Friday, October 4, 2019

کیرئیر کاانتخاب اور روزگارکا حصول


کیرئیر کاانتخاب اورروزگارکاحصول

                                                                                                                      آپ کی تعلیم مکمل ہوچکی ہے یا آخری مرحلے میں ہے۔اب آپ کے ذہن میں مستقبل کے سوالات ہیں۔ ایک شاندار اور عزت ومرتبے والی نوکری آپ کا خواب ہے۔یہ حقیقت ہے کہ کامیاب زندگی کیلئے مضبوط معاشی حثیت ضروری ہے ۔ آنے والے دور میں لوگ آپ کی شخصیت کا وزن آپ کی آمدنی سے ہی کریں گے۔ایک قابل ِ رشک آمدنی  والی ملازمت معاشرے میں اعلیٰ مقام کاراستہ ہموار کرتی ہے، اس لیے اس حوالے سے آپ کے خواب بھی اہم ہیں اور آپ کی جدوجہد بھی بہت اہمیت کی حامل ہے۔شاندار کیرئیر کے حصول کیلئے آپ کو منصوبہ بندی اورمؤثر حکمتِ عملی سے کام لینا ہوگا۔اپنی دلچسپیوں اور رجحانات کو جاننا  ہوگا۔ اپنے ماحول اورزمانے کے ٹرینڈز کو سمجھنا ہوگا۔اپنے وسائل کااندازہ لگانا ہوگا۔آپ کی رہنمائی کیلئے ہم یہاں ایسے اقدامات تجویز کررہے ہیں جو آپ کیلئے کامیاب کیرئیر کاحصول آسان بنا دیں گے۔
لوگ کام کیوں کرتےہیں؟
                                                                                                                 سب سے  پہلے اپنے ذہن میں یہ بات واضح کیجیے کہ آپ نوکری کیوں کرنا چاہتے ہیںَ؟ آپ کے ذہن میں کام کا کیا مقصد ہے؟  اس حوالے سے لوگ مختلف وجوہات رکھتےہیں ، مثلاً:
1) میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ، اس لیے مجھے یہ کام کرنا پڑاہے۔
2) مجھے کھانے پینے ، رہائش اور لباس کیلئے رقم کا انتظام کرنے کیلئے کام کرنا ہوتاہے۔
3) میں ایسی مفید اشیاء خریدنے کیلئے کام کرتاہوں جن کی مجھے ضرورت تو نہیں مگر خواہش ہے۔
4) میں اس لیے کام کرتاہوں تاکہ میری فیمیلی باعزت زندگی گزار سکے۔
5) میں اس لیے کام کرتاہوں تاکہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرسکوں ، اپنی صلاحیتوں کی تکمیل کرسکوں اور اپنی قابلیت پر انعام حاصل کرسکوں ۔
                                                                                                                                                  ان میں سب سے پختہ فکر نمبر پانچ ہی ہے۔ یہ معاشرے کا ایک فعال اورمفید شہری بننے کی خواہش ظاہر کرتی ہے۔ اس میں اپنی دلچسپیوں اور رجحانات کاادراک موجود ہے اور اپنے کام کے ساتھ لگن اور جستجو کا جذبہ ہے۔ سب سے سطحی  اور کم پختہ وجہ وہ ہے جو نمبر ایک میں بیان ہوئی ہے۔ اس میں زندگی کے دھارے پر فردکا کوئی کنٹرول نہیں اور نہ فرد کو اپنے کام میں کوئی خوشی اورطمانیت حاصل ہے ۔ آپ کیلئے ضروری ہے کہ اپنے ذہن میں کام کے حوالے سے ترجیحات کا تعین کریں کہ آپ کام کریں گے تو کیوں کریں گے ، کس انداز سے کریں گے اور کس حد تک کریں گے۔
اپنی دلچسپیوں کا اندازہ کیجئے
