام جومیڈیکل
ریسرچ کی قائد ہیں،میں مٹاپے کی شرح دبلاپے سے کہیں زیادہ ہے۔دبلاپے کے حوالے سے
مستند رہنمائی اورطبی تحقیق کی اسی کمی کی وجہ سے اس میدان میں پوری طرح اشتہاربازوں کی اجارہ داری ہے۔سڑک
چھاپ معالج اورنیم حکیم جسم کو فربہ بنادینے اورپچکے گال بھر دینےکی ضمانت کے ساتھ
آپ کو ہر چھوٹے بڑے شہر میں دکھائی دیں گے۔مستند معالجوں کی عدم توجہی کے باعث
دبلے افراد ان اشتہاربازوں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
دبلاپا((Emaciation وہ صحی مسئلہ ہے جس میں فرد کا جسمانی وزن معیار سے بہت کم
ہوتا ہے۔ بیشتر معالج اس مسئلے کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے اور اس کے علاج کو وہ
بھوک لگانے والی دواؤں اور حیاتین (وٹامنز) کے ضمیموں(سپلیمنٹس) سے آگے نہیں لے کرجاتے۔مٹاپے
کی طرح دبلاپے کے اسباب بھی متعدد اورپیچیدہ ہوتے ہیں اور اس کے تدارک کیلئے گہری مطبی بصیرت (clinical insight) کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ مسئلہ اکثرو بیشتر فرد کی غذائی عادات،طرزِ
زندگی، بچپن کی صحی تاریخ(ہیلتھ ہسٹری)،جذباتی ساخت اورخاندانی وراثت پر محیط
ہوتاہے اوران سب کاجائزہ لیے بغیر مریض کے ہاتھ میں محض کوئی ٹانک پکڑادینا غلط
ہے۔
دبلاپے کے اسباب
و اقسام
دبلاپے
کا علاج اگراس کے اصل سبب کو پیش نظر رکھ کر کیا جائے تو تدارک یقینی ہوتاہے۔آپ
اگر دبلاپے کاشکار ہیں تو دیکھیے کہ اس کی اصل وجہ کیاہے؟ اس کیلئے اپنی پوری صحی
کیفیت اورعلامات کاجائزہ لے کر اپنےمعالج کو آگاہ کیجیے:۔
1) ساختی دبلاپا(Genetic Emaciation):۔قد،نقوش اوررنگت
کی طرح آپ کے جسم کا وزن بھی اس جینیاتی کوڈ میں پہلے سے مقررہوتاہےجو آپ کے
والدین سے آپ تک منتقل ہوتاہے۔ بعض خاندانوں میں ساختی اعتبار سے کم وزنی کا رجحان
ہوتاہے۔وراثت نے آپ کی جسمانی ساخت کی جوحدود متعین کردی ہیں ،انھیں پھلانگنا آپ
کے بس میں نہیں۔فی الحال طبی سائنس کے پاس بھی جینیاتی نقائص کا کوئی حل موجود
نہیں ہے۔اگر آپ جسمانی لحاظ سے بالکل صحتمند ہونےکے باوجود دبلے پتلے ہیں
توذرااپنے والدین،بہن بھائیوں اورقریبی عزیزوں کی طرف نظر دوڑائیے۔اگرآپ کے خاندان
کے افرادبھی کم وزن ہیں تو امکان یہی ہےکہ آپ ساختی دبلاپے کاشکار ہیں۔ایسی صورت
میں اس مسئلے کو ذہن سے نکال کر کسی دوسری جانب مصروف ہوجائیے۔
2)درون افرازی دبلاپا((Endocrine Emaciation:۔ جسم کے اندر مختلف غدود بعض ایسی رطوبتیں(ہارمونز)
تیارکرتے ہیں جوجسمانی سرگرمیوں میں معاونت کرتی ہیں۔ان ہارمونز کی کمی بیشی سے
جسمانی وزن متاثر ہوتاہے۔ان میں سب سے اہم غدودورقیہ (تھائرائیڈگلینڈ) سے خارج
ہونے والی رطوبت تھائراکسن ہارمون ((Thyroxine Hormone ہے جس کی زیادتی سے جسم کا
استحالی نظام(میٹابولزم) تیز ہوجاتاہے اور جسم غذا سے حاصل ہونے والے حراروں
(کیلوریز) کی بڑی مقدارجلانے لگتاہےجس سے جسم کے روغنی ذخائر(چربی)میں کمی آنے
لگتی ہے۔اس کے نتیجے میں بھوک توخوب لگتی
ہے مگر اچھا کھانے کے باوجود جسمانی وزن کم ہوتاچلاجاتاہے۔ایسے ہی دبلاپے کے بارے
میں کہاجاتاہے کہ "کھائے بکری کی طرح،سوکھے لکڑی کی طرح"۔غدہ ورقیہ کی
