Saturday, February 8, 2020

اپنے غصے کو استعمال کیجیے



اپنے غصے کو استعمال کیجیے

جس طرح بھاپ سے انجن چلائے جاتے رہے ہیں، اسی طرح غصے کوایندھن بناکرآپ اپنی شخصیت کی گاڑی  تیزرفتار کرسکتےہیں۔

                                                                               زمانہ قدیم کے ایک رومی طنز نگار نے کہا تھا:”غصہ ایک عارضی پاگل پن ہے“۔۔مگر دورِ حاضر کے ماہرینِ نفسیات اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ان کا کہنا ہےکہ غصے کا آنا کوئی نقصان دہ امر نہیں، البتہ اسے دبادینا انسان کیلئے جذباتی اور جسمانی مسائل پیداکردیتاہے۔

                                                                لوگ غصے پی جانے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟ اس کا سبب متمدن معاشرے کے وہ معیارات ہیں جو کرختگی اور جنون کی جگہ شائستگی اور تحمل کو پسند کرتے ہیں۔ ایسے معاشرے میں اپنے اندر کے غصے کوجوں کا توں باہر نکال دینے ولا شخص، سماجی آداب سے بے بہرہ سمجھا جاتاہے جسے مہذب بننے کیلئے ابھی مزید تربیت کی ضرورت ہے۔ بچپن میں انسان اپنے غصے کا فطری انداز میں اظہار کرتاہے ، لیکن بڑا ہونے پر اس کا ایسے سماجی اخلاقیات سے واسطہ پڑتاہے جو غصے کوجذباتی پس ماندگی گردانتے ہیں۔اس معاشرتی پس منظر میں ایک فرد کوشش کرتاہے کہ اس کے چہرے پر ابھرنے والی سرخی دوسروں کو نظر نہ آئے ، کیونکہ غصے کے بلاتکلف اظہار سے باہمی تعلقات میں بگاڑ آجاتاہے اور مخالفتیں جنم لیتی ہیں۔

                                                                 ماہرینِ نفسیات کے نزدیک ضرورت ایسی تربیت کی نہیں جوفرد کو غصہ دبانے کی ترغیب دے ، بلکہ ایسی تعلیم کی ہے جو اسے اپنے غصے کا درست استعمال سکھائے۔ہم اپنے غصیلے جذبات کا دوانداز سے غلط استعمال کرتے ہیں؛ انھیں کچل کر یا ان سے مکمل طورپر مغلوب ہوکر۔ بہت سے ماہرین  کاخیال ہے کہ غصے کو روک کر پم اپنے اندر جذباتی اور جسمانی خرابیوں کا ایک سلسلہ شروع کردیتے ہیں ۔ افسردگی(ڈپریشن) ، تھکن، شراب نوشی ، کھانے پینے میں بے اعتدالی وغیرہ جیسی علامتیں دبے ہوئے غصے سے جنم لیتی ہیں۔ ایک مکتبۂ فکر کا کہنا یہ بھی ہے کہ وجع المفاصل(جوڑوں کادرد) اور سرطان جیسے امراض درحقیقت ایسے کڑوے کسیلے جذبات سے پیدا ہوتے ہیں جن کا اظہار نہیں کیا جاتامگر جو اندر ہی اندر ان امراض کی نشوونما میں کھاد کے طورپر استعمال ہوتے رہتے ہیں۔

                                                                                         تاہم جب آپ اپنے غصے کو بلاروک ٹوک الفاظ کی صورت میں خارج کردیتے ہیں تو اس سے آپ کیلئے سماجی سطح پر بڑی دشواریاں پیدا ہوجاتی ہیں ، بلکہ اگر غصے میں زبان کے ساتھ ساتھ ہاتھ پاؤں بھی حرکت میں آجائیں تو قانونی مشکلات بھی پیش آسکتی ہیں۔جو لوگ اپنے غصے کابے قابو انداز میں اظہار کرتے ہیں ، وہ بھی ایک طرح سے اپنے غصے کودبا ہی رہے ہوتے ہیں کیونکہ وہ اکثر اپنے غصے کو وہاں ظاہر نہیں کرتے ہیں جہاں یہ پید اہوتاہے۔مثال کے طورپر ایسے لوگوں کو اپنے افسر(باس) پر غصہ آتاہے، لیکن اس کانکاس وہ گھر آکر بیوی بچوں یا پالتو جانوروں پر کرتے ہیں۔