                                                                                                                                                  ذاتی دلچسپیوں سے مراد وہ اندرونی احساسات ہیں جو آپ کو کسی چیز کے بارے میں جاننے یا کسی خاص سرگرمی کے انجام دینے پر مجبور کرتے ہیں۔بعض دفعہ لوگ اس کام  میں اتنے الجھ جاتے ہیں جو انھیں مجبوراً کرنا پڑتاہے کہ وہ اس کام کو بھول جاتے ہیں جو وہ کرنا چاہتےہیں۔اگر آپ کو اپنی دلچسپیوں کا اندازہ ہوجائے تو آپ اپنے لیے دلچسپ کام کا انتخاب کرنے کی پوزیشن  میں ہونگے۔سوچئے کہ سکول اورکالج میں ایسی کونسی سرگرمی تھی جسے انجام دینا آپ کوبہت اچھا لگتاتھا اورکون سا ایسا کام تھا جسے آپ صرف ناگزیر سمجھ کر کرتےتھے؟بعض دفعہ ہمیں  ایسے کام کرنے ہوتے ہیں جو ہمیں دلچسپ تو نہیں لگتے ، لیکن ان کی تکمیل سے ہمیں وہ سرور حاصل ہوجاتاہے جو ہم چاہتے ہیں مثلاً امتحان میں کامیابی، دوسروں کی تحسین وغیرہ۔
                                                                                                             بعض اوقات یہ ضروری ہوتاہے کہ ہم اپنی فوری خواہشات کو التواء میں رکھ کر ایسے کام کریں جن سے ہم لطف اندوز نہیں ہوسکتے، مگر ان کے ذریعے ہم اپنا مقصد پاسکتے ہیں۔بعض لوگ کسی خاص کام میں اتنی دلچسپی پیداکرلیتےہیں کہ اسے کیے بغیر انھیں چین نہیں آتا۔ کیا آپ کےساتھ کبھی ایسا ہواکہ آپ نے ایک کتاب کامطالعہ شروع کیا ہویا کوئی ٹی وی پروگرام دیکھنا شروع کیا ہو یا کسی مسئلے پر بحث کرنا شروع کی ہو اورپھر آپ کو وقت کا کوئی احساس ہی نہ رہا ہو؟ سوچیے کہ کونسی ایسی سرگرمی ہے جس کے دوران آپ کے گھنٹے منٹوں میں گزرجاتےہیں؟ آپ کو کیسے کاموں میں دلچسپی ہے : مکینیکل چیزوں میں ؟ معلوماتی باتوں میں ؟ رنگوںیاتصاویرسے ؟لوگوں سے ملنے جلنے میں ؟ دلچسپی کے بنیادی میدان یہی تین ہیں:
1) چیزوں سے دلچسپی : اگر آپ کی دلچسپی یہ ہے کہ تو آپ ہر اس شعبے میں جاسکتے ہیں جہاں مشینوں اورآلات کو استعمال کیا جاتاہو، ان کے نقشے بنائے جاتےہوں یا ان کی مرمت کی جاتی ہو۔
2) لوگوں سے دلچسپی: یہ دلچسپی انسانی تعلقات کےان سب پہلوؤں پر محیط ہےجن میں دوسرے لوگوں سے واسطہ ہوتاہے ۔اس میں لیڈرشپ، سیلزمین شپ،خدمتِ خلق،ٹیچنگ، مشاورت ،رہنمائی (کونسلنگ )، بچوں کی دیکھ بھال (چائلڈ کیئر)وغیرہ جیسے کام آجاتے ہیں۔
3) معلومات (انفارمیشن یا ڈیٹا) یارنگوں سے دلچسپی:اس سے مراد اعداد ،الفاظ اورتصاویر سے دلچسپی ہے۔اس دلچسپی کے حامل افراد ان تمام شعبوں میں جاسکتے ہیں جہاں معلومات کو اکٹھا کیاجاتا ہو، ان کا تجزیہ کیا جاتاہو اورانھیں خاص انداز میں ترتیب دے کر پیش کیا جاتاہو۔مثلاً انفارمیشن ٹیکنالوجی کاشعبہ ، گرافک ڈیزائننگ ،پینٹنگ ،شماریات کے محکمے، اکاؤنٹس کے کام، کلیریکل جاب وغیرہ۔  
