خوشی کا حصول کیسے ؟
مزا
برٹرینڈ رسل
اس باب میں میں ایسی شے کا تذکرہ کروں گا جو میرے خیال میں انسانی مسرت کا سب سے عالمگیر اور امتیازی نشان ہے، یعنی زندگی کا مزا۔ اگر ہم لوگوں کے کھانے کی میز پر مختلف اطوار کو دیکھیں تو اس مزے کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ بعض لوگوں کیلئے کھانا محض بور ہوتا ہے، خواہ کتنا ہی عمدہ کیوں نہ پکا ہو۔ وہ تمام لذیذ کھانے کھا چکے ہیں اور اس سے بالکل ناآشنا ہیں کہ کھانے کے بغیر کیا محسوس ہوتا ہے اور بھوک کا ستانا کیسا ہوتا ہے۔ کھانا ان کیلئے محض ایک رسمی موقع ہے جس کیلئے معاشرتی آداب نے مخصوص اوقات طے کر دیے ہیں۔ ایسے افراد کیلئے ، زندگی کی باقی چیزوں کی طرح ، کھانا بھی ایک اُکتا دینے والی شے ہے۔ اس کے بعد وہ افراد ہیں جو کھانے کو ایک فرض سمجھ کر کھاتے ہیں، کیونکہ ان کے معالج نے صحت کی خاطر کھانا ضروری قرار دے دیا ہے۔ پھر وہ خوش خوراک لوگ ہیں جو بہت اشتیاق سے کھانا شروع کرتے ہیں، لیکن پھر انھیں احساس ہوتا ہے کہ کھانا ویسا مزے دار نہیں تیار ہوا جیسا ہونا چاہیئے تھا۔ اس کے بعد ایسے بسیارخور آتے ہیں جو کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور خوب کھاکھا کر موٹے بھدے ہو جاتے ہیں۔ آخر میں وہ شخص ہیں جو اچھی بھوک کے ساتھ کھانے کی میز پر آتے ہیں، کھانے سے لطف لیتے ہیں اور شکم بھر جانے پر ہاتھ اٹھا لیتےہیں۔
زندگی کے دسترخوان پر بیٹھے افراد کا طرزِ عمل بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ مسرور انسان آخری الذکر کھانے والوں کی طرح ہوتا ہے۔ غذا سے جو تعلق بھوک کا ہے، وہی مزے کا زندگی کے ساتھ ہے۔ جو شخص کھانے میں بوریت محسوس کرتا ہے، وہ زندگی میں فلسفیانہ ناخوشی کے شکار انسان کی مثال ہے۔ کھانے کو تکلف یا فرض سمجھ کر کھانے والا، تارکِ دنیا زاہد اور بسیارخور، عیاش انسان جیسا ہوتا ہے۔ خوش خوراک کا معاملہ ایسے تنک مزاج شخص سے مشابہ ہے جو زندگی کی آدھی مسرتوں کو غیر حسین قرار دے کر مسترد کر دیتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ ایک بسیارخور چھوڑ کر باقی سب ہی اقسام کے لوگ کھانے کی طلب رکھنے والوں کو حقیر اور خود کو برتر خیال کرتے ہیں۔ یہ افراد بھوک کی وجہ سے کھانے کا حظ لینے یا دلچسپ مشاغل کی دستیابی کی وجہ سے زندگی کا لطف اٹھانے کو عامیانہ تصور کرتے ہیں۔ اپنی اس غلط خیالی کی بلندیوں پر پہنچ کر وہ ان لوگوں پر پست نگاہ ڈالتے ہیں جو ان کے نزدیک سادہ لوح انسان ہیں۔ مجھے یہ طرزِ فکر متاثر نہیں کرتی۔ اگرچہ زندگی میں بعض اوقات ایسی ذہنیت ایک مجبوری بن جاتی ہے، تاہم پھر بھی میرے نزدیک یہ قنوطیت ایک بیماری ہے جس کا جلد از جلد تدارک کیا جانا چاہیئے اور اسے ہر گز کوئی دانشِ اعلیٰ نہیں سمجھنا چاہیئے۔ فرض کریں کہ ایک انسان اسٹرابیری پسند کرتا ہے، جب کہ دوسرا نہیں کرتا، تو بھلا کس اعتبار سے یہ دوسرا پہلے کے مقابلے میں برتر انسان ہوا؟ اس کا کوئی معروضی اور بالا انسانی ثبوت نہیں کہ اسٹرابیری اچھی ہوتی ہیں یا نہیں ہوتیں۔ یہ اس کیلئے اچھی ہیں جو انھیں پسند کرتا ہے اور اس کیلئے اچھی نہیں جو انھیں پسند نہیں کرتا۔ لیکن جو انھیں پسند کرتا ہے، وہ ان سے ایسا لطف اٹھاتا ہے جو ناپسند کرنے والے کو حاصل نہیں۔اس حوالے سےاس کی زندگی زیادہ پُرلطف ہےاور وہ اس دنیاسے زیادہ موافقت میں ہے جس میں ان دونوں ہی کو رہنا ہے۔ اس سادہ سی مثال میں پائی جانے والی صداقت دوسرے اہم امور کے لیے بھی اسی طرح ہے۔ ایک شخص جو فٹ بال میچ سے لطف اندوز ہوتاہے، اس سے بہتر ہے جس کیلئے اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ایک شخص جو مطالعے سے لطف اٹھاتا ہے، وہ اس سے اور بھی زیادہ بہتر ہے جو نہیں اٹھاتا، کیونکہ مطالعے کیلئے فٹ بال میچ کی نسبت زیادہ مواقع دستیاب ہوتے ہیں۔ جو انسان جتنی زیادہ چیزوں میں دلچسپی رکھتا ہے، اس کیلئے خوشیوں کے مواقع بھی اتنے ہی زیادہ ہیں اورایسا انسان تقدیر کے رحم و کرم پر بھی کم ہوتا ہے، کیونکہ ایک چیز کے چھن جانے پر وہ کسی دوسری چیز کی جانب رخ کر لیتا ہے۔ انسانی زندگی اتنی نہیں ہوتی کہ ہر چیز میں دلچسپی لی جاسکے، پھر بھی اتنی زیادہ سے زیادہ چیزوں میں دلچسپی لینااچھا ہے جتنی کہ ہمارے ایام کو بھرپور بنانے کیلئے ضروری ہوں۔ ہم سب آسانی سے اس خودبین شخص جیسے بن سکتے ہیں جو دنیا کی رنگا رنگی سے رخ پھیر کر ساری توجہ اپنے اندر کے خالی پن پر مرکوز کر دیتا ہے۔ ہمیں اس غلط خیالی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے کہ ایسے انسان کی ناخوشی میں کسی طرح کی عظمت پنہاں ہوتی ہے۔
کسی زمانے میں قیمہ بنانے والی دو مشینیں ہو اکرتی تھیں جو بکرے کے گوشت کو قیمہ کرنے کی غرض سے بڑی مہارت سے تیار کی گئی تھیں۔ ایک مشین نے اس کام سے خوب لطف اٹھایا اور بےشمار لذیذ قیمے بنائے، جبکہ دوسری نے کہا: ”مجھے بکرے کے گوشت سے کیا دلچسپی؟ میرے اپنے افعال زیادہ دلچسپ اور حیران کن ہیں“۔ اس نے بکرے کے گوشت کو قیمہ بنانے سے انکار کر دیا اور خود اپنی ساخت اور افعال کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ جب اس کے داخلی افعال نے کام کرنا چھوڑ دیا، تو اس کا یہ مشغلہ بانجھ ہو گیا۔ اب وہ جتنا اپنے بارے میں سوچتی، اسے اتنا ہی خالی پن محسوس ہوتا۔ وہ سارے نفیس پرزے جو قیمہ بناتے تھے، جامد ہو گئے اور وہ مشین اپنی اصل اہلیت کو فراموش کر بیٹھی۔ یہ دوسری مشین اس انسان کی طرح ہے جس نے زندگی مزا کھو دیا اور پہلی مشین اس مزے کو برقرار رکھنے والے انسان کی مانند ہے۔ انسانی ذہن وہ حیرت انگیز مشین ہے جو وصول شدہ مواد سے نئی نئی صورت گری بڑے بےمثل انداز میں کرتی ہے، لیکن بیرونی مواد کے بغیر یہ مشین کسی کام کی نہیں اور قیمہ مشین کے برعکس اسے اپنا مواد خود حاصل کرنا ہوتا ہے، کیونکہ باہر کی دنیا میں رونما ہونے والے واقعات اسی وقت کارآمد تجربات میں تبدیل ہوتے ہیں جب ہم ان میں دلچسپی لیتے ہیں۔ اگرہم ان میں دلچسپی نہیں لیتے تو ان سے کچھ حاصل نہیں کر پاتے۔ اس لیے جو انسان ساری توجہ اپنے اندر لگادیتا ہے، اسے کچھ نہیں ملتا، اس کے برعکس گرد و پیش کی دنیا میں دلچسپی لینے والا انسان جب کبھی اپنے اندر جھانک کر دیکھتا ہے تو وہاں خارجی واقعات کی تراش خراش سے خیالات کے انوکھے نمونے تیار پاتا ہے۔
