خوشی کا حصول کیسے؟
ایذا رسانی کا خوف
برٹرینڈ رسل
اپنی انتہائی صورتوں میں ایذا رسانی کا خوف (Persecution Mania)پاگل پن کی ایک مسلمہ شکل ہے۔ اس میں مبتلا افراد خیال کرتے ہیں کہ دوسرے لوگ انھیں قتل کرنا چاہتے ہیں، یا انھیں قید کر لینا چاہتے ہیں، یا دوسرا کوئی شدید قسم کا نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ اکثر خود کو تصوراتی ایذا رساؤں سے بچانے کی خواہش میں وہ تشدد اور توڑ پھوڑ پر بھی اتر آتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی آزادی پر قدغن لگانی پڑتی ہے۔ دیوانگی کی دوسری اقسام کی طرح یہ بھی دراصل ایسے رجحان کی مبالغہ آمیز صورت ہے جو صحت مند انسانوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ میرا موضوع وہ انتہائی صورت نہیں جو کہ نفسیاتی معالجوں کا شعبہ ہے۔ میں اس رجحان کی ہلکی اور روزمرہ صورتوں کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ یہ ناخوشی کے عام اسباب میں سے ہیں، اور اس لیے بھی کہ دیوانگی کی حدود سے باہر ہونے کی وجہ سے یہ ابھی اس قابل ہیں کہ مریض خود ان سے نمٹ سکے، بشرطیکہ وہ اپنے مسئلے کی درست تشخیص کرے اور سمجھ لے کہ اس کا منبع دوسروں کی فرضی سنگدلی یا دشمنی کی بجائے خود اس کی ذات کےاندر ہے۔
ہم سب ایسے افراد سے آشنا ہیں جن کے اپنے بیان کے مطابق وہ مسلسل دوسروں کی طرف سے تضحیک، سنگدلی اور دھوکے بازی کا نشانہ بنتے ہیں۔ ایسے لوگ بظاہر خوش نما ہوتے ہیں اور اپنے نئے ملنے والوں کو پہلی نظر میں متاثر بھی کرتے ہیں۔ عموماً ان کی ہر کہانی میں کوئی بھی غیر ممکن بات نہیں ہوتی۔ جس برے سلوک کے وہ شاکی ہوتے ہیں، وہ بلاشبہ کبھی کبھی ہوجاتا ہے۔ تاہم سامع کو جس بات پر شبہ ہوتا ہے، وہ ان کے بیان کردہ واقعات میں بدمعاش اور کمینے قسم کے لوگوں سے مڈبھیڑ کی کثرت ہے۔ نظریۂ امکان کے مطابق ایک معاشرے میں رہنے والے مختلف افراد کو زندگی میں تقریباً یکساں مقدار میں بُرے سلوک تجربہ ہوسکتا ہے۔اس لیے اگر ایک فرد کا کہنا یہ ہو کہ اسے عالمگیر قسم کی بدسلوکی کا سامنا ہے، تو امکان یہی ہے کہ اس کا سبب اس کی اپنی ذات میں ہی ہو۔ یعنی وہ محض تصورات میں دوسروں کی ایذارسانی کو دیکھتا ہے، یا پھر لاشعوری طور پر ایسے رویوں کا اظہار کرتا ہے جس سے دوسرے لوگ بےاختیار بھڑک اٹھتے ہوں۔اس لیے سمجھدار لوگ ایسے افراد کی باتوں کا یقین نہیں کرتے جن کے خیال میں ساری دنیا ان کی دشمن بن چکی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے ہمدردی کرنا یا نہ کرنا برابر ہے۔ ایذرسانی کے خوف میں مبتلا شخص جب دیکھتا ہے کہ کوئی اس کی بات کا اعتبار نہیں کر رہا، تو وہ اسے اپنے ساتھ زیادتی کی ایک اور مثال قرار دے دیتا ہے۔ یہ بیماری ایسی ہے کہ جس سے بڑی حکمت کے ساتھ ہی معاملہ کیا جا سکتا ہے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ یہ حکمت مریض کو بھی سکھائی جائے۔اس باب میں میرا مقصد ایسی عمومی تجاویز دینا ہوگا جن کے ذریعے ہر فرد اپنے اندر ایذارسانی کے خوف کی علامات کی تشخیص کر سکے اور تشخیص کر لینے کے بعد ان کا تدارک بھی کرسکے۔ یہ تسخیرِ مسرت کا ایک اہم مرحلہ ہے، کیونکہ اگر ہم خیال کرتے ہیں کہ ہر کوئی ہمارا دشمن ہے تو پھر خوش رہنا ناممکن ہے۔
دنیا میں سب سے احمقانہ رویہ دوسروں کی بدخوئی کا ہے۔ بہت کم افراد خود کو اپنے جاننے والوں ، حتیٰ کہ اپنے دوستوں کی بدخوئی کرنے سے باز رکھ پاتے ہیں۔اس کے باوجود جب لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے ان کے خلاف باتیں بنا رہے ہیں، تو وہ بڑے تعجب سے غضبناک ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ جس طرح وہ دوسروں کے خلاف باتیں کرتے ہیں، اسی طرح دوسرے بھی ان کی غیبت کیا کرتے ہیں۔ یہ اس رویے کی ایک ابتدائی صورت ہے جو آگے چل کر ایذارسانی کا وہم بن جاتا ہے۔ ہم دوسروں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہماری ذات کے حوالے سے ویسے ہی احترام مظاہرہ کریں جیسا کہ ہم خود اپنے لیے رکھتے ہیں۔ حالانکہ لوگوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ہمارے بارے میں اچھا سوچیں گے، کیونکہ ہم خود ان کے بارے میں ایسا نہیں سوچتے۔ ہم دوسروں کے لیے اچھی رائے کیوں نہیں اپنا سکتے ؟ اس لیے کہ ہماری اپنی خوبیاں ہم پر براہ راست واضح ہوتی ہیں، جبکہ دوسروں کی خوبیاں، اگر واقعی میں ہیں تو، صرف کسی فیاض انسان کو ہی دکھائی دے سکتی ہیں۔ جب آپ سنتے ہیں کہ فلاں نے آپ کے بارے میں کوئی خراب رائے ظاہر کی ہے تو آپ ان ننانوے موقعوں کو یاد کرتے ہیں جب آپ نے اس شخص کے بارے میں خود کو ایک جائز تنقید کرنے سے روکا تھا۔ آپ سوچتے ہیں : ’کیا اتنی بار کے درگزر کا یہی صلہ ہے؟‘لیکن آپ اس سوویں موقعے کو بھول جاتے ہیں جب آپ نے ایک کمزور لمحے میں اس شخص کے بارے میں اپنے خیالات کا کُھل کر اظہار کر دیا تھا۔ وہ دوسرا شخص ان ننانوے موقعوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، وہ صرف اس سوویں موقعے کو جانتا ہے جب آپ نے اس پر تنقید کی تھی، لہٰذا اسے آپ کا رویہ بھی ویسا ہی دکھائی دیتا ہے جیسا کہ اس کا رویہ آپ کو۔ اگر ہم سب کو ٹیلی پیتھی کی صلاحیت دے دی جائے جس سے ہم ایک دوسرے کے خیالات پڑھ سکیں، تو اس کا سب سے پہلا نتیجہ یہ نکلے گا کہ دنیا میں ہر قسم کی دوستی ختم ہوجائے گی۔ تاہم ایک مثبت نتیجہ یہ ہوگا کہ دوستی کے بغیر دنیا میں رہنا ہمارے لیے ناقابل برداشت ہوجائے گا اور پھر ہم دوبارہ ایک دوسرے کو پسند کرنے لگ جائیں گے، بغیر اس شرط کے کہ ایک دوسرے کو کامل اور تنقید سے بالاتر ظاہر کریں۔