بیش فعالیت ((Hyperthyroidism سے جومزید علامات ظاہر ہوتی ہیں ،ان میں جسم
کے درجہ حرارت میں اضافہ،دل کی تیز دھڑکن،آنکھوں کاباہر آجانا،ہاتھوں اورانگلیوں
میں خفیف لرزش، بے چینی وغیرہ شامل ہیں۔
دوسرااہم
ہارمون مانع بول ((Anti Diuretic
Hormone ہے جس کاکام
جسم میں پانی کے توازن کو برقرار رکھنا ہے۔اس ہارمون کی کمی سے پیشاب کی کثرت
اورشدید پیاس کی علامات ظاہر ہوتی ہیں جسے
ذیابیطس سادہ (Diabetes Insipidus) کہا جاتاہے۔اس مرض میں جسم میں پانی کا
توازن بری طرح متاثر ہوتاہے۔چونکہ جسم کا 70فیصد وزن پانی پر مشتمل ہوتاہے، اس لیے
پانی کے ضیاع سے وزن گرتاچلاجاتاہے۔
ہارمونز کی کمی بیشی سے ہونے والے دبلاپے کاعلاج بہت نازک معاملہ ہوتاہے اورکوئی معالجِ خصوصی(اسپیشلسٹ) ہی یہ علاج
کرسکتاہے۔
3) خون کی کمی سے دبلاپا (Anemic Emaciation):-خون کی کمی
(انیمیا) سے مراد وہ کیفیت ہے جس میں خون کے سرخ خلیوں کی کمیت یا ہیموگلوبن کے
اجزاء میں کمی واقع ہوجاتی ہے جس سے بافتوں(ٹشوز) کی آکسیجن کی ضروریات پوری نہیں
ہوپاتیں۔خون کی کمی دراصل خود کوئی مرض نہیں
بلکہ جسم میں دوسری خرابیوں کی ایک علامت ہوتی ہے جن میں جگر کی
کمزوری،غذائی قلت،معدے اورآنتوں کے امراض شامل ہیں۔
جسم میں خون کی کمی کی علامات چہرے کی زردی ،نقاہت ،دھڑکن ،بھوک کی کمی ،غذا کاجزوبدن نہ بننا اوروزن کی کمی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔جسم میں فولاد(آئرن) کی کمی سے خون کی قلت سب سے عام ہے۔اس کے علاوہ فولک ایسڈ اوروٹامن بی 12 کی کمی سے بھی یہ عارضہ ہوجاتاہے۔ جسم میں خون کی کمی سے بھوک لگنا ختم ہوجاتی ہے اورغذاجزوبدن نہیں بنتی۔اس کے نتیجے میں دبلاپا پیداہوجاتاہے۔
جسم میں خون کی کمی کی علامات چہرے کی زردی ،نقاہت ،دھڑکن ،بھوک کی کمی ،غذا کاجزوبدن نہ بننا اوروزن کی کمی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔جسم میں فولاد(آئرن) کی کمی سے خون کی قلت سب سے عام ہے۔اس کے علاوہ فولک ایسڈ اوروٹامن بی 12 کی کمی سے بھی یہ عارضہ ہوجاتاہے۔ جسم میں خون کی کمی سے بھوک لگنا ختم ہوجاتی ہے اورغذاجزوبدن نہیں بنتی۔اس کے نتیجے میں دبلاپا پیداہوجاتاہے۔
4)عدم اشتہا سے دبلاپا(Anorexic Emaciation):-فقدانِ اشتہا
یعنی بھوک کانہ لگنا خاص طورپر بچوں میں دبلاپے سے کاسب سے عام سبب
ہوتاہے۔اس مرض میں بھوک یا توبالکل غائب ہوجاتی ہے یا بہت کم لگتی ہے۔بھوک کی کمی
کے عام طورپر دواسباب ہوتے ہیں؛ عضویاتی (مثلاً معدہ، جگریاآنتوں کے افعال میں نقص)
اورنفسیاتی (بے چینی اورڈپریشن)۔ طویل عرصے تک اگربھوک کی کمی برقرار رہے تو
جسمانی درجۂ حرارت گر جاتاہے،استحالی نظام(میٹابولزم) سست پڑ جاتاہے،دھڑکن کم
ہوجاتی ہے،جلدخشک اورسرد ہوجاتی ہے،بھرپور غذا نہ ملنے کےسبب خون کے سفید خلیوں کی
تعدادکم ہوجاتی ہے اورجسمانی وزن اتنا کم ہوجاتا ہے کہ انسان محض ہڈیوں اورجلد
کامجسمہ دکھائی دیتاہے۔
5)غذائی عدم انجذاب سے دبلاپا(Malabsorptive Emaciation):- جسم کے اندر
معدہ اورآنتوں کے نظام کامرکزی کام غذا کاہاضمہ اورانجذاب ہے۔بعض صورتوں میں جب
معدہ، جگر اورآنتوں کے افعال میں خرابی واقع ہوجاتی ہے تو غذا مناسب طورپر ہضم اور