                                                                                                          اکثر پیشے ایسے ہیں جن میں بیک وقت اشیاء، لوگوں اورمعلومات تینوں ہی سے معاملہ کیا جاتاہے۔ مثلاًایک ڈاکٹر کو چیزوں(آلات) سے بھی واسطہ ہوتاہے ،مریض اورمرض کے بارے میں معلومات بھی جمع کرنی ہوتی ہیں اورمریضوں کیلئے ایک ہمدرد اورشفیق مشیر بھی بننا ہوتاہے۔ اس لیے پہلے توآپ اپنی دلچسپی کاکھوج لگائیں، پھر جس پیشے کاآپ نے انتخاب کیا ہو، اس میں دیکھیں کہ آپ کی دلچسپی کاکام کس حد تک ہے۔
اپنی صلاحیتوں کو جانیے
                                                                                                      صلاحیت یا استعداد سے مراد آپ کے اندر پوشیدہ وہ فطری صلاحیت ہے جو آپ کو کسی خاص شعبے میں زیادہ کامیابی دے سکتی ہے۔یہ صلاحیت ذہنی بھی ہوسکتی ہے اور عملی بھی ۔کیا آپ تیز دوڑ سکتے ہیں؟ کیا آپ کو الفاظ  سمجھنے  اورادا کرنے میں زیادہ مہارت ہے؟ کیا آپ حساب کتاب دوسروں کے مقابلے میں جلدی کرلیتے ہیں؟ کیا آپ کی قوتِ متخیلہ(Imagination) زیادہ تیز ہے اور آپ چیزوں کا تصور بہتر طورپر کرلیتےہیں؟کیا آپ اشیاء کی صورت اورجسامت میں اچھی طرح فرق کرسکتے ہیں؟کیا آپ اپنے ہاتھوں اور انگلیوں کو تیز رفتاری سے حرکت دینے پر قادر ہیں؟ کیا آپ مختلف رنگوں میں امتیاز کرسکتے ہیں؟ وغیرہ۔
                                                                                                         ان میں سے ہر استعداد آپ کو کئی شعبوں میں کامیابی دلاسکتی ہے۔ مثلاً جولوگ رنگوں کے درمیان فرق اورمماثلتوں کو اچھی طرح پہچاننے کی ستعداد رکھتے ہیں  ، وہ ٹیکسٹائل ڈیزائننگ کے شعبے میں بھی جاسکتے ہیں اور پینٹنگ کےآرٹ  کو بھی اختیا ر کرسکتے ہیں۔تاہم استعداد کے ساتھ ساتھ آپ کو اس شعبے کی خصو صی تعلیم بھی حاصل کرنا ہوگی۔ اس طرح آپ اپنی استعدادکو کیرئیر میں  تبدیل کرسکیں گے۔ کسی خاص کام کی استعداد رکھنے کے باوجود ہوسکتاہے کہ وہ کام آپ کیلئے دلچسپ نہ ہو مثلاً رنگوں میں امتیاز کی صلاحیت ہونے کے باوجود آپ کو ٹیکسٹائل ڈیزائننگ کاکام اچھا نہ لگتاہو۔ اس لیے اس بات کو سمجھیے کہ استعداد آپ کے کیرئیر کے انتخاب کامحض ایک حصہ ہے۔چنانچہ آپ کو ایسے کیرئیر کاانتخاب کرنا ہے جس کی آپ کے اندر استعداد بھی ہو اور دلچسپی بھی۔
اپنی اقدارمتعین کیجیے
                                                                                                                                                         اقدار(Values) سے مراد آپ کے نظریات اورمن پسند طرز عمل ہے ۔آپ کے نظریات لازمی طورپر صحیح یا غلط نہیں ہوسکتے  لیکن اگر آپ خلوصِ دل سے ان کی پیروی کریں گے تو ان سے آپ کو اپنی زندگی کا رح طے کرنے میں مدد ملے گی۔خاص طور پر کام کے متعلق اقدار کا تعین بہت ضروری ہے۔ کیا آپ  اپنے معاشرے کی اصلاح میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ماحول  کوسب کیلئے محفوظ بنانے کے خواہشمند ہیں؟فکروعمل کے نئے زاویے دریافت کرنے کا رجحان رکھتے ہیں؟آپ نے اپنے لیے جس پیشے کاانتخاب کیا ہے، وہ کن اقدار کا تقاضا کرتاہے؟ یہاں آپ کی توجہ کیلئے اقدار کی ایک فہرست دی جارہی ہے:
٭تحفظ: کیا یہ آپ کیلئے اہم ہے کہ آپ کے روزگار  میں کوئی اتارچڑھاؤ نہ ہواور آپ کی ملازمت مستقل بنیادوں پر ہو؟کیا آپ  لازمی طورپر پینشن والی نوکری چاہیں گے؟
٭علم: کیا یہ آپ کیلئے اہم ہے کہ آپ  کی معلومات ِ عامہ میں مسلسل اضافہ ہو؟ آپ کی نوکری ایسی ہو جس میں آپ کو مسلسل کچھ نیا سیکھنے کو ملتارہے اور آپ مختلف اشیاء اورجگہوں کے بارے میں جانتے رہیں؟
٭ خانگی رشتے: کیا آپ ایک  ایسی نوکری قبول کرلیں گے جو آپ کوگھر اوراہلِ خانہ  سے دور کردے؟ کیا گھروالوں کے ساتھ رہنا آپ کیلئے اہم ہے؟
٭آزادی: کیا آپ اپنا کام اپنی مرضی کے طریقوں سے کرنا چاہتےہیں؟ کیا آپ کو دوسروں سے ہدایات لینا پسند ہے؟ کیا آپ ایساکام پسند کریں گے جس میں دوسروں  کی مرضی پر چلنا ہو؟
٭دولت: کیا آپ زندگی میں بہت دولت کمانا چاہتے ہیں؟ کیا آپ خود کو ایک اوسط درجے کی آمدنی  پر مطمئن کرپائیں گے؟آپ دولت برائے دولت کے قائل ہیں یا دولت برائے ضرورت کے ؟
٭ مذہب: کیا آپ ایسا کام قبول کرلیں گے جو کسی نہ کسی انداز میں آپ کے مذہبی عقائد سے ٹکراتاہو؟ کیا آپ ایسے لوگوں کے ساتھ کام کرسکیں گے جن کا مذہب آپ کے مذہب  سے مختلف ہو؟
٭تخلیق: کیا آپ کیلئے نئی اشیاء اورنئے خیا لات کی تخلیق اہم ہے؟ کیا آپ ایسے کام سے خود کو مطمئن کرپائیں گے جس میں سب کچھ لگے بندھے طریقوں سے ہوتاہو اور کچھ نیا کرنے کی گنجائش نہ ہو؟
٭قیادت: کیا آپ دوسروں کو ہدایات دینا پسند کرتےہیں؟ کیا آپ بڑےفیصلے لینا، صورت حال کو کنٹرول کرنا اور دوسروں کی رہنمائی کرنا پسند کرتےہیں؟
٭کام کاماحول: کیا آپ دفتر یا فیکٹری کے اندر کام کرنا پسند کرتےہیں یا باہر کھلی جگہ  میں ؟ کیا آپ کام کی جگہ پر جدیدسہولیات(ایئرکنڈیشنر،ٹی وی وغیرہ) چاہتے ہیں؟ کیا آپ کام کے دوران خاموشی اور سکون پسند کرتے ہیں؟
٭صحبت:  کیا آپ کو اپنے ہم مزاج لوگوں کے ساتھ کام کرنا پسند ہے؟ کیا آپ اپنے رفقائے کار کے ساتھ کام کالطف اٹھائیں گے یا اکیلے کام کرنے کو ترجیح دیں گے؟
                                                                                                                                      مندرجہ بالا نکات کی روشنی میں آپ اپنی ذاتی اقدارکا تعین کرسکتے ہیں۔ کیرئیر کے انتخاب میں آپ نے اپنی ان ذاتی اقدارکو بھی پیشِ نظر رکھنا ہے ۔
پیشہ ورانہ قابلیت حاصل کیجیے
                                                                                                                   جب آپ اپنی دلچسپیوں، استعدادوں اور اقدار کاادراک کرچکیں تو آپ کیلئے کیرئیر کے انتخاب کامرحلہ آسان ہوجائے گا۔کیرئیر کانتخاب کرلینے کے بعد آپ کیلئے ضروری ہے کہ آپ منتخب کردہ پیشے کی مخصوص پیشہ ورانہ مہارت حاصل کریں۔ اس میں آپ کو چند ماہ سے دوتین سال لگ سکتے ہیں۔ بعض طالب علم دورانِ تعلیم ہی پیشہ ورانہ قابلیت حاصل کرنا شروع کردیتےہیں۔پیشہ ورانہ قابلیت کے بغیر آپ  کم آمدنی والی نوکری ہی حاصل کرپائیں گے  اور بعض اوقات ایسی نوکری کاحصول بھی مشکل ہوجاتاہے۔ کسی پیشہ ورانہ  کورس میں داخلہ لینے سے پہلے درکار مدت اور اخراجات کیلئے منصوبہ بندی کرلیجیے۔ ایسے کورسز بعض سرکاری شعبے  محکمانہ طور پر کراتے ہیں جن کی فیس کافی کم ہوتی ہے۔ اس حوالے سے پہلے اچھی طرح معلومات حاصل کرلیں اورنجی اداروں میں داخلہ لینے سے پہلے ان کے بارے میں خوب چھان بین کرلیجیے۔