                                                             غصہ  درحقیقت صحت کیلئے مفید اور ایک متوازن شخصیت کیلئے ضروری ہے۔ ایک کثیرالفروخت کتاب ”غصے کارقص“ کی مصنفہ ہیریٹ لرنر لکھتی ہیں:”غصہ ایک اندرونی اشارہ ہے اس بات کا کہ ہمیں کسی بات سے تکلیف پہنچی ہے ، ہمارے حقوق پامال ہوئے ہیں ، ہماری ضروریات یا خواہشات کی خاطر خواہ تکمیل نہیں ہوئی ہے یامحض سادہ طورپریہ کہ ہماری زندگی میں کہیں نہ کہیں کوئی خامی ہے۔ جس طرح جسمانی تکلیف ہمیں بتاتی ہے کہ ہم گرم شے پر سے فوراًاپناہاتھ ہٹالیں، اسی طرح غصہ ہمیں یہ مثبت تحریک دے سکتاہےکہ ہم ان سانچوں میں آنے سے انکار کردیں جن میں دوسرے لوگ ہمیں ڈھالنا چاہتے ہیں۔“

                                                                        اب سوال یہ ہے کہ اگر غصے کونہ تو دبایا جائے اور نہ اسے جوں کاتوں نکالا ہی جائے تو پھر اس کا صحیح مصرف کیا ہے ؟ اس کاجواب یہ ہے کہ اول تو اپنا ذہن ایسا بنایئے کہ آپ کو غصہ آئے ہی نہیں، لیکن اگر آجائے (جیساکہ ناگزیر ہے) تو اسے درست سمت میں موڑنے اور معتدل کرنے کیلئے درج ذیل آٹھ طریقوں پر عمل کیجیے:

1)خود کو غصہ محسوس ہونے دیجیے

                                                                                            غصے کے بارے میں اپنے ان خیالات میں تبدیلی لائیے جو موروثی تربیت اور سماجی اثرات کے تحت آپ کے ذہن میں رچ بس گئے ہیں۔ اپنے خاندانی رویوں کاتنقیدی جائزہ لیجیے کہ آپ کے عزیز واقارب غصے کے ساتھ کس طرح معاملہ کرتے آئے ہیں۔ غصے کوایک فطری جذبہ سمجھتے ہوئے اسے فطری انداز میں محسوس کیجیے۔

2)اپنی داخلی کیفیت پر نظر رکھیے

                                                                                 اگرآپ اپنے غصے کودبادینے کی عادت میں مبتلا ہیں تو اکثر آپ اس بات سے بھی بے خبر رہتے ہوں گے کہ آپ کو غصہ کب آیا تھا۔ ایسی صورت میں دیکھیے کہ آیا آپ کے اندر یہ علامات ظاہر ہورہی ہیں یا نہیں: افسردگی (جو دراصل غصے کا خود اپنی ذات کی طرف پلٹ آنا ہے)، دل شکنی کا احساس (جو غصے ہی کیلئے ایک متبادل لفظ ہے)، شدید پریشانی (جو غصے کی ایک بدلی ہوئی شکل ہے)، وغیرہ۔ اگر یہ علامات محسوس ہوں تو سمجھ جائیے کہ آپ کے اندر برہم جذبات کادبا ہوا لاوا موجود ہے۔