جذب نہیں ہوپاتی۔ اس طرح اچھی غذا کھانے کے باوجود جسم مفید غذائی اجزاء سے محروم
رہتاہے۔ غذائی عدم انجذاب کے اسباب میں بعض نشاستوں (مثلاً گلوٹن) سے الرجی ،معدے
اورآنتوں کے تعدیے(انفیکشنز) اور معدے اورآنتوں کی کمزوری شامل ہیں۔
غذا کے عدم
انجذاب کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ جسم کو ضروری غذائی اجزاء کافی مقدار میں نہیں
ملتےہیں۔دبلاپے کے حوالے سےخاص طورپر چکنائی(ٖفیٹ) کا ہضم نہ ہونا اہم ہے۔مناسب
طور پر جذب نہ ہونے پر غذا میں موجود روغنیات ہضم ہوئے بغیر پاخانے کے ذریعے جسم
سے خارج ہو جاتے ہیں۔اس طرح رفتہ رفتہ جسم میں روغنی ذخائر کم پڑجاتے ہیں اورجسم
سوکھنا شروع ہوجاتا ہے۔
6) عادتی دبلاپا (Habitual Emaciation):-جسم کی ایک
خاصیت ہے کہ وہ ہمیشہ موجودہ وزن (خواہ کم ہویازیادہ) برقرار رکھنے کی کوشش
کرتاہے۔یہ جسم کا وہ عادتی وزن ہے جس میں کمی بیشی کی صورت میں جسم فوراًاسے بحال
کرنے کی سعی شروع کردیتاہے۔یہی وجہ ہے کہ تعدی امراض (Infectious diseases) کے بعد جب جسمانی وزن معمول سے بہت نیچے چلاجاتاہے توشفایابی کے
بعد جسم خودبخود وزن کو اپنے معمول پر
واپس لے آتاہے۔تاہم اگر انسان پے درپے انفیکشنز اور کمزورکردینے والی بیماریوں کا
شکار رہے توجسم کو اپنامعمول کاوزن بحال کرنے کاموقع نہیں ملتا اورپھر رفتہ رفتہ
وہ اس معمول سے کم وزن کو ہی معمول کاوزن قراردے کر اس کادفاع شروع کردیتاہے۔ایسی
صورت میں دبلاپا دراصل جسم کی ایک عادت بن جاتاہے۔اس قسم کا دبلاپا ان افراد میں
دیکھنے میں آتاہے جو برس ہا برس سے کم وزنی میں مبتلا چلے آرہے ہوتےہیں۔اس قسم
کےدبلاپے کو دورکرنا آسان نہیں ہوتا،کیونکہ غذاکے
ذریعے اگر جسم کو اضافی حرارے مہیا کیے بھی جائیں تو وہ صرف اتنے ہی حرارے
استعمال میں لاتاہے جو عادتی وزن کوبرقرار رکھنےکیلئے ضروری ہوتے ہیں اورباقی
حرارےجلادیتاہے۔تاہم مناسب غذا اورمخصوص ورزشوں سے آہستہ آہستہ عادتی دبلاپے کو
دور کیا جاسکتاہے۔
7) غذائی قلت سے
دبلاپا(Malnutrition
Emaciation): - غذائی قلت سے مراد وہ کیفیت ہے جب کھائی جانے والی اورہضم
ہونے والی غذا،جسم کی معمول کی ساخت اورافعال کو برقراررکھنے میں ناکافی ثابت ہوتی
ہے۔اگر جسم میں چکنائی (فیٹس )کے ذخیرے کم پڑ جائیں تو اس سے جو دبلاپا ہوتاہے اسے طبی زبان میں میراسمس (Marasmus) کہاجاتاہےاور
اگرجسم میں لحمیات(پروٹین) کی کمی ہوجائے
تو اس کے نتیجے میں ہونے والے دبلاپے کو کواشیورکور (Kwashiorkor) کہتےہیں۔
8) ڈپریشن سے دبلاپا(Depressive Emaciation):- 'فکر سے دبلے
ہونا' محض ایک محاورہ ہی نہیں، بلکہ ایک طبی حقیقت بھی ہے۔ذہنی طورپر پریشان
اورفکرمند لوگوں کاوزن نہیں بڑھتا۔افسردگی (ڈپریشن) دبلاپے کا ایک سبب ہوسکتی
ہے۔اگر جسمانی وزن میں کمی کے ساتھ بے خوابی ،دردِسر،تیز دھڑکن،بھوک میں کمی اوربے
چینی کی علامات بھی موجود ہوں تو امکان یہی ہے کہ دبلاپے کی اصل جڑ افسردگی ہی ہے۔
افسردگی یا ذہنی پریشانی دوطرح سے جسمانی وزن پر اثرانداز
ہوتی ہے۔ایک تو افسردگی سے معدے میں تیزابیت بڑھ جاتی ہے جس سے بدہضمی اور بھوک