مزے کی صورتیں بےشمار ہیں۔ آپ نے پڑھا ہوگا کہ ایک ناول میں شرلاک ہومز نے گلی سے گزرتے ہوئے ایک ہیٹ پڑا دیکھا۔ اسے اٹھا کر دیکھنے کے بعد اس نے یہ اپنا تبصرہ سنایا کہ اس کے مالک کی پیدائش شراب کے نشے کے نتیجے میں ہوئی اور یہ کہ اس کی بیوی اسے پسند نہیں کرتی۔ زندگی ایسے شخص کیلئے کبھی بور نہیں ہو سکتی جس کیلئے عام سی چیزوں میں بھی دلچسپیوں کا ایسا خزانہ موجود ہو۔ ان چیزوں کے بارے میں سوچیے جو شام کی چہل قدمی کے دوران دکھائی دے سکتی ہیں۔ کچھ لوگوں کو پرندے اچھے لگیں گے، بعض پھولوں میں دلچسپی محسوس کریں گے اور چند ایک کو پہاڑ خوشنما معلوم ہوں گے۔ ان میں سے ہر وہ چیز دلچسپ ہے جو آپ کو بھلی لگتی ہو اور جو شخص ان میں سے کسی ایک کو دلچسپ پاتا ہے، وہ دلچسپی نہ لینے والے انسان کے مقابلے میں اس دنیا سے زیادہ مناسبت رکھنے والا ایک زیادہ بہتر انسان ہے۔
ایک بار پھر ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف انسانوں کا اپنے اردگرد کے لوگوں کیلئے رویہ کتنا زیادہ مختلف ہوتا ہے۔ ایک شخص ریل گاڑی کے طویل سفر میں اپنے ہم نشینوں میں کچھ بھی خاص نہیں دیکھ پاتا، جبکہ دوسرا شخص ان سب کو غور سے دیکھ کر ان کی حرکات و سکنات کا تجزیہ کرتا ہے اور ان کی شخصیتوں کا اندازہ لگا تا ہے۔ کچھ لوگوں کو ہر کوئی بور نظر آتاہے اور بعض افراد بڑی آسانی اور جلدی سے نئے ملنے والوں سے دوستانہ پید اکر لیتے ہیں۔
ایک بار پھر سفر ہی کی مثال لیجیے۔ کچھ افراد بہت سے ممالک کاسفرکرتے ہیں، جہاں وہ ہمیشہ نفیس قسم کے ہوٹلوں میں ٹھیرتے ہیں، بالکل ویسا ہی کھانا کھاتے ہیں جیسا ان کے گھر میں تیار ہوتا ہے، ویسے ہی لوگوں سے ملتےہیں جیسے ان کے گھروں میں ملاقات کیلئے آتے ہیں اور ویسی ہی گفتگو کرتے ہیں جیسی وہ اپنے رات کے کھانے پر کیا کرتے ہیں۔ جب وہ گھر واپس لوٹتے ہیں تو ان کی طمانیت کی واحد وجہ یہ ہوتی ہے کہ انھوں نے ایک مہنگے سفر کی بوریت نمٹالی۔ اس کے برعکس بعض لوگ ایسے ہیں کہ جہاں کہیں بھی وہ جائیں، وہاں خصوصیت تلاش کرتے ہیں، مقامی باشندوں سے جان پہچان پیدا کرتے ہیں، تاریخی یا سماجی دلچسپی کی چیزیں دیکھتے ہیں، وہاں کی غذائیں کھاتے ہیں، وہاں کی زبان اور معاشرت سیکھتے ہیں اور پھر ڈھیر ساری خوشگوار یادیں لے کر گھر واپس لوٹ آتے ہیں۔
زندگی کی ایسی ساری مختلف صورتوں میں زندگی کا مزا رکھنے والا انسان نہ رکھنے والے کی نسبت فائدے میں رہتا ہے۔ حتیٰ کہ ایسے شخص کیلئے زندگی کے تلخ تجربوں میں بھی عبرت کی مٹھاس ہوتی ہے۔ منچلے افراد کشتی ڈوب جانے، زلزلوں، آتش زدگی اور ہر قسم کے ہنگاموں سے بھی محظوظ ہوتے ہیں، تاوقتیکہ ان کی زندگی کو خطرہ لاحق نہ ہو جائے۔ ایسے لوگ زلزلے کے دوران یوں خودکلامی کرتے ہیں:”اچھا، تو ایسا ہوتا ہے زلزلہ!“ اور یہ تجربہ دنیا کے بارے میں ان کے علم کو بڑھا کر ان کی مسرتوں میں اضافہ کرتا ہے۔ ایسے لوگ بھی تقدیر کے نشیب و فراز سے گزرتے ہیں؛ اگر وہ صحت کی خرابی کا شکار ہو جائیں، تو اس کے نتیجے میں زندگی کا مزا بھی کھو سکتے ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں۔ میں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جنھوں نے بسترِ مرگ پر طویل عرصے پڑے رہنے کے باوجود آخری لمحے تک اپنا زندگی کا مزا برقرار رکھا۔ بیماری کی بعض شکلیں یہ مزا کراکرہ کر دیتی ہیں اور بعض نہیں کرتیں۔ میں نہیں جانتا کہ طبی سائنسدان ابھی تک ان دونوں اقسام میں کوئی تمیز کر پائے ہیں یا نہیں۔ شاید کبھی طبی سائنس اتنی ترقی کر جائے کہ ہر چیز میں دلچسپی پیدا کرنے والی گولیاں ایجاد ہو جائیں، تاہم اس وقت کے آنے تک بہرحال ہمیں عام فہم کے ذریعے ہی ان اسباب کا ادراک کرنا ہوگا جن کے تحت بعض لوگوں کو زندگی کا ہر معاملہ دلچسپ دکھائی دیتا ہے اور بعض کو کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔
زندگی کا مزا بسااوقات عمومی ہوتا ہے اور بعض دفعہ خصوصی۔ ایک مشہور ناول میں ایک کردار کی محبوب بیوی مر جاتی ہے اور وہ محسوس کرتا ہے کہ اب زندگی میں کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ پھر اس کی دلچسپی چائے دانیوں پر کندہ کی گئی چینی زبان میں دلچسپی پیدا ہو گئی۔ اسے سمجھنے کی غرض سے اس نے ایک گرامر کی کتاب کے ذریعے چینی زبان سیکھی اور آہستہ آہستہ چائے دانیوں پر لکھی زبان سمجھنےپر قادر ہو گیا۔ یوں زندگی میں اس کیلئے ایک نئی دلچسپی پیدا ہو گئی۔ پہلے سے یہ بتانا ممکن نہیں ہوتا کہ ایک فرد کو کیا چیز اچھی لگے گی، تاہم اکثر افراد کسی نہ کسی شے میں گہری دلچسپی لینے کے اہل ہوتے ہیں اور جب ایک بار ایسی دلچسپی پیدا ہو جائے، تو پھر زندگی میں بوریت اور جمود سے نجات مل جاتی ہے۔ تاہم اس قسم کی خصوصی دلچسپیاں خوشی کا زیادہ تسلی بخش ذریعہ نہیں ہوتیں بہ نسبت زندگی کی عام دلچسپوں کے، کیونکہ یہ انسان کے تمام اوقات کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور کسی موقع پر ختم بھی ہو سکتی ہیں۔
ہم پچھلی سطور میں کھانے کی میز پر لوگوں کی مختلف اقسام میں بسیار خور کا تذکرہ کیا تھا اور جس کی ہم نے کوئی تعریف نہیں کی تھی۔ پڑھنے والا خیال کر سکتا ہے کہ ہم زندگی کا مزا رکھنے والے جس طرح کے انسان کی مدح سرائی کر رہے ہیں، وہ بسیارخور سے مختلف نہیں ہوتا۔ اب وقت آگیا ہے کہ اہم ان دونوں افراد کے درمیان ایک خطِ امتیاز کھینچیں۔
جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ قدیم لوگ اعتدال پسندی کو ایک بڑی خوبی تصور کرتے ہیں۔ تاہم رومانویت کی تحریک کے زیرِ اثر اور فرانسیسی انقلاب کے بعد بہت سے افراد نے یہ تصور ترک کر دیا۔ جذبات کے اظہار میں شدت کو سراہا جانے لگا، خواہ یہ جذبات تخریبی اور سماج مخالف ہی کیوں نہ ہوں۔ قدیم انسان یقیناًاس حوالے سے حق پر تھے۔ ایک اچھی زندگی میں مختلف سرگرمیوں کے مابین توازن بہت ضروری ہے اور کسی ایک کام کو اس حد تک انجام نہیں دینا چاہیئے کہ باقی کام دھرے کے دھرے رہ جائیں۔ بسیار خور شخص کھانے کی خوشی پر دوسری سب خوشیاں قربان کر دیتا ہے اور اس طرح کرکے وہ زندگی کی مجموعی مسرت کھو دیتا ہے۔ کھانے پینے کے علاوہ بعض دوسرے معاملات میں بھی بےاعتدالی کا مظاہرہ ہو سکتا ہے۔ مثلاً نپولین کی بیوی جوزفین لباس کے معاملے میں انتہائی فضول خرچ تھی۔ ابتداء میں نپولین اس کے درزی کے بِل ادا کرتا رہا، لیکن قدرے احتجاج کے ساتھ۔ آخرکار اس نے ملکہ سے کہہ دیا کہ اسے اعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہیئے اور آئندہ وہ صرف ان بِلوں کی ادائیگی کرے گا جو بہت زیادہ نہیں ہوں گے۔ جب ملکہ کے لباس پر اٹھنے والے اخراجات کا اگلابِل آیا تو ایک لمحے کیلئے وہ پریشان ہو گئی، تاہم پھر اس نے ایک ترکیب سوچی۔ وہ بِل لے کر وزیرِ دفاع کے پاس گئی کہ وہ جنگ کیلئے جمع شدہ فنڈ میں سے اس کی ادائیگی کر دے۔ وزیر جانتا تھا کہ ملکہ کے پاس اسے برخاست کرنے کا اختیار ہے، اس لیے اس نے ادائیگی کر دی اور اس کے نتیجے میں فرانس نے جنگ میں جنیواکھو دیا۔ تاریخی کتابوں میں موجود یہ کہانی صحیح ہے یا غلط، ہمارے مقصد کو واضح کرتی ہے کہ ایک صاحبِ اختیار عورت کا لباس کے معاملے میں جنونی شوق کہاں تک جا سکتا ہے۔ جنونی شرابی اور شہوت پرست افراد بھی بےاعتدالی کی ایک کھلی مثالیں ہیں۔ ان معاملات میں رہنمااصول بالکل واضح ہے۔ ہماری تمام خواہشات اور دلچسپیوں کو زندگی کے عمومی سانچے کے مطابق ہونا چاہیئے۔ ہماری دلچسپیاں اگر ہماری خوشی کا باعث ہیں تو انھیں لازماً ہماری صحت، دوسرے افراد کے جذبات اور سماجی اقدار سے ہم آہنگ ہونا چاہیئے۔ ان میں سے بعض دلچسپیاں اور شوق ایسے ہیں جنھیں کسی ضرر کے بغیر آخری حد تک پورا کیا جا سکتا ہے اور بعض کا معاملہ یہ نہیں۔ مثال کے طور پر ایک شخص کو شطرنج کھیلنے کا شوق ہے۔ اب اگر وہ غیر شادی شدہ اور معاشی طور پر خودکفیل ہے تو اسے اپنے اس شوق کی کوئی حد مقرر کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر اس کے بیوی بچے ہیں اور کسبِ معاش کا کوئی آزاد ذریعہ نہیں، تو اسے اپنی اس دلچسپی کو سختی سے محدود کرنا ہوگا۔ اگر جنونی شرابیوں اور بسیارخوروں کے کوئی سماجی بندھن نہ ہوں، تو بھی اپنی ذات کے حوالے سے ان کا طرزِ عمل غیر دانشمندانہ ہے، کیونکہ ان کا یہ شوق ان کی صحت کو خراب کرتا ہے اور پھر انھیں چند منٹوں کی عیاشی کی قیمت کئی گھنٹوں کی تکلیف کی صورت میں دینی پڑتی ہے۔ زندگی میں بہت سی چیزیں مل کر ایک عملی سانچہ (فریم ورک) بنا لیتی ہیں جس کے اندر ہر جذبے کو معتدل بن کر رہنا ہوتا ہے۔ ان چیزوں میں صحت، عمومی صلاحیتیں، معقول ذریعۂ آمدنی اور خانگی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ جو شخص ان چیزوں کو شطرنج پر قربان کر دیتا ہے، وہ اتنا ہی برا ہے جتنا کہ کہ شرابی انسان۔ اگر ہم ایسےشخص کی زیادہ سختی سے مذمت نہیں کرتے تو اس کا واحد سبب یہ ہے کہ اس قسم کا انسان بہت کم دکھائی دیتاہے اور یہ کہ صرف کوئی غیرمعمولی رجحان کا حامل انسان ہی شطرنج جیسے عقلی کھیل میں اتنا مشغول ہو سکتا ہے۔ ایسے معاملات میں اعتدال پسندی کا یونانی نسخہ بہت کارآمد ہے۔ کہاجاتا ہے کہ ٹالسٹائے کو اس کے جوانی کے ایام میں میدانِ جنگ میں شجاعت دکھانے پر فوجی تمغے کا مستحق قرار دیا گیا، لیکن جب اسے یہ تمغہ پہنانے کا وقت آیا تو وہ شطرنج کے کھیل میں اتنا کھویا ہو اتھا کہ اس نے انعامی تقریب میں نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ شاید ٹالسٹائے جیسے انسان کیلئے فوجی تمغے میں کوئی کشش نہ ہو، لیکن عام انسان اگر ایسافیصلہ کرتا ہے تو اسے حماقت ہی کہا جائے گا۔
