Monday, January 3, 2022

سردیوں کی بارش

شعر و سخن

 

سردیوں کی بارش

آسماں سیاہ زمین بن گیا ہے

بادلوں کا فرش تن گیا ہے

بارش زور سے لگ پڑی ہے

سردیوں کی یہ پہلی جھڑی ہے

موسم کی کروٹ بھانپ رہے ہیں

لوگ سردی سے کانپ رہےہیں

بارش یونہی کچھ روز برسے گی

دھوپ جیسے کبھی نہ نکلے گی

کام پہ جانا ضروری ہے

گھر سے نکلنا مجبوری ہے

چاروں طرف بارش کا زور ہے

چھتری تلےمگر مقام کوئی اور ہے

بھیگتے نظاروں سے محظوظ ہونا

پُرلطف ہے بارش سے محفوظ ہونا

جابجا پانی کھڑا ہے

راہ میں کیچڑ بڑا ہے

توحید ہے  سنبھل کے چلنا

کہ پھسلنے ہوگا غیر کو سجدہ

کاریں چھینٹے اڑا رہی ہیں

طبقاتی فرق جتا رہی ہیں

دفتر میں کیا جی لگے گا

چائے کا ہی دور چلے گا

بھوک سردی میں جان لیوا ہے

مونگ پھلی گویا جنت کا میوہ ہے

جاتی ہے جو کھڑکی سے باہر نگاہ

دِکھتا ہے وہی برسات کا سلسلہ

گھر لوٹتےچہرے بتاتے ہیں صاف میں

کہ ہے آج آدم کی جنت لحاف میں

سنگدل انسان تو اپنے گھر ہوں گے

بےآسرا جانور کہاں مگر ہوں گے

ٹھٹھرتے جانوروں پہ بھی رونا چاہیئے

کہیں کوئی گھر ان کا بھی تو ہونا چاہیئے!

 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

No comments:

Post a Comment

محبت

  خوشی کا حصول کیسے؟   محبت برٹرینڈ رسل                     زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احسا...