میں خرابی پیداہوجاتی ہے۔ایک عرصے تک بدہضمی اورعدم اشتہا رہنے سے جسم غذائیت سے
محروم ہوکر دبلا ہوجاتاہے۔ دوسری صورت یوں ہوتی ہے کہ ڈپریشن اور ذہنی دباؤ سے
اعصابی نظام میں ہیجان پیداہوتاہے جس سے متاثر ہوکر جسمانی غدود کارٹیکوسٹیرائڈز
کااخراج بڑھادیتے ہیں۔ان ہارمونز کی زیادتی سے استحالی شرح(Metabolic Rate) تیز ہوجاتی ہے
اورجسم میں موجود حرارے تیزی سے جلنے لگتے ہیں۔ اس سارے عمل کانتیجہ جسمانی وزن
میں کمی کی صورت میں نکلتاہے۔
ذہنی افسردگی سے لاحق ہونے والے دبلاپے کیلئے ایسی دوائیں
تجویز کی جاتی ہیں جو سکون آور اور مانع افسردگی(Anti-depressant) ہونے کے ساتھ
ساتھ بھوک اور جسمانی وزن میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔
وزن بڑھانے والی
دوائیں
1) تجمعی ادویہ(Anabolic Steroids):- یہ دوائیں دراصل
مردانہ ہارمون ٹیسٹوسٹیرون کی تالیفی صورت ہوتی ہیں۔ٹیسٹو سٹیرون ہارمون جنسی
صلاحیت کا نگہبان ہونے کے علاوہ جسم میں لحمیات(پروٹین) کی کھپت اور بافتوں کی
تعمیر(Tissue building) کرتے ہوئے مثبت استحالے (Anabolism) کو
بڑھاتاہے۔دواساز ادارے ٹیسٹوسٹیرون کے انہی تجمعی خواص (Anabolic properties) کو باقی اجزاء سے علیٰحدہ کرکے اینابالک سٹیرائڈز تیار کرتے
ہیں۔اس طرح تجمعی فوائد کے حصول کے ساتھ ساتھ ان ضمنی اثرات میں بھی کمی آجاتی ہے
جو ٹیسٹوسٹیرون کو قدرتی شکل میں استعمال کرنے
کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں مثلاً
نابالغ لڑکوں میں قبل از وقت داڑھی
مونچھوں کانکل آنا،مردوں میں چھاتیوں کا بڑھ جانا،چہرے پر کیل مہاسوں
کانکلنا ، باربار اورمسلسل استادگی وغیرہ۔
اینابالک
سٹیرائڈز بہت تیز اثر ہوتےہیں اورجسم میں لحمیات کا استحالہ (میٹابولزم ) بڑھاکر اورنائٹروجنی
مادوں کے ضیاع کو روک کر جسمانی وزن میں فوری اضافہ کرتے ہیں۔ان کے استعمال سے جسم
میں پانی اورنمکیات کااجتماع بڑھ جاتاہے اور جلد کی بافتوں میں پانی کی مقدار بڑھ
جانے سے رنگت نکھر جاتی ہے اورچہرہ اپنی
عمر سے دس سال چھوٹا دکھائی دینے لگتاہے۔ان خواص کی وجہ سے یہ دوائیں تن
سازوں(باڈی بلڈرز) میں بہت مقبول ہیں۔تاہم اینابالک سٹیرائڈز کے بعض ضمنی
اثرات(سائیڈ ایفیکٹس) ایسے ہیں جن کی وجہ سے اکثر معالج انھیں پسند نہیں کرتے۔یہ
دوائیں طویل عرصے تک استعمال کرنے سے جگر کے بعض افعال متاثر ہوتےہیں،پیشاب کے
ذریعے بعض ایسے مادوں کااخراج بھی رک جاتاہے جو جوڑوں میں جمع ہوکر مفاصلی دردوں(Arthritis pain) کاباعث بنتے
ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان دواؤں کے اثرات اکثر صورتوں میں بالکل عارضی
ہوتےہیں اور دواؤں کااستعمال ترک کرتے ہی جسم واپس اپنی اصل حالت میں آجاتاہے۔ اس
وجہ سے اینابالک سٹیرائڈز محفوظ دواؤں میں شمار نہیں کیے جاتے اور میڈکل سٹوروں سے
آہستہ آہستہ ان کی ورائٹی ختم ہورہی ہے۔
2) اشتہا آور دوائیں(Appetizers):- بھوک بڑھانے والی دوائیں دوقسم کی ہوتی ہیں: ایک وہ جو جسم
میں بھوک کے مرکز پر اثرانداز ہوکر سیری
کے احساس کو دبا دیتی ہیں مثلاً پیزوٹفن (Pizotifen)، سائپرو
ہپٹاٹیڈین(Cyproheptadine) ،بیوسلائیزین(Buclizine) وغیرہ۔دوسری