نوکری کی تلاش
                                                                                                   نوکری کی محض خواہش رکھنا کافی نہیں، آپ کو اپنی ضرورت اور دستیابی سے روزگار دہندہ افراد اوراداروں کو مطلع کرنا ہے۔ اس کیلئے آپ یہ طریقے اختیار کرسکتےہیں:
1) اخبارات میں اشتہارات دیکھیے:- یہ نوکری ڈھونڈنے کاسب سے عام طریقہ ہے۔ عام طورسے اخبارات کے اتوار کے ایڈیشن خالی آسامیوں کے اشتہارات سے بھرے ہوتے ہیں۔ ان میں سرکاری اورنجی شعبے میں نوکریوں کیلئے درخواستیں طلب کی جاتی ہیں۔خالی آسامی کا اشتہار عام طورپر ان اجزاء پر مشتمل ہوتاہے: ٭نوکری کا عنوان ٭نوکری کامختصر تعارف٭مطلوبہ قابلیت٭نوکری دینے والے ادارے کانام اورپتا٭ کب اورکس سے رابطہ کرنا ہے٭کون سی تعلیمی اورپیشہ ورانہ دستاویزات ساتھ لانی ہیں۔
                                                                                                                                     بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح کے باعث ان شتہارات کے جواب میں  کثرت سے لوگ  درخواستیں دیتے ہیں اورامیدواروں کے درمیان نوکریوں کیلئے سخت  مقابلہ ہوتاہے۔رشوت اورسفارش جیسی سماجی قباحتیں اگرچہ مستحق افراد کے ساتھ نا انصافی کاسبب بنتی ہیں، لیکن آپ کو مایوس اوربددل ہوئے بغیر مختلف آسامیوں کیلئے قسمت آزمائی کرتے  رہنا چاہیئےا ور اپنی حد تک ٹیسٹ اور انٹر ویوز کیلئے بھرپور تیاری کرنی چاہیئے۔
2) آپ خود رابطہ کیجیے:-یعنی آپ خود روزگار دینے والے افراد یا اداروں سے رابطہ کریں۔آپ ٹیلی فون ڈائریکٹری اور انٹر نیٹ سے ایسے اداروں،فیکٹریوں،کارخانوں،پرائیویٹ فرموں،اسکولوں اورکالجوں کے نام اورپتے نوٹ کرسکتےہیں۔فون کی صورت میں آپ کاپہلارابطہ استقبالیے سے ہوگا۔آپ اپنا تعارف بتادیں اورنئے افراد کی بھرتی کرنے والے شعبے کے سربراہ کانام پوچھیں اوراس سے بات کرانے کی درخواست کریں۔ اگر متعلقہ فرد فی الحال دستیاب نہیں تو دوبارہ رابطے کیلئےموزوں وقت دریافت کرلیں۔جب متعلقہ فرد سے رابطہ ہوجائے تو اپناتعارف کرانے کے بعد ادارے میں خالی آسامیوں یا درکار سروسز کے بارے میں پوچھیں اور نوکری حاصل کرنے کاطریقہ پوچھیں۔ہوسکتاہے کہ اس رابطے کے نتیجے میں آپ کو انٹرویو کیلئے وقت دے دیا جائے یا آپ کے کوائف تحریری طورپر مانگ لیے جائیں۔