ہم جانتے ہیں کہ ہمارے دوستوں میں کچھ کمزوریاں موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود ہم انھیں بحثیتِ مجموعی قابلِ قبول خیال کرکے پسندکرتے ہیں۔ تاہم جو چیز ہمارے لیے ناقابلِ برداشت ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ ہمارے دوست بھی ہمیں اسی ناپ تول کے ساتھ قبول کریں۔اس کے برعکس ہماری خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے دوست ہمیں غلطیوں اور خامیوں سے پاک تسلیم کریں۔ جب ہمیں اپنی خامیوں کا اعتراف کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے تو ہم اس عام سی حقیقت کو بہت زیادہ سنجیدگی سے لے لیتے ہیں۔ کسی کو بھی نہیں چاہیئے کہ وہ اپنے آپ کو کامل خیال کرے اور نہ اس بات سے ملول ہونا چاہیئے کہ وہ کامل نہیں ہے۔
ایذارسانی کا خوف ہمیشہ اپنی ذاتی خوبیوں کے مبالغہ آمیز تصور سے جنم لیتا ہے۔ مثلاً ہم سوچتے ہیں کہ ’میں ایک ڈرامہ پروڈیوسر ہوں اور ہر غیر متعصب انسان کو تسلیم کرنا چاہیئے کہ میں اس دور کا سب سے منفرد اور باصلاحیت پروڈیوسر ہوں۔ تاہم بعض وجوہات سے میرے ڈرامے کبھی کبھار ہی پیش ہوتے ہیں اور جب ہوتے ہیں تو کامیاب نہیں ہوتے۔ اس عجیب معاملے کی کیا وضاحت ہے؟ یہ بالکل واضح ہے کہ سب مینجر، اداکار اور ناقد کسی نہ کسی وجہ سے میرے خلاف متحد ہو چکے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ میں نے تھیٹر کی دنیا کی بڑی شخصیتوں کی خوشامد کرنے سے انکار کر دیا ۔ میرے ڈراموں میں بعض ایسے حقائق ہوتے ہیں جو کچھ لوگوں کو چھبتے ہیں۔ اس طرح میری غیر معمولی صلاحیتیں اب تک دنیا کے سامنے ظاہر نہیں ہو پارہیں۔‘
انسان دوستی اور رفاہِ عامہ کے کام انجام دینے والا شخص بھی ایذارسانی کے خوف کا شکار ہوتا ہے۔ ایسا شخص دوسروں کی مرضی کے خلاف ان کا بھلا کرتاہے اور حیران و پریشان ہوتا ہے کہ لوگ اسے کوئی عزت و مرتبہ نہیں دیتے۔ بھلائی کے کام کرنے میں ہماری نیت شاذ ہی اتنی خالص ہوتی ہے جتنا کہ ہم خیال کرتے ہیں۔ طاقت و اقتدار کی خواہش بہت عیار ہوتی ہے۔ یہ کئی روپ دھارتی ہے اور اکثر ان کاموں سے مسرت حاصل کرتی ہے جو ہم اپنے خیال میں دوسروں کی فلاح کیلئے کرتے ہیں۔دوسروں کی بھلائی کرنے کا ایک اور داعیہ بھی ہے جو دراصل لوگوں کو ان کی من پسند مسرتوں سے محروم کرکے تسکین پاتا ہے،مثلاً تاش کھیلنا یا بیکار بیٹھے رہنا۔ وہ جو سگریٹ نوشی کے خلاف قانون کے حق میں ووٹ دیتے ہیں، دراصل ایسے غیرتمباکو نوش افراد ہوتے ہیں جو تمباکو نوشوں کو سگریٹ کےدھوئیں سے لطف اندوز ہوتا دیکھ کر تکلیف محسوس کرتے ہیں۔وہ توقع کرتے ہیں کہ تمام سابقہ تمباکو نوش ایک وفد کی صورت میں آکر اس قبیح عادت سے چھٹکارا دلانے پر ان کا شکریہ ادا کریں گے، مگر انھیں مایوسی ہوتی ہے۔ اب وہ سوچتے ہیں کہ انھوں نے اپنی زندگی عوامی فلاح کیلئے وقف کی اور وہ جنھیں ان کی فلاحی سرگرمیوں سے براہِ راست فائدہ پہنچا ہے، وہی لوگ ان کا مرتبہ نہیں پہچان رہے۔