قسم کی دوائیں وہ ہیں جو معدے کی حرکت (Motility) بڑھاکر اسے
غذا سے جلد خالی کردیتی ہیں، یوں ہاضمہ تیز ہوجانے سےبھوک کھل جاتی ہے۔ان دواؤں کو
Gastroprokinetics کہتے ہیں مثلاً ڈومپری ڈون (Domperidone)،
میٹوکلوپرامائڈ (Metoclopraamide)، آئٹوپرائڈ(Itopride) وغیرہ۔یہ ساری
دوائیں مختلف تجارتی ناموں سے ملتی ہیں۔
طب یونانی
میں بھوک کی کمی دورکرنے کیلئے مختلف صورتوں میں مختلف مرکبات استعما ل ہوتے
ہیں،مثلاً صفراء کی زیادتی سے بھوک ختم ہوجانے کی صورت میں جوارش انارین/جوارش
عودترش؛ معدے میں سردی (برودت) کی صورت میں جوارش جالینوس/جوارش عودشیریں اورجگر
کی سستی کی صورت میں حب کبد نوشادری/قرص پودینہ وغیرہ۔اگر بدہضمی شدید ہو تو اطباء
کچھ عرصے کیلئے فاقہ کرنے کامشورہ دیتے ہیں تاکہ معدے کو آرام ملنے سے اس کے افعال
درست ہوسکیں۔
ہومیوپیتھی
میں بھوک بڑھانے کیلئے جن شیانا مدرٹنکچر(Gentiana Lutea Q) بہت موثر مانا
جاتاہے۔اس کے علاوہ اگر مرغن غذا کھانے سے بھوک ختم ہوگئی ہو تو پلساٹیلا،پیٹ میں
ریح کی صورت میں کاربوویج، ایک دو لقمے کھانے پر ہی طبیعت سیر ہوجائے تو لائیکو
پوڈیم، بدہضمی کی صورت میں نکس وامیکا اورمعدے کی کمزوری میں چائنا استعمال کی
جاتی ہے۔یہ دوائیں معالج مختلف طاقتوں(پوٹینسیوں) میں استعمال کراتے ہیں۔
3) خون افزا ادویہ(Haematinics): خون کی کمی دورکرنےکیلئے فولاد (آئرن )کے ضمیموں(سپلیمنٹس)
کااستعمال تمام معالجاتی طریقوں میں مقبول ہے۔جسم میں فولاد کے انجذاب کیلئے حیاتین ج (وٹامن سی) کی
موجودگی ضروری ہوتی ہے،اس لیے دواؤں میں فولاد کےساتھ حیاتین ج کو بھی شامل
کیاجاتاہے۔فولادکے علاوہ حیاتین ب12(وٹامن بی 12)، فولک ایسڈ اورحیاتین ہ (وٹامن
ای) کے ضمیمے بھی خون کی کمی دورکرنےکیلئے تجویز کیے جاتے ہیں۔
خون کی افزائش اورجگر کی تقویت کیلئے طب یونانی میں شربتِ
فولاد کااستعمال صدیوں سے جاری ہے۔اس مقصد کیلئے فولاد کے کشتے بھی تیارکیے جاتے
ہیں۔اس کے علاوہ بعض قرابادینی مرکبات مثلاًجوارش جالینوس،دواءالمسک وغیرہ بھی
معاون دواؤں کےطورپر تجویز کیے جاتے ہیں۔
ہومیوپیتھک معالج خون کی کمی کے مختلف کیسز میں علامات کی
نوعیت کے مطابق مختلف دوائیں تجویز کرتے ہیں۔مریض کے چہرے کا رنگ زرد موم کی طرح
ہو اورنمک کھانےکی خواہش بہت زیادہ ہو تو نیٹرم میور، جسمانی رطوبات کے ضائع
ہوجانے سے خون کی کمی واقع ہوئی ہو تو چائنا اور مریض کاچہرہ لال سرخ مگر حقیقت
میں خون کی کمی ہو تو فیرم میٹ استعمال کرائی جاتی ہے۔ہومیو پیتھی میں بائیوکیمک
نمکیات(فیرم فاس،نیٹرم فاس،کلکیریافاس اورکالی فاس) کامرکب بھی کمئ خون کیلئے موثر
مانا جاتاہے۔یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ فولاد کے ضمیموں کابلاضرورت استعمال جسم
میں فولاد کی زیادتی کی صورت میں نقصان
کاباعث ہوسکتاہے۔لہٰذا ان ضمیموں کو اسی وقت لیناچاہیئے جب فولاد کی کمی کی مخصوص
علامات پائی جائیں۔
4)مقوی دوائیں (Tonics): تعدی امراض(انفیکشنز) اور وزن گھلادینے والی بیماریوں سے صحت
یابی(Convalescence) کے دوران نقاہت دورکرنے اوروزن بحال کرنے
کیلئے معالج عام طورپر حیاتین اورمعدنیات کے غذائی ضمیمے(وٹامنز/منرلز سپلیمینٹس)