اوپر پیش کردہ اصول پر ایک تحدید کے طور پر، یہ تسلیم کیا جانا چاہیئے کہ بعض اعمال اپنی نوعیت میں اتنے اچھے اور اعلیٰ ہوتے ہیں کہ ان کیلئے باقی سب چیزوں کو قربان کر دینا مستحسن خیا ل کیا جاتا ہے۔ جو شخص اپنی قوم یا ملک کیلئے کے دفاع کیلئے جان دے دیتا ہے، اسے اپنے بیوی بچوں کو بے سہارا چھوڑ جانے کا الزام نہیں دیا جاتا۔ اگر ایک شخص کوئی بڑی سائنسی ایجاد کرنے میں مصروف ہو تو اس دوران اس کے گھرانے کو جس بدحالی اور تنگ دستی سے گزرنا پڑتا ہے، اس پر بھی اسےملامت نہیں کی جاتی، بشرطیکہ اس کی کاوش بالآخر کامیاب ہو جائے۔ تاہم اگر اسے کوئی نئی چیز ایجاد یا دریافت کرنے میں ناکامی ہو تو رائے عامہ اسے خوب لعن طعن کرتی ہے اور اسے خبطی قرار دے دیا جاتاہے، جو کہ ناانصافی ہے، کیونکہ ایسے معاملات میں کسی کو بھی کامیابی کا پہلے سے یقین نہیں ہوتا۔ پہلے زمانے میں جو انسان زہدانہ زندگی کیلئے گھربار چھوڑ دیتا تھا، اس کی تعریف کی جاتی تھی، البتہ آج کے دور میں کہا جائے گا کہ اسے اپنے اہلِ خانہ کیلئے کوئی انتظام کر کے جانا چاہیئے۔
میرے خیال میں ایک صحتمند بھوک اور بسیارخوری میں ہمیشہ ایک گہرا نفسیاتی فرق پایا جاتا ہے۔ جس انسان میں کوئی ایک خواہش باقی سب کو دباکر اپنی حدود سے تجاوز کر جاتی ہے، وہ عموماً کسی گہری الجھن میں مبتلا ہوتا ہے اور اس سے فرار کا خواہاں ہوتا ہے۔ جنونی شرابی کے کیس میں یہ چیز بالکل واضح ہوتی ہے یعنی وہ غم بھلانے کیلئے پیتا ہے۔ اگر لوگوں کو زندگی میں کسی مصیبت کا سامنا نہ ہو تو وہ قائم مزاجی پر مدہوشی کو کبھی ترجیح نہ دیں۔ جیسے کسی قول ہے کہ: ”میں شراب نوشی کیلئے نہیں، مدہوشی کیلئے پیتا ہوں“۔
تمام غیرمعتدل اور یک رخے جذبات کی یہی حقیقت ہے۔ یہ کسی شے میں موجود خوشی نہیں ہوتی بلکہ فراموشی ہے جسے تلاش کیا جاتا ہے۔ تاہم اس میں بہت زیادہ فرق ہے کہ یہ فراموشی مخمورانہ انداز سے حاصل کی جائے یا اپنی ایسی صلاحیتوں کو استعمال کر کے حاصل کی جائے جو بذاتِ خود پسندیدہ ہوں۔ ناول کے جس کردار نے اپنی بیوی کی موت کا صدمہ برداشت کرنے کیلئے چینی زبان سیکھنی شروع کی تھی، وہ بھی فراموشی ہی کی تلاش میں تھا، لیکن اس کیلئے اس نے ایسی سرگرمی کا انتخاب کیا جو مضر نہیں تھی، بلکہ اس سے اس کے علم اور ذہانت میں اضافہ ہوا۔ اس قسم کے فرار کے خلاف کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ صرف مدہوشی، جوئے بازی یا اور کسی غیرمنفعت بخش شغل کے ذریعے حاصل کردہ فرار ہے، جو قابلِ مذمت ہے۔ یہاں کچھ کنارے کے کیس بھی ہیں۔ ایسے انسان کے بارے میں کیا کہنا چاہیئے جو اس وجہ سے ہوابازی یا کوہ پیمائی میں جان لیوا خطرات مول لیتا ہے کہ زندگی نے اسے اُکتا دیا ہے؟ اگر اس کیلئے لیے گئے خطرات میں کوئی عوامی بھلائی ہے تو اس کی تعریف کی جائے گی، لیکن اگر ایسا کچھ نہیں، تو ہم اسے شرابی اور جواری سے کچھ ہی اوپر جگہ دیں گے۔