                                                                             اس کے برعکس اگر آپ ان افراد میں سے ہیں جو غصے سے مغلوب ہوکر کچھ بھی کرگزرتے ہیں اور بعدمیں پشیمان ہوتے ہیں تو آپ کیلئےضروری ہے کہ غصے کی حالت میں خود پر قابورکھنے کی کوشش کریں ۔ فوری اشتعال پر غالب آکر ہی آپ اپنے غصے سے کوئی مفید کام لے سکتے ہیں ۔ اس کیلئے عموماً یہ چٹکلا تجویز کیا جاتاہے کہ غصہ آجانے پر گنتی شروع کردی جائے۔ لیکن بعض  ماہرین کا خیال ہے کہ گننے سے دماغ بیش فعال ہو جاتا ہے اور یوں کچھ دیر بعد غصے کی ایک پہلے سے بھی زیادہ تیز وتند لہر اٹھ سکتی ہے۔ اس کے بجائے ماہرین ، غصے کاباعث بننے والے ماحول اور مقام سے دور ہٹ جانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ بہرحال دونوں طریقے آزما لیجیے، پھر جوبھی آپ کو کام دے جائے۔

3) غصے کو ورزش سے نکالیے

                                                                                 غصے کے وقت آپ کے اندر ”مقابلہ یا فرار“  کا نظام متحرک ہوجاتاہے۔ ایڈرے نے لن (Adrenalin) غدود اپنی رطوبت پورے جسم میں دوڑادیتاہے، دھڑکن بڑھ جاتی ہے ار آپ بھنّاجاتے ہیں۔ یہ ایک جسمانی ردِ عمل ہے اور جسمانی اظہار ہی کا تقاضا کرتاہے۔ غصہ ایک طاقت ہے، مگر اسے تشدد اورتخریب کی طرف لگادینا نقصان دہ ہے۔ اس کے بجائے اس طاقت کا استعمال ورزش اور مسابقتی کھیلوں(اسکوائش،ٹینس، باکسنگ وغیرہ) میں کیجیے۔ یہ مشتعل جذبات کے نکاس بہترین صورت ہے۔

4)غصے کو تعمیرِ خودی کی بنیادبنائیے

                                                                                ہمارے غصے کاسبب اکثر دوسرے افراد کی بے اصولی، غیر ذمے دارانہ رویہ، بدعہدی اور بے حسی ہوتی ہے۔ ہم کسی نہ کسی حوالے سے دوسروں سے کچھ توقعات باندھ لیتےہیں جن کے پورا نہ ہونے پر ہمارا خون کھول اٹھتاہے۔ اس صورتِ حال میں یہ مثبت امکان پوشیدہ ہے کہ آپ اپنی شخصیت کو اتنا خودکفیل اور خود منحصر(Self-dependent) بنانے کی کوشش میں لگ جائیں کہ دوسروں کے غیر معقول رویے اور عدم تعاون سے آپ متاثر نہ ہوں اور آپ زیادہ محنت سے وہ ہدف خود ہی حاصل کرلیں جس کے حصول کیلئے پہلے آپ  دوسروں کی طرف دیکھتے تھے ۔غصہ آپ کے اندر یہ ضد پید اکرسکتاہے آپ دوسروں پر انحصار ترک کردیں ۔ یوں آپ اپنے غصے کا مثبت استعمال کرتے ہوئے اپنی ذاتی کارکردگی کو معمول سے کافی بلند معیار پرلاسکتے ہیں۔

5)فوری غصہ بےجان اشیا پر نکالیے

                                                                                          بہت سے معالجین نفسیات اس تکنیک کو بڑا مفید خیال کرتے ہیں کہ غصے کی  صورت میں روئی کے کسی تکیے کو بلے  سے ذریعے خوب پیٹا جائے  اور تصور کی آنکھ سے اس تکیے کو وہ شخص سمجھا جائے جس پر غصہ آیا ہو۔ اس تکنیک سے آپ کو اپنے غصے کے اظہار کی ایک محفوظ  عملی صورت مل جائے گا۔ اس کے علاوہ زمین پر زور سے پاؤں مارنا، گاڑی کے شیشے بند کرکے اندر بیٹھ کر پوری قوت سے چلانا، وغیرہ بھی غصے کے اخراج کے مفید لیکن ممکنہ طورپرخطرناک طریقے ہیں۔