تجویز کیاکرتے ہیں ۔
صحت کی بحالی کیلئے طب یونانی میں مختلف جڑی بوٹیوں
اورغذائی اجزاء سے تیار ہونے والے شربت اورعرق استعمال ہوتے ہیں مثلاً ماءاللحم،عرقِ
عنبر وغیرہ۔ہمدرددواخانہ کےسنکارا اورتن سکھ بیماری کے بعد وزن میں کمی اورقوت کی
بحالی کیلئے بہت موثر ثابت ہوئے ہیں۔
متعدی امراض کے بعد وزن بڑھانے کیلئے ہومیوپیتھی میں الفلفا
ٹانک بہت شہرت رکھتاہے اورتمام ملکی و غیرملکی ہومیوپیتھک دواساز ادارے یہ ٹانک
تیارکرتے ہیں۔
5) مانع افسردگی
ادویہ (Anti-depressants): اگردبلاپے کاسبب ذہنی پریشانی ،اداسی اور تشویش (Anxiety)ہوتو اس
کیلئےچند سال پہلے تک معالج عام طورپر ٹرائی سائیکلک مانع افسردگی ادویہ (Tricyclic Anti- depressants) تجویزکیا کرتے
تھے۔یہ دوائیں ڈپریشن کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ وزن میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔تاہم ان دواؤں کے ضمنی اثرات اس قدر
زچ کردینے والے ہوتے ہیں کہ اب معالج ان
سے احتراز ہی بہتر سمجھتے ہیں۔نئی مانع افسردگی دواؤں میں دبلاپے کے حوالے
سے مرتازے پائین ( Mirtazapine) نامی دوا
بہت موثر ثابت ہوتی ہے۔یہ دوا ڈپریشن ،بے چینی اوربے خوابی دورکرنے کے
علاوہ بھوک اور وزن بھی بڑھاتی ہے۔ تاہم اسے کسی مستند معالج کے نسخے کے تحت ہی استعمال
کرناچاہیئے۔
6) دافع حساسیت ادویہ
(Antihistamines): یہ دوائیں حساسیت(الرجی ) کودورکرنے کیلئے استعمال ہوتی
ہیں۔تاہم ان کی کچھ اقسام وزن بڑھانے کی خاصیت بھی رکھتی ہیں۔ اگردبلاپے کے ساتھ
الرجی کامسئلہ بھی ہوتو ان کااستعمال مفید رہتاہے۔ایسی دواؤں میں سائپروہیپٹاڈین (cyproheptadine ) نامی دافع حساسیت دوا تو بطورخاص دبلے افراد
اور کینسر کے مریضوں کو وزن بڑھانے کیلئے تجویز کی جاتی ہے۔دیگر دواؤں میں fexofenadine، Ebastine اورBuclizine وغیرہ شامل
ہیں۔
وزن بڑھانے والی
غذائیں
1) روغنی
غذائیں: جسم کوبھرنے اورفربہ بنانے میں چکنائی والی
غذاؤں کاکوئی ثانی نہیں۔ سیرشدہ چکنائیوں سے بھرپور غذائیں جسم میں روغنی خلیات
کااضافہ کرکے جسم کے وزن میں اضافہ کرتی ہیں۔گوشت،بالائی آمیز دودھ،مکھن،قدرتی
گھی،پنیر اورشیرخانہ مصنوعات (ڈیری پراڈکٹس) چکنائی کے بہترین ذرائع ہیں۔آج کل صحت
کے مضامین میں روغنی غذائیں کم سے کم استعمال کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے،مگریاد رہے
کہ یہ ہدایت دبلے افراد کیلئے نہیں ہے۔اگر قلب اور فشارِ خون (بلڈپریشر) کاکوئی
مسئلہ درپیش نہیں،توان غذاؤں سے ضرور استفادہ کیا جاناچاہیئے۔تاہم سیرشدہ چکنائیاں
چونکہ دیر ہضم ہوتی ہیں،اس لیے انھیں اپنے ہاضمے کی رعایت سے کھاناچاہیئے۔بہتر
ہوگاکہ ایک پروگرام کے تحت بتدریج روزمرہ کی خوراک میں روغنی اشیاء کااضافہ
کیاجائے۔یہ بھی واضح رہےکہ روغنی غذائیں تلی ہوئی حالت میں فائدے کی جگہ نقصان
کاموجب ہوتی ہیں، اس لیے انھیں تلے بغیر ہی استعمال کرناچاہیئے۔
2)
شیریں غذائیں: تمام شیریں پھل
اورمٹھاس والی چیزیں وزن بڑھانے میں معاون ہوتی ہیں مثال کے طورپر سیب،کیلا،آم
،کجھور،شہتوت ،بادام، خوبانی،خشک میوے،مغزیات، چوکلیٹ،میٹھے مشروبات،دالوں اور