3) اپنی واقفیت استعمال کیجئے:- نوکری کی تلاش کا ایک مؤثر طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ اپنے حلقۂ احباب اورجان پہچان والے افراد کی مدد لیں۔آپ کے اساتذہ،ہم جماعت،دوست،پڑوسی ،مقامی تاجر اورآپ کے خاندان کے افراد اس سلسلے میں آپ کے معاون ہوسکتے ہیں۔ایسے ذاتی تعلقات آپ کو نہ صرف کہیں نوکری کی دستیابی کے متعلق معلومات دے سکتے ہیں بلکہ آپ کو کئی جگہوں پر متعارف بھی کراسکتے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ بہت سے لوگ ایسے تعلقات ہی کے ذریعے نوکری حاصل کرتے ہیں۔
4) پیشہ ورانہ اورتجارتی تنظیموں سے رابطہ کیجیے:- لیبر یونینز، تاجروں کی انجمنیں،ڈاکٹروں کی تنظیمیں اوربعض فلاحی ادارے نوکری کی تلاش  میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔اس سلسلے میں آپ ان کے دفاتر سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ایسی تنظیموں کے میگزین اوررسائل میں بھی خالی آسامیوں کے اشتہارات ہوتے ہیں۔
 5) روزگار کے دفاتر سے رابطہ کیجیے:-حکومت کی طرف سے تقریباً تمام بڑے شہروں  میں روزگار کے دفاتر کھولے جاتے ہیں۔ایسے دفاتر بے روزگار افراد کو مفت رکنیت دے کر انھیں مختلف سرکاری شعبوں میں خالی آسامیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔اس کے علاوہ یہ مختلف پیشہ ورانہ کورسز میں داخلوں اوربیرونِ ملک روزگار کے مواقع کے متعلق بھی آگاہی دیتے ہیں۔بعض نجی ادارے بھی  روزگار کے دفاتر کھول کر لوگوں کی رہنمائی کرتےہیں، لیکن اس حوالے سے آپ کو محتاط رہنا چاہیئے کیونکہ بعض ایسے ادارے دھوکادہی اور غیر قانونی دھندوں میں بھی ملوث ہوسکتے ہیں۔
کامیاب انٹرویو کے گُر
                                                                                                                                                          انٹرویو اپنی شخصیت کو دوسروں کی نظر سے دیکھنے کاایک موقع ہے۔ آپ خود کو جتنے مؤثر انداز میں دوسروں کے سامنے پیش کریں گے، اتنے ہی ملازمت ملنے کے امکانات زیادہ ہوں گے۔انٹرویو لینے والے آپ کی یہ باتیں دیکھنا چاہیں گے:
٭ کام کیلئے آپ کی پیشہ ورانہ مہارت اور آپ کا  اپنے شعبے میں واقعی علم۔
٭ متعلقہ ادارے یا محکمے اصول وضوابط کی پیروی کیلئے آپ کی آمادگی۔
٭ دوسروں کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت ۔
٭ آپ کااخلاص ،دیانت داری اور حسنِ عمل۔
                                                                                                                           انٹرویو کے دوران آپ کے ذاتی پس منظر اورآپ کی متعلقہ شعبے سے دلچسپی کے حوالے سے کئی سوالات پوچھے جائیں گے۔ آپ سے ماہانہ تنخواہ کے تعین پر بات ہوسکتی ہے۔انٹر ویو کے دوران آپ کے  لب  ولہجہ، جسمانی حرکات، چہرے کے تاثرات اورآپ کے اندازِ نشت سے آپ کی خوداعتمادی اورطرزِ عمل کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جائے گی۔
                                                                                                                    انٹرویومیں کامیابی  کیلئے اوراچھا تاثر دینے کیلئے ان باتوں پر عمل کیجیے:
1) ہمیشہ وقت پرپہنچئے۔ تاخیر آپ کے خلاف جائے گی۔اگر انٹرویو کی جگہ معلوم نہ ہو تو انٹرویو سے ایک دودن پہلے جاکر اس جگہ کو دیکھ لیں تاکہ عین اس دن مقام ڈھونڈنے میں وقت ضائع نہ ہو۔