زندگی کا خالص اور بےآمیز مزا جو فراموشی کے حصول کیلئے نہ ہو، انسانی فطرت کا ایک حصہ ہے، بشرطیکہ یہ فطرت حالات کی بدبختی سے مسخ نہ ہو گئی ہو۔ چھوٹے بچے سنائی اور دکھائی دینے والی ہر چیز میں دلچسپی لیتےہیں۔ ان کیلئے دنیا ایک حیرت کدہ ہے جہاں قدم قدم پر عجوبے بکھرے پڑے ہیں۔ وہ پورے اشتیاق سے مسلسل جاننے میں لگے رہتے ہیں۔ جانوروں میں بڑی عمر میں بھی یہ دُھن برقرار رہتی ہے۔ ایک بلی کسی نئے کمرے میں اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھتی، جب تک وہ اس میں موجود ہر چیز اور ہر کونے کو سونگھ کر یہ نہ جان لے کہ یہاں کوئی چوہا نہیں ہے۔ ایک سلیم الطبع انسان زندگی بھر بیرونی دنیا میں اپنی فطری دلچسپی برقرار رکھتا ہے اور اسے زندگی ہمیشہ خوشگوار محسوس ہوتی ہے، تاوقتیکہ اس کی آزادی پر کوئی روک نہ لگا دی جائے۔
مہذب معاشرے میں زندگی کے مزے سے محرومی کا بڑا سبب شخصی آزادی پر لگائی گئیں وہ پابندیاں ہیں جو ہماری تہذیب کیلئے ناگزیر ہیں۔ وحشی انسان اس وقت شکار کرتا ہے جب وہ بھوکا ہو اور ایسا کر کے وہ ایک داعیے کی براہِ راست تسکین کرتا ہے۔ مہذب انسان جب صبح سویرے دفتر کیلئے روانہ ہوتا ہے تو وہ بھی بنیادی طور پر اسی داعیے کے تحت متحرک ہوتا ہے، یعنی زندگی کی ضرورت کو پورا کرنا، لیکن اس کے کیس میں یہ داعیہ براہِ راست اور فوری طور پر کام نہیں کرتا، بلکہ قیاس و ظن، اعتقادات اور شعوری ارادوں کے ذریعے بالواسطہ طور پر تسکین پاتا ہے۔ جس وقت انسان کام کیلئے گھر سے نکلتا ہے، اس لمحے اسے بھوک محسوس نہیں ہو رہی ہوتی، کیونکہ اس نے ابھی بھی ناشتہ کیا ہوتا ہے۔ تاہم وہ جانتا ہے کہ بھوک دوبارہ لگے گی اور کام کیلئے جانا مستقبل کی بھوک مٹانے کا ایک ذریعہ ہے۔ جبلی داعیے بے قاعدہ ہوتے ہیں، جبکہ عادات کو ایک مہذب معاشرے میں باقاعدہ ہونا پڑتا ہے۔ وحشی انسانوں میں اجتماعی ادارے تک بے ساختہ اور جبلی ترنگ پر مبنی ہوتے ہیں۔ جب کوئی وحشی قبیلہ جنگ کیلئے جا رہا ہوتا ہے تو ڈھولوں کی تھاپ جنگی جوش پیدا کرتی ہے اور ہجوم کے نعرے ہر فرد کو تحریک فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور کے ادارے اس انداز میں نہیں چلائے جا سکتے۔ جب ایک ریل گاڑی کو مقررہ وقت پر روانہ ہونا ہوتا ہے تو اس وقت اس کے ڈرائیور یا اسگنل مین کو موسیقی کے ذریعے متاثر کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ انھیں اپنا کام ایک فرض کے طور پر کرنا پڑتا ہے، یعنی ان کا داعیہ بالواسطہ ہوتا ہے۔ ان کے اندر اپنے کام کا کوئی براہِ راست محرک نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے کام کے صلے کیلئے متحرک ہوتے ہیں۔ سماجی زندگی کےایک بڑے حصے میں یہی خرابی ہوتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں، اس لیے نہیں کہ ان میں اس کی خواہش ہوتی ہے، بلکہ اس لیے کہ دوسروں کا تعاون حاصل کرنے میں کسی فائدے کی امید ہوتی ہے۔