مغزیات سے تیارشدہ حلوے وغیرہ۔یہ یاد رہے کہ مصنوعی شکر اورچینی والی اشیاء
فائدے سے زیادہ نقصان دیتی ہیں جبکہ پھلوں
میں پائی جانے والی قدرتی شکر زودہضم ہونے کی وجہ سے جسم کی نشوونما میں خوب اضافہ
کرتی ہے۔بازار سے ملنے والی مٹھائیاں،حلوے اورمشروبات جسم کوغذائیت دینے کی بجائے
صحت بگاڑنے کاموجب ہوتے ہیں۔اس لیے وزن بڑھانے کی غرض سے حلوہ جات ،مٹھائیاں
اورمربے گھر پر ہی تیار کرنے چاہیئں۔
3) غذائی ضمیمے:غذائی ضمیمے(فوڈسپلیمنٹس)جو
لحمیات،روغنیات،نشاستوں،حیاتین اور معدنیات پر مشتمل ہوتے ہیں، جسم کی غذائی کمی
کو فوری بنیادوں پر پورا کرتے ہیں۔ان کے استعمال سے وزن افزائی کی کاوشیں جلد
نتیجہ خیز ثابت ہوسکتی ہیں۔تاہم ہمیشہ معیاری اداروں کے تیارشدہ غذائی ضمیمے ہی
استعمال کرنے چاہیئں۔آپ کامعالج اس سلسلے میں آپ کی رہنمائی کرسکتاہے۔
معاون غذائی نسخے
٭12عدد شیریں بادام اور تقریباً 25گرام عمدہ کشمش لے کر رات پانی میں بھگو کر رکھ دیجیے۔صبح پانی
پھینک دیں اور بادام و کشمش دودھ کے ساتھ کھالیجیے۔وزن بڑھانے کیلئے یہ حکیم محمد
سعید کاتجویز کردہ غذائی نسخہ ہے۔بادام اورکشمش کے علاوہ اسی ترکیب سے چھوارے
اورخشک خوبانیوں کااستعمال بھی مفید ہوتاہے۔
٭رات کو سوتے وقت کیلوں کے ساتھ دودھ کااستعمال کرنے سے جسم
متناسب بن جاتاہے۔
٭ایک مسمّن بدن حلوے کی ترکیب یوں ہے:
چھوارے گٹھلی کے
بغیر ایک پاؤ
مغز چلوزہ ایک چھٹانک
مغز بادام ایک چھٹانک
مغز پستہ ایک چھٹانک
مغز اخروٹ ایک چھٹانک
بھنے ہوئے چنوں کاآٹا ایک پاؤ
نشاستہ گندم
ایک پاؤ
اصلی گھی
آدھ کلو
دودھ چارکلو
شکر ایک کلو
چھواروں کو دودھ میں اس وقت تک ابالیے جب تک وہ پھول کر نرم
ہوجائیں۔پھر انھیں نکال کر کسی کونڈے میں گھوٹ لیجیے اورپھر اسی دودھ میں شامل
کرکے نرم آگ پر پکائیے یہاں تک کہ دودھ کا کھویا ہوجائے۔اس کے بعد گھی کو گرم کرکے
اس میں نشاستہ گندم کو بریاں کر لیجیے۔ سرخی مائل ہونے پر اس میں چنوں کا آٹا،چھوارے
اوردودھ کاکھویا ڈال کرخوب پکائیے یہاں تک کہ اس میں سے خوشبو آنے لگے۔اب اس میں
شکر شامل کرکے ہلاناشروع کیجیے۔جب گھی علیٰحدہ ہونے لگے تو اتار کر اس میں مغزیات
نیم کوفتہ کرکے ملالیجئے۔بس حلوہ تیار ہے۔ سردیوں کے موسم میں صبح پانچ سے سات تولہ
استعمال کیجیے۔
٭دو تین عدد شیریں سیب لے کر قاشیں بنالیں اورچینی یاشیشے کی
پلیٹ میں ڈال کرتمام رات باہر ایسی جگہ رکھیے جہاں چاند کی روشنی اورشبنم بخوبی
پڑتی رہے۔صبح ناشتے کے ساتھ یہ قاشیں کھاکر دودھ نوش کرلیں۔
٭بایوکیمک نمکیات کلکیریافاس،نیٹرم میور اورفیرم فاس کامرکب
جسم میں معدنی قلت کودور کرنے اوروزن بڑھانے میں مفید ثابت ہوتاہے۔یہ مرکب
ہومیوپیتھک سٹوروں سے مل سکتاہے۔
٭ماش کی دال کوحلوہ بھی جسم کو فربہ بناتاہے۔
مفید تدبیریں
٭روزانہ زیتون یا تلوں کے تیل سے پورے جسم پرمساج کرنا مفید
تدبیر ہے۔اس سے جسم کے عضلات کھل کر باہر کی طرف ابھرنے لگتے ہیں اورخلیات کی
نشوونما کرنے والی رطوبتوں کے بہاؤ میں اضافہ ہوتاہے۔
٭کھاناکھاتے وقت ہر نوالہ خوب اچھی طرح چباکر کھائیے۔غذا کو
اپ جتناچباکر کھائیں گے ، آپ کاجسم اس میں سے اتنے ہی زیادہ غذائی اجزاء جذب کرکے