2) انٹرویو کیلئے اکیلے جائیے۔ آپ کے ساتھ سرپرست یا دوست احباب نہ ہوں۔ یہ آپ کی پختگی اورخودانحصاری کو ظاہر کرے گا۔
3)  ہر سوال توجہ سے سنیے۔ اگر کوئی سوال صحیح طرح سمجھ میں نہ آئے تو دوبارہ پوچھنے کی درخواست کریں۔
4)  جواب دینے سے  پہلے سوچنے کیلئے تھوڑاساوقفہ کیجیے۔
5) آپ کے جوابات مثبت، مختصر لیکن جامع ہونے چاہیئں۔ البتہ اگر کہا جائے تو اپنے جوابات کو تفصیل واضح کرنے کیلئے تیا ررہیئے۔
6) مطلوبہ نوکری کیلئے اپنا پرجوش اشتیاق ظاہر کیجیے۔یوں ظاہر نہ کریں جیسے آپ محض تجربے کیلئے انٹرویو دے رہے ہیں۔
7) انٹرویو کے دوران پرسکون رہنے کی کوشش کریں۔ تھوڑی بہت گھبراہٹ فطری بات ہے ۔
8) انٹرویوکے دوران اپنے ذاتی یا گھریلو مسائل کا تذکرہ مت کریں۔ اس طرح ہمدردیا ں حاصل کرنا اچھا تاثر پیدانہیں کرتا۔
9) کسی بات کو لے کر انٹرویو لینے والے کے ساتھ بحث نہ کریں۔بس اپنی بات کہہ کر خاموش ہوجائیں۔
10) سیدھی سادی اورصاف زبان استعمال کیجیے۔تصنع اورتکلف اختیار نہ کیجیے۔
11) انٹرویو لینے والےکی بات کاٹ کر کچھ نہ کہیں۔ اپنی بات کہنے کیلئے مناسب لمحے کاانتظار کیجیے۔
12) انٹرویو لینے والے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات اعتماد سے بات کیجیے ۔اگر کسی سوال کاجواب معلوم نہ ہو تو خود سے کوئی جواب گھڑنے کی بجائے معذرت کرکے اگلا سوال پوچھنے کا کہیے۔
13) انٹرویو ختم ہونے پر مناسب الفاظ میں سب کاشکریہ اداکیجیے کہ آپ کو وقت دے کر انٹرویو لیا گیا۔
14) اگر آپ کی درخواست پر انفرادی طور پر انٹرویو کیلئے بلایا گیا تھا تو انٹرویو کے بعد گھر جاکر ایک دودن بعد انٹرویو لینے والوں کو ایک شکریے کاخط لکھیں کہ آپ اس طرح وقت دیے جانے پر ممنون ہیں اور اپنے حق میں مثبت جواب کے منتظر ہیں۔۔
انٹرویو کے بعد
                                                                                                                               امکان یہ ہے کہ نوکری کے حصول کیلئے آپ کو متعددانٹرویو دینے پڑیں گے۔ہر انٹرویو کے بعد اس کی تحریری روداد اپنے پاس لکھ لیجیے اور سیکھنے کیلئے یہ باتیں سوچیے:
٭آپ کی باتوں پر انٹرویو لینے والوں کاردِعمل کیساتھا؟
٭ کون سی بات کہنے سے رہ گئی یا اپنے بارے میں کونسی معلومات مزید دینی چاہیئے تھی؟
٭ کون سے جوابات ایسے تھے جو آپ کے خیا ل میں نہیں دیے جانے چاہیے تھے؟
٭ آپ کی کس بات میں انٹرویو لینے والوں نے دلچسپی ظاہر کی؟
٭ آپ انٹرویو کے دوران زیادہ بولے یا کم؟
٭ کیا آپ انداز اور ظاہری شخصیت متاثرکن تھی؟
٭ اگلے انٹرویو کیلئے آپ کو اپنے اندر کس قسم کی تبدیلی اوربہتری کی ضرورت ہے؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

No comments:

Post a Comment

محبت

  خوشی کا حصول کیسے؟   محبت برٹرینڈ رسل                     زندگی کے مزے کے پھیکے پڑ جانے کے بڑے اسباب میں سے ایک انسان کا یہ احسا...