سیاست کے اعلیٰ ایوانوں میں بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آتی ہے کہ جب ایک وزیر تمام اختیارات اپنی ذات میں سمیٹ لیتا ہے تاکہ جس عوام کیلئے اس نے اپنا عیش و آرام تیاگ دیا ہے، اس کیلئے وہ اچھے کام کر سکے۔ تاہم اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ لوگ اس کے خلاف ہو کر احسان فراموشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اسے خیال نہیں آ تا کہ اس کی سرگرمیوں کے پیچھے عوام کی خدمت کے علاوہ کوئی اور محر ک بھی ہو سکتا ہے ، یا ہو سکتا ہے کہ معاملات چلانے کی خوشی نے اس کی سرگرمیوں کو تحریک دی ہو۔ وہ محرکات کا تجزیہ کرنے کی بجائے غلط فہمی اور بیزاری میں مبتلا ہو کر اس وقت ریٹائر منٹ لیتا ہے جب دنیا پہلے ہی اسے ریٹائر کر چکی ہوتی ہے۔ وہ افسوس کرتا ہے کہ کیوں اس نے اپنی زندگی عوامی فلاح جیسے بےقدر کام میں صرف کی۔
یہ ساری مثالیں چار اصول تجویز کرتی ہیں جو انسانوں کو ایذارسانی کے خبط میں مبتلا ہونے سے بچا سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کی حقیقت کا ادراک کر لیا جائے۔ ایک یہ کہ: یاد رکھیں کہ فلاحی کاموں کیلئے آپ کے داخلی محرکات اتنے بےغرض نہیں ہوتے جیسے آپ کو محسوس ہوتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ: اپنی خوبیوں کو بڑھا چڑھا کرنہ سوچیں۔ تیسرا یہ کہ: دوسروں سے توقع نہ رکھیے کہ وہ آپ کی ذات میں ویسی ہی دلچسپی لیں گے جیسی آپ خود رکھتے ہیں۔ اور چوتھا یہ کہ: ایسا تصور نہ کریں کہ لوگ آپ کو اذیت دینے کی کوئی خصوصی خواہش رکھتے ہیں۔ میں ان چاروں اصولوں کے بارے میں کچھ وضاحت کروں گا۔
اپنے ذاتی اغراض سے آگاہی بالخصوص سماجی اور فلاحی کام انجام دینے والوں کیلئے ضروری ہے۔ ایسے افراد کے ذہن میں مسائل کو سدھارنے کا ایک خاکہ ہوتا ہے اور صحیح یا غلط طور پر وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس خاکے میں رنگ بھر کے وہ معاشرے پر بہت بڑا احسان کریں گے۔ وہ نہیں سمجھتے کہ جو افراد ان کی سرگرمیوں سے متاثر ہوتے ہیں، سماجی اصلاح کے حوالے سے انھیں بھی اپنے نظریات رکھنے کا برابر حق حاصل ہے۔ ایک انتظامی عہدے پر فائز انسان پورے یقین کے ساتھ سمجھتا ہے کہ اس کی حکمتِ عملی اور منصوبے درست ہیں اور ان کے برعکس ہر چیز غلط ہے۔ لیکن اس کا ذاتی یقین اس بات کا ثبوت نہیں بن سکتا کہ وہ واقعی میں صحیح ہے۔ مزید برآں، اس کے یقین کے پیچھے اکثر وہ خوشی پوشیدہ ہوتی ہے جو اپنی اردگرد کی دنیا میں ذاتی ارادے سے تبدیلیاں لانے سے حاصل ہوتی ہے۔ روایتی اخلاقیات جس درجے کی بےغرضی اور بےلوثی کی تاکید کرتے ہیں، اس تک انسانی فطرت شاذ ہی پہنچ پاتی ہے۔ نیک ترین آدمی کے سماجی کاموں میں بھی ذاتی اغراض کا عنصر موجود ہوتا ہے، لیکن اس پر پشیمانی کی ضرورت نہیں، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو نسلِ انسانی کا بقاء ممکن نہ رہتا۔ ایک انسان جو اپنا وقت دوسروں کی بھوک مٹانے میں صرف کرے اور اپنا پیٹ بھرنا بھول جائے، وہ بالآخر ختم ہو جائے گا۔ بےشک ایسا انسان اس نیت سے کھانا کھا سکتا ہے کہ اسے اتنی توانائی حاصل ہو جائے جس سے وہ دوسروں کی مدد کرنے کے قابل ہو جائے، لیکن یہ یقینی نہیں کہ ایسا کھانا اچھی طرح ہضم بھی ہوتا ہو، کیونکہ ایسی صورت میں لعابِ دہن کا بہاؤ کافی نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ بہتر ہے کہ انسان کھانا اس لیے کھائے کہ اسے کھانے میں مزہ آتا ہے، نہ کہ رفاہی کاموں کیلئے کوئی مقوی (ٹانک )سمجھ کر۔
جو کچھ تغذیے کےلیے درست ہے، وہی زندگی کی ہر چیز کیلئے بھی صحیح ہے۔ کوئی بھی کام اچھی طرح اسی وقت ہوسکتا ہے، جب اس میں کوئی لطف محسوس ہوتا ہو اور یہ لطف کسی ذاتی غرض یا دلچسپی کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس کی ایک مثال دشمنوں سے اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کا داعیہ ہے جن سے انسان کا حیاتیاتی رشتہ ہوتا ہے۔ اس درجے کی بےغرضی اور خلوص عام انسانی فطرت کا حصہ ہے، لیکن جس درجے کی فہمائش روایتی اخلاقیات کرتے ہیں، وہ بہت ہی نایاب ہے۔ جن لوگوں کو اخلاقی بلندی کی خواہش ہوتی ہے، وہ اپنے آپ کو باور کراتے ہیں کہ وہ بڑی حد تک بےغرض ہو چکے ہیں، حالانکہ ایسا ہوتا نہیں۔ چنانچہ خدارسیدہ بزرگ بننے کی کوشش اکثر ایسی خود فریبی پر مبنی ہوتی ہے جو آسانی سے ایذا رسانی کے خبط تک لے جاتی ہے۔
ہمارا یہ دوسرا اصول کہ اپنی خوبیوں کے تصور میں مبالغہ نہ کیا جائے، تو جہاں تک خوبیوں کے اخلاقی نوعیت کا ہونے کا تعلق ہے، اوپر کے مباحث میں اس کا کافی احاطہ ہوچکا ہے۔ تاہم اخلاق کے علاوہ کی خوبیوں کیلئے بھی یہی نصیحت ہے۔ جس ڈرامہ پروڈیوسر کے ڈرامے کامیاب نہیں ہوتے، اسے اطمینان سے سوچنا چاہیئے کہ کیا اس کے ڈرامے معیاری نہیں ہوتے۔ اگر یہ حقیقت ہے تو سمجھداری کا تقاضا ہے کہ اسے قبول کر لیا جائے۔ یہ درست ہے کہ تاریخ میں گمنام قابلیت کی مثالیں موجود ہیں، لیکن اس سے زیادہ مشہور نااہلیت کی ہیں۔ اگر ایک عبقری (جینئس) انسان کی اس کے دور میں قدر دانی نہیں کی جاتی، تو اس کیلئے صحیح ہے کہ وہ تحسین و مقبولیت نہ ملنے کے باوجود اپنا کام کرتا رہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ محض بڑائی کے فریب کا شکار ایک بے جوہر انسان ہے تو اس کیلئے بہتر ہے کہ اپنا کام ترک کر دے۔ یہ جاننا آسان نہیں کہ ایسا انسان جو ایک اندرونی تقاضے کے زیرِ اثر گمنام تخلیقات پیدا کیے جارہا ہے، ان دو میں سے کس طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر آپ کا تعلق پہلے طبقے سے ہے تو آپ کی یہ استقامت دلیرانہ ہے اور اگر دوسرے سے ہے تو احمقانہ۔ جب آپ کو فوت ہوئے سو سال ہو چکے ہوں گے تو یہ اندازہ کرنا ممکن ہو جائے گا کہ آپ کس طبقے سے تھے۔ فی الحال اس بات کو جانچنے کا ایک ٹیسٹ ہو سکتا ہے جو قطعی طور پر حتمی تو نہیں، لیکن اہم ہے۔ اگر آپ کے خیال میں آپ ایک عبقری (جینئس) ہیں مگر کوئی دوسرا آپ کو ایسا نہیں مانتا، تو آپ اسے اپنی ذات پر لاگو کر سکتے ہیں۔ ٹیسٹ یہ ہے: آپ اپنا کام کسی اندرونی تقاضے یا داعیے کے تحت کرتے ہیں یا داد و تحسین کی خواہش میں کرتے ہیں؟ایک سچے آرٹسٹ میں ستائش کی خواہش ہوتی تو ہے مگر ثانوی حیثیت کی، وہ دراصل اپنے فن پارے اپنے طبعی ذوق کی تسکین کیلئے تخلیق کرتا ہےاور ایسا کرنا اس وقت بھی جاری رہتا ہے جب اس کے شاہکاروں کو سراہنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس جس انسان میں تعریف کی خواہش ہی بنیادی محرک ہوتی ہے، اس کے باطن میں اس کے کام کا کوئی خصوصی داعیہ نہیں ہوتا، اس لیے وہ اسے چھوڑ کر کوئی اور دوسرا کام بھی شروع کر سکتا ہے۔ ناکامی کی صورت ایسے انسان کیلئے اپنا آرٹ ترک کر دینا ہی بہتر ہوتا ہے۔
زیادہ عمومی طور پر میں کہوں گا کہ آپ زندگی کے کسی بھی شعبے میں ہوں، اگر دوسرے افراد آپ کی صلاحیتوں کو تسلیم نہیں کرتے، تو بالکل خیال نہ کریں کہ سارا قصور ان کا ہی ہے۔ اگر آپ خود کو اس خیال میں مبتلا کر لیں گے تو یوں سوچنے لگ جائیں گے کہ آپ کی ترقی کو روکنے کی کوئی سازش ہو رہی ہے، اور پھر آپ ناخوش رہنے لگیں گے۔ یہ مان لینا کہ آپ کی صلاحیت اتنی غیر معمولی نہیں جتنی کہ آپ نے سمجھ لی تھی، ابتدا میں تکلیف دہ ہوگا، لیکن انجامِ کار ایک پُرمسرت زندگی کا راستہ کھُل جائے گا۔
ہمارا تیسرا اصول یہ تھا کہ دوسروں سے زیادہ توقع نہ کی جائے۔ یہ عام ہے کہ عمر رسیدہ مائیں اپنی کم از کم کسی ایک بیٹی سے چاہتی ہیں کہ وہ اپنی دلچسپیوں کی قربانی دے کر ان کی خدمت کرے، حتیٰ کہ اس کیلئے شادی بھی نہ کرے۔ یہ دوسرے سے اس درجے کے ایثار کا تقاضا کرنا ہے جو بہت غیر معقول ہے، کیونکہ اس ایثار میں جو کچھ جاتا ہے، وہ اس سے زیادہ ہے جو خود غرضی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ سماجی تعلقات بالخصوص عزیز و اقارب سے روابط میں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ وہ زندگی کو آپ کے نہیں، بلکہ اپنے زاویے سے دیکھتے ہیں اور اسی طرح جیتے ہیں جس طرح جینا انھیں پسند ہے، نہ کہ اس طرح جس طرح آپ کو پسند ہے۔ کسی سے بھی توقع نہیں کی جانی چاہیئےکہ کسی دوسرے فرد کی خاطر اپنی زندگی کے خدوخال تبدیل کرے۔ ایسے مواقع ہو سکتے ہیں جب انتہائی ہمدردی اور محبت کے زیرِ اثر بڑی سے بڑی قربانی فطری بن جائے، لیکن اگر یہ فطری نہ ہو تو نہیں ہونی چاہیئے اور نہ کسی کو قربانی نہ دینے پر ملامت کیا جانا چاہیئے۔ اکثر ہمیں کسی دوسرے فرد کے جس طرزِ عمل سے شکایت ہوتی ہے، وہ درحقیقت اس فرد کا ہمارے بےجا مطالبوں کے جواب میں اپنی فطری انانیت کا ایک صحتمند مظاہرہ ہوتا ہے۔
جس چوتھے اصول کا ہم نے ذکر کیا تھا، وہ یہ حقیقت سمجھنے پر مبنی ہے کہ لوگ آپ کے بارے میں اس سے بہت کم وقت سوچتے ہیں جتنا کہ آپ خود اپنے بارے میں۔ ایذا رسانی کے خبط میں مبتلا دیوانہ خیال کرتا ہے کہ سب لوگ (جو درحقیقت اپنے مسائل اور دلچسپیوں میں الجھے ہوتے ہیں) صبح، دوپہر، رات، ہر وقت اسے نقصان پہنچانے کی فکر میں رہتے ہیں۔ اسی طرح اس خبط کا ہوشمند شکار بھی دوسرے کی سرگرمیوں کو اپنی ذات کے حوالے سے دیکھتا ہے، جبکہ ایسا نہیں ہوتا۔ بلاشبہ یہ خیال اس کی خودنمائی کی تسکین بھی کرتا ہے۔ اگر وہ ایک عظیم انسان ہوتا تو یہ خیال درست ہو سکتا تھا۔ تاہم جب کوئی گمنام انسان یہ خیال کرے کہ ساری دنیا اس کے بارے میں سوچتی ہے، تو ایسا انسان دیوانگی کے راستے پر گامزن ہوتا ہے۔ فرض کیجیے، آپ کسی تقریب میں کوئی تقریر کرتے ہیں۔ دوسرےدن کے اخبارات میں دوسرے مقررین کی تصاویر تو چھپتی ہیں، لیکن آپ کی کوئی ایک بھی نہیں۔ ایسا کیوں؟ ظاہر ہے، اس لیے نہیں کہ دوسرے مقررین زیادہ اہم لوگ تھے، بلکہ اس لیے کہ مدیروں نے باقاعدہ حکم دیا تھا کہ آپ کو نظرانداز کرنا ہے۔ لیکن مدیروں کو ایسا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ ظاہر ہے کہ وہ آپ کی عظیم شخصیت سے خوفزدہ ہیں۔ یوں آپ کی تصویر کا نہ ہوناایک معمولی واقعے سے بڑھ کر بڑی چالاکی سے ذاتی ستائش کا واقعہ بن گیا۔ لیکن اس طرح کی خودفریبی کسی حقیقی خوشی کا باعث نہیں بنتی۔ اپنے ذہن کے عقبی حصے میں جا کر آپ جان جائیں گے کہ حقائق یہ نہیں ہیں، پھر خود سے یہ حقیقت چھپانے کیلئے آپ زیادہ سے زیادہ دلفریب خیالات ایجاد کریں گے۔ آخر میں ان خیالات پر یقین کرنے کا دباؤ بہت بڑھ جائے گا اور یہ خیالات آپ کی افادیت کو تقویت دے کر آپ کو پوری دنیا کی جارحیت کے سامنے لا کھڑا کریں گے۔ خود فریبی کی بنیا د پر طمانیت و مسرت کی کبھی کوئی پائدار عمارت کھڑی نہیں نہیں کی جا سکتی۔ حقیقت خواہ کتنی ہی تلخ ہو ، اس کا ایک بار سامنا کر لینا بہتر ہوتا ہے۔ حقیقت پر استوار زندگی اگر شاندار نہ ہو، تو بھی مستحکم ضرور ہوتی ہے۔
(مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل کی کتاب ”The Conquest of Happiness “سے ترجمہ)
***********************
No comments:
Post a Comment