جزوبدن بنائے گا اورجزو بدن بننے والی غذاہی وزن میں اضافے کا ذریعہ بنتی ہے۔غصے
اورپریشانی کی حالت میں کھانا نہ کھائیے، کھانا ہمیشہ پرسکون اورخوشگوار موڈ کے ساتھ کھانا چاہیئے۔
٭
بعض نوجوانوں میں جنسی بےقاعدگیاں اور امراض(جریان،احتلام، ذکاوتِ حس وغیرہ) بھی
جسمانی وزن نہیں بڑھنے دیتے۔ان نوجوانوں کو اپنے جنسی افعال میں ایک نظم (ڈسپلن)
میں لانے چاہیئں۔ہومیوپیتھک مدرٹنکچر ایویناسٹائیوا (Avena Sativa Q) ایسے نوجوانوں
کیلئے بہت مفید ثابت ہوتاہے۔اس کے استعمال سے جنسی حس اعتدال پر آجاتی ہے اوربری
عادتوں کے مضر اثرات کی اصلاح ہوجاتی ہے۔
٭وزن
بڑھانے کی کوششیں شروع کرنے سے پہلے اگر اپنا مکمل صحی معائنہ (چیک اپ) کرالیا جائے تو یہ بہت بہتر ہوگا، تاکہ اگر جسم
میں کوئی مرض یا خرابی موجود ہے تو پہلے اس کاتدارک کیا جاسکے۔وزن بڑھانے کیلئے
عمومی صحت کادرست ہونا ضروری ہے۔بہت سے عارضے
مثلاً پرانا نزلہ،مزمن اسہال،ذیابیطس،جگرکے نقائص وغیرہ جسم کو پھلنے
پھولنے نہیں دیتے۔
٭ تن
سازی(باڈی بلڈنگ) کی مخصوص ورزشیں بھی جسم کے عضلات کو دبیز بناکر جسم کو متناسب
اور خوبصورت بناتی ہیں۔اس کیلئے بہتر یہ ہے کہ کسی کلب میں داخلہ لے کر ماہرین کی
نگرانی میں یہ ورزشیں کی جائیں۔
کیا نہ کیا جائے؟
٭وزن
بڑھانے کے خواہشمند افراد ہلکی پھلکی ورزشیں( مثلاً صبح وشام تازہ ہوامیں چہل قدمی)کرسکتے ہیں ، اس سے اعضائے ہضم پر خوشگوار اثر پڑتاہے۔تاہم دبلے افراد کو سخت قسم
کی ورزشوں اورکھیلوں سے گریز کرناچاہیئے۔ایسی سرگرمیوں سے جسم میں زیادہ مقدار میں
حرارے (کیلوریز) جلتےہیں، جبکہ وزن افزائی کامقصد حراروں کاتحفظ ہوتاہے۔اس لیے جب
تک جسمانی وزن مطلوبہ سطح تک بڑھ کر مستحکم نہیں ہوجاتا، اس وقت تک پُرمشقت
سرگرمیوں سے دوررہناچاہیئے۔
٭
ترش غذائیں مثلاً سرکہ ، چٹنیاں،اچار، املی اورترشادہ پھل کم سے کم استعمال کیجیے۔ایسی غذائیں چربی گھلاکر
وزن کم کرنے والی ہوتی ہیں۔
٭وزن میں اضافے کے ضمن میں نظامِ ہضم کاکردار مرکزی اہمیت
رکھتاہے۔اس لیے وزن افزائی کے خواہشمند افرادکو اپنے ہاضمے کاخاص خیال رکھناچاہیئے
اورایسی ناقص غذاؤں سے پرہیز کرناچاہیئے جو معدے ،جگر اورآنتوں کے افعال میں خرابی
پیداکرتی ہیں۔بازاری اشیاء مثلاً مٹھائیاں، تلے ہوئے پکوان،کولامشروبات،تیز مسالے
دار چاٹ،فاسٹ فوڈ وغیرہ غذائی اعتبار سے غیر مفید ہونے کے علاوہ اعضائے ہضم کیلئے
نقصان دہ بھی ہوتی ہیں۔
٭ذہنی پریشانیوں اورتفکرات سے بچیے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر
جلنے کڑھنے والےافرادکاوزن نہیں بڑھاکرتا۔فارغ اوقات میں خود کو خوشگوار تفریحات میں
مصروف رکھیے۔
٭
ایسی دواؤں کے استعمال سے بچناچاہیئے جوضمنی طورپر بھوک کودبانے کاباعث بنتی ہیں
مثلاً نزلے زکام کی دواؤں میں شامل اجزاء فینائل پروپینول ایمائن (Phenylpropanolamine)اورسوڈو ایفی ڈرین(Pseudoephedrine) بھوک اڑادیتےہیں اورغدۂ ورقیہ(تھائرائڈ گلینڈ)
کو تحریک دے کر دبلا پن پیداکرتےہیں۔اس کے علاوہ پیشاب آوردواؤں (Diuretics) کے استعمال سے
بھی جسمانی وزن میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
No comments:
Post a Comment