6) بعض سادہ تدبیریں آزمائیے

٭اس شخص کیلئے ایک خط لکھیے جس پر آپ کوغصہ آرہا ہو۔اپنے تمام تلخ جذبات کاغذ پر انڈیل دیجیے۔ پھر اس خط کو پھاڑ دیجیے یا نذرِ آتش کردیجیے۔

٭ایک روزنامچہ(ڈائری) بنائیے جس میں اپنے روزانہ کے غصیلے جذبات اور تلخ واقعات درج کرتےجائیں۔ ہر ہفتے بعد اس روزنامچے کامطالعہ کرکے اندازہ لگائیں کہ غصے کے ساتھ معاملہ کرنے کا آپ کارویہ کیا رہا ہے، اس سے آپ کوکیانقصان پہنچا ہے اور آپ کیا کرتے توصورتحال کوزیادہ بہتر انداز میں نمٹایا جاسکتاتھا۔

٭ شدید غصے کی احالت میں جب آپ کو کچھ نہ سوجھ رہاہو تو بیٹھ کر کسی سادہ کاغذ پر آڑھی ترچھی لکیریں کھینچنا شروع کردیں یا کوئی رنگ دار پنسل لے کر اپنے غصے کی تصویر بنانے لگ جائیں۔ یہ طریقہ بعض اوقات غصے کومنطقی دلائل سے تحلیل کرنے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتاہے۔

٭اگر مذکورہ بالا تدابیر آپ کوموزوں دکھائی نہ دیں تو اپ خود اپنے لیے کوئی ایسی عملی تدبیر ایجاد کرنے کی کوشش کریں جوآپ کے مشتعل جذبات کو اعتدال پر لے آئے۔ مثال کے طورپر ایک شخص نے اپنے طورپر یہ طریقہ دریافت کیا کہ اسے اپنے جس دوست پر غصہ آیا تھا، اس کی تصویر لے کر قینچی سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹنی شروع کردی اور پھر یہ ٹکڑے فلش میں بہادیے۔ اس عمل سے اس کے انتقامی جذبات کو تسکین مل گئی اور غصہ فرو ہوگیا۔

7)غصے کواس کے منبع کی طرف لوٹادیجیے

                                                                                                 جس شخص کارویہ یا الفاظ آپ کیلئے اشتعال کا باعث بنے ہوں ، اس کے پاس جائیے اور اس کی عزتِ نفس کومجروح کیے بغیر سادہ لفظوں میں کہہ دیجیے کہ آپ کے فلاں رویے سے مجھے بہت ذہنی اذیت پہنچی ہے۔ اس کے جواب میں اگر دوسرا فریق بحث پر اتر آئے  اوراپنے رویے کادفاع کرنے لگے تو آپ خواہ اس سے متفق نہ ہوں، پھر بھی پرسکون انداز میں کہہ دیجیے کہ شاید آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ اس طرح تلؒخی نہیں بڑھے گی اور آپ کاغصہ بھی نکل جائے گا۔ یہ طریقہ خاص طورپر قریبی تعلقات میں مفید رہتاہے ، تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ آپ اپنے غصے کے بارے میں فریقِ ثانی کو آگاہ کرنے کیلئے مناسب موقع کاانتظار کریں اور اس وقت تک اس مسئلے پر کچھ نہ سوچیں۔

                                                                                           مذکورہ بالا طریقے آزمانے سے پہلے یہ دیکھ لیجیے کہ آپ کا غصہ جائز بھی ہے یا نہیں ؟ کہیں آپ غیر ضروری طورپرمشتعل تو نہیں ہوگئے؟ اگر ایسا ہے تو ایک گہری سانس لے کر بات کو جانے دیجیے۔

********************

No comments:

Post a Comment

محبت

  خوشی کا حصول کیسے؟   محبت برٹرینڈ رسل                     زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احسا...