ایک مہذب انسان کی زندگی میں فطری داعیوں کے سامنے ہر لمحے کوئی رکاوٹ آن کھڑی ہوتی ہے۔ اگر وہ شادمان ہے تو وہ گلی میں ناچ یا گا نہیں سکتا، اگر غم زدہ ہے تو فٹ پاتھ پر بیٹھ کر رو نہیں سکتا۔ لڑکپن میں اس کی آزادی پر قدغن اسکول میں لگتی ہے اور بڑی عمر میں وہ سارے اوقاتِ کار کے دوران پابند رہتا ہے۔ ان سب کی وجہ سے زندگی کے مزے کو برقرار رکھنا دشوار ہو جاتا ہے، کیونکہ مسلسل رکاوٹیں ناگواری اور بوریت پیدا کرتی ہیں۔ تاہم ایک مہذب معاشرے میں فوری داعیوں پر پابندیاں لگانا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ ان کی فوری تسکین سے سماجی تعاون کی صرف سادہ صورتیں وجود میں آئیں گی، مگر وہ پیچیدہ صورتیں نہیں جن کا جدید اقتصادی نظام تقاضا کرتا ہے۔ مزے پر عائد رکاوٹوں سے اوپر اٹھنے کیلئے اچھی صحت اور بکثرت توانائی درکار ہوتی ہے، یا پھر انسان اتناخوش نصیب ہو کہ اس کا کام بذاتِ خود دلچسپ ہو۔ اعداد و شمار کی حد تک گزشتہ سو سالوں میں مہذب ممالک میں صحت کی کیفیت میں بہتری آئی ہے، تاہم توانائی کی پیمائش مشکل ہے، اور میرا نہیں خیال کہ صحت کی حالت میں توانائی کی مقدار بھی اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کہ ماضی میں ہوتی تھی۔ یہ مسئلہ بڑی حد تک سماجی نوعیت کا ہے، اس لیے اسے یہاں زیرِ بحث نہیں لانا چاہتا۔ تاہم اس مسئلے کا ایک انفرادی اور نفسیاتی پہلو بھی ہے جسے ہم پہلے تھکن کے عنوان کے تحت بیان کر چکے ہیں۔ بعض لوگ مہذب زندگی کے نقائص کے باوجود اپنا مزا برقرار رکھتے ہیں اور بہت سے دوسرے افراد بھی اسے باقی رکھ سکیں اگر وہ اپنی ذاتی الجھنوں سے چھٹکارا حاصل کر سکیں جو ان کی توانائیوں کا بڑا حصہ ضائع کر دیتی ہیں۔ مزے کیلئے اس سے زیادہ توانائی چاہیئے ہوتی ہے جتنی کہ واجبی کام کیلئے کافی ہوتی ہے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ انسان کی نفسیاتی مشین کی کارکردگی لطیف اور ہموار ہو۔ نفسیاتی مشین کی کارکردگی بڑھانے کے اسباب پر میں زیادہ گفتگو آئندہ ابواب میں کروں گا۔
خواتین میں زندگی کا مزا بڑی حد تک شرافت و وقار کے غلط تصور کی وجہ سے ختم ہو جاتا ہے۔ خواتین کیلئے یہ پسند نہیں کیا جاتا کہ وہ مردوں سے بات کرنے میں پہل کریں یا عام لوگوں کے درمیان شوخی کا اظہار کریں۔ وہ عام کھیلوں میں دلچسپی نہیں لیتیں، انھیں سیاست کی کوئی خبر نہیں ہوتی، مردوں کیلئے ان کا رویہ پُرتکلف لاتعلقی کا ہوتا ہے اور دوسری خواتین کیلئے درپردہ عداوت کا، کیونکہ ہر عورت سمجھتی ہے کہ دوسری عورت اس جیسی باوقار نہیں۔ اپنی خودپسندی کو وہ خوبی تصور کرتی ہیں۔ تاہم موجودہ دور میں خواتین کے رجحانات تبدیل ہو رہے ہیں۔ تسلیم کیا جانا چاہیئے کہ مسرت کا راز خواتین کیلئے بھی مردوں کی طرح زندگی کے مزے میں ہے۔
(مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل کی کتاب ”The Conquest of Happiness “سے ترجمہ)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
No comments:
Post a Comment